تقابل ادیاندعوتمذہب

اسلام اور دہریت: ایک مکالمہ

قارئین کی دلچسپی  اور توجہ کے لئے دعوہ از ایزی ڈاٹ کام (www.DawahIsEasy.com) ہے جہاں ایک صاحب عرصہ دراز سے نہایت خلوص، محنت اور  لگن سے دعوت کا کام کر رہے ہیں

ڈاکٹر طارق محمود

مغربی ممالک کے نو مسلم افراد کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ انہیں چونکہ دینِ اسلام کی نعمت پیدائشی طور پر یا ورثے میں  نہیں ملی بلکہ اس کے لئے انہوں نے   علم و تحقیق کا نہایت طویل سفر طے کیا ہے اور  کئی کھٹن منزلیں طے کر کے اپنی منزل مقصود تک پہنچے ہیں اس لئے دین اور دین پر عمل  کے معاملے میں ان کا خلوص اور عقیدت بے مثال اور شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس بات کی وہ تمام احباب  تائید کریں گے جو مغربی  ممالک جاتے رہے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی فطرت سے آ گاہ ہیں۔قارئین کی دلچسپی  اور توجہ کے لئے دعوہ از ایزی ڈاٹ کام (www.DawahIsEasy.com) ہے جہاں ایک صاحب عرصہ دراز سے نہایت خلوص، محنت اور  لگن سے دعوت کا کام کر رہے ہیں۔([i]) انہوں نے اپنا  نام ظاہر نہیں کیا ، عام طور پر دعویٰ مین  (Dawah man) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ذیل میں ان کی ایک وڈیو کا تصویری خاکہ  اور اسکا لنک   موجود ہے جس میں وہ ایک دہریئے  کو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔([ii])

  اس دعوتی  وڈیو  میں جو مکالمہ  موجود ہے بہتر ہو گا کہ اسکا ترجمہ نقل کیا جائے تاکہ  ان  مبلغین کے  خلوص اور کام کی نوعیت کا اندازہ  لگایا جا سکے۔

 میزبان:      محترم سامعین جو وڈیو  آپ دیکھ رہے ہیں اس میں ان صاحب نے جو کہ  ایتھیسٹ  (دہریئے) ہیں انہوں نے اسلام تو قبول نہیں کیا  لیکن اس میں طرفین کے دلائل موجود ہیں ( اسلئے یہ  دیکھنے والوں کے لئے مفید ہے ) ۔ وڈیو دیکھنے کا بہت شکریہ۔

میزبان:       دوست میں نے آپ کو   ابھی یہاں دیکھا اور اس سے پہلے  کبھی   ہماری ملاقات نہیں ہوئی  کیا یہ بات درست ہے ؟

مہمان:        جی بالکل۔(اس سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی)۔

میزبان:       یہ صرف یہ بتانے کے لئے کہ یہاں ہم  کوئی فرضی ماحول یا ڈرامہ وغیرہ نہیں بنا رہے ہیں۔

مہمان:        جی بالکل ۔  ایسا  کچھ نہیں ہے۔

میزبان:       ٹھیک ہے۔ تو ہم جب اپنا کیمرہ  لگا رہے تھے تو آپ نے بتایا تھا کہ آپ کا نام آ دم ہے ؟

مہمان:        جی بالکل۔  میرا نام آ دم ہے۔

میزبان:       اور آپ نے بتایا تھا کہ آپ    دہریت پر یقین رکھتے ہیں ؟

مہمان:        جی میں انسانیت  یا بشریت   پر یقین رکھتا ہوں۔

میزبان:       اور آپ  یقین نہیں رکھتے کہ خدا وند تعالیٰ   موجود ہے؟

مہمان:        جی ہاں۔(میں یقین نہیں رکھتا)۔

میزبان:       اور میں نے  آپ کے منہ سے یہ بھی سنا کہ آپ  پاکستان جا چکے ہیں؟

مہمان:        جی ہاں یہ درست ہے۔ میں پاکستان  اور افغانستان کے شمالی علاقوں میں جا چکا ہوں۔

میزبان:       اور یہ بتایئے  کہ آپ کس پیشے سے منسلک ہیں  ؟

مہمان:        میں نے باورچی کی حیثیت سے کئی سال کام کیا ہے  اور اسی  شعبہ میں  کالج سے سند حاصل کر چکا ہوں میرے کام کی نوعیت یہ ہے کہ  ذاتی کاروبار بھی  کر چکا ہوں اور  مختلف اداروں کے  ساتھ بھی  منسلک رہا ہوں۔

میزبان:       اور آپ  ( عقائد کے اعتبار سے ) خدا  وند تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتے بلکہ آپ  دہریت پر یقین رکھتے ہیں ؟ کچھ لوگ اسکے لئے  لا مذہب کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ٹھیک؟

مہمان:        اصل میں میں بشریت پر یقین رکھتا ہوں۔ دیگر نظریات مثلاً دہریت  میں یہ ہے کہ لوگ خدا کی ذات کا انکار کرتے ہیں اور انکار کے لئے  پہلے  ایک ہستی   کے وجود کا  اقرار کرنا اور اسے تسلیم کرنا لازم ہے ۔  اسلئے میں بشریت کی اصطلاح  کو زیادہ فوقیت دوں گا ۔

میزبان:       ٹھیک ہے آ دم ۔   میں آپ کے سامنے ابھی ثابت کروں گا کہ اللہ موجود ہے اور  اسکے لئے میرے پاس بنیادی طور پر چار اہم ثبوت ہیں۔

مہمان:       ٹھیک ہے۔

میزبان:    پہلا ثبوت  کسی بھی شئے کا وجود  یا اسکی موجودیت ہے ۔ اسے آپ  آ فاقی یا  کائناتی  دلیل بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسکا مفہوم یہ ہے کہ ہم یہ جانتے   ہیں کہ  جو شے بھی وجود  رکھتی ہے اسکے ہونے کا کوئی نہ کوئی  سبب لازم ہے ۔ جبکہ  خالق کے  وجود کے لئے کسی بھی سبب کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس لئے بھی کہ وہ ہستی ( خالق) ہمارے لئے بنائے گئے اس زمان و مکان  اور اسکی حدود و قیود  سے آ زاد  لہذا   اسکے وجود کے لئے  اسباب  کا ہونا  غیر منطقی ہے  اور  اسکا وجود ہمیشہ سے ہے۔   درست؟ کیا یہ  دلیل آپ کے لئے کوئی معنی رکھتی ہے؟

