مذہب

اسلامی اور مغربی تصورِ حقوق کا تقابلی مطالعہ

موجودہ دور میں ’حقوق انسانی‘ کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور یہ آج کا ایک زندہ موضوع (Burning Topic) ہے۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں اور کمیشن قومی اور بین الاقوامی سطح پر کام کر رہے ہیں۔جہاں بھی بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے ان کی طرف سے اس کے ازالے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود ،گو کہ دنیا مادی لحاظ سے کمال پر پہنچ گئی مگر معاشرتی طور پر انسانی اقدار زوال کا شکار ہیں۔انسان خودغرضی کی وجہ سے حیوانیت اور درندگی کی طرف بڑھ رہا ہے اور باہمی محبت،اخوت اور ہمدردی کے بجائے ایک دوسرے کے حقوق غصب کر رہا ہے ۔مغرب علمی وفکری،سیاسی و تمدنی بالادستی اور ذرائع ابلاغ پر مکمل تسلط کی بدولت بزعم خود انسانی حقوق کا علم بردار بن بیٹھا ہے،لیکن خود مغربی ممالک میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور رنگ و نسل کے تعصبات عروج پر ہیں۔ ان کا تصور بنیاد ی حقوق ان کے نظریہ قومیت اور نسلی امتیاز تک محدود ہے۔ وہ اپنی قوم یا سفید فام نسل کے لیے جن بنیادی حقوق کو چاہتے ہیں دوسری قوموں یا نسلوں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہیرو شیما ، ناگاساکی، ویت نام ، کمبوڈیا ، مشرق وسطیٰ ،عراق اور افغانستان میں جا بجا امریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔ اسی طرح کی کیفیت روس کی بھی رہی ہے۔ جہاں پونے دو کروڑ انسان سرخ سویرے کے جلوہ گر ہونے پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
آج بعض واقعات کا سہارا لے کر مخالفینِ اسلام کی پوری کوشش ہے کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں اسلام اور اس کی تعلیمات کو کم زور اور کم تر ثابت کیا جا ئے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی حقوق انسانی کا علمبردار ہے اور آج مغرب جن انسانی حقوق کی وکالت کر رہا ہے اسے اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی دنیا کو عطا کیا تھااورجن سے مغرب کے نام نہاد اور مہذب ممالک ماضی قریب میںآگاہ نہ تھے۔
مغربی حقوقِ انسانی کی تاریخ
انسانی حقوق کی تاریخ کا آغاز قدیم یونان اور روم سے ہوتا ہے۔ایتھنز اور دیگر یونانی ریاستوں میں عام درجے کے شہریوں کو سیاسی اور حکومتی امور میں حصہ لینے کا حق حاصل تھا۔اہلِ روم کے ادارتی شعبوں کا قیام بالخصوص رومی محکمۂ قانون فطری قانون کے نظریے کے تابع تھا۔جس کی ابتدا رواقی مسلک سے متعلق یونانیوں نے کی اور اس نظریے کا بانی سسرو(Marcus Tullius Cicero 106 BC-43 BC)تھا،جس کی رو سے دنیا عالمی سطح پر کارفرما قانونِ فطرت کے تابع ہے اور اس قانون کی روشنی میں تمام لوگ برابر ہیں اور بنی نوع انسانی اس قانون کو ماننے کے پابند ہیں۔(1)یونانیوں نے یقیناًقانون کی حکم رانی اور عدل و انصاف پر زور دیا لیکن مساوات کا تصور نہ دے سکے۔ہندوؤں کی طرح ان کے یہاں بھی انسانوں کے چار طبقات تھے۔افلاطون (Plato 424/423 BC-348/347 BC)اپنی کتاب ’جمہوریت‘(Republic)میں حکمرانی کا حق صرف فلسفیوں کو دیتا ہے اور پھر بقیہ افرادِ معاشرہ کو فوجیوں،کاشت کاروں اور غلاموں میں تقسیم کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
’’شہریو!تم آپس میں بھائی ضرور ہو،مگر خدا نے تمہیں مختلف حالتوں میں پیدا کیا ہے۔تم میں سے کچھ میں حکم رانی کی صلاحیت ہے اور انہیں خدا نے سونے سے بنایا ہے۔کچھ چاندی سے بنائے گئے ہیں جو ان کے معاونین ہیں۔پھر کاشت کار اور دست کار ہیں جنہیں اس نے پیتل اور لوہے سے بنایا ہے۔‘‘(2)
افلاطون کے نقشِ قدم پر اس کا شاگرد ارسطو(Aristotle 384 BC-322 BC) بھی چلتا ہے ۔ اسے بھی مساوات سے نفرت ہے ۔ چنانچہ وہ ’آزاد ‘ لوگوں کو حق دیتا ہے کہ وہ غریبوں کو غلام سمجھیں اور ان کی بیوی بچوں کو بھی اپنی ملکیت سمجھیں اور ان سے کام لیں۔ وہ اپنی کتاب ’سیاست‘میں لکھتا ہے:
’’فہمیدہ اور کشادہ دل اشرافیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غلاموں کو آپس میں بانٹ لیں،انہیں کام پر لگائیں اور جو ان کی ضرورت ہو اسے پورا کردیں۔غریب لوگ امیروں کے پیدائشی غلام ہیں۔وہ بھی ان کی بیویاں بھی اور ان کے بچے بھی۔‘‘(3)
ایسے حالات میں سب سے پہلے رواقیوں (Stoics)نے آواز اٹھائی۔اس فکر کے بانی زینو(Zeno of Citium c. 334 BC- c. 262 BC) نے انسانی مساوات پر زور دیا اور فطری قانون(Natural Law) کا نظریہ پیش کیاجو اس کے نزدیک آفاقی ہے اور اس کا اطلاق کسی خاص فرد پر نہیں،بلکہ ہر انسان پر ہوگا۔(Cranston M. Human Rights Today, London, 1964, P.09)اس نظریہ نے روم کے مفکرین اور قانون سازوں کو بہت متاثر کیا اور انہوں نے قانون و سیاست میں ’آزادی‘ اور مساوات پر غیر معمولی زور دیا۔اس طرح سے تاریخ میں پہلی بار فرد کی اہمیت تسلیم کی گئی۔
مغرب میں بنیادی حقوق کی جدوجہد کا حقیقی آغاز گیارہویں صدی میں ہوا اور مختلف اوقات میں بعض منشور اور قوانین منظور کیے گئے جیسے 1037ء میں برطانیہ میں کونارڈدوم(Conard II c.9901501039) کے ذریعہ پارلیمنٹ کے اختیارات کے تعیین کے لیے جاری کیا گیا منشور،1188ء میں شاہ الفانسو نہم (Alfonso IX 11711501230)کے ذریعہ منظور کیا گیا حبسِ بے جا کا قانون،15؍جون 1215ء میں برطانیہ میں میگنا کارٹا (Magna Carta)کے نام سے جاری کیا گیا بنیادی حقوق اور آزادی کا منشورجسے ’وولیٹر‘نے ’منشور آزادی‘قرار دیا،لیکن اس کی حیثیت امراء (Barons)اور شاہ جان(King John) کے درمیان ایک معاہدہ کی سی تھی جس میں امراء کے مفادات کا تحفظ کیا گیا تھااور عوام کے حقوق سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔1355ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعے قانونی چارہ جوئی (Due Process of Law)کے حق کا قانون منظور کیا گیا۔چودہویں سے سولہویں صدی تک یورپ پر میکیاولی(Machiavelli 14691501527)کے نظریات کا غلبہ رہا جس نے آمریت کو استحکام بخشا اور بادشاہوں کے ہاتھ مضبوط کیے۔
یورپ میں سترہویں صدی سے بنیادی حقوق کے سلسلے میں مزید بیداری آئی اور 1679ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے حبسِ بے جا کا قانون منظور کیا،جس نے عام شہرویوں کو بلاجواز گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا۔1684ء میں انقلابی فوج نے برطانوی پارلیمنٹ کے اقتدارِ اعلیٰ کے حدود متعین کیں۔1689ء برطانوی پارلیمنٹ نے ’قانونِ حقوق‘ (Bill of Rights)کو منظوری دی جس کے ذریعہ بادشاہت کے آمرانہ اختیارات پر روک لگائی گئی اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بنا قوانین میں ترمیم اور تنسیخ سے روکا گیا اور بنیادی حقوق کا تعین کیا گیا۔1690ء میں جان لاک (John Locke 16321501704)نے اپنی کتاب”Two Treatises of Government-1689″ میں اور1762ء میں فرانسیسی مفکر روسو (Jean-Jacques Rousseau 17121501778)نے اپنی کتاب(Of the Social Contract, or Principles of Political Right 1762)میں معاہدۂ عمرانی پر مدلل بحثیں کیں اور ریاست کے مقابلے میں فرد کے حقوق کو ترجیح دی۔
