فقہمذہب

آپ کے شرعی مسائل اور ان کا حل

شیخ مقبول احمد سلفی

(1) میں کبھی کبھار گھر میں وتر کی نماز پڑھتا ہوں کیا یہ صحیح ہے اور کبھی کبھار اس میں دعا پڑھنا بھول جاتا ہوں تو کیا مجھے آخر میں سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہے ؟

جواب : وتر کی نماز مسجد اور گھر کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں ، یہ رات کی آخری نماز ہے اور اس میں دعائے قنوت بھول جانے پر سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ واجب نہیں سنت ہے اورنماز میں سنت چھوٹ جانے پر سجد ہ سہو نہیں ہے۔

(2) آج کل گاڑی کی سہولت کی وجہ سے کچھ لوگ گاؤں کی مسجد چھوڑ کر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے دور والی بڑی مسجدمیں جاتے ہیں جہاں زیادہ مصلی اور مشہور خطیب ہوتے ہیں ایسا عمل شریعت کی روشنی میں کس حد تک درست ہے ؟

جواب : اپنے قریب کی جامع مسجد کو چھوڑ کر دور والی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی غرض سے جانے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے جبکہ اس سے مقصد بڑی جماعت میں شمولیت، کثرت قدم اور باصلاحیت خطیب سے استفادہ ہو۔ ہاں اگر قریبی جامع مسجد کے امام سے تنفر یا مسجد کمیٹی کے ذمہ داران سے تنازع یا مسجد کے اندر آنے والے کسی دوسرے فرد سے ناراضگی کے سبب ہو تو پھر دور جانا صحیح نہیں ہے اور میرے خیال سے شہروں میں قریبی مسجد چھوڑ کر دور جانے میں عام لوگوں کے لئے تشویش نہیں ہے مگر قصبہ اور گاؤں کی مسجد کو چھوڑ کر دوسرے گاؤں یا شہر جاکرہمیشہ نماز جمعہ ادا کرنے میں عام لوگوں کے لئے خلجان اور سوء ظن کا باعث ہے ایسی صورت میں آدمی قریبی مسجد میں جمعہ پڑھے اور کبھی باہر چلا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔

(3) جمعہ کی نماز کے بعد کتنی رکعت ہے اور کیا جمعہ کے بعد چار رکعت فرض پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے جو ظہر کے نام سے ہو؟

جواب : نماز جمعہ کے بعد دو یا چار رکعت پڑھنا چاہئے اور جمعہ کے بعد ظہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جمعہ کے دن ظہر کے وقت جمعہ کی نماز ہے جس کی ادائیگی سے نماز ظہر کی فرضیت ختم ہوجاتی ہے۔ گاؤں دیہات میں بعض لوگ ظہر احتیاطی کے نام سے چار رکعت ادا کرتے ہیں یہ دین میں سراسر بدعت ہے۔

(4) دین سکھانے کے لئے نبی ﷺ نےستر قراء کو بھیجا تھا جنہیں منافقین نے قتل کردیا تو نبی ﷺ نے ان منافقین کے حق میں بددعا کی تھی، اللہ نے ان منافقوں کا کیا حشر کیا؟

جواب : بئر معونہ کے پاس عامر بن طفیل کے شہ پر بنوسلیم کے قبائل عصیہ، رعل اور ذکوان نے تقریبا ستر صحابہ کرام کو شہید کردیا۔ آپ ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو سخت غمگین ہوئے شاید اتنے غمگین کبھی نہ ہوئے تھے۔ اسی لئے آپ نے مسلسل ایک مہینے تک قبائل بنوسلیم پر بد دعا کی۔ اسی دوران اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ جو رب سے جاملے ان سے ہم اور ہم سے وہ راضی ہیں تب نبی ﷺ نے قنوت نازلہ چھوڑ دی۔ ان مناقوں کے لئے اس سے برا حشر کیا ہوگا کہ نبی ﷺ نے ان پر تیس دن تک لعنت بھیجی اور آخرت میں جہنم کا سب سے نچلہ درجہ پہلے سے متعین ہے۔

(5) یہودیوں کے بارے میں سنتا ہوں کہ اسے تابوت سکینہ ملا تھا کیا یہ سچ ہے یا کہانی ہے ؟