مہمان:    جی ہاں  یہ  بالکل معنی رکھتی ہے ۔ لیکن  پھر میرا سوال یہ ہو گا کہ اس ذات کو ہماری کیا ضرورت ہے؟ اس نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟

میزبان:       جی  بالکل یہ ایک ہم  اور ضروری سوال ہے اور اس کا جواب میں  چند لمحوں میں آپ کو دوں گا ۔  ( لیکن اس سے قبل)  دوسرا ثبوت یہ ہے  جو کہ  علم الکلام  سے تعلق رکھتا ہے  وہ یہ ہے کہ اس قدر  خوبصورت اور مکمل کائنات  جو آپ دیکھتے ہیں اسکی بناوٹ میں   جس حکمت و دانائی کا  اظہار ہوتا ہے  یہ اس بات کی غماز ہے کہ کوئی  اسے تخلیق کرنے والا بھی ضرور  موجود ہے ۔ اور تیسرا ثبوت جسے ہم  اختصار کے ساتھ بیان کرتے  ہیں وہ یہ ہے کہ  تاریخ کو پڑھیئے تو اس میں بہت اچھے لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے  انسانیت کے لئے کام کیا ۔ (آپ کے سوال کی طرف ہم کچھ دیر میں آ تے ہیں)۔  تو یہ بہترین افراد جن کا تاریخ میں ذکر ہے،  انکی زندگی میں ایسے مراحل بھی  آئے کہ  انہوں نے دعویٰ کیا کہ اللہ نے ان سے بات کی ہے ؟ کیایہ بات درست ہے؟

مہمان:        جی یہ درست ہے۔ لیکن شائد تمام لوگوں کے بارے میں نہیں ۔ مہاتما گوتم بودھ بھی ایک اچھے انسان تھے لیکن وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

میزبان:       ہاں لیکن  مہاتما گوتم بودھ نے ایک  عظیم ہستی کا تصور پیش کیا ہے  اور  اس کا  بارہا ذکر اپنی تعلیمات میں کیا ہے اور یقیناً  وہ ہستی خدا ہی ہے۔

مہمان:        جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔

میزبان:       آپ کا کہنا بھی ایک حد تک  درست ہے ۔ اگر آج کل کے بدھ مت کے ماننے والوں کو دیکھا جائے تو ان  کے نظریات ایسے ہیں کہ یہ کسی خدا کو نہیں مانتے  لیکن  گوتم بدھ کے نظریات میں ایک خدا اور اس کی طرف رجوع کرنے کا ذکر ملتا ہے۔

مہمان:     جی ہاں آپ کی بات درست ہے ان کی تعلیمات میں ایسا ہی ہے ۔

میزبان:       تو اس قسم کے اچھے لوگوں میں سے بعض   نے یہ دعویٰ کیا کہ  یہ خدا سے ہم کلام ہوئے ہیں اور خدا کا پیغام لائے ہیں۔ اس  کے نتیجے میں ان لوگوں پر بہت ظلم و ستم کیے گئے اور انکے ماننے والوں پر بھی بہت ظلم و ستم کیے گئے۔  ہم یہ کہیں گے کہ یہ لوگ اللہ کے پیغمبر تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے دنیا والوں کو اس طرح  کی باتیں بتانے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟  بالفرض  پہلی وجہ یہ کہ محض  معاشرے کی اصلاح چاہتے تھے  اور اسکے لئے انہوں نے( خدا سے ہم کلام ہونے کے بارے  میں بھی) جھوٹ بولا صرف اسلئے کہ لوگ اچھی راہ اختیار کریں؟ دوسری وجہ یہ کہ یہ  ممکنہ طور  پر کسی  نفسیاتی مرض کا شکار تھے ، یہ تو  ممکن ہی  نہیں کیونکہ ایسا دماغی مسئلہ ہوتا تو پھر یہ  معاشرے میں اچھے لوگ کیوں  سمجھے جاتے؟ یہ نظریہ تو انکے کردار  سےہی  تضاد رکھتا ہے  اور ناقابلِ یقین ہے ۔ تیسری وجہ یہ ممکن ہے کہ وہ واقعی اللہ کے پیغمبر  تھے اور انہیں اللہ نے اپنے پیغام کے لئے چنا تھا  اور اصل میں  یہی درست ہے ، یہی منطقی ہے  اور اسی پر ہم یقین رکھتے ہیں ۔ میں  تو اسی نظریئے کو فوقیت دوں گا۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

مہمان:        میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کے اچھے کام کرنے کی بہت سیممکن وجوہات ہیں۔  مثلاً جیسا کہ ایک مشہور قول سے مطابقت رکھتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں لوگ آپ سے محبت کریں  اور آپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو آپ کو لازماً  خود بھی لوگوں سے اچھا برتاو کرنا ہو گا۔

میزبان:       کیا یہ  ( بات جو آپ نے کی ) انجیل  میں ارشاد نہیں ہے؟      میرا خیال ہے یہ بات انجیل میں ہے۔

مہمان:        جی  ہاں ممکن ہے کہ یہ  انجیل میں ہو لیکن بہرحال فلسفیانہ  نقطہ نظر سے یہ ایک اہم  اور درست بات ہے۔

میزبان:         بات یہ ہے کہ جو اچھی بات آپ کے نظریئے کے لوگ  کرتے ہیں وہ یہودیت، عیسائیت یا اسلام کی تعلیمات سے  ہی  اخذ کی گئی ہوتی ہے۔

مہمان:        ہاں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ  قرین قیاس  یہ ہے کہ ان تمام مذاہب کے لوگوں نے انسان ہونے کے ناطے یہ اچھی باتیں  خود  اپنے تجربات سے اخذ کی ہونگی  یہ ضروری نہیں کہ کسی اور (طاقت) نے انہیں یہ سب بتایا ہو۔

میزبان:       ہاں بعض لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ باتیں خود اپنی طرف سے کہی ہیں لیکن میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ان تمام اقوال کے تانے بانے کسی الہامی مذہب سے ہی جا کر ملتے ہیں ۔

مہمان:        یہ بھی ممکن ہے کہ ایک طویل عرصے سے ایک مخصوص ماحول میں رہنے اور  یہ باتیں سننے کے بعد انکی  کچھ اور سوچنے کی صلاحیتیں مفقود ہو گئی ہوں (brain washing) اور وہ اسکے علاوہ کچھ سوچنے کے لئے تیار نہ ہوں۔