14؍جون1776ء کو امریکی ریاست ورجینیا (Virginia)سے جارج میسن (George Mason 17251501792)کا تحریر کردہ منشورِ حقوقVirginia Declaration of Rights) (جاری ہو ا،جس میں پریس کی آزادی،مذہب کی آزادی اور عدالتی چارہ جوئی کے حق کی ضمانت دی گئی۔12؍جولائی 1776ء کو امریکہ کا ’اعلانِ آزادی‘ (Declaration of Independence 1776) جاری ہوا ،اس کا مسودہ تھامس جیفرسن(Thomas Jefferson 17431501826) نے لکھا تھا جس میں جان لاک کے فطری قانون(Law of Nature) کے نظریے کے مطابق تمام انسانوں کو مساوات،تحفظِ زندگی،آزادی اور تلاشِ مسرت کے حقوق دیے گئے۔ستمبر 1787ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا دستور تیار اور نافذ ہوا۔اس کے تین سال بعد 1789ء میں اس میں اولین ترمیم منظور کرکے مسودۂ حقوق (Bill of Rights)کو شامل کیا گیا۔اس مسودہ میں دس دفعات منظور کی گئیں جن میں مذہبی آزادی،اظہارِرائے،تقریر کی آزادی،پریس اور اجتماع کی آزادی دی گئی تھی اور بعد میں دیگر دفعات کا بھی اضافہ کیا گیا۔ اسے ’قانونِ حقوق‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔اسی سال فرانس کی قومی اسمبلی نے منشور انسانی حقوق(Declaration of the Rights of Man) منظور کیا۔اس میں بنیادی حقوق سے متعلق سترہ(17)دفعات تھیں۔ان میں ہر فرد کو زندگی،آزادی،مساوات،جائیداد،مذہبی آزادی،تحریر و تقریر کی آزادی کا حق دیا گیا تھا اور ظلم و زیادتی،استحصال،جبری مزدوری،بغیر قانونی تقاضوں کی تکمیل کے حراست سے تحفظ دیا گیا تھا۔1792ء میں تھامس پین (Thomas Paine) نے اپنا مشہور کتابچہ’حقوق انسانی‘ (The Rights of Man) شائع کیا، جس نے اہلِ مغرب کے خیالات پر گہرے اثرات مرتب کیے اور حقوق انسانی کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید جلا بخشی۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں ریاستوں کے دستوروں میں بنیادی حقوق کی شمولیت ایک عام روایت بن گئی۔1868ء میں امریکی دستور کی چودہویں ترمیم منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ امریکہ کی کوئی بھی ریاست قانونی ضابطہ کی تعمیل کیے بغیر کسی شخص کو اس کی جان،آزادی اور املاک سے محروم نہیں کرے گی اور نہ اسے قانون کا مساوی تحفظ فراہم کرنے سے انکار کرے گی۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور متعدد نئے یورپی ممالک کے دساتیر میں بنیادی حقوق شامل کیے گئے۔1940ء میں مشہور ادیب ایچ جی ویلز (H.G.Wells18661501946)نے اپنی کتاب ’دنیا کا نیا نظام‘(The New World Order 1940) میں ایک منشور انسانی حقوق کے اجراء کی تجویز پیش کی۔جنوری 1941ء میں صدرروزویلٹ(Franklin D. Roosevelt 19331501945)نے کانگریس سے ’چار آزادیوں‘ کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔اگست1941ء میں منشورِ اوقیانوس(Atlantic Charter) پر دستخط ہوئے جس کا مقصد بقول چرچل’انسانی حقوق کی علمبرداری کے ساتھ جنگ کا خاتمہ‘تھا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد مختلف ممالک کے دستوروں میں بنیادی انسانی حقوق شامل کیے گئے۔فرانس نے1946ء کے دستور میں1789ء کے ’منشور انسانی حقوق‘ کو شامل کیا۔اسی سال جاپان نے بنیادی حقوق کو دستور کا حصہ بنایا۔1947ء میں اٹلی نے اپنے دستور میں انسانی حقوق کی ضمانت دی۔(4)
آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے ریزولیوشن نمبر 217-A(III) کے تحت10؍دسمبر 1948ء میں ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ (The Universal Declaration of Human Rights-1948)جاری کیا۔ یہ عالمی منشور ابتدائیہ(Preamble) اور30 دفعات پر مشتمل ہے ۔
دفعہ (1) میں اس منشور کی نظریاتی اساس کو بیان کیا گیا ہے کہ تمام انسان آزاد اور وقار و حقوق میں مساوی الحیثیت پیدا ہوئے ہیں۔وہ عقل اور ضمیر رکھتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ احساس کے ساتھ عمل کرنا چاہیے ۔دفعہ(3) میں اس منشور کے بنیادی حصے کو بیان کیا گیا ہے اور زندگی،آزادی اور سلامتی کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو زندہ رہنے،آزاد رہنے اور اپنی جان کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے،دراصل یہی حق دوسرے تمام حقوق سے استفادہ اور ان کے حصول کے لیے ضروری ہے۔اس کے بعد دفعہ(4) سے دفعہ(21) تک81 دیگر حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔دفعہ(22) میں معاشی،معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو باوقار زندگی اور تعمیر شخصیت کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے اور ان حقوق کو دفعہ(23) سے دفعہ (27) تک بیان کیا گیا ہے۔اختتامی دفعات 28 تا 30میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو ایسے سماجی و بین الاقوامی نظم کا حق حاصل ہے جس میں تمام انسانی حقوق اور آزادیاں پوری طرح حاصل ہو سکیں۔دفعہ(30)میں یہ انتباہ ہے کہ کوئی ریاست،کوئی گروہ اور کوئی شخص اس منشور میں مذکور کسی آزادی یا حق کو ختم و برباد کرنے کے لیے کسی سرگرمی میں مشغول ہونے یا ایسی کوئی حرکت کرنے کو اپنا حق قرار نہیں دے سکتا۔(5)عالمی منشور کی تفصیل کے لیے دیکھیے ۔(6)
اس دستور پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا جائزہ لینے اور ان کے تحفظ یا نئے حقوق کے تعیین کے لیے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا۔
مغربی حقوق انسانی کی خامیاں
مغرب کی طرف سے انسانی حقوق کے سلسلے میں کی گئی کوششیں یقیناًقابلِ تعریف ہیں،لیکن اگر ان کا نظریاتی اور عملی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے تو ذہنوں میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ کیا ایک ’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘ مرتب اور منظور کر لینے سے فی الواقع انسان کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں؟کیا یہ منشور انسان کو آمریت و فسطائیت کے چنگل سے نجات دلانے میں کام یاب رہا ہے؟اور کیا اکیسویں صدی کا انسان فی الواقع بارہویں یا سولہویں صدی کے مظلوم انسانوں اور غلاموں کے مقابلے میں زیادہ پرامن، محفوظ اور آزاد زندگی بسر کررہا ہے؟
انسان کی محرومیوں اور درماندگی کے تاریخی پس منظر میں جب بنیادی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق اور ایمنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹس،اخبارات ورسائل کی فراہم کردہ معلومات اور موجودہ صورت حال کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ تلخ اور ناقابلِ تردید حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ آج کے بانسان بھی محفوظ اور آزاد نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ اس کی مختلف وجوہ ہیں:
(1) اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی طرف سے جاری ہونے والے منشور اور قوانین عملی طور سے قوتِ نافذہ سے محروم ہیں۔ان کی پشت پر ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو ان حقوق کو مکمل طور سے نافذ کر سکے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں مواخذہ کر سکے۔زیادہ سے زیادہ ان حقوق کی بس تلقین کی جاسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے بنیادی حقوق اور قوانین بنائے وہی ان کی پامالی میں پیش پیش ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔اسی لیے ’عالمی منشور‘کو متعدد یورپی مبصرین نے ایک تشنہ و نامکمل منشور قرار دیا۔ بقول ہینز کیلسن(Hans Kelsen 18811501973)
’’خالص قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو منشور کی دفعات کسی بھی ملک پر انہیں تسلیم کرنے اور منشور کے مسودہ یااس کے ابتدائیہ میں صراحت کردہ انسانی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی پابندی عائد نہیں کرتیں،منشور کی زبان میں کسی ایسی تعبیر کی گنجائش نہیں ہے،جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ رکن ممالک اپنے شہریوں کو انسانی حقوق اور آزادیاں دینے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔‘‘(7)
عالمی منشور نے ایک فردکو بحیثیت فردکیا دیا؟ اس کے بارے میں کارل منہائم(Karl Mannheim 18931501947) لکھتے ہیں:
’’منشور نے کسی فرد کو یہ قانونی حق نہیں دیا کہ وہ منشور میں دیے گئے حقوق اور آزادیوں میں سے کسی ایک کے سلب ہو جانے کی صورت میں بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ادارۂ انصاف،بین الاقوامی عدالت انصاف سے اپیل کر سکے،اس عدالت کے قانون کی دفعہ؍34 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ عدالت کے سامنے صرف ریاستیں ہی فریق کے طور پر پیش ہو سکتی ہیں۔‘‘(8)
(2)مغرب میں انسانی حقوق کا تصور انسانی شعور پر منحصر رہا۔عوامی بیداری سے پہلے بادشاہوں کی مطلق العنان حکمرانی تھی اور عوام ان کے مقابلے میں مجبور اور بے بس تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ دونوں میں کشمکش بڑھتی گئی ،جس کے نتیجے اختیارات اور حقوق تقسیم ہوئے ۔کل تک جن چیزوں کا شمار ’حقوق‘ میں نہیں ہوتا تھاآج ان کا شمار اس لیے حقوق میں کیا جانے لگا کہ عوام کا مطالبہ تھا ۔ دوسرے لفظوں میں عوام کے مطالبے پر ان کو بنیادی حقوق دیے گئے ہیں۔بقول ڈبلیو فریڈین(Wolfgang Gaston Friedmann19071501972) :
’’یورپ میں بنیادی انسانی حقوق کا تصور اولاً قرون و سطیٰ کے معاشرتی نظام کے خلاف اور ثانیاً سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی جدید ریاست کی آمرانہ حکومت کے خلاف رد عمل کے طور پر ابھرا ہے۔‘‘(9)
(3)مغربی حقوق انسانی دائمی نہیں ہیں اور نہ مستقل اقدار (Permanent Values)رکھتے ہیں۔مغربی دنیا کے کسی بھی دستور کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں ’دستوری ترمیمات‘ کا ایک ایسا باب ضرورہے جس کے ذریعے اربابِ حکومت نئی دفعات کے نفاذ،ان میں ترمیم و تنسیخ،ہنگامی حالات کا اعلان اور ان کے تحت حاصل شدہ اختیارات سے اپنے لیے حسبِ منشا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس طرح ایک ایسا قدم جو کل تک ناجائزاور غیر قانونی تھا آج محض دستوری ترمیم کی وجہ سے جائز اور قانونی ہو جاتا ہے اور اس تبدیلی میں اخلاقی اصول اور عدل وانصاف کا کوئی معروف ضابطہ حائل نہیں ہوتا ہے۔ بقول سی ڈی کرنگ(C.D. Kernig)
’’بنیادی حقوق کی جڑیں گو جدید دساتیر کے مسودوں میں پیوست ہوتی ہیں لیکن یہ ہمیشہ ’’قانون کے مطابق تعبیر‘‘ کی زد میں رہتے ہیں حالانکہ اپنی روح کے اعتبار سے یہ ناقابلِ مداخلت (Inviolable)سمجھے جاتے ہیں۔‘‘ (10)
(4)مغربی انسانی حقوق کے ماخذ تصوراتی ہیں اور نسلی،علاقائی،قومی اور نظریاتی تعصبات سے متاثر ہیں۔اگرچہ مغربی ممالک دنیا کے تمام انسانوں کے لیے یکساں حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عملاً اپنی قوم اور نسل اور دیگر قوموں اور نسلوں میں تفریق کرتے ہیں۔فرانس کے منشور انسانی حقوق کو جب 1791ء کے آئین میں شامل کیا گیا تو فرانسیسی مقبوضات اور مستعمرات کو اس کے اطلاق سے مستثنیٰ کیا گیا۔ایسے ہی برطانیہ کے غیر تحریری دستور میں ان کے شہریوں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ برطانیہ کے نوآبادیات میں رہنے والے افراد کو نہیں حاصل تھے۔ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کو سفید فام نسل کے مساوی حقوق آج بھی نہیں ملے ہیں۔ان کے علاوہ موجودہ سپرپاور امریکہ کا بنیادی انسانی حقوق کے سلسلے میں ترقی پذیر خصوصاً مسلم ممالک کے ساتھ جو رویہ ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔
(5)مغربی انسانی حقوق کی بنیاد میں خدا اور مذہب کی کوئی جگہ نہیں ہے اور’ اقتدارِ اعلیٰ‘ کا حق انسان ہی کو دیا گیا ہے کیوں کہ یورپ میں کلیسا اور حکومت کی جنگ نے مغرب کو نہ صرف خدا کے تعلق کی نعمتِ عظمیٰ سے محروم کردیا بلکہ ان میں بطورردعمل خدا بے زاری اور مذہب سے دوری اور نفرت پیدا ہوئی اور یہی چیز انہیں دوسری قوموں کے حقوق کی پامالی کی طرف لے گئی ۔پروفیسر الیاس احمد اس پر لکھتے ہیں:
’’فلسفہ سیاسست میں اقتدار اعلیٰ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہوا نظر آتا ہے۔کبھی وہ ایک فرد سے چند افراد کی طرف منتقل ہوتا ہے اور کبھی بہت سے افراد کی طرف،کبھی فرد سے معاشرے کی طرف،کبھی اقلیت سے اکثریت کی طرف،کبھی اکثریت سے پھر اقلیت کی طرف،کبھی انتظامیہ سے مقننہ کی طرف،کبھی مقننہ سے عدلیہ کی طرف اور بالآخر معاشرے سے پھر ریاست کے مجرد تصور کی طرف۔‘‘(11)
جہاں تک انسان کی حقیقت اور اس کے مقام و مرتبہ کی بات ہے تو مغرب میں اس کا کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے، اس لیے اس کی زندگی کے بنیادی حقوق کے تعین میں زبردست فکری الجھاؤ ہے اور سارے نظریے قیاس و گمان کی بنیاد پر قائم کردہ ہیں۔
اسلامی انسانی حقوق کے امتیازی پہلو
موجودہ دور میں انصاف پسند لوگوں کے ذہنوں یہ سوال ضرور آرہا ہے کہ ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘کی ناکامی کے بعد کیا کوئی دوسرا منشور حقوقِ انسانیت ہے جس سے واقعتاہر فرد کو بنیادی انسانی حقوق مل سکے اوردنیا میں امن و امان قائم ہوسکے؟اس سوال کا جواب اس ’اسلامی عہد‘ میں پوشیدہ ہے،جو چھٹی سے دسویں صدی عیسوی تک پانچ سو سال کی مرتب کردہ تاریخ کے صفحات سے غائب ہے ،یعنی جسے اسلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کے سامنے ’’منشور حقوقِ انسانیت‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے،جو نقائص اور غلطیوں سے پاک ہے۔یہ منشور آج بھی وہ نتائج فراہم کر سکتا ہے جسے دنیا کے دیگر انسانوں کی خود ساختہ فکر پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔اسلامی انسانی حقوق کا تصور مغربی تصور سے زیادہ جامع اور مختلف پہلوؤں سے ممتاز ہے:
(1)اسلام نے بنیادی حقوق انسانوں کو بذاتِ خود عطا کیے ہیں،حقوق کے لیے ان کو حکمرانوں سے جنگ نہیں کرنی پڑی۔ایسے ہی اسلام میں فرد اور ریاست کے درمیان کشمکش کا کوئی تصور نہیں ہے۔افراد کو حقوق اس لیے حاصل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کا مستحق قرار دیا ہے اور ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان حقوق کا تحفظ کرے اوراس کے نفاذ کی ہر ممکن کوشش کرے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی ذمہ داری دی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
فالامام الذی علی الناس راع، و ھو مسؤل عن رعیتہ۔‘‘(12)
’’امام جو لوگوں پر حکمرانی کررہا ہے وہ ان کا نگراں ہے،اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘
(2)اسلام نے مساوات کا نظریہ پیش کیا اور سب کو ایک باپ کی اولاد اور ایک ریاست کا فرد قرار دیا۔اس نظریہ کا تقاضا تھا کہ پوری نسلِ آدم کے لیے ایک ہی ’ضابطۂ حیات‘ مقرر کیا جائے چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَم۔(13)
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین تو صرف اسلام ہی ہے۔‘‘
اس ’ضابطۂ حیات‘ میں واضح کردیا گیا کہ تمام انسانوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور رنگ،نسل،زبان اور علاقے کی بنیاد پر ان میں کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔ارشادِ نبوی ہے:
یا ایھا الناس الا ان ربکم واحد و ان اباکم واحد الا لا فضل لعربی علیٰ عجمی و لا لعجمی علی عربی،ولا لاحمر علیٰ اسود ولا لاسود علیٰ احمر الّا بالتقویٰ۔(14)
’’لوگو!خوب اچھی طرح سن لو،تمہارا رب ایک ہے،تمہارا باپ ایک ہے۔خوب اچھی طرح سن لو۔نہ عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل ہے،نہ عجمی کو عربی پر،نہ گورے کو کالے پر،نہ کالے کو گورے پر،اگر کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل ہو سکتی ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔‘‘
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا اشاد ہے:
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُم۔(15)
’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
(3)اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ بنیادی حقوق دائمی اور غیر متبدل ہیں۔جن امور میں اس نے انسان کو آزادی دی ہے ،ان میں کسی کو مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے اور جن امور میں اس نے واضح احکام دیے ہیں ان میں کسی دوسرے کو قانون سازی کا حق نہیں ہے ، حتیٰ کی خلیفہ وقت یا پوری امت بھی مل کر اس میں تبدیلی نہیں کر سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کے عطاکردہ دستور کو مستقل حیثیت (Permanent Constitution)حاصل ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِکَلِمَاتِہِ۔(16)
’’تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے۔کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں۔‘‘
ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے:
وَلاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّہ۔(17)
’’اللہ کی باتوں(قوانین و احکام)کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔‘‘
(4)اسلام نے انسانی حقوق کی بنیاد مذہب پر رکھی اورواضح کیا کہ ’اقتدار اعلیٰ‘ کا حق انسان کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔قرآن کہتا ہے:
إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہ۔(18)
’’فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ۔‘‘
حقیقت یہی ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق مسائل کو حل کر نے کے لیے الہامی مذاہب کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے،کیوں کہ انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان نے وحی کے ذریعہ دیے گئے علم کو نظر اندازکیااور محض عقل سے انسانی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تو وہ راہِ راست سے بھٹک کر جہالت اور گمراہی کی وادیوں میں ٹھوکریں کھانے لگا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِیْ الأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ إِن یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ۔(19)
’’اور ائے محمد!اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلوجو زمین پر بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ۔(20)
’’ان سے کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے،جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کر رہے ہو۔‘‘
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پراپنا نائب اوراوامر و نواہی میں اپنا پابند بنایا اور ان سے عہد لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہی مقتدر اعلیٰ مانیں اور اس کے دین کو غالب کریں اور اس کے بندوں کو ان لوگوں سے نجات دلائیں جنہوں نے اللہ سے بغاوت کر کے اس کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے اور انہیں آزادی سے محروم کر رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَاذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُم بِہِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔(21)
’’اللہ نے تم کو (مسلمانوں کو) جو نعمت(دین)عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اس پختہ عہد و ایما ن کو نہ بھولو جس اس نے تم سے لیا ہے یعنی تمہارا یہ قول کہ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی۔اللہ سے ڈرو،اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔‘‘
مزید برآں اللہ تعالیٰ نے عہد کی پابندی کرنے والوں کو انعام اور خلاف ورزی کرنے والوں کو عذابِ الیم کی وعیدبھی سنائی:
مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ۔إِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّہِ وَأَیْْمَانِہِمْ ثَمَناً قَلِیْلاً أُوْلَءِکَ لاَ خَلاَقَ لَہُمْ فِیْ الآخِرَۃ۔(22)
’’جوبھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گاکیوں کہ پرہیزگار لوگ اللہ کو پسند ہیں،رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘
یہ تصور حکمراں کو عوام کے حقوق کی ادائیگی میں محتاط اور حساس بناتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ خدا کی محبت اور اس کی خشیت دل میں جتنی زیادہ ہوگی،انسانی حقوق کی پاسداری کا لحاظ بھی اسے اسی قدر ہوگا۔
(5)اسلام نے عوام کے سامنے حکم رانوں کو جواب دہ بنایا اور انہیں اس بات کا حق دیا کہ اگر وہ حکم رانوں کو حقوق و فرائض کی ادائی میں غافل پائیں تو ان کا محاسبہ کریں،ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں اور اگر پھر بھی درست نہ ہوں تو انہیں معزول کرکے دوسرے کو منتخب کر لیں۔امتِ مسلمہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ خلیفۂ وقت کو ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ٹوکا گیا اور انہوں نے برا مانے بغیر اپنی اصلاح کی۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ منبر پر فرمایا:
’’صاحبو!اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں تو تم لوگ کیا کرو گے؟ایک شخص کھڑا ہو گیا اور تلوار کھینچ کر بولا’’تمہارا سر اڑا دیں گے‘‘آپؓ نے اسے آزمانے کے لیے ڈانٹ کر فرمایا:کیا میری شان میں تو یہ الفاظ کہتا ہے؟اس نے کہا ہاں تمہاری شا ن میں،حضرت عمرؓ نے کہا’’الحمدللہ قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ میں کج ہوں گا تو مجھ کو سیدھا کر دیں گے۔‘‘(23)
بعض اسلامی اور مغربی تصور حقوق کا موازنہ
اس میں اسلام کے پیش کردہ بنیادی انسانی حقوق اور مغرب کے حقوق کا تقابلی موازنہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ انسانی حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کے بارے میں دونوں کا نقطۂ نظر واضح ہو سکے ۔یہ وہ حقوق ہیں جو بلاتفریق ملت و عقائد سب کو حاصل ہیں۔
زندہ رہنے کا حق
اسلام نے تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دیا ہے،خواہ وہ کسی بھی قوم،ملک،علاقہ، مذہب اور فکر سے تعلق رکھتا ہو۔اس کے نزدیک کسی ایک کو بلاوجہ قتل کرنا تمام انسانوں کو قتل کرنا ہے۔(24)قرآن کہتا ہے:
مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعا۔(25)
’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا۔اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخش دی۔‘‘
اسلام نے ناحق قتل کرنے والے کوجہنم میں ہمیشگی کی سزا دی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً۔(26)
’’جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے غربت اور مفلسی کی وجہ سے اولاد کو بھی قتل کرنے سے منع کردیا۔اسی سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام رحم مادر میں پلنے والے جنین کو بھی زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اور اسقاطِ حمل سے روکتا ہے۔چناں چہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَکُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاہُمْ ۔(27)
’’اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔‘‘
مزید یہ کہ اسلام نے نہ صرف دوسروں کی ناحق جان لینے سے روکا بلکہ خود کو بھی ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیااور خودکشی کو حرام قرار دیا:
ْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ ۔(28)
’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘‘
اسلام نے ناحق قتل میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہیں کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من قتل معاھداً لم یرح رائحۃ الجنۃ۔(29)
’’جس شخص نے کسی ایسے غیر مسلم کو جس سے معاہدہو،(ناحق)قتل کردیا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔‘‘
اس کے برعکس مغربی بنیادی حقوق انسانی کے انسان کو زندہ رہنے حق تو دیا گیا ہے لیکن فی الحقیقت اس میں یہ بات مضمر ہے کہ یہ صرف ان کے شہریوں اور سفید فام نسل کے لوگوں کو ہی حاصل ہے۔افغانستان،عراق،فلسطین،لیبیا،بعض دیگر مسلم ممالک اور افریقہ میں مغربی اقوم کے ذریعہ نسل کشی کرنایاآسٹریلیا میں قدیم باشندوں کو اپنے لوگوں کے لیے قتل کرنااورانہیں نکال باہر کرناوغیرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان کا بحیثیت ’انسان‘ کو ئی احترام نہیں ہے بلکہ قوم ،نسل ،رنگ اور علاقے کی بنیاد احترام کیا جاتاہے۔
یورپی کنوینشن برائے تحفظ حقوق انسانی (European Convention for the Protection of Human Rights, 1950)کے دفعہ 2 میں لکھا ہے کہ جان سے محرومی کی سزا اس وقت جائز ہوگی جب کسی کو قانونی طور گرفتار کرنے یا قانون کی حراست سے بچ کربھاگنے کے جرم میں دی جائے۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا جرم ثابت نہ ہویا ہلکا ہو ۔زندگی کے حق کو محض کسی غیر واضح جرم کی بنا پر حراست میں رکھنے کے لیے خطرہ میں ڈالنا صحیح نہیں ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
واللہ لا یؤسر رجل فی الاسلام بغیر العدول۔(30)
’’اللہ کی قسم اسلام میں کسی شخص کو قید نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ معتبر گواہی کے ذریعے اس کا مجرم ہونا ثابت نہ ہو جائے۔‘‘
مزید برآں مغربی حقوق انسانی میں اسلام کے برعکس اسقاطِ حمل کو جائز قرار دیا گیا ہے اورانسان کو تحفظِ جان کا حق ولادت کے بعد دیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ مغربی مفکرین نے اسلام کی مقرر کردہ حدوداور تعزیرات کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے اورانہیں اپنے ’عالمی منشور حقوق انسانی‘ میں شامل نہیں کیا ہے کیوں کہ ان کی نظر میں سوائے سزائے موت کے جو بعض ممالک میں رائج ہے ، دیگرسزاؤں کوظالمانہ ہے۔مثلاً چور کا ہاتھ کاٹنا،ڈاکو کو قتل کردینا،زانی کو سنگسار کرنایا کوڑے مارنا اور شرابی کو کوڑے کی سزا دینا وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی طرف سے نافذ کردہ حدود اور تعزیرات کاعظیم مقصد یہ ہے معاشرے کو جرائم سے پاک رکھا جائے اور دنیامیں لوگ امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ان سزاؤں کو سخت اس لیے رکھا گیا کہ یہ لوگوں کو جرائم کے ارتکاب سے باز رکھتی ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی جن ملکوں میں ان کا نفاذکسی نہ کسی شکل میں باقی ہے ،وہاں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے اور ان کے مقابلے میں مغربی ممالک میں جہاں انسانوں کے بنائے ہوئے قانون ہیں وہاں جرائم اپنے عروج پر ہیں۔
آزادی کا حق
اسلام نے انسانوں کو آزادی کا حق دیاکہ وہ اپنے ارادے و اختیار میں آزاد ہیں کہ اپنی مرضی سے جو چاہیں کریں۔اس میں شخصی آزادی،غلامی سے آزادی،عقیدے کی آزادی،اظہارِرائے کی آزادی اورنقل وحرکت اور سکونت کی آزادی وغیرہ شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُؤْتِیَہُ اللّہُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُواْ عِبَاداً لِّیْ مِن دُونِ اللّہِ وَلَکِن کُونُواْ رَبَّانِیِّیْنَ بِمَا کُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُونَ۔(31)
’’کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت دے ، یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ،بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ،تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے باعث۔‘‘
اسلام نے آزاد انسان کو غلام بنانے اور اسے بیچ دینے سے بھی منع کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
انی مخاصم من أمتی ثلاثۃ یوم القیامۃ ومن خاصمتہ خصمتہ رجل باع حرّاً،أو أکل ثمنہ۔(32)
’’تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے روز میں خود مستغیث ہوں گا۔ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے کسی آزاد کو بیچا یا اس کی قیمت کھائی۔‘‘
اہلِ مغرب کو اس پر بہت فخر ہے کہ انہوں نے غلامی کا انسداد کیا ہے،جب کہ انہیں اس کا خیال انیسویں صدی کے وسط میں آیا ورنہ اس سے پہلے انہوں نے مختلف کم زور ممالک کو اپنا غلام بنائے رکھا ،خصوصاً افریقہ کے لوگوں کو پکڑ کر اپنے ملکوں میں غلام بنا کر لے جاتے رہے۔(33)
