فقہمذہب

تراویح کا حکم اور تعداد

لفظ تراویح کا اطلاق جمع پر ہو گا اور عربی میں جمع کم از کم تین کی ہوتی ہے لہذا تراویح کے نام سے ہی یہ بات ثابت ہے کہ تراویح کم از کم تین ترویحوں کا نام ہے، اور یہ کم از کم سولہ رکعات پر پورے ہوتے ہیں۔

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

تروایح کا مطلب:

تراویح ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ راحت سے ہے، مطلب کہ سکون، ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر بیٹھا جاتا ہے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر سے شروع کرتے ہیں اس تھوڑی دیر بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں، مطلب کہ ہر چار رکعت کے بعد تھوڑا آرام کرنے کا نام ترویحہ ہے، اور چونکہ بیس رکعات کے دوران چار مرتبہ تھوڑا وقفہ کیا جاتا ہے اس لیئے جمع کا صیغہ تراویح استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر چار رکعات کو بھی ایک ترویحہ کہتے ہیں۔

فقہ حنفی کی معتبر کتاب البحر الرائق جلد دوم صفحہ 71 پر درج ہے کہ

وَالتَّرَاوِيحُ جَمْعُ تَرْوِيحَةٍ وَهِيَ في الْأَصْلِ مَصْدَرٌ بِمَعْنَى الِاسْتِرَاحَةِ سُمِّيَتْ بِهِ الْأَرْبَعُ رَكَعَاتٍ الْمَخْصُوصَةِ لِاسْتِلْزَامِهَا اسْتِرَاحَةً بَعْدَهَا

تراویح ترویحہ کی جمعہ ہے اور وہ (عربی گرائمر میں) مصدر ہے اس کا معنی استراحۃ ہے، چار رکعات مخصوصہ کو ترویحہ کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ ہر ایک ترویحہ کے بعد استراحۃ یعنی تھوڑا وقفہ ہوتا ہے۔

اب قابل غور بات یہ ہے عربی گرائمر میں جمع کے صیغہ کا اطلاق کم از کم تین کے عدد پر ہوتا ہے، تین سے کم عدد کو جمع نہیں کہہ سکتے، عربی میں دو کے لیئے تثنیہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

صاحب عقل کے لیئے تو تراویح کا نام ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تراویح کی رکعات کتنی ہونی چاہئيں، اگر تراویح کی رکعات آٹھ ہیں تو آٹھ رکعات کے دوران تو صرف ایک بار وقفہ ہوتا ہے، اور ایک پر جمع کے صیغہ تراویح کا اطلاق کی غلط ہے کیوں کہ آٹھ رکعات تک تو صرف ایک ترویحہ ہوا ہے۔

اور اگر رکعات بارہ ہوتیں تو بارہ رکعات کے دوران صرف دو بار ترویحہ ہوتا ہے اور عربی گرائمر کے اعتبار سے اس کا نام پھر ترویحتان ہونا چاہيئے تھا نہ کہ تراویح ۔

لفظ تراویح کا اطلاق جمع پر ہو گا اور عربی میں جمع کم از کم تین کی ہوتی ہے لہذا تراویح کے نام سے ہی یہ بات ثابت ہے کہ تراویح کم از کم تین ترویحوں کا نام ہے، اور یہ کم از کم سولہ رکعات پر پورے ہوتے ہیں۔

تراویح کا حکم:

تراویح کی نماز مرد و عورت پر سنت مؤکدہ ہے۔

کتب فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے، چند حوالہ جات عرض خدمت ہیں۔ ہم چونکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں اس لیئے صرف فقہ حنفی کی کتب کے چند حوالہ جات عرض خدمت ہیں، اگرچہ چاروں آئمہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیھم) کے نزدیک تراویح سنت مؤکدہ ہے جو کہ واجب کے قریب ترین ہے۔

1: أَنَّ أَبَا يُوسُفَ سَأَلَ أَبَا حَنِيفَةَ عنها وما فَعَلَهُ عُمَرُ فقال التَّرَاوِيحُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ

امام ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ سے تراویح کے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کیا فعل تھا، پس امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے۔

