فقہمذہب

الیکشن سے مربوط شرعی مسائل (دوم)

استادِ محترم مولانا عتیق احمد بستوی اپنے ایک مضمون میں  اس سلسلے میں  تحریر فرماتے ہیں۔ ’’سیکولر ممالک کی مجالس قانون ساز، مقامی اداروں ، کمیشنوں  اور کمیٹیوں  میں  اگر اسلام یا مسلمانوں  کے مخالف ظالمانہ قوانین تدوین کی جائے یا اسلام کے مخالف اقدامات کے فیصلے کئے جائیں  تو ان میں  شامل مسلم ارکان کی کم از کم ذمہ داری یہ ہے کہ ان قوانین اور اقدامات کی بھر پور مخالفت کریں، انہیں  رکوانے کی کوشش کریں، برائے نام اظہار اختلاف کا فی نہیں، ان کے استعفا دینے سے اچھے نتائج برآمد ہونے کا ظن غالب ہوتو اس میں  بھی دریغ نہ کریں، لیکن استعفا کا اقدام کرنے سے پہلے پوری طرح سوچ لیں  مشورہ کر لیں  کہ ان کا استعفا دینا اسلام اور مسلمانوں  کے مفاد میں  ہے یا استعفاء نہ دینا‘‘(سہہ ماہی بحث و نظر شمارہ جنوری تا مارچ 2001ء)

خلافِ شریعت دستور اور دفعات پر رضامندی اور حلف لینے کا حکم؟ (سوال نمبر5 کا جواب)

 یہ سچ ہے کہ جو مسلمان قانون ساز ادارے کے رکن منتخب ہوتے ہیں  انہیں  دستور سے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے جبکہ دستور وآئین میں  بہت سی دفعات خلاف شریعت بھی ہوتی ہیں ، تو کیا مسلم ارکان کے لئے اس طرح کا حلف لینا درست ہے؟ اس سلسلے میں  عرض یہ ہے کہ چونکہ مجموعی طور پر جو دستور اور دفعات ہیں  وہ اسلام کے مخالف نہیں  ہیں  البتہ کچھ شقیں  ضرور اسلام کے مخالف ہیں، اس سلسلے میں  مسلمان ارکان یہ کریں  کہ دستور سے وفاداری کا حلف اٹھائیں  اور دل سے یہ نیت ہوکہ یہ وفاداری ان دستور سے ہے جو اسلام کے مخالف نہیں  ہے۔ اور جمہوری حدود میں  رہ کر اسلام کے مخالف دستور کو ہٹوانے کی کوشش حتی المقدور کرتے رہیں۔ حکومت کے ناجائز فیصلوں  اور اقدامات کی تائیدنہ کریں۔ واللہ اعلم بالصواب

مسلم ارکان کا بائبل پر حلف لینا کیسا ہے؟ (سوال نمبر6 کا جواب)

 جن مغربی ملکوں  میں  عیسائی ارکان کے ساتھ ساتھ مسلم ممبران کو بھی بائبل پر حلف لینا پڑتاہو، وہاں  مسلمان ممبران (ارکان) کے لئے جائز نہیں  ہے کہ مسلمان ممبران بائبل پر حلف اٹھائیں  اور تورات یا انجیل پر ہاتھ رکھ کر سچ بولنے اور دستور سے وفاداری کا حلف اٹھائیں۔ کیونکہ مسلمان ان کتابوں  کو محرف اور تبدیل شدہ باور کرتے ہیں  اور بحالتِ موجودہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی نسبت کو افتراء علی اﷲ گرادانتے ہیں۔ اس لئے یہ جائز نہیں  کہ وہ ان کتابوں  پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھائیں۔ کیونکہ یہ ان کتابوں  کی تعظیم اور بحالتِ موجودہ ان کے منجانب اﷲ ہونے کی تصدیق کرنے کے مرادف ہوگا۔