اسلام نے ہر فرد کو عقیدے کی آزادی دی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیّ۔(34)
’’دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے،صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔‘‘
اسلام مسلمانوں کو دنیا کے سامنے دین کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن اس میں جبر اور زبردستی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَلَوْ شَاء رَبُّکَ لآمَنَ مَن فِیْ الأَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُواْ مُؤْمِنِیْنَ۔(35)
’’اگر تیرے رب کی یہ مشیت ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں)تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں۔‘‘
مغربی حقوق انسانی میں عقیدے اور مذہب کی آزادی دی تو گئی ہے مگر عملاًیہ مفقود ہے۔مغرب آج بھی دوسروں پر خصوصاً مسلم ممالک میں اپنے مذہب اور عقیدے کو بڑھاوا دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
اسلام نے انسانوں کو اظہارِ رائے کی پوری آزادی دی ہے کہ وہ ظلم کے خلاف حق بات بولیں اور ملّی وملکی مسائل پر رائے دیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے برائی نہ پھیلے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری اور نقصان ہو خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو۔قرآن کہتا ہے:
إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ۔(36)
’’ان کو اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے،زکوۃ دیں گے،بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔‘‘
انسان میں یہ صفت اسی وقت پیدا ہوگی جب اسے اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہو۔مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے آزادی کی حد بھی متعین کر دی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ صحابہ کرامؓ سے مشورے لیتے اور اظہارِ رائے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔خلفائے راشدین اور دیگر حکمرانوں نے بھی اس کا بھرپور خیال رکھا۔حضرت عمرؓ کے دور میں کوئی بھی آپؓ کو ٹوک سکتا تھا چناں چہ ان کو بھرے مجمع میں اپنے جسم کی دو چادروں کا حساب دینا پڑا۔اسلامی تاریخ میں اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جن میں خلیفۂ وقت کوان کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ٹوکا گیا اور انہوں نے ایسا کرنے والوں کو کوئی سزا نہ دی۔
اس کے برعکس مغرب حقوق انسانی میں ’آزادی اظہارِ رائے ‘کی مکمل چھوٹ دے دی گئی ۔ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں جو بھی غلاظت موجود ہے اسے وہ دنیا کے سامنے بلا روک ٹوک پیش کر سکتا ہے،خواہ اس سے کسی قوم یا فرد کے مذہب ، عقیدے اور عزتِ نفس پر ضرب ہی کیوں نہ پڑے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کبھی مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی اظہارِ رائے کے نام پر فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔
ذاتی زندگی میں رازداری (Privacy) کا حق
اسلام نے ہر فرد کو ذاتی زندگی گزارنے کا حق دیا ہے اور اس میں کسی کی مداخلت ،ٹوہ،گمان،تجسس اورشک کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تَجَسَّسُوا۔(37)
’’اور تجسس نہ کرو۔‘‘
اسلام پرائیویسی کا اس قدر خیال کرتا ہے کہ اس نے کسی بلااجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا۔قرآن کہتا ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتاً غَیْْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَی أَہْلِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ ۔ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِیْہَا أَحَداً فَلَا تَدْخُلُوہَا حَتَّی یُؤْذَنَ لَکُمْ وَإِن قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ہُوَ أَزْکَی لَکُمْ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیْمٌ۔(38)
’’ائے لوگو!جو ایمان لائے ہو،اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو۔یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ۔یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔‘‘
مزید یہ کہ اسلام نے خلیفۂ وقت کو بھی لوگوں پر بلاوجہ شک وشبہ کرنے اور ان کی جاسوسی کرنے سے روک دیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ان الأمیر اذا ابتغی الریبۃ فی الناس أفسد ھم۔(39)
’’اگر حکمراں اپنی رعایا کے ساتھ شک و شبہ کا معاملہ کرے گا تو انہیں بگاڑ کر رکھ دے گا۔‘‘
ایک اور جگہ آپؐ نے فرمایا:
انک ان أتبعت عورات الناس أفسد تھم أو کدت أن تفسد ھم۔(40)
’’اگر تم لوگوں کے پوشیدہ امور کی ٹوہ میں رہو گے تو انہیں بگاڑ دو گے یا بگاڑ کے قریب پہنچا دو گے۔‘‘
مغرب نے انسان کو ذاتی زندگی کا حق تو دیا لیکن اربابِ حکومت کی طرف سے عوام الناس کے فون،ای میل،خطوط،تصاویر اور بات چیت وغیرہ ریکارڈ کی جاتی ہے ،اس سے ان کی ذاتی زندگی(پرائیویسی) کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ یہاں انسان اقتدارِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہے اور اسے ہر وقت اقتدار کھونے کا خوف ہوتا ہے۔اس لیے وہ لوگوں اور ان کے رازوں سے واقف ہونے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے۔اس سے معاشرے میں بے چینی،بے اعتمادی اور لڑائی کی فضا پیدا ہوتی ہے جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔
مساوات کا حق
اسلام نے تمام انسانوں کو بغیر کسی امتیاز نسل و رنگ اور علاقے کے بحیثیت انسان مساوی قرار دیا اور فضیلت کی بنیاد تقویٰ پررکھی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ۔(41)
’’ائے لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیااور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں،تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۃ حجۃ الوداع میں بھی اسی پر زور دیتے ہوئے ارشادفرمایا :
یا ایھا الناس الا ان ربکم واحد و ان اباکم واحد الا لا فضل لعربی علیٰ عجمی و لا لعجمی علی عربی،ولا لاحمر علیٰ اسود ولا لاسود علیٰ احمر الّا بالتقویٰ۔(42)
’’لوگو!خوب اچھی طرح سن لو،تمہارا رب ایک ہے،تمہارا باپ ایک ہے۔خوب اچھی طرح سن لو۔نہ عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل ہے،نہ عجمی کو عربی پر،نہ گورے کو کالے پر،نہ کالے کو گورے پر،اگر کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل ہو سکتی ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔‘‘
عہدِ نبوی،خلافت راشدہ اور بعد میں آنے والے خلفاء نے ان آیات اور احادیث پر سختی سے عمل کیااور خلیفہ اور عوام،آقااور غلام،امیر اور غریب اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان انصاف میں اصولِ مساوات کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر تاریخ میں ملنا بہت مشکل ہے۔حضرت عمرؓ نے حضرت موسی اشعریؓ،حضرت عمرو بن العاصؓ،ان کے بیٹے عبداللہؓ،عبداللہ بن فرط(والئ حمص)،قدامہ بن مظعون(والئ بحرین) کے خلاف سزا کے احکامات دیے اور خود اپنے بیٹے عبدالرحمٰن بن عمرؓ پر حد جاری کی۔(43)