جواب : یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں تابوت کا ذکر آیا ہے مگر اس سے لوگوں نے بڑے قصے گھڑ لئے۔ اللہ کا فرمان ہے :

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(البقرۃ:248)

ترجمہ: ان کے نبی نے پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ یقیناً یہ تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔‏

واقعہ یہ ہے کہ ایک پیغمبر نے نیک و صالح بندے طالوت جو اس کی قوم سے نہیں تھے ان کے بادشاہ ہونے کی خبر دی  جسے اللہ نے بادشاہت دی مگر قوم نہ مانی اور کوئی نشانی کا مطالبہ کیا تو مذکورہ بالا آیت کے ذریعہ اللہ نے اس نشانی کی خبر دی کہ حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اس کے پاس بنی اسرائیل کا گم شدہ تابوت ہوگا جس میں موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے آثار و تبرکات ہوں گے۔ چنانچہ اللہ نے اس تابوت کو طالوت کے گھر پر ظاہر کردیا، اس سے نبی اسرائیل خوش ہوگئے۔ تو یہ اللہ کی طرف سے ایک نشانی تھی جو نبی کے ذریعہ ایک صالح بندہ کو ملی۔ اس نشانی میں موجودہ زمانے کے صوفیوں کے لئے غیراللہ کے لئے نذرونیاز، مردو ں سے استغاثہ اور اولیاء سے حاجت روائی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

(6) نبی اور رسول میں کیا فرق ہے ؟

جواب : نبی اور رسول میں فرق سے متعلق علماء کے درمیان کئی اقوا ل ہیں ۔ کسی نے کہا نبی وہ ہے جنہیں شریعت تو دی گئی مگر تبلیغ کا حکم نہیں ہوا اور رسول کو تبلیغ کا حکم ہوا۔ کسی نے کہا نبی وہ ہے جنہیں الگ سے کوئی شریعت نہ دی گئی ہو سابقہ شریعت کی تبلیغ کرے اور رسول کو مستقل شریعت کی تبلیغ کا حکم ملا ہو۔ بعض نے کہا رسول کافروں کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور نبی ایسی قوم کی طرف جو کسی پیغمبر پر پہلےسے ایمان لاتی ہو انہیں تعلیم دینے کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔

(7) کیا کوئی مرنے کے بعد پردہ کرجاتا ہے جیساکہ بعض مسلمان صالحین اور نیک لوگوں کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں ،اسی عقیدے کی بنیاد پر ان سے استغاثہ کرتے ہیں ؟

جواب : قرآن وحدیث میں بے شمار دلائل ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ سارے لوگ مر جائیں گے کوئی بھی نہیں بچے گا۔ موت سے نہ توا ولیاء مستثنی ہیں اور نہ ہی انبیاء حتی کہ فرشتوں کو بھی موت آنی ہے۔ پھر کون ایسا انسان ہے جس کی الگ سے خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اسے موت نہیں آئے گی اور اس کی کیا دلیل ہے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ پورے قرآن اور حدیث کے پورے ذخیرہ میں نہ تو عبدالقادر جیلانی کے لئے موت سے استثناء آیا ہے، نہ معین الدین چشتی کے لئے، نہ نظام الدین اولیاء کے لئے اور نہ ہی کسی دوسرے پیرومرشد کے لئے۔ دنیائے فانی کی یہی تو حقیقت ہے کہ یہاں سے سب کو فنا ہونا ہے۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر ایک دن صور پھونکا جائے گا اور مرے ہوئے سارے لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے کا عقیدہ ہمیں کافروں کے اس خیال سے ممتاز کرتا ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ کئے جانے اور اخروی دنیا پر یقین نہیں ۔ لہذا کسی کے بارے میں یہ کہنا وہ پردہ فرماگئے، یا فلاں بزرگ نے بس جگہ بدل لی یا فلاں صاحب کی وفات نہیں ہوئی بس ان کا وصال ہوا ہے صحیح نہیں ہے۔ ہمیں یہ کہنا کہ فلاں کی وفات ہوگئی  یعنی کسی کی وفات میں ذرہ برابر شک نہیں کرنا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ جو وفات پاگئے وہ ہماری کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے کیونکہ وہ ہماری پکار سے غافل ہیں ۔