میزبان:       آپ  اس بات کو جیسے بھی سمجھ لیں لیکن کم از کم یہ ضرور ہے کہ یہ کسی  نہ کسی الہامی مذہب  سے ان کے فلسفے کا ایک تعلق موجود ہے۔

مہمان:        جی ہاں۔

میزبان:       آخری ثبوت جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں آ دم! وہ سب سے زیادہ  وزن رکھتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جتنے بھی انبیائے کرام آئے انہیں  اللہ کی جانب سے معجزات دیئے گئے تھے تاکہ وہ لوگوں کے سامنے یہ بات ثابت کر سکیں کہ انہیں واقعی اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے ۔ آ خری نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا انکو جو معجزہ دیا گیا  وہ اللہ کی آ خری کتاب قرآنِ کریم ہے ۔ میراخیال ہے آپ نے قرآن کے بارے میں ضرور سنا ہو گا ۔

مہمان:        جی ہاں۔ بالکل میں نے قرآن کے بارے میں سنا ہے۔

میزبان:       ٹھیک ہے ۔ تو یہ کتاب یعنی قرآن  جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہ  اپنے اندر ( دلائل  و حقائق کے اعتبار سے)   بہت طاقت رکھتی ہے ۔ اسکی   وجہ اس کا اعجاز، اسکی ترتیب، اس میں حقائق کا بیان  اور اسکا انداز ہے ۔  یہ عربی زبان میں ہے ۔ اور آپ اس کی زبان کا جو اعجاز ہے اس  کا  ادراک نہیں کر سکتے اگر آپ  عربی زبان سے نا بلد ہیں۔ کیا آپ عربی سے واقف  ہیں ؟

مہمان:        نہیں عربی زبان مجھے نہیں آ تی۔

میزبان:       جی  درست چونکہ آپ برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں  اور  اس لحاظ سے آپ  کی مہارت انگریزی زبان میں ہے ۔ اچھا تو اس( عربی زبان  والی) بات کو تو آپ نہیں دیکھ سکیں گے لیکن   ہم آپ کو جو  کتِابچہ دے رہے ہیں اس میں آپ کچھ اور  باتیں ضرور   دیکھ سکیں گے ۔ اس میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآنِ کریم کے بارے میں درج ہے کہ یہ چودہ سو سال  پرانا صحیفہ ہے اور اس میں  کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔  عیسائی،  یہودی   اور دہریئے بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ وہ اس  میں جو باتیں ہیں انہیں پسند نہیں کرتے  لیکن اس کے درست  اور غیر تحریف شدہ ہونے کو مانتے ہیں ۔  یہ بات آپ نے سنی ہے؟

مہمان:        جی بالکل یہ بات یقینی ہے  میں جانتا ہوں۔

میزبان:       جی تو یہ بات سب مانتے ہیں کہ قرآن میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ وہ لوگ اگرچہ  قرآن  کے منجانب اللہ ہونے کا یقین نہیں رکھتے، یہ بات ہوتی تو یہ سب مسلمان ہو جاتے۔ لیکن یہ یقین رکھتے ہیں کہ  چودہ سو سال سے یہ کتاب اپنی اصل حالت میں ہے، یعنی اس وقت سے جب سے یہ وحی  اس دنیا میں نازل ہوئی   اس سے اب تک  اس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے ۔ دوسری بات یہ کہ قرآن میں بہت سے سائنسی حقا ئق موجود ہیں جنہیں سائنس نے ثابت کیا ہے ۔ مثلاً رحمِ مادر میں بچے کا بننا(سورۃ المومنون ، آیت ۱۲ تا ۱۴ )۔ آپ اس علم سے واقف ہیں ؟

مہمان:        جی بالکل مجھے معلوم ہے۔

میزبان:       تو یہ قرآن میں  موجود ہے کہ رحمِ مادر میں بچے کن مراحل سے گزرتے ہیں اسی طرح قرآن میں یہ بھی موجود ہے کہ یہ دنیا  کس طرح بنی  یعنی ایک بڑے دھماکے سے وجود میں کس طرح آ ئی؟ (سورۃ ۲۱ آیت ۳۰)  اور یہ بھی کہ یہ کائنات کس طرح پھیل رہی ہے ۔  اسی طرح یہ بھی کہ سورج اور چاند کس طرح اپنے مقررہ مدار پر گردش کر رہے ہیں ۔ اسی طرح کچھ یہ بھی اشارات ہیں کہ کششِ ثقل کس طرح کام کرتی ہے ؟ (سورۃ ۲۱ آیت ۳۳)۔  اسی طرح یہ کہ پہاڑ کیسے بنائے گئے ہیں  ۔ (سورۃ ۷۸ آیت  ۶ تا ۷)، (سورۃ ۱۶ آیت ۱۵) پانی اور بارش کے بارے میں  ( سورۃ ۲۴ آیت ۴۳)،  (سورۃ ۴ آیت ۵۶)

مہمان:        ایسی بہت سی کتب ہیں جن میں اس قسم کی بہت سی معلومات ہیں لیکن  یہ اللہ اور اسکے رسول   محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )  کے حوالے سے نہیں ہیں۔

میزبان:       جی ہیں لیکن ایسی کوئی کتاب نہیں جو چودہ سو سال قدیم ہو اور اس میں یہ معلومات ہوں جو کہ  بالکل درست ہیں۔

مہمان:        جی ہاں یہ بات تو ہے اور یہ میں تسلیم کرتا ہوں۔

میزبان:       اور اسکے علاوہ یہ بات کہ اس کتاب میں کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں ہے جو آج کل کے جدید سائنسی نظریات  سے مطابقت نہ رکھتی ہو  یا جسے سائنس نے غلط  کہا ہو۔ آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

مہمان:        جی ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں۔

 میزبان:      اسکے علاوہ قرآن ایسی کتاب ہے جسے آ سانی سے  زبانی یاد کر لیا جاتا ہے ۔ ایک اندازے  کے مطابق  اس وقت دنیا میں  تقریباً ایک کروڑ  لوگ  ایسے  موجود ہیں جنہیں قرآن زبانی یاد ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے  آ دم ! کہ اگر کسی نے قرآن میں تحریف کی  چاہے ایک لفظ ہی کیوں نہ ہو اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا تو یہ  ایک کروڑ لوگ اسے دیکھ کر  بتا دیں گے کہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے ۔   ایسا اگر کیا بھی گیا تو ظاہر ہے عربی زبان میں ہی کرنا پڑے گا۔ تو وہ اسے دیکھ کر فوراً    بتا   دیں گے کہ یہ قرآن کی مانند بنانے  ( اور دھوکہ دینے )کی کوشش کی گئی ہے  لیکن یہ ہر گز قرآن نہیں ہے ۔ کیا یہ بات آپ کی نظر میں کوئی معنی رکھتی ہے ؟