   البتہ اگر وہ مجبور ہوں اور بظاہر اس سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہو اور ایوان میں ان مسلم ارکان کی موجودگی سے مسلمانوں  کا وسیع تر مفاد وابستہ ہو نیز ان کی موجودگی سے مسلمانوں  کا دینی ملی اور شرعی فائدہ وابستہ ہو اور ایوان میں  ان کی موجودگی سے مسلمان ظلم و زیادتی سے بچتے ہوں  تو کراہت خاطر کے ساتھ ممبران بائبل پر حلف اٹھا سکتے ہیں۔ حلف لیتے وقت دل سے یہ نیت ہو کہ اصلا یہ حلف ان آسمانی کتابوں  پر ہے جو محرف شدہ نہیں  ہیں۔ واﷲ اعلم بالصواب

وہ سیکولر پارٹیاں  جن کے بعض منشور غیر اسلامی ہو اس میں  شرکت کا حکم؟ (سوال نمبر7 کا جواب)

 وہ سیاسی پارٹیاں  جو سیکولر ہیں  اور جو مسلمانوں  کے مفادات کے تحفظ کے لئے زیادہ مناسب ہیں  اگر ان کے منشور کی بعض دفعات مخالف اسلام یا مسلم مفادات کے مغائر ہیں  تب بھی مسلمانوں  کے وسیع تر مفاد کو دیکھتے ہوئے، اور مسلم دشمن پارٹیوں  کو اقتدار سے محروم رکھنے اور دور کرنے کے لئے ان پارٹیوں  میں  شرکت کی گنجائش ہونی چاہیئے ورنہ مسلم دشمن پارٹیوں  کی جیت ہوگی اور مسلمانوں  کا جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ ہی نہیں  خطرہ یقینی ہوگا۔ البتہ ان سیکولر پارٹیوں  میں  شامل مسلم ارکان کی مذہبی دینی اور ملی ذمہ داری ہوگی کہ حکمت و دانشمندی کے ساتھ اور آپسی اتحاد کرکے دستور اور منشور سے اسلام کے مخالف اور مسلم مفادات کے مغائر چیزوں  کو نکلوانے کی جی جان لگاکر کوشش کریں  اور اس کے لئے جو بھی حکمت عملی ہو طے کریں  اور قوم و ملت کو جوڑ کر ایسا دباؤ بنائیں  کہ وہ سیکولر پارٹیاں  مجبور ہوجائیں  پارٹی کے منشور سے اسلام اور مسلمان کے مخالف دفعات نکالنے پر۔ أحقر کی رائے میں  ان شرائط کے ساتھ ان پارٹیوں  میں  شرکت، پارٹی کا امیدوار بننا اور حمایت کرنا درست اور جائز ہوگا۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

 مسلم دشمن سیاسی پارٹیوں  میں  شرکت کا حکم؟ (سوال نمبر8 کا جواب)

   جو سیاسی پارٹیاں  کھلے طور پر مسلمانوں  کے دشمن ہیں  اور ان کے منشور میں  اسلام اور مسلمانوں  کی مخالفت شامل ہی نہیں  بلکہ مسلمانوں  (کی) سے دشمنی اور اسلام کے مخالف کا زہی کے لئے پارٹی قائم کی گئی ہو۔ جن کے ایجنڈے میں  اسلام کے مخالف کاز کی صراحت موجود ہو کسی بھی مسلمان کا ایسی پارٹی میں  شرکت کرنا حمایت کرنا، تشہیر کرنا اور ایسی جماعت کا امیدوار بننادرست نہیں  ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی پارٹی میں  شرکت کرتا ہے، اس کی تشہیر و حمایت کرتا ہے، یا اس کو طاقت وقوت فراہم کرتا ہے تو وہ مسلمانوں  اور اسلام کا دشمن اور قوم کا دشمن کہلائے گا، اور اس پارٹی سے اسلام اور مسلمانوں  کو جو کچھ نقصان پہونچے گا اس کا وبال اور گناہ اس کے رجسٹر میں  لکھا جائے گا اور عنداﷲ وہ شخص مأخوذ ہوگا۔ قرآن مجید واضح لفظوں  میں  اعلان کرتا ہے تعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان واتقواﷲ إن اﷲ شدید العقاب۔