(8) بعض علماء موبائل سے لی گئی تصویر کو جائز کہتے ہیں اس بارے میں آپ کا موقف کیا ہے ؟

جواب : موبائل سے لی گئی تصویر بھی ان تصویروں میں داخل ہے جن کی شریعت میں ممانعت ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تصویروں کی حرمت میں جو مصالح ہیں وہ موبائل سے لی گئی تصویروں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ لہذا ضرورت سے زائد تصویر لینے سے پرہیز کی جائے خواہ موبائل سے ہی کیوں نہ ہو۔

(9) جو علماء تصویروں کے جواز کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ ضرورت کی حد تک جائز ہے مجھے اس ضرورت کی حد کیا ہے اسے جاننا ہے۔

جواب : ضرورت کی حد یہ ہے کہ جہاں اور جس کام میں آپ کو تصویر کی ضرورت ہے اس کے بغیر وہ کام نہیں ہوگا وہ ضرورت کے اندر داخل ہے مثلا بطور شناخت آئی کارڈ، پاسپورٹ، فارم وغیرہ

(10) ہمیں معلوم ہے کہ کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا نہیں ہونا چاہئے جبکہ بعض مدارس ہی میں استاد کی آمد پر طلبہ کھڑے ہوتے ہیں ایسا کیوں ہے ؟

جواب : کسی کی تعظیم میں کھڑا ہونے سے نبی ﷺ نے منع کیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے :

مَن سرَّهُ أن يتمثَّلَ لَهُ الرِّجالُ قيامًا فَليتَبوَّأ مَقعدَهُ منَ النَّارِ(صحيح الترمذي:2755)

ترجمہ: جسے شخص یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لئے احتراما کھڑے ہوں پس وہ اپنا ٹھکانا جھنم میں بنا لے۔

لہذا ذمہ داران مدارس کو چاہئے کہ نوٹس کے ذریعہ اس عمل کا خاتمہ کریں ۔

(11) ایک گھر میں ایک دن آگے پیچھے دو لڑکوں کی شادی ہے، گھروالے سوچ رہے ہیں کہ دونوں کی شادی کے بعد ایک ساتھ ولیمہ کریں گے کیا اسلام میں اس کی گنجائش ہے ؟

جواب : جس نے شادی کی ہے اسے چاہئے کہ وہ ولیمہ کرے اور اگر دو آدمیوں کی شادی ہوئی ہے تو دونوں کو ولیمہ کرنا چاہئے۔ کسی کا ولیمہ دوسرے سے معلق نہیں ہے۔ نکاح کے بعد جب لڑکی کی رخصتی ہوجائے تو ولیمہ کیا جائے۔ برصغیر میں مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے دعوت کھلانے میں دشواری ہے اس دشواری کی وجہ سے اگر دونوں شاد ی کا ولیمہ ایک ساتھ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور ولیمہ میں کچھ تاخیر ہوجانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

(12) رکوع سے جب سر اٹھاتے ہیں تو رفع الدین رکوع سے اٹھتے وقت کرتے ہیں یا اٹھنے کے بعد سیدھے کھڑے ہوکر؟

جواب : رکوع سے اٹھنے کے وقت رفع یدین کے سلسلے میں جو الفاظ وارد ہیں ان میں یہ ہے کہ آپ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے، کسی میں ہے جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع یدین کرتے، کسی میں ہے پہلے سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے پھر رفع یدین کرتے۔ ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ جھکے جھکے رفع یدین نہیں کرنا ہے بلکہ رکوع سے قیام میں انتقال کرتے وقت سیدھا ہوتے ہوئے رفع یدین کرنا ہے۔

(13) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس دن سفر کرنا پسند کرتے تھے، کیا اس حوالے سے ہم تک کوئی بات پہنچی ہے؟

جواب : ویسے کسی بھی دن سفر کرنا جائز ہے البتہ نبی ﷺ جمعرات کو دن کے پہلے پہر میں زیادہ تر سفر کیا کرتے تھے۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

لقَلَّما كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يخرجُ إذا خرجَ في سفرٍ، إلا يومَ الخميسِ.(صحيح البخاري: 2949)

ترجمہ:بہت کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر پر نکلتے۔

سیدنا صخر ‏غامدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

وَكانَ إذا بَعثَ سريَّةً أو جيشًا بَعثَهُم من أوَّلِ النَّهارِ(صحيح أبي داود:2606)