مہمان:        جی بالکل (یہ بہت اہم بات ہے )۔

میزبان:       قرآن جس اللہ کے نبی پر نازل کیا گیا وہ نہ تو لکھ سکتا تھا اور نہ ہی پڑھ سکتا تھا۔ یہ اس کا ایک اور معجزہ ہے ۔  اور یہ کتاب  پڑھنے والوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دینے   والی کتاب ہے ۔ یہ کتاب تقریباً ۲۳ سال  کے عرصے میں   نازل ہوئی  اور اس  کی مختلف سورتوں  اور آیات میں کہیں  بھی باہم کوئی تضاد موجود نہیں ہے ۔ اسکی ترتیب نزول کو قرآن کے اندر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اور  اسکے علاوہ اس کتاب میں انسانوں کو  ایک چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تمہیں اس کتاب میں کوئی شک ہے جسے ہم نے  اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو   اس جیسی کوئی سورۃ بنا لاو   اور  اس کام کے لئے  اللہ کے  سوا جتنے بھی مدد گار ہیں ان سب کو جمع کر لو۔  اور اگر تم ایسا نہ کر سکو، بلکہ یقیناً تم ایسا نہ کر سکو گے تو پھر     دوزخ کی  اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہونگے اور جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔   البقرۃ آیات ۲۳ تا ۲۵ اسکے علاوہ ایک اور جگہ  یہ چیلنج بھی ہے کہ اس جیسی تین آیات ہی بنا کر لے آ و۔ آپ دیکھیں کہ اگر یہ بات کسی سائنس کی کتاب میں ہوتی تو اسے بڑا    متکبرانہ  جملہ  سمجھا جاتا  لیکن صرف  اللہ ہی  اس بات کا  حق رکھتا ہے کہ وہ ایسا چیلنج دے سکے کیونکہ اس جیسی کوئی اور طاقت موجود نہیں ہے ۔ وہ قادرِ مطلق ہے ۔

مہمان:        جی ہاں لوگوں کے نظریات سے تو  اختلاف کیا جا سکتا ہے،  مشہور ہے کہ دنیا گول ہے لیکن میں  یہی سمجھتا ہوں کہ یہ ہموار  (سیدھی) ہے ۔

میزبان:       جی ہم یہی بات کر رہے ہیں کہ کوئی  سائنسدان سائنس  پر کوئی کتاب لکھے  طبعیات یا کیمیا وغیرہ  پر اور اسمیں یہ چیلنج دے کہ   میری کتاب اس قدر مکمل ہے کہ کوئی میری کتاب جیسے تین جملے بھی لکھ کر نہیں لا سکتا تو یہ ایک بڑا تکبر والا جملہ ہو گا ۔ لیکن اگر یہی چیلنج اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں دے تو یہ  بات  اس ذات کے لئے   کوئی بڑی بات نہیں اور  وہ  اس پر قادر ہے اور وہی ہے جو ماضی ، حال اور مستقبل کے بارے میں جانتا ہے ۔  اس بات سے آپ اتفاق کرتے ہیں؟

مہمان:        جی میں آپ   کا نقطہ نظر سمجھ رہا ہوں۔

میزبان:       اس کتاب  کے ماننے والوں کی تعداد اب سب سے زیادہ ہے۔  ایک اعشاریہ سات بلین لوگ اس مذہب کے ماننے والے ہیں اور سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے  والا مذہب بھی یہی ہے ۔ اب میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ اگر یہ کتاب جس کا حجم محض اتنا ہے کہ ایک چھوٹے سے  بیگ میں سما جائے اسکے دنیا پر ایسے اثرات ہیں تو کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ایک بڑی طاقت رکھنے والی کتاب ہے؟

مہمان:        جی ہاں بالکل میں آپ کی بات سے اتفاق کروں گا۔

میزبان:       کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ایسی کتاب  کا  لکھنا انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

مہمان:        جی نہیں میں  سمجھتا ہوں کہ ایسی کتاب   لکھی جا سکتی ہے۔

میزبان:       اچھا ۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہمارے  عقب میں جو کتابوں کی بڑی دکان ہے ، یہاں شمالی لندن کے اس علاقے میں جہاں ہم اس وقت کھڑے ہیں   اگر میں آپ سے کہوں کہ وہاں ایک کتاب ہے جو  چودہ سو سال پرانی ہے۔ آپ  کی اس کے بارے میں کیا رائے ہو گی؟

مہمان:        میں کہتا ہوں کہ  ایسا ممکن ہے ۔

میزبان:       میرا مطلب ہے اس میں جو کچھ لکھا ہو اسکے بارے میں آپ کیا کہیں گے۔

مہمان:        میں ضرور اسے پڑھنا چاہوں گا  تاکہ دیکھوں کہ چودہ سو سال قبل لوگوں کے کیا نظریات اور کیا خیالات تھے ۔

میزبان:       میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ  جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں وہ  ایسی ہی  قدیم کتاب ہے، اس میں سائنسی حقائق ہیں اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔ کیا یہ اسکے طاقت  رکھنے کے دلیل نہیں؟

مہمان:        آپ کی یہ بات وزن رکھتی ہے ۔

میزبان:       میرا   کہنے کا مقصد یہ ہے کہ   اگر آج ہم سب جمع ہو کر ایسے موضوعات کے بارے میں کتاب لکھیں جن کے بارے میں ہمیں آ گاہی حاصل نہیں ہے اور اس کام کے لئے اپنے تمام آلات کمپیوٹر اور دیگر جدید سہولتوں کو بھی بروئے کار لے آئیں تو تب  بھی ایسی کتاب کا لکھنا  نا ممکن ہے جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ ایسی مکمل ہے کہ اگلے پچاس یا سو سال تک بھی یہ سو فیصد درست   رہے گی۔

مہمان:        یہ تو ہے لیکن  فلسفیانہ نقطہ نظر سے یہ  مثال دی جاتی ہے کہ اگر آپ ایک کمرے میں چند بندروں کو  بند کر دیں اور انہیں تربیت دیں  اور لکھنے کا سامان بہم   مہیا کر دیں تو یہ بھی شیکسپئیر  کی طرح کا کام کر کے دکھا سکتے ہیں۔