   اگر کسی کی نیت یہ ہو کہ وہ ایسی پارٹی میں  شریک ہوکر اس کے ایجنڈے کو بدلنے کی کوشش کرے گا۔ بظاہر تو یہ ناممکن اور محال ہے جس پارٹی کی جنم ہی RSSکی کوکھ سے ہو اور جس کے اشارے کے بغیر پر نہ مارتی ہو اس کے ایجنڈے کو بدلنا کیونکر ممکن ہوگا۔ اس لئے میری نظر میں  ایسی پارٹی میں  شرکت اس نیت سے بھی درست نہیں  ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص جذبہ کا دھنی ہو اور قوم و ملت کی فکر میں  سرشار ہو عہد ومنصب کے حرص وہوس سے پاک ہو اور امید کی کوئی کرن نظر آرہی ہو کہ وہ اس پارٹی میں  جاکر لوگوں  کو متأثر کر سکتے ہیں  اور اس کے ایجنڈے کو بدلنے میں  کامیاب ہو سکتے ہیں  تو ایسے شخص کو اس پارٹی میں  ان حدود و قیود کے ساتھ شامل ہونے کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ گنجائش صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اپنی ذات سے متأثر کرنے کی امید میں  ہو۔ اگر وہ اپنے کووہاں  بے بس اور مجبور محسوس کرنے لگے اور امید کی کوئی کرن اب نظر نہ آرہی ہو تو فوراً اس فرقہ پرست اور مسلم دشمن پارٹی کو خیر آباد کہنا واجب ہوگا، اور اب اس پارٹی میں  بحیثیت رکن رہنا درست نہ ہوگا۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

کیا مسلمانوں  کے لئے الگ سیاسی پارٹی قائم کرنا جائز ہوگا؟(سوال نمبر9 کا جواب)

  اس سوال کا جواب دینے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں  آباد مسلم اقلیتوں  کی اجتماعی اور تنظیمی زندگی کس طرح ہو اس پر بھی مختصر روشنی ڈال دی جائے۔ غیر مسلم ممالک جہاں  مسلمان اقلیت میں  ہیں  وہاں  ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب اجتماعی زندگی گزاریں، اپنی اجتماعیت کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں، کسی صاحب علم، مخلص وبابصیرت شخص کو اپنا امیر بنالیں  جو ارباب حل وعقد کے مشورے سے زندگی کے تمام میدانوں  میں  مسلمانوں  کے لئے منصوبہ سازی کرے اور لائحہ عمل متعین کرے اور کسی امیر پر متفق نہ ہونے تک اصحاب فہم و فراست، ارباب اخلاص وتقویٰ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اجتماعی زندگی اور ملی مسائل میں  امت مسلمہ کی رہنمائی کرنے اور بدلتے ہوئے حالات میں  لائحہ عمل طے کرتی رہے، اجتماعیت اور اعتصام بحبل اﷲ اسلام میں  مطلوب ہے جماعت اور اجتماعیت کے بغیر مسلمانوں  کا زندگی گزارنا اپنے دینی ملی اور قومی تشخص کو خطرے میں  ڈالنا ہے۔ قرآن نے کہا ہے واعتصموا بحبل اﷲ جمیعا ولا تفرقوا(اٰل عمران) اللہ کی رسی کو یعنی اس کے دین کو مضبوطی سکے ساتھ پکڑو، اور تفریق کا شکار نہ بنو۔ ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاء ھم البینٰت واولئک لھم عذاب عظیم (اٰل عمران) ان لوگوں  کی طرح مت بن جاؤ جو آپس میں  فرقے بن گئے اور اختلاف مین پڑ گئے، اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی ہو ہدایتیں  آچکی تھیں۔ ایسے لوگوں  کے لئے بڑا عذاب ہے۔