مغرب میں بھی انسانوں کو’مساوات‘ کا حق دیا گیا ہے لیکن یہ انیسویں صدی میں ہوا اور وہ بھی صرف قانون سازی کی حد تک ہے۔سیاہ نسل کے باشندوں کو آج بھی سماجی سطح پر عدمِ مساوات کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔اسلامی مساوات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ شخص حتیٰ کہ عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو پناہ دے سکتی ہے اور حکومت اس کو قبول کرے گی۔ارشاد نبوی ہے :
ذمۃ المسلمین واحدۃ یسعیٰ بھاأدناھم۔(44)
’’سب مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے،ان کا ادنیٰ شخص بھی کسی کو پناہ یا امان دے سکتا ہے۔‘‘
مغربی حقوق انسانی میں پناہ دینے اور امان طلب کرنے کے حق کے سلسلے میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ "The International Covenant on Civil and Political Right, 1966″میں اس موضوع پر کوئی واضح قانونی شق نہیں ہے۔
عزت کا حق
اسلام نے نہ صرف انسان کے جان و مال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا بلکہ ان کی عزت و آبرو کو بھی تا قیامت حرام ٹھہرایا ہے۔اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بہت مال و دولت اور جاہ ومنصب والا ہوبلکہ معاشرے کا ہر فرد اپنی پیدائش سے ہی عزت دار ہے اور اس کو اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْْراً مِّنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ۔(45)
’’ائے لوگو!جو ایمان لائے ہو،نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اورنہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرواورنہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔‘‘
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً۔(46)
’’اور تم ایک دوسرے کی برائی پیٹھ پیچھے بیان نہ کرو۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں ارشاد فرمایا:
من کانت لہ مظلمۃ لأخیہ من عرضہ أو شئی فلیتحلّلہ منہ الیوم قبل أن لا یکون دینار و لا درھم۔(47)
’’جس شخص نے کسی کی بے عزتی کی ہو یا اس پر کچھ ظلم کیا ہوتو وہ آج ہی اس سے معاف کرا لے اس دن سے پہلے جب روپیہ پیسہ نہ ہوگا کہ اس کے کچھ کام آئے۔‘‘
اس کے برعکس مغرب نے انسان کو عزت کو حق تو دیا ہے لیکن ہتک عزت کے مدعی کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ واقعی عزت والا ہے اور اسے اس سلسلے میں گواہ بھی پیش کرنے ہوتے ہیں کہ وہ ان کی نگاہ میں بے عزت ہو گیا ہے۔اس عمل سے مدعی کی مزید توہین اور تذلیل ہو جاتی ہے۔قانونِ ہتک عزت کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے اس سے انصاف ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔
عورت کا حق
اسلام نے جتنے حقو ق عورتوں کو دیے ہیں اس سے زیادہ آج تک کسی بھی ملک کے قانون نے نہیں دیے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ ۔(48)
’’عورتوں کے حقوق بھی معروف طریقے پر ویسے ہی ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں،لیکن مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔‘‘
شریعت نے لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کیا، انہیں معاشرے میں برابر کا حق دیا،ان کا نان نفقہ متعین کیا،جائیداد میں ان کا حصہ متعین کیا،حق مہراور حق خلع دیااوران کی عزت و ناموس کی خصوصی پاسداری کی تاکید کی گئی۔اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزا متعین کی۔قرآن کہتا ہے:
إِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْم۔ٌ (49)
’’جو لوگ پاک دامن،بے خبر،مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاء فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَداً۔(50)
’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں،پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں،ان کو اسّی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔‘‘
اس کے برعکس مغرب نے عورتوں کو مختلف پرفریب نعروں کے ذریعے بنیادی حقوق دینے کے نام پر مردوں کے مساوی قرار دیا اور انہیں مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بظاہر تمام حقوق اور آزای دیے جانے کے باوجود ان کا معاشی، سماجی، اقتصادی، اخلاقی طور سے زبردست استحصال کیا جا رہا ہے۔جس کے نتیجے میں خاندانی نظام ،نئی نسلیں ،ادارے اور تہذیب و تمدن برباد ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں عورت کی معاشی اور اقتصادی صورتِ حال کا جائزہ یوں لیا گیا:
"Woman Constitute half the World’s population, perform nearly two third of its work house, recieve 1/10th of the World’s Income, and own less than one hundredth of the World’s property.”(51)
’’دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے،دنیا کے دو تہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ملتا ہے اور وہ دنیا کے املاک کے سویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے۔‘‘
جنگی حقوق
اسلام نے ہمیشہ اعتدال پسند اصول جنگ کی تبلیغ کی ہے اورجنگ کی اجازت صرف فتنہ و فساد اور ظلم وزیادتی کو روکنے، بدامنی کے ماخذوں کو ختم کرنے،امن وامان قائم کرنے ،انسانی زندگی کی جائز حفاظت اور حقیقی اقدار کے لیے دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فوجوں کو روانہ کرتے وقت انسانی اقدار سے متعلق باقاعدہ ہدایات دی جا تی تھیں۔چناں چہ آپؐ سپہ سالار اور فوج کو پہلے تقویٰ اور خوفِ خدا کی نصیحت کرتے پھر ارشاد فرماتے:
اغزوا بسم اللہ، و فی سبیل اللہ،قاتلوا من کفر باللہ،ولا تغلّوا، و لا تغدروا، و لا تمثلوا، و لا تقتلوا ولیداً۔ (52)
’’جاؤاللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں،لڑو ان لوگوں سے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں مگر جنگ میں کسی سے بدعہدی نہ کرو،غنیمت میں خیانت نہ کرو،مثلہ نہ کرو اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔‘‘
بحالتِ جنگ انسانی حقوق میں سے چند کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(الف)سفراء کے قتل پر روک:اسلام نے سفیروں کو قتل کرنے سے بھی روکا ہے،خواہ وہ کتنا ہی گستاخانہ پیغام لائیں۔مسیلمہ کذاب کا سفیر عبادہ بن الحارث جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا:
لولا أنک رسول لضربت عنقک۔(53)
’’اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تیری گردن مار دیتا۔‘‘
(ب)حالتِ غفلت میں دشمن پر حملہ کی ممانعت :اسلام سے قبل دشمنوں پررات یا رات کے آخری پہر میں غفلت کی حالت میں حملہ کیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا اور فرمایا کہ صبح سے پہلے حملہ نہ کیا جائے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے :
کان اذا جاء قوماً بلیل لم یغر علیھم حتیٰ یصبح۔(54)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی دشمن قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی حملہ نہ کرتے تھے۔‘‘