میزبان:       جی میں اس سے واقف ہوں ایسی مثالیں لوگ اکثر دیتے ہیں لیکن جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں وہ  ایک تو  کم حجم رکھنے والی ایک کتاب ہے جسے آپ اپنے  بیگ میں رکھ سکتے ہیں،  دوسرے یہ چودہ سو سال پرانی ہے جس حقیقت کو سب مانتے ہیں ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں  لاتعداد سائنسی حقائق موجود ہیں ، اور اس میں کوئی غلطی بھی موجود نہیں ہے۔ یہ آپ کے لئے  بہت  حیران کن بات نہیں ہے؟ میرے  کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  ایسا کام کرنا انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔  اور پھر اس نے  عالمِ انسانیت پر اپنے  اثرات مرتب کیے ہیں اور ایک اعشاریہ سات  ارب لوگ ہر روز اسی پر عمل کرتے ہوئے پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں  اور صرف ایک ہی  رب کی عبادت کرتے ہیں۔

مہمان:        لیکن آپ دیکھیئے کہ  بعض فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے  اثرات   عوام کی ایک بڑی تعداد پر مرتب کیے ہیں آپ جرمنی کی مثال لے لیجیئے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران مائن کیمپف (Mein Kampf)کے  فلسفے نے بھی  بہت  لوگوں کو متاثر کیا۔

میزبان:       جی بہت سی کتابوں کے اثرات ہوتے ہیں میں اس بات سے انکار نہیں کرتا ۔ لیکن قرآن نے جو اثرات مرتب کیے ہیں ایسے   اثرات مرتب کرنا انسانوں کے بس سے باہر  ہے ۔ یہ میرا نکتہ ہے۔ اور  اس سے ہوا یہ ہے کہ اس وقت  ایک اعشاریہ سات ارب لوگ ایک خدا پر یقین  رکھتے ہیں۔ عبادت کرتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، خاندانی نظام  کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپ نے کہا تھا آپ پاکستان  سے ہو کر آئے ہیں وہاں آپ نے اولڈ ہاوسز ( بوڑھوں کے رہنے کی جگہیں) نہیں دیکھی ہوں گی۔ ہم اپنے  بزرگوں کی بہت قدر  کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

مہمان:        جی ہاں اس کی میں  تائید کرتا ہوں یہ قابلِ تحسین ہے۔

میزبان:       مغربی ممالک میں آپ ایسے اولڈ ہاوسز جا بجا دیکھتے ہیں  جہاں لوگ اپنے والدین کو رکھتے ہیں بجائے اس کے کہ خود ان کا خیال رکھیں اور ان کی خدمت کریں۔  اسکی وجہ  یہ ہے کہ قرآن میں یہ  حکم ہے کہ  ایک اللہ کی عبادت کریں اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں (سورۃ  ۴ آیت ۳۶)۔ اس کتاب  میں لوگوں کو   پابند کیا گیا ہے کہ وہ خیرات و صدقات دیا کریں اور برے   کاموں سے  بچتے رہیں مثلا  منشیات اور ہر قسم کی دوسری برائیاں۔ اور لوگوں  کی اسطرح سے  رہنمائی کی ہے  کہ وہ بہت اچھے  اور بلند  کردار و اقدار پر مبنی زندگی  گزاریں اور سیدھے راستے پر رہیں  اسی طرح یہ کہ وہ فسق و فجور سے دور رہیں ، نا انصافی نہ کریں  اور  ظلم و ستم نہ کریں۔ ایسی باتوں کی تعلیم اور ایسے اثرات   اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کتاب   لکھنا کسی   انسان  کے بس کی بات نہیں ہے  بلکہ یہ ضرور ایک  عظیم طاقت کی طرف سے ہے۔

مہمان:        میں  فی الوقت تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں  اس کتاب کو پڑھوں گا جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے دیکھوں گا اور جو کچھ یہ کتاب کہتی ہے  اس پر بھی غور کروں گا اور  کائنات کے بارے میں میرا جو فلسفہ ہے اس کا موازنہ ان سے کروں گا۔

میزبان:         یہ اچھی بات ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس قرآن کا پیغام کیا ہے آپ کے لئے میرے لئے اور پوری انسانیت کے لئے ۔ قرآن کا پیغام  بہت  سیدھا سادہ اور  واضح ہے ۔  پیغام یہ ہے کہ اگر آپ  مانتے ہیں کہ ایک خدا موجود ہے ۔  وہ تنہا ہے ۔وہ نہ مرد ہے نہ عورت ۔ اسکی کوئی ابتدا  یا انتہا نہیں ہے۔  اس جیسی ہستی اور کوئی نہیں ہے ۔ نہ  اسکے  والدین ہیں اور نہ ہی بچے ہیں۔ وہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے ۔ لامحدود طاقت رکھتا ہے۔ اگر ہم اس کے بارے میں جان لیتے ہیں ،اس کے ساتھ ایک تعلق جوڑ لیتے ہیں ،   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی  ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اسے جاننا ہے۔  یا دوسرے لفظوں میں اللہ  کو جاننا یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔  اس  قرآن یہ کہتا ہے کہ اگر  ہم اللہ کو جان لیتے ہیں اس کی عبادت   کرتے ہیں تو  ہم اس دنیا میں  بہت مطمئن اور خوش رہ سکتے ہیں ۔ اور آدم  اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بالآخر  جنت آپ کا مقدر ہو گی ۔  یعنی یہ سب اس صورت میں کہ اگر آپ خالق سے تعلق جوڑ لیتے ہیں ۔   اور یہ کہتا ہے کہ  آپ اگر ایک اچھی  منظم زندگی گزاریں جو کہ آپ ویسے بھی ایک باوقار  انگریز آدمی ہونے کی حیثیت سے گزار رہے ہوں گے۔ درست؟