   احمد بن حنبلؒ نے سیدنا معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا:إن الشیطن ذئب الإنسان کذئب الغنم یاخذ الشاذۃ والقاصیۃ والناحیۃ وایاکم والشعاب وعلیکم بالجماعۃ والعامۃ۔ یعنی جس طرح بھیڑیا اکیلی ریوڑ سے دور اور کنارے رہ جانے والی بکریوں  کو پکڑ لے جاتاہے اسی طرح شیطان ایک بھیڑیا ہے جو تم میں  سے ان لوگوں  کو گمراہ کر لینے میں  جلد کامیاب ہوجاتا ہے جو جماعت سے الگ تھلگ ہوں، پس کبھی گروہ بندیوں  میں  مت پڑنا۔ اور جماعت کو مضبوطی سے پکڑے رہنا‘‘۔

  یہ حدیث مسلمانوں  کی زندگی میں  جماعتی نظام کی ضرورت پر واضح دلیل ہے کہ انفرادیت شیطانی بھیڑیئے کا شکار بنا دیتی ہے۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓ راوی ہیں  کہ حضورؐ نے فرمایا: من فارق الجماعۃ شبرا فقد خلع ربقۃ الإسلام من عنقہ (ابو داؤد) یعنی جس نے جماعت سے ایک ذرہ علیحدگی اختیار کی اس نے اسلام کا ہار اپنی گردن سے نکال دیا۔

  اور سیدنا حارث اشعریؓ فرماتے ہیں  کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میں  تمہیں  پانچ چیزوں  کا حکم دیتا ہوں  (1) جماعتی زندگی گزارنے کا (2) امیر کے احکام کو سننے اور اس کو ماننے کا (3) اللہ کے دین کے لئے ہجرت کرنے کا (4) اللہ کی راہ میں  جہاد کرنے کا (5) اور یہ کہ جو جماعت سے ایک بالشت کے برابر نکلا اس نے اسلام کی رسی اپنے گردن سے نکال دی، الا یہ کہ وہ واپس آجائے (ترمذی) الغرض غیر مسلم ممالک میں  مسلمانوں  کی اجتماعیت اور شیرازہ بندی ان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا ارشاد ہے ’’لا إسلام إلا بجماعۃ‘‘ اجتماعیت کے بغیر اسلام نہیں ۔ اب ہم نفس مسئلہ پر آتے ہیں  کہ مسلمانوں  کے لئے الگ سیاسی پارٹی بنانا کیسا ہے۔تو اس سلسلے میں  عرض یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مسلمان امیر یا مسلمان ارباب حل و عقد کا کام ہے کہ مسلمانوں  کے لئے پارٹی قائم کرنا زیادہ مناسب ہے یا دوسری سیکولر سیاسی پارٹیوں  میں  شرکت اور انہیں  قوت پہونچانا زیادہ بہتر ہے، احقر کی رائے میں  اس سلسلے میں  کوئی حتمی اور قطعی بات نہیں  کہی جا سکتی، بلکہ حالات اور مصالح کے پیش نظر فیصلہ کیا جانا چاہیے، ممکن ہے بعض ملکوں  اور بعض صوبوں  میں  شاید مسلمانوں  کی سیاسی پارٹی قائم کرنا زیادہ نتیجہ بخش اور سود مند ہو (جیسے کشمیر اور آسام اور کیرل وغیرہ وہاں  مسلم پارٹیاں  ہیں  اور حکومت میں  ان کا اہم رول ہوتا ہے کشمیر میں  تو مسلمان ہی وزیر اعلیٰ بھی ہوتا ہے اور ان ہی کی پارٹی کی حکومت ہوتی ہے) اور بعض میں  قومی سیکولر پارٹیوں  میں  شمولیت شاید بہتر ہو، بہر حال سیاسی میدان میں  بھی مسلمانوں  کے اندر اجتماعیت ہونا انتہائی ضروری ہے، یہ ضروری نہیں  کہ مسلمانوں  کے نام پر کوئی سیاسی پارٹی تشکیل دی جائے۔ لیکن سیاسی امور میں  بصیرت رکھنے والے مخلص مسلمانوں  کا اس پر کاربند ہونا از حد ضروری ہے، مسلمانوں  کی کیف ما اتفق سیاست میں  شرکت ان کے لئے نفع بخش کے بجائے ضرر رساں  ہوگی، لیکن یہ بات بھی یہاں  یاد رہے کہ مسلمانوں  کے لئے کسی بھی حال میں  خطائی اور فرقہ پرست پارٹیوں  میں  شرکت درست نہیں  ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ آل انڈیا مسلم پرسنلاء بورڈ، جمیعۃ علماء ہند، جماعتِ اسلامی ہند، ملی کونسل، مسلم مجلس مشاورت اور شیعہ اور بریلوی مکتب فکر کی متعدد مرکزی تنظیمیں  سرجوڑ کر بیٹھیں  اور اس سلسلے میں  صحیح نتیجہ تک پہونچنے کی کوشش کریں  اور ملت اسلامیہ ہندیہ کی صحیح رہنمائی فرمائیں۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

