فقہمذہب

آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

 شیخ مقبول احمد سلفی

(1)غلام دست گیر نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب : دست گیر کا معنی مدد کرنے والا ہوتا ہے اور عام طور سے ہندوپاک میں دست گیر کی نسبت عبدالقادر جیلانی کی طرف کی جاتی ہے کہ وہ بندوں کی دست گیری (مدد کرنے والے) ہیں  اسی عقیدے کے تحت انہیں پیردست گیر سے موسوم کیا جاتاہے۔ اگر دست گیر سے مراداللہ ہے تو غلام دست گیر نام رکھنا صحیح ہے اور اگر اس کی نسبت جیلا نی کی طرف ہے تو جائز نہیں ہے اور چونکہ لوگوں کا ذہن اس لفظ سے فورا  غیراللہ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اس لئے ویسے ہی اس نام سے بچنا بہتر ہے۔

(2)کیا ابلیس کو بھی موت آئے گی اور اسی طرح شیطانوں کو بھی جبکہ ان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا ہے ؟

جواب :  جب اللہ تعالی نے ابلیس کو آدم علیہ السلام کا سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کردیا اور سجدہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے اللہ تعالی نے ابلیس کو اپنے دربار سے دھتکار دیا۔ ابلیس نے اللہ تعالی سے مہلت مانگی تو اللہ نے اسے مہلت دیدی۔ اس وقت ابلیس اللہ کی مہلت میں ہے اور قیامت تک اس مہلت سے فائدہ اٹھاکر لوگوں کو گمراہ کرتا رہے گالیکن قیامت کے وقت وہ، اس کے چیلے اور سارے شیطان مر جائیں گے۔

(3)ایک بہن جو پہلے غیراسلامی ماحول میں پلی بڑھی اب اسے دین کا احساس ہوا تو اس نے ترک نماز پر توبہ کرلی، روزوں کی قضا کررہی ہے کیا اسے مسکینوں کو فدیہ بھی دینا ہوگا؟

جواب :  رمضان کے فرض روزے جس نے جان بوجھ کر چھوڑے ہوں اس کی قضا کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلا ف پایا جاتا ہے۔ بعض قضا کا حکم دیتے ہیں اور بعض عدم قضا کا۔ توبہ کے ساتھ قضا کرلینا بہتر ہے لیکن فدیہ کی کوئی بات نہیں ہے۔

(4)فری میں حج کرنا یعنی کسی کے دئےہوئےپیسے سے حج کرنا کیسا ہے اور اس قسم کے حج سے فریضہ ساقط ہوجاتا ہے ؟

جواب :  دوسروں کے جائز مال سے حج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس طرح ادا کئے گئے حج سے فریضہ ساقط ہوجائے گا۔

(5)کیا مسلمان لڑکا شیعہ لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟

جواب :  شیعہ میں بہت سارے فرقے ہیں، شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے سفارینی  کے حوالے سے بائیس فرقے کا ذکر کیا۔ شیخ ابن باز نے کہا کہ شیعہ میں بہت سے فرقے ہیں ان میں سے بعض کافرہیں اور بعض کافر نہیں ہیں۔ اس بنیاد پر علی الاطلاق شیعہ کے سارے فرقوں کو کافر کے حکم میں نہیں مانا جائے گا۔ جہاں تک  شیعہ لڑکی سے شادی کا مسئلہ ہے تو پہلےاس کا عقیدہ معلوم کیا جائے گا،اگر وہ عام شیعہ کے کفریہ عقائد سے پاک ہو اور توبہ کرکے اسلامی عقیدہ کا قائل ہو تو اس صورت میں وہ شیعہ نہیں مسلم شمار ہوگی اورتب اس سے نکاح کرنا درست ہوگا ورنہ نہیں۔

(6)گھروں میں بچوں کی  گڑیا ہو تو وہاں نماز یا دیگر عبادت ہوتی ہے کہ نہیں ؟

جواب :  اس میں پہلا مسئلہ گڑیا سے متعلق ہے کہ اسے گھروں میں رکھنا کیسا ہے ؟، اس سلسلے میں گوکہ بعض علماء نے رکھنے کا جواز نکالا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیا سے دلیل پکڑی ہے تاہم  گڑیا کو گھروں میں نہ رکھنا ہی احوط واولی ہےکیونکہ روح والی تصویروں کے متعلق بڑی مذمت اور شدت گرفت آئی ہےالبتہ جس جگہ تصویر یا گڑیا ہو اس جگہ پڑھی گئی نماز صحیح ہے۔

(7)ایک مسلم اگر غیرمسلم کا دنیا میں حق مارتا ہے تو روز قیامت اس مسلمان و کافر کا کیسے حساب وکتاب ہوگا؟

جواب :  حقوق العباد کا فیصلہ بروز قیامت ہوگا جو بدلے کا دن ہے، جس کا حق مارا گیاہوگا اسے اللہ جل وعلا کامل انصاف دے گا اور جس نے کسی کاحق مارا ہوگا اسے بھی اپنے کئےکا بدلہ ملے گا خواہ  کافر ہو یا مسلم ہو۔اب رہی بات کہ مظلوم کافر کو بدلہ کس طرح دیا جائے گا؟اس کی کیفیت صرف اللہ کو معلوم ہے، اس بابت شریعت خاموش ہے، ہمیں یوم حساب کے عدل وانصاف پہ کامل ایمان لانا ہے اور غیبی امور میں سے جس کی تفصیل نہیں بیان ہوئی ہے وہاں خاموشی اختیار کرنا ہے۔