مہمان:        جی ہاں میں تو اپنی پوری کوشش کرتا ہوں۔

میزبان:       تو  میں یہ نہیں کہتا کہ ابھی آپ خوش نہیں ہیں لیکن جب آپ اپنے خالق سے تعلق جوڑ لیں گے تو آپ اس سے کہیں زیادہ خوش  اور مطمئن رہیں گے۔ اور  ضرور آپ جنت جائیں گے۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔   دوسری بات یہ ہے کہ یہ کوئی نیا پیغام نہیں ہے ۔ یہی پیغام  عیسیٰ علیہ السلام نے دیا  میں آپ کو یہ بات  انجیل سے ثابت کر سکتا ہوں  ۔ جیسی عبادت  عیسی علیہ السلام   کرتے تھے اسی  طریقے  سے  مسلمان  بھی عبادت  کرتے ہیں ۔ جس طرح  عیسیٰ علیہ السلام  روزے رکھا کرتے تھے  اسی طرح مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں ۔  جس طرح عیسی علیہ السلام کو ماننے والی خواتین  چادریں  اپنے سروں پر لیا کرتی تھیں اسی طرح مسلمان  خواتین بھی پردہ کرتی ہیں ۔  وہ مختون بھی تھے جس طرح مسلمانوں  میں  بھی رائج ہے  ۔ وہ حلال خوراک لیا کرتے تھے  اور مسلمان   بھی صرف حلال  خوراک کھاتے ہیں ۔  ان کی داڑھی بھی تھی  اور  مسلمان مردوں کے لئے بھی ایسا ہی حکم ہے ۔ اور انہوں نے کہا  ( انجیل کے مطابق ) کہ  میں صرف ایک اللہ کے سامنے اپنا سر تسلیمِ خم کرتا ہوں۔  انجیل میں  جس ہستی کو  باپ کہا گیا ہے اصل میں اس سے مراد  اللہ  ہی ہے ۔ اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اصل میں عیسی علیہ السلام نے جس مذہب کی طرف لوگوں کو بلایا وہ اسلام ہی تھا ۔ صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی نہیں بلکہ موسی علیہ السلام،  نوح علیہ السلام  اور  ابراہیم علیہ اسلام  سب کا یہی ایک پیغام تھا۔  جو اسلام کا پیغام ہے اور وہ یہ ہے کہ  ایک اللہ کے سامنے سر جھکا دیا جائے۔ میں  یہ کہوں گا کہ آپ ضرور قرآن  لے جایئے اور اسے پڑھیئے لیکن اس سے  پہلے زیادہ اہم  بات یہ ہے کہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کیجیئے اور اس سے  التجا  کیجیئے کہ وہ آپ کو ہدایت دے ۔ آپ کو ضرور جواب ملے گا ۔  یہ بات بالکل یقینی ہے کہ آپ کو جواب  ضرور ملے گا ۔  کیا آپ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کے لئے تیار ہیں ؟

مہمان:        میں یہ بالکل نہیں  چاہوں  گا کہ  کسی بھی لحاظ  سے کبھی بھی    مغرور  و متکبر   بن جاؤں۔

میزبان:       یہ بہت بہترین بات ہے ۔  آپ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں گے اور اس سے دعا کریں گے کہ وہ آپ کو ہدایت دے تو آپ کی ضرور رہنمائی کی جائے گی۔ اور  بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنا سر زمین پر رکھیں  اور عبادت کریں جیسا کہ  عیسی علیہ السلام ،  موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام  نے کی  جس کا ذکر  انجیل میں ہے اور اسی طرح سے عبادت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور پچھلے تمام انبیا ئے کرام  نے بھی کی ہے ۔  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ سے قرب کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ  اپنا سر اس ذات کے آگے جھکا دیں اور  اس حالت میں زیادہ سے زیادہ دعائیں  مانگیں ۔ آپ اس کے لئے تیار ہیں؟

مہمان:        جی ہاں میں تیار ہو ں کہ اس بات پر غور کروں اور اسے آ زماؤں۔

میزبان:       جی بالکل  آپ ضرور کیجیئے گا۔ جب آپ گھر جائیں اور عاجزی اختیار کرنا اسلئے لازم و ملزوم  ہے کہ وہ ہمارا خالق ہے۔ ہم کسی طور بھی  اس کے سامنے  غرور و تکبر  کا  تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ بہت ہی عظیم اور بہت ہی طاقتور ہستی ہے ۔

مہمان:        میں ضرور اسکے لئے تیار ہوں اور ایسا کرنا  میرے لئے ناپسندیدگی کی بات ہر گز نہیں ہو گی ۔

میزبان:         ٹھیک ہے۔ ویسے کیا اس سے قبل کبھی آپ نے اللہ سے دعا کی ہے  یا اس بارے میں سوچا ہے ؟

مہمان:        جی میں نے  ذاتی حیثیت میں ایسا کیا ہوگا یا ایسا سوچا  ہوگا لیکن اس حوالے سے کبھی   نہیں کہ میں  اپنی زندگی   کا انداز  اور اپنے نظریات تبدیل کر لوں اور   اپنی زندگی کو ایک نئے سانچے میں ڈھال  لوں۔

میزبان:       کیا آپ کو کوئی جواب ملا؟

مہمان:        نہیں۔

میزبان:       میں یہ کہوں گا کہ آج آپ کو جواب مل گیا ہے۔  دیکھیئے  میں جب آج صبح اٹھا تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں آج ایک شخص سے ملاقات کروں گا جس کا نام آدم ہوگا  اور میں اسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاوں گا ۔ میری تو آپ سے ملاقات  ( زندگی میں  پہلی بار ) چند منٹ قبل  ہی ہوئی ہے ۔  یہ بات درست ہے ؟

مہمان:        بالکل ۔ یہ بات بالکل درست ہے ۔

میزبان:       اور آپ کو بھی نہیں معلوم تھا کہ آج آپ کی ملاقات مجھ سے ہوگی ۔

مہمان:        جی ہاں ۔ میں تو بس یونہی کچھ سودا سلف خریدنے آ یا تھا ۔

میزبان:       جی اور اس طرح اب آپ کو  معلوم ہو چکا ہے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ آپ کو  یہ باتیں معلوم ہوں ۔  اللہ تعالیٰ   جس طرح اپنے بندوں کو ہدایت دیتا ہے اسکا یہ  بھی ایک انداز ہے ۔ اللہ ایسا نہیں کرتا کہ آسمانوں  سے آپ کو پکارنے لگے کہ  میں تمہارا رب ہوں اور میں  یہاں ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ تو امتحان لیتا ہے  اور اپنے بندوں کو آ زماتا ہے ۔  ہمارے یہاں وجود کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس  ذات  کو جانیں، اس سے اپنا تعلق جوڑیں،  اسکی عبادت کریں اور اسے جاننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں۔ یہی قرآن  میں ہے اور یہی بات ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے  ۔ آدم ہمیں اس دنیا میں  بھیجنے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ  اللہ ہمارا امتحان لے رہا ہے کہ ہم اللہ  اور اسکے احکام کو اپنی زندگی میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا  حرص اور لالچ کی  وجہ سے  دنیاوی  نمود و نمائش کی چیزوں کے پیچھے  بھاگتے  ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ ہم اتنے اچھے اور اتنے پاکیزہ  بن جائیں   کہ ہم اپنے رب سے ملاقات کر سکیں۔   تو اگر ہم اسطرح اچھی زندگی گزارتے ہیں اور جنت  ہمارا مقدر  ہو تو ہم وہاں اپنے خالق کو دیکھ بھی سکیں گے۔

