بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

محمد عبد اللہ جاوید

انسانی زندگی دو متزاد چیزوں سے اکثر جوجتی رہتی ہے۔ یایوں کہئے کہ دو الگ الگ چیزوں کے امتزاج اور ان کی درمیانی کشمکش ہی سے انسانی زندگی ہے۔ دنیا میں قدم رکھتے ہی رات اور دن کے الٹ پھیر سے زندگی کی اسی کشمکش کا آغاز ہوتا ہے۔ جب یہ کشمکش ختم ہوتی ہے تو انسانی زندگی کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ گویا پیدائش کے بعد ہی سے انسان بخوبی واقف ہوجاتا ہے کہ اس کو بدلتے دنوں اور راتوں کی کشمکش کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔

عمر کی بڑھوتری کے ساتھ‘دو متزاد چیزوں کا الگ الگ طریقے سے ظہورہونے لگتا ہے۔ کبھی خوشی کبھی غم‘ کبھی ناکامی کبھی کامیابی‘ کبھی خوشحالی توکبھی تنگ دستی‘کبھی غلبہ تو کبھی مغلوبیت۔ یہی الٹ پھیر ‘دنوں مہینوں اور سالوں کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں انسان چاہے تواپنے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے روشنی میں رہنا پسند کرسکتا ہے یاپھر اندھیروں میں۔ خوشی اور غمی‘دونوں حالتوں میں اپنے رب کا شکر ادا کرسکتاہے یا پھر صرف خوشی ملنے پرہی خدا سے تعلق قائم رکھ سکتا ہے‘ سب کا اسے اختیار حاصل ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ جیسے زندگی رات اور دن کے باری باری آنے سے چلتی ہے، ویسے ہی انسان کا ایک کامیاب زندگی بسر کرنا‘ ہر موڑ پر پیش آنے والی دو متزاد چیزوں سے متعلق صحیح طرز عمل پر منحصرہوتا ہے۔

انسانی زندگی گویا اسی کشمکش کا نام ہے۔ کامیاب وہ ہیں جو ہر حال‘اپنے رب کو یاد رکھتے ہیں ‘اسی کی بندگی بجالاتے ہیں ‘اسی سے اپنی مرادیں اور تمنائیں وابستہ رکھتے ہیں ۔ بہار ہوکہ خزاں لاالہ الااللہ‘دراصل اہل ایمان کے اسی مثالی طرز عمل کا ترجمان ہے۔ وہ ہرحال اپنے رب کے دامن سے چمٹے رہتے ہیں ۔ قرآن مجید میں دو متزاد کیفیات اوران سے متعلق انسانی رویوں کا بخوبی موازنہ پیش کیا گیاہے۔ ایک وہ ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکامات بجا لاتے ہیں ‘چاہے ان کے انفرادی و اجتماعی حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ‘یہ ان کی قرآنی تصویر ہے:

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

جو ہر حال میںاپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیںایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔ (آل عمران: 134)

رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالأبْصَارُ

اُن میںایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جسمیں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔(النور: 37)

اور ایک وہ جو مطلبی اور موقع پرست ہوتے ہیں ‘جب اچھا ہو تو رب بھی اچھا اور رب سے تعلق بھی اچھا‘ اور اگر برا ہوا تو سب برا، قرآن مجید اس منفی طرز عمل کو یوں پیش کرتا ہے:

فَأَمَّا الإنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ۖ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ

انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا۔ اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ (الفجر: 15 -16)

دور حاضر کا انسانی رویہ‘اس پہلو سے قابل غور ہے کہ خوشی اور غمی کے موقع پراس کاتوازن بری طرح بگڑ جاتا ہے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیا یہ وہی انسان ہے جس کی ایک ایک سانس اس کے رب کی امانت ہے؟ اور جب غم کا ماحول ہو اور مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا ہو تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاس کچھ نہیں ‘نہ عقل نہ شعور نہ عزم نہ حوصلہ‘وہ بس ایک مٹی کا پتلا ہے کہ ناسازگار حالات کی بنا ساکت اور جامد کھڑا ہے۔

آپ بخوبی جان سکتے ہیں کہ خوشی کے موقع پر لوگوں کے رویے کیسے ہوتے ہیں ؟ مال، وقت اور صلاحیتوں کے زیاں کا اندازہ کرنا بھی بسا اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اہل ایمان کو اس سلسلہ میں واتقوا اللہ کہہ کر بطور خاص تاکید کی گئی ہے لیکن کیا کہئے کہ موسم بہار(مسرت وشادمانی) کے موقع سے ان کی خوشی منانے کی حدیں وہ تمام حدود پار کرجاتی ہیں جو اللہ اور اسکے رسولﷺ نے متعین فرمائے ہیں ۔

اور رہی بات غم و پریشانی کی‘مغلوبیت اور مظلومی کی‘وطن عزیز میں ہماری صورت حال بڑی عجیب ہے۔ اللہ اور اسکے رسولﷺ اور کتاب وسنت کی بنیادپر ہمارے درمیان جو محبت واتحادہونا چاہئے اس کی بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہم ایکدوسرے کیلئے اجنبی ہیں ‘ہمارے مسالک ‘ہماری تنظیمیں اور ادارے‘ہمارے باہمی تعاون کیلئے حجاب بنتے جارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں کروڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود ہمارا کوئی وزن نہ سماجی طور پر محسوس کیا جاتا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر‘نہ تعلیمی میدان کی اور نہ ہی معاشی میدان کی کوئی نمایاں کارکردگی سامنے آتی ہے۔ جبکہ چھوٹی چھوٹی قومیں اور برادریاں ریاستی و قومی سطح پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب نظرآتی ہیں ۔ ہماری لاتعلقی اور دینی احکامات سے متعلق بے حسی نے ہمیں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔

مطلوب یہ ہے کہ ہر دو صورت میں اللہ اور اسکے رسولﷺ کی فرمانبرداری کو اپنے اوپر لازم کرلیا جائے۔ اور یہ بات یاد رکھی جائے کہ زندگی کی سانسیں اسی رب کی دی ہوئی ہیں ‘یہ مہلت زندگی ‘یہ وسائل و اسباب سب اسی کے ہیں ۔ ہم بھی اسکے اور یہ حالات بھی اسکے۔ بحیثیت مسلمان‘ہم اپنے رب سے جان و مال کا سودا کرچکے ہیں ‘ ہم بک چکے ہیں ‘رب نے ہمارے جان و مال جنت کے بدلے خریدلئے ہیں ۔ لہذاجو لوگ اپنے رب کے ہاں بک جاتے ہیں ‘ ان کی اپنی کوئی مرضی ‘خواہش اور تمنا نہیں ہوتی بلکہ وہ تواپنے رب کی پسند اور ناپسند کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیتے ہیں اور اللہ کے رنگ میں رنگتے ہوئے اس کی مرضی سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ‘قرآن مجیدانکی ایمانی واخلاقی بلندیوں کو یوں ظاہر کرتا ہے:

….مَا لَنَآاَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ھَدٰ نَا سُبُلَنَا….

ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ ابراھیم : ۱۲

….مَا مَکَّنِّیْ فِیہِ رَبِّیْ خَیرٌ….

جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ الکھف : ۹۵

… لَّنْ یُّصیبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ج ھوَ مَوْلٰنَا….

ہم پر کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے مقدر میں لکھ رکھی ہے۔ وہی ہمارا حامی و مددگار ہے۔ التوبۃ : ۵۱

….إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي ….

میںنے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ (سورہ ص:32)

بہار ہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ کا نغمہ ایسے ہی بے لوث بندگان خدا سے ممکن ہے کہ حالات چاہے سازگار ہوں کہ ناسازگار، ہر طرح کے شکوے اور اندیشے سے بے نیاز ہوکر راہ خدا میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کے حرکت و عمل سے اسی نغمہ توحید کی صدائیں ہرسوسنائی دینےلگتی ہیں ۔ ایسے ہی جیالوں کے سلسلہ میں رسول اکرمﷺ کے یہ فرمان صادق آتے ہیں کہ پر فتن دور میں بھی وہ انسانی معاشروں کیلئے سراپا خیر ورحمت بن جاتے ہیں :

رَجُلٌ فِیْ مَا شِیتِہ یؤَدِّیْ حَقَّھَا وَیعْبُدُرَبَّہ

ایک تو وہ شخص جسکی ملکیت میں جانور ہوں اور وہ ان کا حق ادا کرتا ہواور ساتھ ہی اپنے رب کی عبادت کرتا ہو

وَرَجُلٌ ٰ اخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِہ یخِیفُ الْعَدُوَّ وَیخوِّفُوْنَہ

اور دوسرا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کا سرپکڑکر نکلے دشمن اس سے خوف زدہ ہوں اور وہ اس کو ڈراتے ہوں ۔ ( حضرت ام مالکؓ- ترمذی )

اَدُّوْا الْحَقَّ الَّذِیْ عَلَیکُم وَ سَلُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ لَکُمْ

اپنے اوپر واجب ذمہ داریاں ادا کرتے رہواور اپنے حقوق، اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ (حضرت عبد اللّٰہ ابن مسعودؓ- مسند احمد)

خَیرُکُمْ مَنْ یُّرْجٰی خَیرُہ وَ یوْمِنُ شَرُّہ

تم میں سے اچھے وہ ہیں جن سے ہمیشہ خیر کی توقع ہو اور ہر طرح کے شر سے امان میسر آئے۔ (حضرت ابوھریرہؓ – ترمذی)



⋆ محمد عبداللہ جاوید

محمد عبداللہ جاوید

مضمون نگار انگریزی و اردو کے معروف قلم کار ہیں۔ تعلیم کے اعتبار سے موصوف ڈبل ماسٹرز ہیں: اول نیوکلیئر اینڈ انرجی فزکس میں اور دوم سوشیالیوجی میں۔ علاوہ ازیں عربی، مطالعات ِاسلامی اور تقابل ِادیان پر بھی آپ وسیع و عمیق مطالعہ رکھتے ہیں۔ آپ کے خاص موضوعات اسلامی افکار، تعلیم، سائنس، عمرانیات، سماجی علوم ،شخصیت کا ارتقا، وسائل انسانی کی تنظیم اور حالات حاضرہ ہیں۔ موصوف ان دنوں مختلف سماجی فورمز پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔
علاوہ ازیں آپ اپنے ایک نجی تحقیقی ادارہ – اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ – کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی تربیت اور ان میں سائنسی و تحقیقی رجحان پیدا کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔
قرآن و حدیث اور سیرت رسول ص پر آپ کی چھ کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ان کے علاوہ تربیت وتنظیم، دعوت ، تعلیم ، شخصیات اور مختلف سماجی مسائل پر کئی کتا بچے اور مضامین بزبان اردو و انگریزی ملکی وبین الاقوامی اداروں سے شائع ہوئے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

تصور حج: ہندوستانی تناظر میں

۔یہ حج وہ طریق عبادت ہے جو بندے کو خدا اور انسانوں سے مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے۔اس عظیم عبادت کے ذریعہ خدا اپنے بندوں کو بلا کر اس تربیت سے گذارتا ہے جس کے بعد ان کی زندگیاں خدا کی مرضی کے مطابق گذرنے لگتی ہیں اور بندگان خدا سے ان کاتعلق محبت اور خدمت کی بنیادوں پر قائم ہوجاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے