فقہمذہب

احتکار

احادیث میں ذخیرہ اندوزی کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے

شادمحمد شاد

احتکار کے معنی ذخیرہ اندوزی کے آتے ہیں،یعنی اشیاء ضروریہ کو اپنے پاس روکے رکھنا تاکہ بازار میں ان کی رسد میں قلت پیدا ہوجائے اور ان کی قیمت میں اضافہ ہوجائے۔ اس عمل سے اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہوتا ہے، البتہ ذخیرہ اندوزی اس وقت ممنوع ہے جب درج ذیل شرائط  پائی جائیں:

1۔ عرفِ عام میں وہ اشیاء جو انسانوں کی غذا میں  یا  ضروریات ِ زندگی کے طور پر استعمال ہوتی ہوں، خواہ یہ استعمال اصالۃََ ہو جیسے گندم، چاول وغیرہ یا تبعاََ ہو جیسے چینی، مصالحہ جات وغیرہ، یا وہ اشیاء جانوروں کی غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہوں۔

2۔ یہ اشیاء ایسے مقامات سے خریدی گئی ہوں کہ جن کی پیداوار اس شہر یا گاؤں میں آتی ہو۔

3۔ ان اشیاء کو ذخیرہ کرنے کی وجہ سے عام لوگوں کو ضرر اور پریشانی لاحق ہو۔

جن اشیاء میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے اس کی ممنوع صورت کی شرعا کوئی تحدیدنہیں کی جاسکتی، بلکہ اس کا مدار اس ضرر (نقصان) پر ہے جس کو عرفِ عام میں ضرر (نقصان ) کہا جاسکے، لہذا اگر کسی چیز کی عام لوگوں کو ضرورت ہو اور ذخیرہ کرنے کے نتیجہ میں وہ آسانی سے نہ ملے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشانی لاحق ہو، یا وہ اتنی مہنگی اور گراں ہوجائے کہ عام لوگوں کے لئے عرفاََ باعث ِ ضرر شمار ہو، مثلا اس گرانی کو عام لوگ برداشت نہ کرسکتے ہوں تو یہ ذخیرہ کرنا ممنوع ذخیرہ اندوزی کے تحت داخل ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی عام لوگوں کو ضرر (نقصان ) پہنچانے کے لئے نہیں کرتا، بلکہ کسی اور مقصد مثلا چاول وغیرہ پراناکرنے کے لئے یا قیمت بڑھنے کی امید پر ذخیرہ کرتا ہے اور اس صورت میں وہ چیز مارکیٹ میں بآسانی عام قیمت پر مل رہی ہو تو یہ صورت ممنوع ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں ہوگی۔

ذخیرہ اندوزی کی مدت میں فقہاء کا  اختلاف ہے، بعض کے نزدیک ایک ماہ اور بعض کے نزدیک چالیس روزہے،اس اختلاف کی وجہ بھی یہی ہے کہ بعض مقامات پر لوگوں کو کم مدت میں ضرر لاحق ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بعض جگہ دیر سے ضرر لاحق ہوتا ہے،لہذا  غرض یہ کہ جب لوگوں کو ضرورت پڑنے لگے اور روکنے سے ضرر ہونے لگے تو ذخیرہ اندوزی شرعاً ناجائز ہوتی ہے۔ (مأخذہ امداد الفتاویٰ ص۱۹ ج۳)

احادیث میں ذخیرہ اندوزی کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے،ایک حدیث میں ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا گناہگار ہے (صحیح مسلم،حدیث نمبر: 1605)دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2153)

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close