البحر الرائق ۔ جلد دوم ۔ صفحہ : 71

حاشیہ ابن عابدین ۔ جلد دوم ۔ صفحہ 43

2: وَالْأَصَحُّ أَنَّ التَّرَاوِيحَ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ { وَسَنَنْت لَكُمْ قِيَامَهُ }

اور صحیح یہ ہے کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے کیوں کہ حضور ﷺکا فرمان ہے کہ (( تمہارے لیئے تراویح کا قیام سنت ہے))

الجوھرۃ نیرۃ ۔ صفحۃ 384

سنن ابن ماجہ ۔ حديث نمبر 1328

سنن النسائی ۔ حديث نمبر 2210

3: ( التراويح سنة ) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين ( للرجال والنساء )

تراویح مرد و عورت دونوں کے ليئے سنت مؤکدہ ہے کیوں کہ خلفاء راشدیں (حضرت سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی، سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنھم) نے اس کی باقاعدگي فرمائی ہے۔

الدر المختار ۔ جلد دوم ۔ صفحہ 43

4: عن أبي حنيفة رحمة الله تعالى أن التراويح سنة لا يجوز تركها لأن النبي صلى الله عليه وسلم أقامها

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تراویح سنت (مؤکدہ) ہے، تراویح کو ترک کرنا جائز نہیں کیوں کہ حضورﷺ نے تراویح کو قائم کیا۔

المبسوط للسرخسی ۔ جلد دوم ۔ صفحہ 258

ان حوالہ جات سے یہ بات تو اظہر من الشمس ہو گئی کہ ہر مرد و عورت پر تراویح سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ واجب کے قریب ہوتی ہے، جان بوجھ کر تراویح کو ترک کرنا اور پھر عادت بنا لینا گناہ ہے۔

احادیث مطھرہ کی روشنی میں تراویح کا ثبوت:

حدیث نمبر1:

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ القَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ»

حضرت عائشہ صدیقہ رضي اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے پیارے آقا ﷺایک رات مسجد نماز ادا کی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آپ نے اگلی رات بھی نماز ادا کی تو لوگ اور زیادہ ہو گئے، پھر لوگ تیسری اور چوتھی رات بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺ باہر تشریف نہ لائے، پس جب صبح ہوئی تو حضور نے فرمایا: میں نے دیکھا جو تم نے کیا، اور مجھے تمہاری طرف نکلنے سے جس بات نے روکا وہ اندیشہ تھا کہ (یہ نماز) تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ صحیح بخاری ۔ حدیث نمبر 1129

اس حدیث پاک سے یہ بات تو واضح ہے کہ رسول اللہﷺ نے دو روز خود جماعت کروائی اور وہ نماز تراویح ہی تھی، کیوں کہ رمضان المبارک کے ماہ میں رات کے وقت تراویح کے علاوہ باجماعت اور کوئی نماز مروی نہیں ہے، لیکن پیارے آقاﷺ نے تیسرے روز جماعت نہ کروائي اور فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ (لگاتار باجماعت ادا کرنے سے) تراویح فرض نہ ہو جائے۔

اس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺنے خود نماز تراویح کی جماعت بھی کروائي ہے۔

حدیث نمبر: 2

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے پیارے آقا ﷺنے فرمایا کہ جس نے رمضان میں ایمان اور احتساب کے لیئے (تراویح) کا قیام کیا اس کے پچھے گناہ بخش دیئے جاتے ہيں۔ ابن شھاب کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی وفات اسی امر پر ہوئي، (یعنی لوگ تراویح پڑھا کرتے) پھر یہ ہی امر حضرت ابو بکر کے خلافت تک بھی جاری رہا اور پھر حضرت عمر کی خلافت کے اوائل تک یہ ہی عمل رہا ( اس کے بعد حضرت عمر نے تراویح کی باقاعدہ جماعت شروع کروا دی)۔

صحیح بخاری ۔ صلاۃ التراویح ۔ حدیث نمبر 2009

تراویح کی جماعت:

حدیث نمبر 1:

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ القَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاس۔ ( و فی اخر الحدیث قالت) وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضي اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے پیارے آقا ﷺایک رات مسجد نماز ادا کی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آپ نے اگلی رات بھی نماز ادا کی تو لوگ اور زیادہ ہو گئے۔ (اسی حدیث کے آخر میں آپ نے فرمایا کہ) اور وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ (صحیح بخاری ۔ حدیث نمبر 1129)

حدیث نمبر۔ 2

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أُنَاسٌ فِى رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ « مَا هَؤُلاَءِ ». فَقِيلَ هَؤُلاَءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّى وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ. فَقَالَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم « أَصَابُوا وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا ».

حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا ﷺ باہر نکلے تو لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشہ میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں، کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن حفظ نہيں ہے، اور ابی بن کعب نماز پڑھتے ہیں اور یہ لوگ ان کی اقتداء میں (باجماعت) نماز ادا کرتے ہيں، تو پیارے آقا ﷺنے فرمایا ان لوگوں نے ٹھیک کیا اور کتنا اچھا عمل ہے جو ان لوگوں نے کیا۔ (سنن ابی داؤد ۔ کتاب شھر رمضان ۔ حدیث نمبر: 1379)

حدیث نمبر: 3

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ۔

حضرت عبدالرحمان بن عبد القاری فرماتے ہیں کہ میں رمضان کی ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلا تو دیکھا کہ لوگ متفرق تھے، کوئی تنہا نماز (تراویح) پڑھ رہا تھا اور کوئی ایک گروہ کسی کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ ادا کر رہا تھا، تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ان کو کسی ایک قاری کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو بہتر ہوگا تو آپ نے تمام لوگوں کو حضرت ابی بن کعب کی اقتداء میں جمع کر دیا (گویا کہ تراویح کو باقاعدہ باجماعت کر دیا)، راوی فرماتے ہیں کہ پھر میں ایک رات دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ باہر نکلا تو دیکھا کہ لوگ ایک امام کی اقتداء میں (تراویح) ادا کر رہے تھے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ کتنا اچھا کام ہے۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب صلاۃ التراویح ۔ حدیث نمبر 2010)

ان تینوں احادیث باجماعت تراویح ادا کرنے پر دلیل ہیں، پہلی حديث پاک میں دو دن پیارے آقاﷺ نے خود تراویح کی جماعت کروائي۔

دوسری حدیث پاک میں واضح ہے کہ جن لوگوں کو قرآن حفظ نہ تھا انہوں نے رسول اللہ ﷺکی حیات طیبہ میں باجماعت تراویح ادا کی اور رسول اللہ ﷺنے ان کے اس عمل کی تعریف کی۔

تیسری حدیث بھی اسی بات پر دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں جن کو قرآن حفظ تھا وہ تنہا تراویح ادا کرتے اور جو غیر حافظ تھے وہ کسی کی اقتداء میں ادا کرتے لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سب کو ایک امام کی اقتداء میں تراویح ادا کرنے کا حکم دیا۔

تراویح کی رکعات کی تعداد:

ہم امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں اور امام اعظم کے نذدیک تراویح کی رکعات بیس ہے، اور اسی کی تائید میں چند دلائل پیش ہیں۔

دلیل نمبر: 1

عن بن عباس : أن النبي كان يصلي في رمضان عشرين ركعة سوى الوتر

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے مروی ہے کہ پیارے آقا ﷺرمضان المبارک میں بیس رکعات پڑھا کرتے تھے وتر کے علاوہ۔ (یعنی بیس رکعات تراویح ادا فرما کر پھر وتر ادا فرماتے)

یہ حدیث پاک کثیر کتب احادیث میں موجود ہے، چند کے حوالہ یہ ہیں۔

المعجم الاوسط ۔ جلد اول ۔ حدیث نبمر 798

مسند عبد بن حمید ۔ حدیث نمبر 653

المعجم الکبیر ۔ حدیث نمبر: 12102

مصنف ابن ابی شیبۃ ۔ حدیث نمبر 7774

المطالب العالية للحافظ ابن حجر العسقلاني ۔ جلد چہارم ۔ صفحہ 425

تنوير الحوالك شرح موطأ مالك ۔ صفحہ 108

فتح القدیر ۔ جلد دوم ۔ صفحہ 448

المسند الجامع ۔ حديث نمبر 6446

دلیل نمبر: 2

عَنْ عَلِىٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : دَعَا الْقُرَّاءَ فِى رَمَضَانَ ، فَأَمَرَ مِنْهُمْ رَجُلاً يُصَلِّى بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً.

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے رمضان کے ماہ میں قاریوں کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات (تراویح) پڑھائیں۔

السنن الکبری ۔ حدیث نمبر 4804

عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری

دلیل نمبر: 3

عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ : أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ.

حضرت شتیر بن شکل سے مروی ہے کہ وہ رمضان میں بیس رکعات (تراویح) اور وتر ادا کرتے تھے۔

مصنف ابن ابی شیبۃ ۔ حدیث نمبر 7762

دلیل نمبر: 4

عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً.

حضرت یحیی بن سید سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیس رکعات تراویح کا حکم دیا۔

مصنف ابن ابی شیبۃ ۔ حدیث نمبر 7764

دلیل نمبر 5:

عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : كَانَ أُبَيّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِالْمَدِينَةِ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.

حضرت عبد العزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ صحابی رسول حضرت ابی بن کعب مدینہ منورہ میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھاتے تھے اور پھر تین وتر۔

مصنف ابن ابی شیبۃ ۔ حدیث نمبر 7766

دلیل نمبر: 6

رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً

حضرت عمر اور حضرت علی اور ان کے علاوہ پیارے آقا ﷺکے کثیر صحابہ کرام علیھم الرضوان سے مروی ہے کہ تراویح بیس رکعات ہے، یہ ہی قول امام سفیان ثوری، امام عبد اللہ بن مبارک، امام شافعی علیہم الرحمۃ کا ہے، امام شافی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ہمارے شہر مکہ میں لوگ بیس رکعات تراویح پڑھتے ہيں۔

مسند الصحابہ ۔ صفحہ9 17

دلیل نمبر :7

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ: «كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً يُطِيلُونَ فِيهَا الْقِرَاءَةَ وَيُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ»

محمد بن کعب القرظی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح ادا کرتے تھے اور اس میں لمبی قرات کرتے اور پھر تین وتر ادا کرتے۔

مختصر ۔ جلد اول ۔ صفحہ 220

دلیل نمبر 8:

أنبأ أَبُو الْخَصِيبِ قَالَ: ” كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ فِي رَمَضَانَ فَيُصَلِّي خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً "

ابو الخصیب فرماتے ہیں کہ ہم سوید بن غفلۃ کی اقتداء میں رمضان المبارک میں پانچ ترویحات یعنی بیس رکعات ادا کرتے تھے۔

السنن الکبری ۔ جلد دوم ۔ صفحہ 699

دلیل نمبر9:

عن السائب بن يزيد قال كانوا « يقومون على عهد عمر بن الخطاب في رمضان عشرين ركعة ، ولكن كانوا يقرءون بالمائتين في ركعة حتى كانوا يتوكئون على عصيهم من شدة القيام »

سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بیس رکعات تراویح ہوتی تھی، اور ہر رکعت ميں دو سو آیات تلاوت کی جاتیں، حتی کہ لوگ قیام کی شدت کی وجہ سے اپنے عصاؤں کے ساتھ ٹیک لگاتے۔

الصیام للفریابی ۔ حدیث نمبر 158

دلیل نمبر: 10

وينبغي أن يجتمع أن يجتمع الناس في كل ليلة من شهر رمضان بعد العشاء، فيصلي بهم إمامهم خمس ترويحات

لازمی ہے کہ لوگ رمضان کی ہر رات میں بعد نماز عشاء جمع ہوں اور ان کا امام ان کو پانچ ترویحات (بیس رکعات) پڑھائے۔

الاختیار لتعلیل المختار ۔ کتاب الصلوۃ

دلیل نمبر 11:

التَّرَاوِيحِ  وَهِيَ خَمْسُ تَرْوِيحَاتٍ كُلُّ تَرْوِيحَةٍ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ بِتَسْلِيمَتَيْنِ

