فقہمذہب

اسلام کے اہم تجارتی اصول

عبدالسلام ندوی

اسلام نے تجارت کی بڑی اہمیت بتائی ہے، قرآن وحدیث میں مختلف زاویے سے اس پر روشنی ڈالی گئی ہے، حدیث وفقہ کی کتابیں جن مختلف ابواب سے مزین ہیں ان میں باب البیوع کو ایک خاص مقام حاصل ہے، یہی نہیں بلکہ مسانید جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہوتی ہیں ان میں کتاب البیوع کا ہونا ناگزیر ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم جہاں ایک مثالی انسان،  لائق اتالیق،  مبلغ،  قابل تقلید رہنما،  بیدار مغز سیاستداں،  ماہر قانون داں،  منصف فیصل،  فوجی سربراہ، ایک باوفاشوہر، مشفق والد، اور مہربان پڑوسی تھے وہیں آپ امانت داراورکامیاب تاجر بھی تھے، پر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اس دور میں علماء، قائدین ملت  اور ائمہ مساجد کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنکا تجارت سے دور دور تک تعلق نہیں،  لہذا اس تحریر کے ذریعہ اسلام کے اس مہتم بالشان گوشہ کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے، جو انسان کو خوددار،  باغیرت اور باعزت زندگی گزارنے کا موقعہ عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمایا، اس سے پہلے کی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل طور سے تجارت میں مشغول ہوکر گزاری،  آپ کی پیدائش مکہ میں ہوئی لیکن متعدد قافلوں کے ساتھ شمال میں شام اور جنوب میں یمن کی جانب آمد ورفت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا،  اسکے علاوہ عرب کے دیگر علاقوں جیسے بحرین وغیرہ کا سفر بھی بغرض تجارت پیش آتا رہا، بعض مورخین نے تو آپ کے عراق اور ایتھوپیا کی جانب سفر کابھی تذکرہ کیا ہے۔

آپ نے ابتدائی دنوں سے ہی تجارتی میدان میں قدم رکھ دیا تھا،  جسکا اثر تھا کہ لوگوں کی نظروں میں آپ کی شناخت ایک جفاکش اور صادق تاجر کی حیثیت سے ابھری تھی،  اور اسی نیک نامی کا اثر مکہ کی ایک صاحب ثروت خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پر ہوا، جسکی بنا پر انہوں نے آپ کا اپنے مال کی تجارت کیلئے انتخاب کیا، اور بعد ازاں یہ بزنس پارٹنرز آپس میں ازدواجی رشتہ میں بھی بندھے، یہ واقعہ قبل از نبوت کا ہے، شادی کے بعد بھی آپ نے عرب کے اطراف میں کئی تجارتی سفر کئے،  قدیم عرب میں تجارتی میلے تقریبا ہر شہر اور علاقے میں لگتے تھے،  جنکا دور دراز سے لوگ قصد کیا کرتے تھے، ممکن ہے آپ نے بھی ان میلوں کا سفر کیا ہو، چنانچہ آپ نے چین جاکر علم حاصل کرنے کی جو ترغیب دی ہے، اسکی ایک وجہ سیرت نگاروں نے یہ بھی بیان کی ہے کہ آپ نے عرب کے میلوں میں چینیوں سے ملاقاتیں کی تھیں اورانکے علم وہنر سے متاثر ہوکر یہ فرمایا تھا، نبوت کی بارگراں سنبھالنے کے بعد آپ کی تجارتی سرگرمیاں اگرچہ مدھم پرگئیں،  پھر بھی بعض موقعوں پر آپ لین دین کے معاملے میں شامل ہوتے رہے، اور تجارتی معاملات میں لوگوں کی بڑی حد تک راہنمائی فرمائی،  یہاں ہم چند ان اقوال کو پیش کریں گے جوایک امانت دار اور کامیاب تاجر کے لئے جزء لازم کی حیثیت رکھتے ہیں،  اور تجارت کوبڑی حد تک فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ صادق اور امین تاجر بننے کی تلقین کی ہے، آپ نے فرمایاـ:التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء (سنن ترمذی:۹۰۲۱)سچااور امانت دار تاجر کا حشر انبیاء،  صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگ۔

تجارت اور معاشی معاملات سے متعلق آپ کی تعلیمات اس قدر وسیع ہیں کہ انکا احاطہ اس مختصر مضمون میں کافی دشوار ہوگا، تاہم یہاں ہم چند اہم اور بنیادی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں:

(۱)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکہ دینے سے منع فرمایا، آپ کا ارشاد ہے کہ جب خرید وفروخت کا معاملہ اپیش آئے تو کہدوـ’’لاخلابہ ‘‘ کوئی دھوکہ نہیں،  (کان رجل یخدع فی البیع،  فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم :اذا بایعت فقل لا خلابۃ فکا ن یقولہ:مسلم ۱۵۳۳)

(۲)Avoid making too many oaths 

بہت زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرنا

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول :الحلف منفقۃ للسلعۃ ممحقۃ للبرکۃ(بخاری:۲۰۸۷)

(۳)ناپ تول کے معاملے میں بہت محتاط رہنا،  آپ نے فرمایا کہ لوگ ناپ تول میں دھوکہ دینے لگتے ہیں تو ان کو رزق سے محروم کردیا جاتاہے(موطا)

(۴)Mutual consent 

 باہمی رضامندی کا ہونا،  آپ نے فرمایا کہ بیع اس وقت مکمل ہوتاہے جب اس میں شریک تمام افراد آپسی رضامندی کے ساتھ اٹھے(بخاری)

(۵)forbading of monopolies

آپ نے فرمایا جو بھی شخص اجارہ داری کرتا ہے وہ گنہ گار ہے، (ابوداود)

(۶) Hoarding merchandise

ذخیرہ اندوزی کرنا اس مقصد سے کہ قیمت میں کچھ اضافہ ہوجائے،

(۷)Transaction of haram items

حرام مال کی خرید وفرخت سے بچنا،  مثال کے طور پر منشیات(intoxicant) وغیرہ کی بیع۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close