الیکشن میں  خواتین کا کردار (سوال نمبر10 کا جواب)

 جمہوری ملکوں  میں  ووٹنگ میں  مرد اور عورت کے حقوق یکساں  ہیں۔ یعنی دونوں  کے ووٹ کی حیثیت برابر ہے، اس لئے جن مفادات کے حصول اور منکرات سے بچنے کے لئے الیکشن میں  شرکت کو ضروری قرار دیا گیا ہے ان کے مطابق عورتوں  کا بھی ووٹنگ میں  حصہ لینا ضروری اور واجب ہے البتہ عورتوں  پر واجب ہوگا کہ وہ حجاب اورپردہ کے ساتھ باہر نکلیں  گی اور حق رائے دہی کا استعمال کریں  گی۔ جہاں  تک عورت کا انتخاب میں  حصہ لینا ہے یعنی بحیثیت امیدوار کھڑا ہونا ہے تواس سلسلے میں  بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام نے امامت کبریٰ (نبوت) اور امامتِ صغریٰ (نماز کی امامت) جس طرح مردوں  سے متعلق رکھتا ہے اسی طرح خلافت، امارات، گورنری، ایوان کی رکنیت، شوریٰ کی ممبریت اور قضا کے فرائض بھی مردوں  کے سپرد کئے ہیں – حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں  ولھذا کانت النبوۃ یختصہ بالرجال وکذلک الملک الأعظم لقولہ علیہ السلام لن یفلح قوم ولّوا أمرھم امرأۃ (رواہ البخاری) وکذامنصب القضاء وغیر ذلک (ترجمہ) اور انہی وجوہ سے نبوت مردوں  کے ساتھ مخصوص رہی ہے اور اسی طرح خلافت اور امارت، کیونکہ رسو ل اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جس نے اپنے امور مملکت عورتوں  کے سپرد کر دیئے (بخاری) اور اسی طرح قضا وغیرہ کے مناصب بھی مردوں  ہی سے متعلق رہے ہیں۔ (ابن کثیر) البتہ ملک و ملت کے وہ مسائل جو عورتوں  ہی سے متعلق ہیں، ان میں  عورتوں  کی مدد لی جا سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر وقتی طور پر دوسری ذمہ داریاں  بھی عورتوں  کی صنفی خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتوں  کے سپرد کی جاسکتی ہیں۔

  یہاں  یہ نکتہ بھی ذہن میں  رہے کہ جب مذہب اسلام نے عائلی نظام کے لئے مرد کو سربراہ کی حیثیت سے منتخب کیا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ مذہب خواتین کو گھر سے بے گھر کرکے حکومت و مملکت اور ایوان کی رکنیت کا بار گراں  صنف نازک کے کندھے پر ڈال دے اور وضع الشیٔ علی غیر محلہ کا مصداق قرار پائے۔

