فقہمذہب

اقامت کے وقت مسواک کرنے کا حکم

مقبول احمد سلفی

احادیث میں مسواک کی بڑی تاکید آئی ہے ، نبی ﷺ اس کا بڑا اہتمام کرتے تھے اور آپ نے اپنی امت کو بھی اس کی ترغیب دلائی ہے لیکن ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش نے مسواک کی سنت کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کردیااس وجہ سے برصغیرہندوپاک میں مسواک کا استعمال نہ کے برابر ہے جبکہ طبی اعتبار سے اس کے جو فوائد ہیں اپنی جگہ مسلم ہیں شرعا یہ سنت رسول اللہ ﷺ ہے ۔ سعودی عرب میں اس کا استعمال بہت عام ہے یہی وجہ ہے کہ ہردوکان میں اور تقریبا اکثر مساجد کے پاس مسواک دستیاب ہوتی ہے اور یہاں کے باشندے وضو کے وقت، اذان کے وقت اوراقامت کے وقت اس کا بڑا اہتمام کرتے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا نماز کے وقت یا اقامت ہوتےوقت یا اقامت ہوجانے کے بعد مسواک کرنا کیساہے ؟

احادیث سے کئی اوقات میں  نبی ﷺ سے مسواک کرنے کا پتہ چلتا ہے  بطور خاص وضو کے وقت اور نماز کے وقت  مسواک کرنے کی  بڑی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لولا أن أشقَّ على أمتي، أو على الناسِ لأمَرتُهم بالسواكِ معَ كلِّ صلاةٍ(صحيح البخاري:887)

ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نماز ی کو چاہئے کہ وہ ہرنماز کے لئے  مسواک کرلیا کرے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب وضو کرنے لگے تو پہلے مسواک کرے اگر وضو کے وقت مسواک نہیں کرسکا تو نماز سے پہلے کسی وقت مسواک کرلے خواہ اقامت ہی کیوں نہ ہورہی ہو ۔نماز سے پہلے پہلے کسی بھی وقت مسواک کرنا نماز کے لئے مسواک کرنا ہے ،اس سے رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل ہوجاتا ہے ۔

زید بن خالدجہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

لَولا أن أشقَّ علَى أمَّتي لأمرتُهُم بالسِّواكِ عندَ كلِّ صلاةٍ ، ولأخَّرتُ صلاةَ العشاءِ إلى ثلثِ اللَّيلِ(صحيح الترمذي:23)

ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلاکرنے کا خطرہ نہ ہوتاتومیں انہیں ہرنماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخرکرتا۔

ترمذی کی اس روایت میں  راوی ابوسلمہ  ،زید بن خالد رضی اللہ عنہ کا اس حدیث پر عمل کرنے کی کیفیت ذکر کرتے ہیں ۔

 فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ،لاَيَقُومُ إِلَى الصَّلاَةِ إِلاَّأُسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ.

ترجمہ: زیدبن خالد رضی اللہ عنہ نمازکے لئے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پربالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پرقلم ہوتاہے، وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پرواپس رکھ لیتے۔

صحابی کے عمل سے واضح ہوتا ہے کہ ہم مسواک مسجد لاسکتے ہیں اور نماز کھڑی ہوتے وقت اس کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ نماز کے وقت مسواک کا استحباب کمال نظافت، شرف عبادت اور تقرب الی اللہ کا باعث ہے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

السِّواكُ مَطهرةٌ للفمِ ، مَرضاةٌ للرَّبِّ (صحيح النسائي:5)

ترجمہ: مسواک منہ کی صفائی و پاکیزگی اور رب تعالیٰ کی رضا مندی کا ذریعہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علماء نے پانچ اوقات میں مسواک کرنے کو زیادہ فضیلت دی ہے گوکہ اس کا استعمال عام ہے کبھی بھی کرسکتے ہیں ۔

وضو کے وقت، نماز کے لئے کھڑا ہوتے وقت، قرآن کی تلاوت کے وقت ، بیدار ہوتے وقت اور منہ میں بدبو آنے کے وقت ۔

خلاصہ یہ ہوا کہ جس بندے نے وضو میں مسواک نہ کیا ہو وہ اقامت کے وقت مسواک کرسکتا ہے ، اسی طرح وہ بھی بوقت اقامت مسواک کرسکتا ہے جنہوں نے بہت پہلے وضو میں مسواک کیا تھا اور نماز کھڑی ہونے کے وقت مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close