        ویسے کیا آپ  کے خاندان میں ایسے لوگ ہیں جو گزشتہ سالوں میں  وفات  پا چکے ہیں ؟

مہمان:        جی ہاں۔ میرے والد جن کا انتقال  بیس سال قبل ہوا تھا  اور میرے سوتیلے باپ جو بدھ مت سے تعلق رکھتے تھے ان کے انتقال  کرسمس والے دن  ہوا تھا  اس بات کو دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔

میزبان:       کیا  وہ آپ کو یاد آ تے ہیں؟

مہمان:        جی بالکل  مجھے وہ یاد آ تے ہیں ۔

میزبان:       کیا آپ ان سے دوبارہ ملنا چاہیں گے؟

مہمان:        میں نے  تو ایسا کبھی  نہیں سوچا ۔

میزبان:       اگر اللہ نے چاہا تھا ( اور وہ مسلمان  ہوئے تھے) تو آپ ضرور ان سے جنت میں  مل سکیں گے ۔  بشرط یہ کہ آپ بھی اسلام قبول کر لیں ۔  آپ کو یہ بات تسلیم کرنی ہے کہ   صرف ایک اللہ ہے   جو عبادت کے لائق ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں    اور قرآن ایسی کتاب ہے جو ( اس ذات کی طرف سے ہے )  واضح ہے اور انسانوں کے بس سے باہر ہے کہ ایسی کتاب لکھ سکیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں۔ یہ باتیں تسلیم کرنے کے بعد آپ یقیناً جنت کے حقدار ہوں گے۔ اور  وہاں آپ اپنے بچھڑے ہوؤں سے بھی مل سکیں گے۔ یہ بہت آ سان معاملہ ہے ۔

مہمان:        یہ  یقیناًبہت دلچسپ بات ہے۔

میزبان:       تو میرےساتھ دہرایئے۔  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔   کیا  آپ یہ بات اپنی خوشی سے تسلیم کرتے ہیں ؟

مہمان:        یوں تو میں کسی انسان یا کسی اور شے کی عبادت نہیں کرتا ۔

میزبان:       جی ہاں آپ کسی انسان، حیوان یا کسی بت ، مورتی  وغیرہ کو نہیں پوجتے لیکن کیا آپ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اپنا سر ایک خدا کے آ گے جھکا دیں ؟

مہمان:        اگر میرے  پاس کوئی اور راستہ نہ ہو اور میں تمام دنیاوی اسباب کو مسترد کر دوں اور مجھے کسی نہ کسی ہستی پر یقین کرنا ہی پڑے  تو ہاں  میں کہوں گا کہ اب اللہ کی طرف جانے کے سوا میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔

میزبان:       تو  دیکھیئے کہ جب ہم مرتے ہیں تو ہمیں ان سب چیزوں کو مسترد کرنا ہی پڑتا ہے ان دنیاوی مال اسباب میں سے تو ہم اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے جا سکتے!

مہمان:        جی ہاں یہ بات سو فیصد درست ہے ۔

میزبان:       تب میں کہوں  گا کہ آپ ضرور یہ پہلا جملہ دہرایئے کہ  میں گواہی دیتا ہوں کہ  اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

مہمان:          مہربانی کر کے یہ جملے مجھے دوبارہ بتایئے گا۔

میزبان:       میں گواہی دیتا ہوں کہ  اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

مہمان:        میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

میزبان:       ٹھیک ہے جب آپ گھر جائیں تو عاجزی سے  اپنے حق میں دعا بھی کیجیئے گا  اور  ہمیں بتایئے گا کہ آپ  کا تجربہ کیسا رہا ۔  جب ہم ملے تھے تو آپ  بشریت یا دہریت کے قائل تھے اور اب آپ تیار ہیں کہ ایک خدا کے آگے سر جھکا دیں اور   اس سے ہدایت کے لئے التجا کریں۔

مہمان:        جی بالکل میں تیار ہوں اور دیکھتا ہوں کہ اس کے بعد کیا معاملہ ہوتا ہے ۔

میزبان:       ٹھیک ہے کیا آپ ہم سے کچھ سوال پوچھنا چاہیں گے؟

مہمان:        نہیں فی الحال تو نہیں لیکن جب میں قرآن پڑھ لوں گا تو یقیناً   مستقبل میں ایسی کچھ باتیں ہونگی جو میں اپنی تسلی  کے لئے  پوچھنا چاہوں گا۔

میزبان:       یہ بہت ہی طاقت والی کتاب ہے اور خود قرآن میں  ارشاد ہے کہ  اس کے ذریعے بعض لوگ تو ہدایت حاصل کرتے ہیں اور بعض لوگ  گمراہ بھی ہو جاتے ہیں ۔(سورۃ البقرۃ آیت ۲۶، )  اس کا انحصار  نیت اور خلوص پر  ہے علم پر نہیں ہے  ۔ بعض لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن  اس بات  کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔

مہمان:        جی ایسا ہی ہے۔ میں اتفاق کرتا ہوں۔

میزبان:       کیا آپ کی والدہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں؟

مہمان:        وہ بھی  بشریت یا دہریت جو بھی آپ کہیں اسی  نظریئے کی حامل ہیں۔

میزبان:       ٹھیک ہے۔ تو اگر اللہ نے چاہا تو ہو سکتا ہے وہ بھی ایک دن ایمان لانے والوں میں سے بن جائیں۔

مہمان:        کچھ نہیں کہا جا سکتا۔  ممکن ہے۔ مستقبل کا حال ہم  میں سے کوئی نہیں جانتا۔