(ج)تکلیف دے کر قتل کرنے پر روک:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو باندھ کر یا تکلیف دے کر مارنے اور قتل کرنے سے منع فرمایا۔حضرت ایوب انصاریؓ سے مروی ہے:
ینھیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل الصبر۔(55)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتلِ صبر(باندھ کر مارنے) سے منع فرمایا۔‘‘
(د)آگ سے جلا کر مارنے پر روک:اسلام سے قبل جنگ میں قیدیوں یا دشمنوں کوآگ میں زندہ جلا دیا جاتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ارشادِ نبوی ہے:
لا ینبغی ان یعذب بالنار الا رب النار۔(56)
’’آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے اور کسی کو سزاوار نہیں۔‘‘
(ہ)قیدیوں کے قتل پر روک:اسلام نے قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کرنے ، نامناسب سزا دینے اور قتل کرنے سے منع کیا ہے اور حکومت کو اختیار دیا ہے کہ چاہے تو انہیں بلا فدیہ آزاد کر دیا جائے یا فدیہ لے کر آزاد کیا جائے۔قرآن کہتا ہے:
حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا۔(57)
’’یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو،اس کے بعد(تمہیں اختیار ہے) یا تو احسان کر کے چھوڑ و یا فدیہ لے کر،تا آں کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
اسلام کی طرف سے انسانی حقوق کی ان بے مثال تعلیمات نے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ایک عظیم انقلاب برپا کردیا ۔اس انقلاب کے لیے کل انّیس(19)اور بعض روایتوں کے مطابق 27 غزوات(58) اور54سرایا اور بعض کے مطابق56سرایا 2ھ سے9ھ کے درمیان آٹھ سال کی مدت میں ہوئے۔اگران لڑائیوں کو جارحانہ اور اقدامی تسلیم کر لیاجائے تو بھی ان میں مجموعی طور سے259 مسلمان شہید ہوئے ۔مخالفین کی طرف سے مجموعی طور سے759 افراد قتل کیے گئے اور6564 قیدی بنائے گئے،جن میں سے 6347 قیدیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ لطف و احسان بلا کسی شرط کے آزاد فرما دیا تھا۔(59)
اس کے برعکس مغربی دنیا جنگی حقوق سے پہلی مرتبہ سترہویں صدی کے مفکر گروشیوس(Hugo Grotius 15831501645)کے ذریعے واقف ہوئی اور عملی طور پر بین الاقوامی جنگی حقوق اورقوانین کی تدوین انیسویں صدی کے وسط (1856) میں ہوئی۔(60) اس سے پہلے مغرب میں جنگی حقوق کا کوئی تصور نہیں تھا اور اس میں ہر طرح کے ظلم و ستم جائز تھے۔
مغربی جنگی حقوق اور قوانین کا ایک ناقص پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی اصل حیثیت بس ایک ’معاہدے ‘کی ہے،کیوں کہ کوئی بھی ملک ان حقوق کو اپنے لیے واجب العمل نہیں سمجھتا ہے،الّا یہ کہ فریقِ ثانی بھی ان کی پابندی کرے۔ ظاہر ہے کہ اسے حقوق کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان نام نہاد حقوق کی تمام جنگوں میں دھجیاں اڑائی گئیں ،مثلاً جنگ عظیم اول1914ء میں کم وبیش ایک کروڑ انسانوں کا خاتمہ ہوا اور دوسری جنگ عظیم1939ء میں چھ (4) کروڑ افراد مارے گئے۔موجودہ دور میں1990ء کے بعد سے افغانستان،عراق اور پاکستان میں ہی دہشت گردی کے نام پر4ملین(40 لاکھ) مسلمان مارے جا چکے ہیں۔(61) اگر اس میں شام،مصر،لیبیا،تیونس اور بعض دیگر ممالک کو شامل کر لیا جائے تو مقتولین کی تعداد5 ملین (50 لاکھ) سے تجاوز کر جائے گی۔
اسلام اور مغربی تصورِ حقوق کے تقابلی مطالعے سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کے عطا کردہ بنیادی حقوق زیادہ جامع،مفصل اور مؤثر ہیں۔یہی وہ نظام اور ضابطۂ حیات ہے جو موجودہ دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے اور انسانی فلاح و بہبود کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے دنیا کے سامنے صحیح طریقے سے پیش کیا جائے۔
****

حواشی و حوالہ جات

(1)محمدطاہر القادری،اسلام میں انسانی حقوق،منہاج القرآن پبلیکیشنز،2004ء،ص91
(2)Morris Stockhammer, Plato Dictionary, Philosophical Laibrary, New York, 1903, P.32
(3)Thomas P. Kierman, Aristotle Dictionary, Philosophical Library, New York, 1962, P.185,364
(4)صلاح الدین،محمد،بنیادی حقوق،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی،اشاعت دوم،1989ء،ص31۔39
(5)اقلیتوں کے حقوق اور مغرب میں اسلاموفوبیا،ایفا پبلیکیشنز،جامعہ نگر،نئی دہلی،2011ء،ص311
(6)http://www.un.org/en/universal-declaration-human-rights/index.html
(7)Hans Kelsen, The Law of United Nations, London, 1950, P.29
(8)Karl Mannheim, Diagonisis of Our Time, London, 1947, P.15
(9)Friedmann W, Legal Theory, Sterers Saw, London, 1967, P.392
(10)Kernig,C.D, Marxism, Communism and Western Society: A Comparative Encyclopedia, P.56
(11)Ilyas Ahmad, Sovereignty-Islamic and Modern, The Allies Book Corporation, Karachi
(12)بخاری:7138
(13)آل عمران:19
(14)مسند احمد:5/411
(15)الحجرات:13
(16)الانعام:115
(17)الانعام:34
(18)الانعام:57
(19) الانعام:116
(20)الانعام:148
(21)المائدۃ:7
(22)آل عمران:76۔77
(23)شبلی نعمانی، الفاروق،دارالاشاعت ،کراچی ،1991ء،ص 332
(24)اسلام نے میں چھ صورتوں میں قتل کرنے کی اجازت دی ہے۔تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوصلاح الدین،محمد،بنیادی حقوق،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی،اشاعت دوم،1989ء، ص236
(25)المائدۃ:32
(26)النساء:93
(27)الانعام:151
(28)النساء:29
(29)بخاری:3166
(30)مؤطا:24/720
(31)آل عمران:79
(32)مسند زید: 1/229
(33)تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو”https://en.wikipedia.org/wiki/Atlantic_slave_trade”
(34)البقرۃ:256
(35)یونس:99
(36)الحج:41
(37)الحجرات:12
(38)النور:27۔28
(39)أبوداؤد:4889
(40)أبوداؤد:4888
(41)الحجرات:13
(42)مسند احمد:5/411
(43)تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ،الفاروق،شبلی نعمانی
(44)ترمذی:1579
(45)الحجرات:11
(46)الحجرات:12
(47)بخاری:2449
(48)البقرۃ:228
(49) النور:23
(50)النور:4
(51)(U N Report 1980, Quoted in Contemporary Political Ideologies: Roger Eatwell & Anthony Wright, Westview Press, San Francisco, 1993)
(52)ترمذی:1617
(53)ابوداؤد:2762
(54)ترمذی:1550
(55)27ابوداؤد:2687
(56)ابوداؤد:2675
(57)محمد:4
(58)امام بخاری نے غزوات کی تعداد زید بن ارقمؓ کے حوالے سے انیس (19)لکھی ہے۔(بخاری:3949)
(59)قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری،رحمۃ للعالمین،مرکز الحرمین الاسلامی،فیصل آباد،پاکستان،2007ء،جلد 2،صفحہ462۔463
(60)https://en.wikipedia.org/wiki/Law_of_war
(61)IPPNW (International Physicians for the Prevention of Nuclear War),Casualty Figures after 10 Years of the 147War on Terror148 Iraq Afghanistan Pakistan,Washington DC, Berlin, Ottawa-March 2015
****

مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Close