فقہمذہب

آپ کے شرعی مسائل اور ان کا حل

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال (1): کیا کوئی مرنے سے پہلے یہ وصیت کرسکتا ہے کہ میرے جنازے میں بدعتی لوگ شریک نہ ہوں ؟

جواب : میت کو ایسی وصیت نہیں کرنی چاہئے جس کا نفاذ اس کے وارثین کے لئے طاقت سے باہر ہو اور بدعتی کی جنازے میں عدم شرکت کی وصیت کا نفاذ کرنا بہت ہی مشکل امر ہے۔ ہاں میت یہ وصیت کرسکتا ہے کہ مجھے بدعتی لوگ غسل نہ دیں، میرےجنازہ کو کندھا نہ دیں، نہ ان میں سے کوئی میری نماز جنازہ پڑھائے اور نہ ہی قبر میں اتارے۔

سوال(2): ایک حدیث میں نبی ﷺ نے دعا کی ہے کہ مجھے مسکین کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکین کی حالت میں وفات دے اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب : یہ بات صحیح ہے کہ نبی ﷺ نے مسکین کی حالت میں زندہ رہنے اوروفات پانے کی اللہ سے دعا کی ہے۔ ترمذی میں نبی ﷺ کی یہ دعا اس طرح ہے۔

اللَّهمَّ أَحيِني مِسكينًا، وأَمِتْني مِسكينًا، واحشُرني في زُمرةِ المساكينِ يومَ القيامَةِ، فقالَت عائِشةُ: لِمَ يا رسولَ اللهِ؟ قال: إنَّهم يَدخُلون الجنَّةَ قبلَ أغنيائِهم بأربعين خريفًا، يا عَائشةُ، لا ترُدِّي المِسكينَ ولو بشِقِّ تَمرةٍ، يا عائشةُ، أحِبِّي المساكينَ، وقَرِّبيهم؛ فإنَّ اللهَ يقرِّبُكِ يومَ القيامَةِ(صحيح الترمذي:2352)

ترجمہ: یااللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں ؟ آپ نے فرمایا:اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اوران سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا۔

شارح ترمذی شیخ مبارک پوری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ مسکنت :ذلت وعاجزی کو کہتے ہیں، یہاں نبی ﷺ کا مقصود تواضع اور اپنے رب کے لئے عاجزی کا اظہار ہے۔ اس سے نبی ﷺ اپنی امت کو تواضع اختیار کرنے اور کبروغرور سے دور رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ تو یہاں اس قسم کے مسکین کے درجات کی بلندی اور ان کا اپنے رب سے قربت پر متبنہ کرنا مقصود ہے۔

سوال (3): کیا سفید بال چھوڑے رکھنا سنت کی مخالفت ہے ؟

جواب : بخاری شریف میں وارد ہے :

إن اليهودَ والنصارى لا يصبُغون، فخالفوهم(صحيح البخاري:3462)

ترجمہ: بے شک یہود ونصاری اپنے بالوں کو نہیں رنگتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے سفید بالوں میں خضاب لگانا چاہئے اور کالے خضاب سے منع کیا گیا ہے۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا تو ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غيِّروا هذا بشيءٍ، واجتَنِبوا السَّوادَ(صحيح مسلم:2102)

ترجمہ: انہیں کسی رنگ سے بدل دو اور سیاہی سے بچو۔

سوال (4): کیا حاجت کی نماز صحیح احادیث سے ثابت ہے، اگر ثابت ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے ؟

جواب : سب سے پہلے ایک بات جان لیں کہ حاجت کے نام سے جو نماز لوگوں میں مشہور ہے وہ نماز صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے نماز حاجت یا صلاۃ الحاجہ کی کوئی مخصوص نماز نہیں ہے البتہ اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کی تعلیمات سےعمومی طور پر پتہ چلتا ہے کہ کسی آدمی کو دعا کرنا ہو تو اس سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح کوئی دشوار معاملہ درپیش ہو یا کوئی پریشانی کا سامنا ہو دوگانہ ادا کرکے رب سے دعائیں کرسکتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ:153)

ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو،اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔

اسی طرح صحیح حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکو کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھتے۔

عن حذيفةَ قالَ كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إذا حزبَهُ أمرٌ صلَّى(صحيح أبي داود:1319)

ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔

سوال (5): کبار علماء سے کیا مراد ہے اس زمرے میں کس قسم کے علماء داخل ہیں ؟

جواب : علمائے کبار انہیں کہتے ہیں جو علم وبصیرت اور ثقاہت وفقاہت میں بڑے ہوں۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ قرآن سنت کی دعوت وبصیرت (علی منہج السلف) حاصل کرنے کے لئے خلق کبیر ان کی طرف التفات کرے۔

سوال (6): ایک آدمی کو پیشاب کی بیماری ہے اس نے ایک وضو سے ایک وقت کی نماز پڑھی، دوسری نماز سے پہلے پیشاب کے قطرے آگئے تو کیا اسے وضو کرنا پڑے گا جبکہ نہ تو اس نے پیشاب کیا ہے، نہ ہی پاخانہ کیا ہے اور نہ سویا یا ہوا خارج ہوئی ؟

جواب : جنہیں پیشاب کی بیماری ہو انہیں ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنے کی ضرورت ہے خواہ اس نے ناقض وضو کاارتکاب کیا ہو یا نہیں کیا ہو۔