میزبان:       ہاں لیکن اللہ  تعالیٰ   ہر  چیز سے واقف ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ مستقبل میں کیا ہونا ہے ۔ اس کا ارشاد ہے قرآن میں کہ کسی درخت کا پتا  تک اپنی جگہ سے ہلتا ہے تو اسے اسکی خوب خبر ہوتی ہے ۔(سورۃ ۶ آیت ۵۹) ۔ اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندے اور اسکے دل کے درمیان  موجود ہے۔ آسمانوں اور زمین کی گہرائیوں میں جو ہوتا ہے وہ اسے معلوم ہے۔  اس ذات کی طاقت   وعلم  اور قدرت لا محدود ہے۔ آپ اس عظیم کائنات کو دیکھ لیجیئے۔

مہمان:          جی ہاں اگر میں اس  پہلو  سے سوچوں  اور  اسکی ذات پر   یقین کر لوں تو مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ وہ بہت  طاقت والی ذات ہے  ( یہ ان مظاہر سے ثابت ہے )۔

میزبان:       اور دنیا میں ایک کثیر تعداد لوگوں کی ایسی ہے جس اس ذات پر یقین رکھتی ہے ۔ ایک دفعہ میں ایک  دہریئے سے ملا  جو بعد میں    ایمان لے آیا اس نے مجھے کہا  آپ کو  پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب  دہریئے  قریب المرگ  ہوتے ہیں تو از خود ایمان لے آ تے ہیں ۔  جب تک وہ زندہ  اور صحت مند ہیں تو اپنے آپ کو ان ناموں سے پکارتے ہیں کہ ہم دہریئے ہیں ہم بشریت پر یقین رکھتے ہیں  وغیرہ  وغیرہ۔   لیکن میں یہ  کہوں گا کہ اس سے قبل بھی وہ    اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں  کہ  انکی زندگی    میں ہونے والے  واقعات و حادثات  پہلے سے مقرر ہیں ۔  کیا آپ اپنی  زندگی میں کسی  پلاننگ کو دیکھتے ہیں۔

مہمان:        ہاں  میرے اوپر وہ لوگ اثر انداز ہوتے ہیں جو میرے دوست ہیں یا جن سے میں محبت کرتا ہوں۔

میزبان:       نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ  آپ نے  کسی وقت محسوس کیا ہو کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ پہلے سے طے شدہ تھا؟ مثلاً یہ کہ آپ درست وقت  اور  درست جگہ پر موجود ہیں یا پہنچ چکے ہیں؟

مہمان:        ہاں ایسا ہوا ہے  کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں درست جگہ پر درست وقت پر  موجود ہوں۔

میزبان:       تو کیا ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی اور ہے جس نے آپ کی زندگی کی پلاننگ کر رکھی ہے۔

مہمان:        میں اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہوں گا جب تک قرآن پڑھ نہ لوں۔ پڑھنے کے بعد بتا سکوں گا کہ اس میں جو کہا گیا ہے مجھے اس سے اتفاق ہے یا نہیں۔

میزبان:       میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ  کی اپنی کسی کوشش کا اسمیں دخل نہیں ہوتا اور آپ از خود   صحیح موقع پر صحیح جگہ اپنے آپ کو پاتے ہیں! تو کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ پلاننگ آپ نہیں کر  رہے بلکہ کوئی اور کر رہا ہے ؟

مہمان:        جی یہ ممکن ہے ۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن۔۔۔ فی الحال میں وثوق سے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

میزبان:       اچھا ایک اور بات میں آپ کو بتاتا ہوں وہ یہ کہ عیسائیت اور اسلام میں کیا فرق ہے اور اگر آپ   ایمان لاتے ہیں تو آپ مسلمان کیوں ہوں آپ عیسائی کیوں نہ بنیں! وہ یہ ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام  ( نعوذ باللہ) خدا تھے ۔  وہ  انسان کے  گوشت پوست کے روپ میں زمین پر آ ئے تھے۔ اکثر عیسائیوں کو بھی اس عقیدے کا علم نہیں ہے۔  لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے جس کا انہوں نے خود  اظہار کیا ہے ۔  وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ وہ بہت عظیم ہے اور اسکی مدد  اور اذن کے بغیر میں کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔ ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ  خدا نہیں تھے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ کیا آپ اس بات کو درست سمجھتے ہیں؟

مہمان:        ہاں یہ بات کافی حد تک وزن رکھتی ہے۔  میں کسی طرح بھی یہ  گمان نہیں کرتا کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا تھے۔ وہ  انسان تھے اور     دنیا میں ہی پیدا بھی  ہوئے تو وہ خدا نہیں ہو سکتے۔

میزبان:       تو اسلام کا  یہ عقیدہ  عیسائیت کے عقیدے کے مقابلے میں زیادہ واضح اور قابلِ یقین ہے کہ  عیسیٰ علیہ السلام  اللہ کے نبی تھے اور انہیں اللہ  کا پیغام دے کر بھیجا گیا تھا۔

مہمان:        جی یہ بات معنی رکھتی ہے۔

میزبان:       تو اگر آپ نے کوئی مذہب قبول کرنا چاہا تو وہ اسلام ہی ہو گا کیونکہ   دیگر مذاہب میں  عقائد   اس طرح واضح نہیں ہیں اور نہ ہی وزن رکھتے ہیں؟

مہمان:        جی ہاں  جتنے مذاہب کے بارے میں مجھے علم ہے ان میں اسلام  زیادہ واضح ہے۔

میزبان: ٹھیک ہے   تو آپ جائیں گے  ایک خدا سے دعا کریں گے ان باتوں پر غور کریں گے اور پھر ہمیں  آ گاہ کریں گے کہ آپ کس نتیجے پر پہنچے۔

مہمان:        جی بالکل۔

میزبان:       (ہماری جانب سے اللہ حافظ   اس دعا کے ساتھ کہ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ) اور   اگر آپ عاجزی اختیار کریں گے اور  بلاتعصب  نیک نیتی سے  غور و فکر کریں گے تو انشاء اللہ آپ ضرور ہدایت پائیں گے۔

مہمان:        ضرور اور  میری  تمنا ہے کہ آپ خوش قسمت رہیں۔

[i]Dawah is Easy, Admin. "DawahIsEasy.”YouTube.Accessed November 13, 2015.https://www.youtube.com/user/DawahIsEasy.

[ii]Dawah is Easy, Admin. "Atheist Vs Islam – Live Debate.” YouTube. April 13, 2014. https://www.youtube.com/watch?v=bjyZNUwF4Tc.

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close