فقہمذہب

اقامت کا جواب دینے کا حکم

مقبول احمد سلفی

اقامت کا جواب دینے کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،صحیح بات یہ ہے کہ اقامت کا جواب دینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے اقامت کا جواب دینا ہی ثابت ہے ۔ اگر اقامت کا جواب دینا مسنون ہوتا تو نبی ﷺ اور صحابہ کرام سے ضرور اس کا جواب دینا منقول ہوتامگر ایسا نہیں ہےاور اسی طرح اذان کے بعد درود پڑھنااور دعا کرناثابت ہے جبکہ اقامت کے متعلق ایسا  کچھ بھی ثابت نہیں ہے  جو اس بات کی دلیل ہے کہ اقامت کا جواب نہیں دینا چاہئے ۔ اقامت تو اذان کی آواز سن کر مسجد میں حاض ہوئے نمازیوں کو نماز کے لئے تیار کرنے کی غرض سے ہے ،یہاں بجائے اس کے کہ اقامت کا جواب دیا جائے خاموشی بہتر ہے اور اقامت ختم ہوتے ہوئے امام کو صفیں درست کرنا چاہئے اور نماز کھڑی کردینی چاہئے اس میں اقامت کے بعد دعا کرنے کا وقت بھی نہیں موجود ہےاور نہ ہی اقامت کے بعد تکبیرتحریمہ سے پہلے کوئی دعا پڑھنا ثابت ہے ۔ اقامت کے فورا بعد نبی ﷺ صفیں درست کرتے اور نماز کھڑی کردیتے تھے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أقيمتْ الصلاةُ ، فأقْبَلَ علينَا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بوجهِهِ ، فقالَ : أقِيمُوا صفُوفَكُم وتَرَاصُّوا ، فإنِّي أرَاكُم من ورَاءِ ظَهْرِي .(صحيح البخاري:719)

ترجمہ:نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ ہماری طرف کیا اور فرمایاکہ اپنی صفیں برابر کرلو اور مل کر کھڑے ہوجاؤ ،میں تم کو اپنی پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔

یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ اقامت کا جواب نہیں دینا ہے ۔ اس کی مزید وضاحت مندرجہ ذیل حدیث سے بھی  ہوتی ہے ۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :

كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يسوي صفوفَنا . حتى كأنما يسوي بها القداحَ . حتى رأى أنا قد عقلنا عنه . ثم خرج يومًا فقام حتى كاد يكبِّر . فرأى رجلًا باديًا صدرُه من الصفِّ . فقال عبادِ اللهِ ! لتسوُّن صفوفَكم أو ليخالفنَّ اللهُ بين وجوهِكم .(صحيح مسلم:436)

ترجمہ: رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو (اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے (اس بات کو) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور (نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں (اور نماز شروع فرما دیں کہ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا، آپ نے فرمایا:اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف مور دے گا۔
ان احادیث کا جواب جن سے اقامت کا جواب دینے کی دلیل پکڑی جاتی ہے :

جو لوگ اقامت کو اذان پر قیاس کرتے ہیں اور اذان کی طرح اقامت کا جواب دینا مسنون کہتے ہیں وہ چند احادیث سے دلیل پکڑتے ہیں ان احادیث کا یہاں جواب دے رہاہوں ۔

پہلی دلیل : اس سلسلے میں سب سے قوی دلیل وہ روایت ہے جس میں اذان واقامت کو اذانین کہاگیا ہے ۔ بخاری شریف میں ہے :

بين كلِّ أذانين صلاةٌ، بين كلِّ أذانينِ صلاةٌ . ثم قال في الثالثةِ : لمن شاءَ (صحيح البخاري:627)

ترجمہ: ہر دو اذانوں ( اذان و اقامت) کے بیچ میں نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے۔

جواب : یہاں اقامت کو اذان  عربی کے مشہور قاعدے تغلیب کے تحت کہا گیا ہے جیسے ماں باپ کے لئے ابوین ، سورج وچاند کے لئے قمرین، پانی وکھجور کے لئے اسودان(دوکالے)اوربوبکروعمرکے لئے عمران کبھی کبھی بول دیاجاتا ہے ۔ تو اذان الگ چیز ہے اور اقامت الگ چیز یعنی اقامت کو اذان کے زمرے میں نہیں رکھاجائے گا۔

دوسری دلیل : ایک دوسری دلیل بخاری کی یہ روایت ہےجس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نداء کا لفظ عام ہے جو اذان واقامت دونوں پر اطلاق ہوگا ۔

إذا سمعتُمُ النداءَ ، فقولوا مثلَ ما يقولُ المؤذنُ .(صحيح البخاري:611)

ترجمہ: جب تم ندا(اذان) سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔

جواب : یہاں نداء سے مرادصرف اذان ہے نہ کہ اذان واقامت جیساکہ آگے والا لفظ مؤذن اس بات کا ثبوت ہے ۔ بخاری شریف کی ایک دوسری روایت  سےبھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔

من قال حين يسمعُ النداءَ : اللهمَّ ربَّ هذه الدعوةِ التامةِ ، والصلاةِ القائمةِ ، آتِ محمدًا الوسيلةَ والفضيلةَ ، وابعثْه مقامًا محمودًا الذي وعدته ، حلَّت له شفاعتي يومَ القيامةِ(صحيح البخاري:4719)

ترجمہ: جو شخص ندا(اذان) سننے کے بعد یہ دعا پڑھے:اللهم رب هذه الدعوة التامة، والصلاة القائمة، آت محمدًا الوسيلة والفضيلة، وابعثه مقامًا محمودًا الذي وعدته(اے اللہ! يہ دعوت تامہ اور قائم شدہ نماز ہے، تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقام محمود پر فائز فرما، جس کا تونے ان سے وعدہ فرمایا ہے) تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔

اس حدیث میں ندا ء کا لفظ وارد ہے جس سے اذان مراد ہے کیونکہ اس میں مذکور دعا اذان کے بعد کی دعا ہے ۔

جہاں تک اقامت کہنے کا مستحق کون ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مؤذن اور امام ومصلی میں سے کوئی بھی اقامت کہہ سکتا ہے ۔ اور وہ حدیث ضعیف ہے جس میں ذکرہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے ۔

تیسری دلیل : ایک خاص قسم کی روایت ہے جس میں اقامت کے الفاظ قدقامت الصلاۃ کا جواب دینا وارد ہے ، وہ اس طرح سے ہے ۔

أنَّ بلالًا أخذ في الإقامةِ فلما أن قال قد قامتِ الصلاةُ قال النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أقامَها اللهُ وأدامَها( ضعيف أبي داود:528)

ترجمہ: بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے «قد قامت الصلاة» کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أقامها الله وأدامها» اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے۔

جواب : یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں محمد بن ثابت اور شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں اور اس میں ایک مجہول راوی بھی ہے ۔لہذا اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ دلائل کی روشنی میں اقامت کا جواب دینا مسنون نہیں ہے یہی راحج مسلک ہے ۔ شیخ محمدبن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے اقامت کے جواب کے بارے میں سوال کیاگیا تو شیخ نے جواب دیا کہ اقامت کا جواب دینے کے متعلق حدیث آئی ہے  ابوداؤد نے جس کی تخریج کی ہے مگر وہ ضعیف ہے اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی ۔راحج یہی ہے کہ اقامت کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ (مجموع فتاوى الشيخ العثيمين 12 / السؤال رقم 129 ) .

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close