ترجمہ: آپ ﷺ کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے۔

(14) ایک شخص نے دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح میں جمع کیا ان سے بچے پیدا ہوئے کیا ان بچوں سے شادی کرنا جائز ہے ؟

جواب : سورہ نساء کی آیت نمبر تئیس میں دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی مخالفت کی ہےاور دوسری شادی باطل وحرام ہے۔ اگر ایسا کوئی مسلمان آدمی موجود ہے جس کی زوجیت میں دو بہنیں ایک ساتھ ہیں تو آخری بیوی کو شوہر سے جدا کیا جائے گا اور جو ان سے بچے پیدا ہوئے انہیں اپنے والدین کی طرف ہی منسوب کیا جائے گااور ان پر ولدالزنا کا حکم نہیں لگے گا۔ ان بچوں سے شادی کرنا بالکل جائز ہے، گناہ کا بوجھ اس پر ہے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔

(15) نکاح کے بعد جس لڑکی کی رخصتی ہوئی وہ شوہر کے گھر آئی اور شوہر نے خلوت تو کیا مگر جماع نہیں کیا اور طلاق دیدیا کیا اس لڑکی پر عدت ہے ؟

جواب : ہاں اس لڑکی پر عدت ہے کیونکہ بیوی کے ساتھ خلوت جماع کے مقدمات میں سے ہے۔ نکاح کے بعد جس لڑکی کی رخصتی ہوگئی اور شوہر نے اس سے جماع کیا یا صرف خلوت(تنہائی) اختیار کیا اور شوہر نے طلاق دیدیا تو اس لڑکی کے لئے مہر اور عدت ہے۔ ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا فیصلہ ہے :

أنَّ مَن أغلَقَ بابًا أو أرْخَى سِترًا فقد وجَب المَهرُ ووجَبَتِ العِدَّةُ( إرواء الغليل:1937)

ترجمہ: بے شک جس نے دروازہ بند کرلیا یا پردہ گرا لیا تو مہر واجب ہوگیا اور عدت بھی واجب ہوگئی۔

(16) ایک عورت حمل سے ہے اور مدت حمل چھ ماہ ہے۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق بچہ کا گردہ کام نہیں کررہاہے اور بچہ کا ہاتھ بھی سوج رہا ہے اگر آپریشن کرکے بچہ کو باہر نہیں نکالا گیا تو ماں کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب :پہلی بات یہ ہےکہ برصغیر میں آپریشن کے معاملے میں بہت سارے ڈاکٹر لوگوں کو جھانسہ دیتے ہیں اور باطل طریقے سے مال اینٹھتے ہیں یعنی آپریشن کی صورت نہیں ہوتی ہے مگر زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے آپریشن کی صلاح دیتے ہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر زبردستی آپریشن کردیا جاتا ہے۔ اگر واقعی صورت حال ایسی ہے جیساکہ اوپر مذکور ہے تو اس صورت میں عورت کا آپریشن کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی جان بچ سکے۔ اس آپریشن میں بچے کی جان کا خطرہ ہو تو بھی ماں کو بچے پر ترجیح دی جائے گی۔

(17)کیا آر ٹی او کا کام کیا جاسکتا ہے جس میں ایجنٹ لوگوں کا کام رشوت کی بنیاد پر آر ٹی او سے کرواکر لاتا ہے اور خود اپنا کمیشن الگ سے لیتا ہے مگر کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں کرواتا، مطلب یہ کہ رشوت ہی دھندا ہے کیا اسے بطور پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے ؟

جواب : اسلام میں کوئی بھی ایسا پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے جس کی بنیاد رشوت پر قائم ہو۔ اگر آر ٹی او سے کام کروانا رشوت کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اسے بطور پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ اگر آر ٹی او کا کام بغیر رشوت بھی ہوسکتا ہے تو اس وقت یہ کام فی نفسہ جائز ہوگا البتہ رشوت لینا ناجائز ہوگا۔

(18) ہمارے گھر میں سوتے وقت سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کرنے کا معمول تھا مگر ابھی پتہ چلا کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس بارے میں آپ سے تصدیق کرنی تھی۔

جواب : رات میں سوتے وقت سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کرنا صحیح ہے۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے:

أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ لا يَنامُ حتَّى يقرأَ الم تنزيلُ وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ(صحيح الترمذي:2892)

ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔

(19) گیارہویں شریف کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب : گیارہ یا گیارہویں تک تو ٹھیک ہے مگر یہ شریف لگانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس نام سے ہی رسم و رواج کی بو آرہی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ تاویخ وفات میں شدید اختلاف ہے اہل تصوف نے گیارہ ربیع الاول کو اس قدر ہوا دی کہ ہر قمری ماہ کی گیارہویں رات کو جیلانی کے نام سے کھانا بنایا جاتا ہے یا ان کے نام سے جانور ذبح کیا جاتا ہے اور ان کے نام سے نذر ونیاز کی جاتی ہے۔ منانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ پیر صاحب اللہ کے ولی ہیں ، ان کی یوم وفات پر نذر ونیاز اور محفل قائم کرکے اولیاء اللہ کی محبت، ان کے علمی کارنامے اور ان کے ذکر جمیل کرکے اللہ اور اس کے رسول کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جاتی ہے اور ان کی سیرت اپنانے کا جذبہ بیدار کیا جاتا ہے۔

یہ گیارہویں دراصل دین میں نئی ایجاد ہے، تیسرہویں صدی سے پہلے کہیں پر اس کا کوئی رواج نہیں تھا۔ ایسے کام کے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جِس نے ہمارے اِس دِین میں ایسا نیا کام بنایا جو اِس میں نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔(بخاری)

اس رسم بدعت میں جس طرح چندہ کے ذریعہ لوگوں کا مال لوٹا جاتا ہے اسی طرح ایمان وعقیدہ بھی برباد کیا جاتا ہے۔ اللہ پر سے توکل واعتماد ہٹاکر ساری توجہ کچھ اس طرح ولیوں کی طرف کی جاتی ہے کہ وہی ہمارے مختارکل ہیں ، ان سے ہی دنیا چلتی ہے لہذا انہیں کو خوش کیا جائے، ان کا ہی دامن پکڑا جائے، ان سے ہی فریاد رسی کی جائے۔ وہ خوش تو دینا و آخرت کا بیڑا پار ہے۔ یہ سراسر ایمان کی بربادی ہے۔

اس کے علاوہ گیارہویں میں یوم وفات منانا، کسی کام کے لئے دن متعین کرنا، عبادت کے نام پرمخصوص محفل قائم کرنا، فضول چراغاں کرنا، عید کی طرح عمدہ لباس و پکوان اور عبادت کا اہتمام کرنا، عورت ومرد کا اختلاط ہونا، رقص وسرود کرنا، غیراللہ کے نام سے نذر ماننا، غیراللہ کی عبادت کرنا، بےایمان و بدعمل قوالوں کا شرکیہ کلام پڑھنا اور رات بھر من گھرنت قصے کہانیاں ، جھوٹی باتیں ، مصنوعی اور بے سروپا باتیں عبدالقادر کی طرف منسوب کرنا اور ان کا درجہ اللہ اور اس کے رسول سے بھی بڑھا دینا یہ سب باتیں دین وایمان کے منافی ہیں ۔

(20)کیا منکر نکیردو فرشتوں کے نام حدیث سے ثابت ہےاور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟

جواب : منکر ونکیر یہ دوفرشتوں کے نام ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ ترمذی میں حسن درجے کی روایت ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إذا قبرَ الميِّتُ – أو قالَ أحدُكم – أتاهُ ملَكانِ أسودانِ أزرَقانِ يقالُ لأحدِهما المنْكَرُ والآخرِ النَّكيرُ(صحيح الترمذي:1071)

ترجمہ: جب میت کو ياتم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔

اور ان ناموں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرشتے ہی انکار کرنے والے ہیں بلکہ یہاں انکار کا مطلب یہ ہے کہ میت کے لئے یہ دونوں فرشتے انجان ہیں تو منکر ونکیر میت کے اجنبی ہونے کی وجہ سے نام پڑا ہے جیساکہ ابراہیم علیہ السلام نے(قوم لوط کی ہلاکت کے واسطے) آنے والےفرشتوں کو نہ جان سکنے کی وجہ سے” قوم منکرون”  یعنی انجان قوم کہا تھا۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close