 اوپر کی تفصیلات کا خلاصہ یہ نکلا کہ ازروئے شرع خواتین کا امیدوار بنناجائز نہیں  ہے اور وہ قانون ساز ادارے کی ممبر نہیں  بن سکتی ہیں  اسی طرح پنچائیت کی سطح پر جو عہدے ہیں  وہ بھی حاصل نہیں  کر سکتی ہیں۔

 لیکن یہاں  ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں  بلکہ اکثر ملکوں  میں  تیزی سے یہ رجحان بنتا جارہا ہے کہ سیاست میں  عورتوں  کی حصہ داری کو یقینی بنایا جائے اور بہت سے ملکوں  میں  خواتین کے لئے سیٹیں  مقرر اورمختص کردی گئی ہیں  خود ہمارے ملک میں  مختلف ریاستوں  میں  اور مختلف سطحوں  پر خواتین کے لئے سیٹیں  ریزرو کی جارہی ہیں  اور بعض ریاستوں  میں  پنچایت کی سطح پر پچاس فیصد سیٹیں  عورتوں  کے لئے ریزرو کر دی گئی ہیں  اور لوک سبھا میں  پارلیمنٹ میں  خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کا بل پیش کیا جا چکا ہے اور امید یہی نظر آرہی ہے کہ مستقبل میں  یہ قانون کی شکل اختیار کرکے اور ممکن ہے کہ بہت سے وہ علاقے جہاں  مسلمان اکثریت میں  ہیں  اس حلقے کو خواتین سیٹ کے لئے ریزرو کر دیا جائے تو اگر صورت حال یہ بنتی ہے تو سب سے پہلے تو مسلمانوں  کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے، قانونی دائرے میں  رہ کراس کو رکوانا چاہیے اور اگر اس میں  کامیابی نہیں  ملتی تو پھر ان حلقوں  سے جہاں  مسلمان جیتنے کی پوزیشن میں  ہیں  وہاں  مجبورا عورتوں  کا انتخاب میں  حصہ لینا اور ان عہدوں  کو حاصل کرنا (پنچایت کی سطح سے لیکر ایوان بالا وزیریں  تک) جائز ہوگا۔ ایسی صورت میں  عورت کے شوہر اور دیگر محرم کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ انتخابات میں  تشہیر اور دیگر امور خود انجام دیں  اور سوائے ضروری اور دفتری کارروائی کے عورت کو باہر نہ ہونے دیں  اور اس سلسلے میں  خود عورت کی ذمہ داری ہوگی کہ شرعی لباس اور پردہ کا پورا اہتمام کریں  اور اپنی آخرت کو بگڑنے نہ دیں۔ اور اس سلسلے میں  علماء کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ بر وقت صحیح رہنمائی کرتے رہیں۔ کیونکہ الیکشن کے موجودہ طریقہ کار میں  بہت سے شرعی مفاسد ہیں  لیکن مسلمانوں  کے وسیع تر دینی و ملی مفادات اس سے وابستہ ہیں  اس لئے اگر ہماری خواتین کو جمہوری نظام میں  مجبوری کی حالت میں  بھی الیکشن لڑنے سے روک دیا جائے گا تو ممکن ہے کہ مسلمانوں  کے مفادات پر کاری ضرب لگے اور مسلمان جو سیٹیں  حاصل کر سکتے ہیں  ان سے بھی محروم ہو جائیں۔ اس لئے ایسی مجبوری میں  میری رائے میں  خواتین کو حدود و قیود کے ساتھ اجازت دی جا سکتی ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

مزید دکھائیں

محمد قمر الزماں ندوی

جنرل سکریٹری :مولانا علاء الدین ایجوکیشنل سوسائٹی، جھارکھنڈ

متعلقہ

Close