(8)بیٹی کا نام آیات رکھنا کیسا ہے ؟

جواب :  آیات، آیت کی جمع ہے جس کا معنی حجت وبرہان اورعلامت و نشانی ہے۔ اس لفظ میں کوئی خرابی نہیں ہے اس لئے یہ نام رکھا جاسکتا ہے۔

(9)اس میسج کی کیا حقیقت ہے "آج رات جو دعا مانگو وہ قبول ہوگی کیونکہ آج رات کو چاند خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔”؟

جواب:  دعا کی قبولیت کا افضل وقت بغیر دلیل کے نہیں مانی جائے گی اور مذکورہ قول کی کوئی دلیل نہیں ہے، یہ ایک گھڑی ہوئی بات ہے۔ لوگوں نے یہ بات گھڑی ہے کہ ایک لاکھ سال میں ایک بار 3:25 صبح کے وقت چاند کعبہ کے گرد گھومتا ہے اس وقت جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے، سراسر فضول اور واہیات ہے،اس جھوٹی بات کو صرف اندھی عقیدت کا شکار ہوکر سوشل میڈیا پرشیئر کیا جارہاہے۔ آپ خبردار رہیں۔

(10)فوت شدہ بچہ کی جانب سے عقیقہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب: بچے کی پیدائش پر اس کے ساتویں دن  عقیقہ کرنا مسنون ہے، جو بچہ سات دن کے بعد وفات پائے اس کی طرف سےعقیقہ کرسکتے ہیں اور جو سات دن سے پہلےہی انتقال کرجائے اس کی طرف سے عقیقہ نہیں ہے۔

(11)ایک عورت نے فجر کی دو سنت پڑھی مگر سلام پھیرنا بھول گئی اور پھر کھڑے ہوکر دو رکعت فجر کی نماز ادا کی یعنی ایک سلام سے چار رکعات ادا کی، دو سنت کی اور دو فرض کی۔ اس نماز کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  فجر کی فرض نماز میں کوئی کمی نہیں ہے، وہ ادا ہوگئی اور سنت نماز میں سلام نہیں پھیرنے کی وجہ سے نماز کا ایک رکن چھوٹ گیا، اس کا حکم یہ ہے کہ  اگر وہیں مصلے پہ سلام چھوٹنے کا علم ہوگیا تو سنت کی نیت کرکے سلام پھیرلے اور سجدہ سہو کرے او ر اگر درمیان میں لمبا وقفہ گزر گیا تو پھر سے دو رکعت سنت ادا کرلے کیونکہ رکن چھوڑ دینے سے نماز نہیں ہوتی۔

(12)شہید کو قتل کے وقت چیونٹی کے برابر تکلیف ہوتی ہے کیا یہ خصوصیت اس عورت کو بھی مل سکتی ہے جن پر شہید کا اطلاق ہو؟

جواب :  حدیث میں یہ خصوصیت اس مجاہد کی بیان کی گئی ہے جو میدان جنگ میں قتل ہو تو انہیں محض چٹکی یا چیونٹی کے برابر قتل سے پہلے تکلیف ہوتی ہے۔ اور وہ مرد یا خاتون  جومیدان جنگ میں قتل کے علاوہ دوسرے اعمال کی وجہ سے شہید کا درجہ پاتے  ہیں ان کے متعلق  اللہ سےاس خصوصیت کی امید کی جاسکتی ہے مگر وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتاہے۔

(13)کیا عقیقہ کے جانور کا دانتا ہونا ضروری ہے ؟

جواب: عقیقہ کے لئے بکرا / بکری کا  ایک سال  مکمل ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی جانورجسمانی عیوب ونقائص سے بھی پاک ہو۔

(14)شوہر اگر بیوی کو اپنے والدین یا کسی رشتہ دار سے بات چیت کرنے سے منع کرے تو بیوی کو بات ماننی چاہئے یا نہیں ؟

جواب :  نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی کی اطاعت صرف بھلی باتوں میں ہی کی جائے گی اور اللہ کی معصیت میں کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شوہرکا اپنی بیوی کو اس کے والدین سے بات چیت کرنے سے منع کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اسکےکسی رشتہ دارسے بات کرنے سے روکے۔ اگر کسی عورت  کو ایساسنگین مسئلہ درپیش ہو تو بالفور شوہر کی مخالفت نہ کرے بلکہ شوہر کو راضی کرنے اور سسرال  والوں سےاس کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرے۔ خود سے مسئلہ حل نہ کرسکے تو کسی کو ثالث بنالے اور خوشگوار ماحول میں معاملہ کا تصفیہ کرے۔

(15) زکوۃ کے پیسے سے کسی کو حج کرایا جاسکتا ہے میرا مطلب یہ ہے کہ کیا زکوۃ کے پیسے کو حج کے مصرف میں صرف کرنا اور اس رقم سے کسی مسکین کو حج کرانا درست ہے ؟

جواب :  حج فی سبیل میں داخل ہے اس کی صراحت حدیث میں موجود ہے۔ اس لئے مال زکوۃ سے محتاج ومسکین کو حج کرایاجاسکتا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہی موقف( یعنی مال زکوۃ سے فقیر کو حج کرانا) ہے جسے الاختیارات میں ذکر کیا ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر نفلی حج ہو تو زکوۃکامال حج کی ادائیگی کے لئے صرف نہیں کیا جائے گا لیکن اگر فریضہ (پہلا حج)ہو تو اس کی ادائیگی کے لئے مال زکوۃ دے سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

ایک تبصرہ

  1. جزاک اللّه شیخ اللّه آپ پر اپنی سلامتی فرمائے اور ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ت

متعلقہ

Close