سوال(7): کیا عام آدمی کے بھی خواب سچے ہوتے ہیں ؟

جواب : خواب سچے بھی ہوتے ہیں اور ایک عام آدمی بھی سچا خواب دیکھ سکتا ہے۔ جب کبھی ہمیں خواب میں کوئی اچھی چیز دکھائی دے تو جو خواب کے ماہرین ہیں ان سے رجوع کرکے اس کی تعبیر جاننی چاہئے۔ ہر کسی سے خواب بیان نہ کریں اور برے خواب کسی سے بھی نہیں۔ نبی ﷺکا فرمان ہے:

الرؤيا ثلاثٌ فبُشرَى مِن اللهِ وحديثُ النَّفسِ وتخويفُ من الشَّيطانِ فإن رأى أحدُكُم رؤيا تُعجبُه فليقصَّ إنْ شاءَ وإنْ رأى شيئًا يكرهُهُ فلا يقصُّهُ على أحدٍ وليقُمْ يُصلِّي(صحيح ابن ماجه:3168)

ترجمہ: خواب تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ خوشخبری ہے۔ دوسرا دل کے خیالات اور تیسرا شیطان کا ڈرانا ہے۔ لہذا اگر کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے، اگر چاہے تو اسے بیان کرے اور اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے اور اٹھ کر نماز پڑھ لے۔

سوال (8): جس طرح محمد ﷺ کوکلمہ ملا کیا باقی انبیاء کو بھی کوئی کلمہ ملا، اس کے الفاظ کیا تھے ؟

جواب : سارے ابنیاء کا کلمہ ” لاالہ الااللہ ” ہے۔ نوح علیہ السلام نے وفات کے وقت اپنے بیٹے کولاالہ الااللہ کی وصیت کی۔ (صحیح الادب المفرد:426)۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے کچھ سکھانے کو کہا تو اللہ نے انہیں لاالہ الااللہ کی تعلیم دی اور سارے انبیاء نے جو سب سے بہترین دعا کی ہے وہ عرفہ کی دعا ہے۔

لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ الملكُ ولَهُ الحمدُ وَهوَ على كلِّ شَيءٍ قديرٌ(صحيح الترمذي:3583)

سوال (9): تہجد کی نماز آٹھ رکعت ہے لیکن اگر کوئی تہجد کی صرف دو چار رکعتیں پڑھنا چاہے تو کیا پڑھ سکتا ہے ؟

جواب : رات کی نماز دو دو رکعت ہے جس قدر چاہیں دو دو رکعت کرکے قیام اللیل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی حر ج نہیں ہےکہ کوئی دو پڑھے، کوئی چار پڑھ لے، کوئی اس سے زیادہ پڑھے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

صلاةُ الليلِ مثنى مثنى، فإذا خشي أحدُكم الصبحَ صلى ركعةً واحدةً، توتِرُ له ما قد صلى.(صحيح البخاري:990 و صحيح مسلم:749)

ترجمہ : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور اگر تم میں کسی کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو، اور وہ ایک رکعت پڑھ لے، تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کے لئے وتر ہوجائیگی۔

سوال(10): موجودہ زمانے میں خریدوفروخت کے لئے کئی قسم کے کارڈ استعمال ہوتے ہیں مثلا ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، بزکارڈ وغیرہ مجھے جاننا یہ ہے کہ کیا کریڈیٹ کارڈ کا استعمال کرسکتا ہوں ؟

جواب : کریڈٹ کارڈ اصل میں قرض پر نفع حاصل کرنے کی غرض سے جاری کیا جاتا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ قرض پر نفع حاصل کرنا سود ہے اس وجہ سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں ہے۔

سوال(11): نکاح کے موقع پر چھوہارا تقسیم کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

جواب : نکاح کے بعد چھوہارا تقسیم کرنا رسول اللہ یا اصحاب رسول اللہ کی سنت نہیں ہے یہ محض رسم ہے اسے ہٹانا بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثرجگہوں پر تنازع ہوتا ہے۔ بیہقی کی روایت اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔ : كان إذا زوَّج أو تزوَّج نثَر تمرًا. ( السلسلة الضعيفة:4198)

ترجمہ: جب نبی ﷺ شادی کرتے یا کراتے تو کھجور تقسیم کرتے۔

سوال(12): ایک آدمی عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور عمرہ کرنے سے قبل راستہ میں ہی بیمار ہوگیا، اس نےاحرام اتار دیا اور ہاسپیٹل سے علاج کرایا، اس وقت وہ حدود میقات یعنی جدہ میں ہے وہ کہاں سے احرام باندھے اورکیسے عمرہ کرے ؟

جواب : احرام حج یا عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کو کہتے ہیں اور اسے احرام کا کپڑا نہیں اتارنا چاہئے تھا اسی کپڑے میں علاج کراتا۔ بہر حال وہ ابھی تک محرم ہے، اسے دوبارہ احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی جگہ سے احرام کا لباس لگاکر عمرہ کرنے چلا جائے اور اس سے پہلے احرام کی ممنوعات میں سے جس کا ارتکاب کیا ہے وہ جہل کی بنیاد پر ہے اس وجہ سےاس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close