تراویح پانچ ترویحات ہیں اور ہر ترویحۃ چار رکعات کا ہے دو دو سلام کے ساتھ۔

فتاوی الھندیۃ / فتاوی عالمگیری ۔ فصل فی التراویح

ان دلائل کے علاوہ بھی سینکڑوں کتب میں تراویح  کی بیس رکعات کا ذکر ہے لیکن سب کو درج کرنا ناممکن ہے۔ لیکن دنیا کی کسی کتاب میں آٹھ یا بارہ رکعات تراویح کا ذکر قطعا نہیں ہے۔

مندرجہ بالا دلائل سے تراویح کی رکعات واضح ہے اور سمجھنے والے کے ليئے کافی ہے۔

جیسا کہ شروع میں تراویح کے نام سے بھی واضح ہوا کہ تراویح کی تعداد آٹھ یا بارہ ہو ہی نہیں سکتی، ورنہ لفظ تراویح کا اطلاق ہی درست نہ ہوگا، اس کے بعد ان چند دلائل سے تراویح کی رکعات اظھر من الشمس ہو گئیں ہے کہ تراویح کی رکعات بیس ہے، خود پیارے آقا ﷺنے بیس رکعات ادا فرمائیں، پھر تمام صحابہ کرام علیھم الرضوان بھی بیس رکعات ہی ادا فرماتے رہے، اور بیس رکعات کا ہی حکم دیا۔ صحابہ کرام کے بعد اسلاف امت نے بھی اسی پر عمل کیا کہ تراویح کی رکعات بیس ہیں، اور چودہ سو سال سے آج تک مسجد الحرام اور مسجد نبوی سلام اللہ علیھا میں ہمیشہ بیس رکعات ہی تراویح ادا ہوتی ہیں، اس کے علاوہ دنیا کے ہر ملک جہاں مسلمان بستے ہیں بیس رکعات تراویح کا ہی معمول ہے، تراویح کی رکعات میں کمی کا فتنہ برصغیر کے علاوہ اور کہیں نہیں۔ لہذا تراویح بیس رکعات ہی ادا کی جائيں، اور تراویح کا ترک کرنا چاہے ایک رکعت ہو یا بارہ گناہ ہے، کیوں کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے، جیسا کہ تراویح کے حکم میں بیان کیا گیا۔

آٹھ رکعات تراویح ثابت کرنے والوں کی دلیل اور اس کا جواب

آخر میں وہ حدیث پاک جو بعض لوگ پیش کرتے ہیں کہ تراویح کی تعداد آٹھ ہے، اور اس حدیث پاک کا صحیح مفہوم۔

حدیث:

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا»

حضرت ابی سلمۃ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ سائل نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے سوال پوچھا کہ رسول اللہ ﷺرمضان میں کیسی نماز ادا کیا کرتے تھے، حضرت ام المؤمنین نے فرمایا، رسول اللہ ﷺرمضان میں یا غیر رمضان میں (یعنی رمضان کے علاوہ) گیارہ رکعتوں پر کچھ زائد ادا نہ کرتے۔ (یعنی رمضان المبارک میں اور رمضان المبارک کے علاوہ بھی گیارہ رکعات ادا کرتے)، پہلے چار رکعات ادا فرماتے، پس تم رسول اللہﷺ کی نماز کی خوبصورتی اور اس کے طول کے بارے میں سوال نہ کرو، پھر آپ چار رکعات ادا فرماتے، پس تم اس کی خوبصورتی اور طول کے بارے میں سوال نہ کرو، پھر تین رکعات ادا فرماتے۔

صحیح بخاری ۔ کتاب التھجد ۔ حدیث نمبر 1147

سنن ابی داؤد ۔ باب فی صلاۃ اللیل ۔ حدیث نمبر 1343

صحیح مسلم ۔ باب صلاۃ اللیل ۔ حدیث نمبر 738

اس حدیث پاک میں جو آٹھ رکعات کا ذکر ہے کیا وہ تراویح کا ذکر ہے ؟؟

تو اس کا جواب ہر صاحب عقل حدیث پڑھ کر خود دے سکتا ہے کہ اس سے مراد تراویح نہیں ہے۔

جواب نمبر1:

حديث پاک میں واضح الفاظ موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺرمضان المبارک میں اور رمضان المبارک کے علاوہ بھی گیارہ رکعتیں ادا کرتے تھے، تو سوال یہ ہے کہ اگر وہ صلاۃ التراویح تھی اور رمضان المبارک کے علاوہ کیوں ادا فرمائی ؟؟ لہذا حدیث پاک کے الفاظ ہی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس سے مراد نماز تراویح نہیں ہے۔

جواب نمبر 2:

ہم نے تراویح کے حکم میں ذکر کیا کہ تراویح ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے اور تراویح کو ترک کرنا گناہ ہے، اور اگر اس حديث پاک سے مراد تراویح کی نماز لی جائے تو کیا آٹھ رکعات پڑھنے والے اس حديث پاک پر عمل کرتے ہوئے پورا سال آٹھ رکعات ادا کریں گے ؟؟؟ کیوں کہ رسول اللہ ﷺرمضان میں بھی اور رمضان کے علاوہ بھی یہ آٹھ رکعات ادا فرمایا کرتے تھے۔

جواب نمبر 3:

اس حديث پاک کے تین حوالہ جات ذکر کئے گئے ہیں اگرچہ ان کے علاوہ بھی یہ حديث بہت سے کتب میں موجود ہے، لیکن چونکہ یہ کتب صحاح ستہ میں شامل ہیں اس لیۓ ان کا ذکر کیا۔

اور اگر ان حوالہ جات کو بغور دیکھا جائے تو امام بخاری سمیت تمام محدثین نے اس حدیث پاک کو تہجد کے باب میں ذکر کیا ہے، گویا کہ محدثین کرام کا اس حديث پاک کو تھجد کے باب کے تحت ذکر کرنا اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ امام بخاری، امام مسلم اور دیگر محدثین کے نزدیک اس حدیث پاک سے مراد نماز تراویح نہیں ہے۔ ورنہ وہ اس حديث کو باب صلاۃ التراویح کے تحت ذکر کرتے۔ جیسا کہ محدثین نے تراویح والی احادیث کو رمضان المبارک کے باب میں یا تراویح کے باب میں ذکر کیا۔

ان محدثین کے بڑھ کر حدیث کو کون سمجھ سکتا ہے ؟؟ وہ تو اس حديث پاک سے مراد تراویح نہیں لیتے لیکن افسوس کہ چند عناصر عوام امت میں تفرقہ ڈالنے کے لیئے حديث پاک کا اپنی مرضی کا مطلب گھڑ کر پیش کرتے ہیں اور عوام الناس پریشان ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ بھی اس احادیث کے بہت سے جوابات ہیں لیکن امید ہے مسئلہ کو سمجھنے کے لیۓ یہ کافی ہوں گے۔

ہم نے بیس رکعات تراویح پر صحابہ کرام علیھم الرضوان کے قول و عمل سمیت اسلاف امت، آئمہ کرام کے حوالہ جات عرض کئے کہ تراویح بیس رکعات ہے۔

آخر میں تراویح کی رکعات کو آٹھ ثابت کرنے والوں کو چیلنج ہے کہ کوئي ایک ضعیف حدیث، کسی صحابی، فقیہہ کا کوئی ایک قول دکھا دیں جس میں ذکر ہو کہ صحابہ نے آٹھ رکعات تراویح ادا کی۔ ہمیں یقین ہے کہ کبھی نہ دکھا سکیں گے کیوں کہ علم کی دنیا میں آٹھ رکعات تراویح کا تصور ہی موجود نہیں ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بیت الحرام، مسجد نبوی شریف میں چودہ سو سال سے بیس رکعات تراویح ہی ادا ہو رہی ہے، تاریخ کا کوئی ایک دن ایسا نہیں کہ وہاں آٹھ یا بارہ رکعات تراویح ادا کی گئی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

مزید دکھائیں

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ آپ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے الشریعہ و القانون (ایل ایل بی آنرز، شریعہ اینڈ لاء) کی ڈگری حاصل کی۔ آپ جدید قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد میں دو سال قانون کی پریکٹس کی۔ آپ کالج آف شریعہ، منہاج یونیورسٹی لاہور میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہيں۔ آپ کے ریسرچ آرٹیکلز مختلف اخبارات، جرائد، میگزین اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہيں۔

متعلقہ

Close