قرآنیاتمذہب

تفہیم القرآن کی عصری معنویت

مجتبیٰ فاروق

قرآن، متعلقات قرآن اور علوم القرآن پر جتنا لٹریچر پایا جاتا ہے اتنا کسی اور کتاب پر نہیں لکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے فرمودات کے ذریعے سے قرآن کی تعلیمات کو مبرہن کیا۔ آپ ﷺ کے بعدصحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد نے قرآن پاک کی توضیح و تشریح کی جن میں ابن عباس بطور خاص قابل ذکر ہے۔صحابہ کے بعد ہر دور میں قران مجید پر تفسیریں لکھی گئیں۔  اس طرح تفاسیر اور علوم القرآن پر بے شمار کتب منصہ شہود پر آگئیں۔  تفاسیر کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ہر تفسیر کی منفرد خصوصیات  و امتیازات ہوتی ہیں جن سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ ذخیرہ تفاسیر میں تفسیر طبری، تفسیر کشاف، تفسیر رازی، تفسیر ابن کثیر، روح المعانی، جلالین اور بیضاوی  منفرد مقام رکھتے ہیں۔  عصر حاضر میں بھی فہم قرآن کو عام کرنے  کے لئے چند اہم تفسیریں لکھی گئی ہیں جن میں تفسیر منار، فی ظلال القرآن، تفہیم القرآن، معارف القرآن، تدبر قرآن، تزکیرالقرآن اور تفسیر ماجدی قابل ذکر ہیں۔  اس مضموں میں صرف تفہیم القرآن کی خصوصیات اور اس کی عصری معنویت پر گفتگو کی جائے گی۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کے جید عالم، مفکر، مصنف اور مجدد گزرے ہیں۔  انہوں نے فکر اسلامی کی تجدید اور احیائے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں انجام دئے۔ سید موصوف کو علوم اسلامیہ اور علوم جدیدہ دونوں میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان کا اگرچہ کوئی خاص میدان نہیں تھا تاہم انہوں نے جس موضوع اور فکر پر بھی خامہ پرسائی کی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسی موضوع کے شہسوارہیں ۔  انہوں نے قرآن پاک، حدیث، سیرت، فقہ، تاریخ، علم کلام، سیاست، معیشت، معاشرت، تحریک وتنظیم کے علاوہ باطل افکار ونظریات کے رد میں ایسی شاہکار تحریریں چھوڑیں جو طویل عرصے تک زندہ وجاوید رہیں گی۔ مولانا مودودیؒؒ کا ہر کام اپنی جگہ پر ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سید موصوف کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن تین کارنامے ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

 (1) فکر اسلامی پر بے مثال لٹریچر

 (2) احیائے دین کے لیے جماعت اسلامی کا قیام

 (3) اور عصری اسلوب میں قرآن پاک کا ترجمہ وتفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘۔

تفہیم القرآن بیسویں صدی میں تفسیری لٹریچرمیں انتہائی اہم اضافہ ہے۔ اس کے متنوع خصوصیات وامتیازات ہیں جن کی وجہ سے یہ عوام وخواص میں بے حد مقبول ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں ایک شاہکا ر  (Magnam Opus)  تفسیر ہے۔ جو اپنے آغاز سے لیکر اب تک بے شمار اثرات نئی نسل پر مرتب کر چکی ہے نیز یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تفہیم القرآن میں جو جاذبیت اور کشکمش ہے وہ بلا مبالغہ کسی اور اردو تفسیر میں نہیں ہے اگرچہ سبھی تراجم وتفاسیر منفرد خصوصیات کے حامل ہیں لیکن تفہیم القرآن عصر حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل کا وحی الٰہی کی روشنی میں جس انداز سے حل پیش کرتا ہے وہ اس کا نمایاں امتیاز ہے۔ مغربی فکر وتہذیب سے متاثر نئی نسل مختلف ذہنی اشکالات اور تہذیب حاضر کے نت نئے مسائل اور الجھنوں میں گھری ہوئی تھی اس کو سید مودودیؒ نے بحسن وخوبی ایڈرس کیا ہے۔ تفہیم القرآن اگرچہ ایک مخصوص طبقے کو ذہن میں رکھ کر لکھی گئی لیکن اس سے ہر خاص وعام مستفید ہو رہا ہے۔ ایک طرف اگر عام تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بیش بہا تحفہ ہے تو وہیں علماء کے لیے بھی یہ نعمت عظمیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فہم قرآن کے حصول کے لیے یہ ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ برصغیر میں فہم قرآن کا جوذوق وشوق ابھرا۔ اس میں سید مودودیؒ کااہم حصہ ہے۔ بقول مولانا عنایت اللہ سبحانی ’’بہر کیف یہ واقعہ ہے کہ ہندو پاک میں اس وقت مطالعہ قرآن کا جو کچھ تھوڑا بہت ذوق پیدا ہوا ہے وہ زیادہ تر مولانا مودودیؒ کا مرہون منت اور تفہیم القرآن ہی کی برکت ہے۔‘‘ بیسویں صدی میں برصغیر پاک وہند میں فہم قرآن کا ذوق ابھرنا ہی تفہیم القرآن کی عظیم الشان فتوح ہے۔

تفہیم القرآن کتابی شکل میں مدون ہونے سے پہلے ہی قسطوں میں ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوتا رہا تھا جس کی وجہ سے قارئین کتابی شکل میں آنے سے قبل ہی اس سے آشنا و مانوس تھے۔ تفاسیر میں صرف تفہیم القرآن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کتابی صورت میں طبع ہونے سے قبل ہی رسالہ ترجمان القرآن میں شائع ہوتا رہا اور صاحب تفہیم القرآن نے اپنے معاصر علماء کو اس بات کی دعوت بھی دی کہ آپ حضرات کو اگر کہیں اس میں کوئی غلطی نظر آئے یا کسی حذف و اضافے کی ضرورت محسوس ہوتو ضرور مطلع فرمائیں۔  خواجہ اقبال احمد ندوی کے مطابق ’’مولانا مودودیؒ نے اصحاب علم اور علمائے کرام سے درخواست کی تھی کہ مسودہ میں اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے یا کسی مقام پر انہیں محسوس ہو کہ یہاں مزید تشریح کی ضرورت ہے آپ براہ کرم دلائل کے ساتھ مجھے متنبہ فرماتے رہیں تاکہ غلطیوں کی اصلاح اور تشریح رسالہ میں شائع ہوتی رہے۔ جب بھی مسودہ پر دلائل کے ساتھ کوئی اعتراض وارد ہوتا، مولانا خط پڑھتے ہی سارا کام چھوڑ کر، اس کا جائزہ لیتے تھے۔‘‘

آغاز تالیف:

مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن فروری 1942ء میں لکھنا شروع کیا۔ پانچ سال کے عرصے کے بعد یعنی سورہ یوسف کے اختتام تک بے حد تحریکی مصروفیت کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔ پھر 1948ء میں جب جیل جانا پڑا تو بحالت قید ہی اس سلسلے کو پھر سے شروع کیا۔ مولانا مودودی نے 30 سال کی مدت میں  7؍جون 1972ء میں پایہ تکمیل پہنچائی۔ یہ چھ ضخیم جلدوں اور 4143 صفحات پر مشتمل ہے۔ مولانا نے 1958ء میں تفہیم ہی کے سلسلے میں اپنے ایک رفیق محمد عاصم الحداد کے ساتھ مشرق وسطیٰ کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے بنفس نفیس ان تمام تاریخی مقامات اور آثار کو دیکھا جن کا تذکرہ قرآن مجید میں جگہ جگہ وارد ہے۔ مشرق وسطیٰ کا یہ پورا سفر نامہ بعد میں عاصم الحداد نے بڑے دلکش اسلوب میں قلم بند کر کے سفرنامہ ارض القرآن کے نام کے تحت شائع کیا۔

تفہیم القرآن کی غرض وغایت:

سید مودودیؒ کے ذہن میں قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر لکھنے کا مقصد ومدعا واضح تھا وہ قرآن مجید کا ایک نیا ترجمہ وتفسیر ایک اضافے کے طور پر اور محض خیر وبرکت کے حصول کے لیے وقت کا زیاں سمجھتے تھے۔ انہوں نے جس طبقے کو ذہن میں رکھ کر تفسیر لکھی اس میں انہیں سو فیصدی کامیابی ملی۔ مولانا کے پیش نظر جو طبقہ تھا وہ عام تعلیم یافتہ طبقہ تھا جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہے۔ انہوں نے تفسیر لکھنے کا مقصد تفہیم القرآن کے دیباچے کے پہلے ہی صفحے پر بیان کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں : ’’میں ایک مدت سے محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے عام تعلیم یافتہ لوگوں میں روح قرآن تک پہنچنے اور اس کتاب پاک کے حقیقی مدعا سے روشناس ہونے کی جو طلب پیدا ہو گئی ہے اور روز بروز بڑھ رہی ہے وہ مترجمین ومفسرین کی قابل قدر مساعی کے باوجود ہنوز تشنہ ہے اس کے ساتھ یہ احساس بھی اپنے اندر پا رہا تھا کہ اس تشنگی کو بجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ خدمت میں بھی کر سکتا ہوں۔  انہی دونون احساسات نے مجھے اس کوشش پر مجبور کیا جس کے  ثمرات ہدیہ ناظرین کر رہاہوں ـ‘‘

تفہیم القرآن کی چند نمایا ں خصوصیات و امتیازیات

عمدہ اسلوب :

  تفہیم القرآن کا اسلوب نہایت عمدہ ہے، یہ اردو نثر کا ایک عظیم شہ پارہ ہے   (Masterly Prose style) ہے۔چونکہ اس کے مخاطب عام تعلیم یافتہ طبقہ ہے اس لئے سید مودودی نے زبان نہایت ہی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے اور انداز بیان بہت ہی دلکش اور دلنشین ہے۔  زبان و انداز بیان کے تعلق سے ایک قاری کہیں بھی دقت مــحسوس نہیں کرتا اور نہ ہی کہیں اکتاہٹ کے شکار ہوتا۔ خوبصورت انداز بیان اور سلیس زبان میں ہی  تفہیم القرآن کی مقبولیت کا راز پنہاں ہے۔ ینگس ٹاون یونیورسٹی امریکہ کے پروفیسر مصتنسر میر اس کی ابان کے بارے میـں لکھتے ہیں :

"Tafhim has been called the first best selling urdu Quran commentry ,and the main reason for its popularty is the limped beauty of its style "(Amarican journal of social sciences ,vol:2,1985)

زبان و بیان کی خوبصورتی ہی کسی نثر کو شہکار بناتی ہے یہ پہلو تفہیم القرآن میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس میں علمی و فکری مسائل کی  توضیح کے ساتھ ساتھاس مین سادگی اور روانی ہے گویا یہ فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔  تفہیم القرآن حسن بیان کے علاوہ لطافت ونفاست کی رعناعیوں سے لیس ہے۔  اسد میں اجمال و تفصیل کا بھی پہلو ہے، جہاں اجمال کی ضرورت پڑتی ہے وہں اجمال ہی سے مصنف نے کام لیا ہے اور جہاں مسئلہ وضاحت طلب ہو وہاں تفصیل بخشنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے :

اس بات میں کوئی دو رئے نہیں کہ اسلام انسانی زندگی کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے اور قرآن پاک مکمل دستور العمل ہے۔ یہ ہرزمانے کے لیے کامیابی اور فلاح وبہبود کا ضامن ہے جو دنیائے انسانیت کے لیے ہمیشہ قابل تقلید رہے گا۔ سید مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں اس بحث کو مضبوط استدلال سے واضح کیا اور انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک خاص اسلوب اور نہج میں ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیاہے۔ برصغیر میں اسلام ایک مکمل نظام زندگی کے طور پیش کرنے کا سہرا سید مودودیؒ کے سر ہی بندھتا ہے۔ انہوں نے تفہیم القرآن میں جگہ جگہ اس کی توضیح وتشریح گہرائی اور انتہائی علمی وفکری قوت کے ساتھ مدلل انداز میں کی ہے۔ مثلاً سورہ مائدہ کی ایک آیت الیوم اکملت لکم دینکم … کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : دین کو مکمل کر دینے سے مراد اس کو ایک مکمل نظام فکر وعمل اور ایک ایسا مکمل نظام تہذیب وتمدن بنا دینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت ورہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ نعمت تمام کر دینے سے مراد نعمت ہدایت کی تکمیل کر دینا ہے۔‘‘ سید مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں جگہ جگہ اس فکر کا تعارف کرایا کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام انسان کو ہر لمحہ رہنمائی کا کام کرتا ہے۔ سید مودودیؒ کو اس بات پر یقین محکم تھا کہ اسلام روحانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، خاندانی، اخلاقی مسائل کا ایسا مکمل حل پیش کرتا ہے جس کے بعد کسی اور نظریہ یا مذہب کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے یہ عقیدہ سید مودودیؒ نے تفہیم القرآن کے ذریعے سے عام کیاہے۔

اسلام کی عصری معنویت:

اسلام دور حاضر کے مسائل کو حل کرنے کی بھرپور قوت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمگیریت کے اس دور میں بھی اسلام اپنی نمائندگی خوب کرتا ہے سید مودودیؒ نے اس پہلو کو بھی تفہیم القرآن اور دیگر تصانیف میں نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے اسلام کو دور حاضر سے ایسی ہم آہنگی پیدا کی کہ اب ہر خاص وعام اس بات پر متفق ہے کہ اسلام عصر حاضر کا دین ہے۔ اور تفہیم القرآن میں اکثر مقامات پر انہوں نے اس بات کی خوب وضاحت کی کہ اسلام کیسے عصر حاضر سے مطابقت(Relevancy) رکھتا ہے اور اس میں سید مودودیؒ پوری طرح کامیاب بھی رہے۔ مغربی فکر وتہذیب سے مرعوبیت کے شکار نئی نسل اسلام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے وہ اسلام کو فرسودہ اور ازمنہ وسطیٰ کا مذہب سمجھتے تھے اور الحاد کو اپنا قبلہ منتخب کر چکے تھے اس تعلق سے دار العلوم دیوبند کے ایک مشہور عالم دین مولانا عامر عثمانیؒ لکھتے ہیں کہ تفہیم القرآن کا گراں قدر امتیاز یہ ہے کہ وہ موجودہ مغرب زدہ اذہان کو قرآن کریم اور اسلام کو سمجھانے اور قریب لانے میں نہایت دلکش انداز وپیرایہ کا شاہکار ہے۔ ہر جگہ تفہیم اور سید مودودیؒ کے مضامین نے باغی سے باغی مسلم نوجوان کو حیرت انگیز حد تک یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ الحاد وبغاوت کی قعرِ مذلت سے نکال کر سراپا دلدادہ اسلام بنا دیا ہے‘‘۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ جدیدیت اور مغربی فکر وتہذیب کے پیدا شدہ مسائل سے نپٹنے کے لیے سید مودودیؒ کے معاصر مفسرین ذہنی وعملی طور سے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے چند مسائل کا حل اگرچہ پیش بھی کیا لیکن وہ زیادہ مدلل نہیں ہوتے تھے۔ پروفیسر مستفصر میر لکھتے ہیں :

"Mawdudi is keenly aware of the importance of issues and problems of modernity which even today mony muslim Quran scholars refuse to recognize as proper grist for their mills "

سید مودودیؒ پوری طرح سے جدیدیت کے پیدا شدہ مسائل اور قضیوں سے باخبر تھے اور آج تک قرآن اسکالر یا مفسرین قرآن کو اعلیٰ فائدے کی نعمت نہیں تصور کرتے ہیں۔

تفہیم القرآن عصری علوم کا ایک انسائیکلوپیڈیا:

تفہیم القرآن قدیم وجدید علوم کا ایک خزینہ ہے۔ یہ محض علوم اسلامیہ کا ہی نہیں بلکہ جدید علوم بھی ایک ضخیم انسائیکلو پیڈیا  ہے۔ اس میں تمام ضروری علوم کی سیر حاصل بحثیں ملتی ہیں۔  سید مودودیؒ بیسویں صدی کے ایک جید عالم تھے جنہیں قدیم وجدید علوم پر یدطولیٰ حاصل تھا۔ انہوں نے علوم کے تمام موتی تفہیم القرآن میں ڈال دیے ہے۔ تفہیم القرآن میں جہاں علم کلام کو ایک نئی سمت بخشی گئی وہیں فلسفہ کو اسلامی رنگ میں پیش کیا گیا۔اس میں اگر سائنس کے مختلف شاخوں پر وافر مقدار میں مواد موجود ہے وہیں سماجیات پر بھی اچھا خاصا ذخیرہ قارئین کے لیے دستیاب ہے۔ اس میں اگر قدیم افکار پر نہایت اہم گفتگو کی گئی وہیں عصر حاضر کے افکار ونظریات کے رد اور تحلیلی جائزے پر بھی انتہائی قیمتی بحثیں ملتی ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ مولانا نے نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام، مادہ پرستی، اشتراکیت اور مغربی فکر وفلسفے کے تار بکھیر دئے بلکہ مارکس، ہیگل، ڈارون اور فرائیڈ کو آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات ڈال دئے تھے۔ تفہیم القرآن میں جہاں تہذیب وسیاست کے متعلق ایک ہمہ گیر بحث کو آگے بڑھایا گیا وہیں اقتصادیات جیسے اہم موضوع پر رہنمائی کا وافر سامان بھی موجود ہے۔ مولانا نعیم صدیقی نے بالکل درست فرمایا کہ ’’تفہیم القرآن میں اسلامی نظام حیات کے ہر شعبے پر ٹھوس مواد یکجا کر دیا گیا ہے۔ سیاست، معیشت، تاریخ اخلاقیات، نفسیات، علوم الاقوام، قصص الانبیاء اور خود سیرۃ النبیؐ پر اس میں اتنا کچھ مواد سمیٹ کر رکھ دیا گیا ہے کہ اب اسے نظر انداز کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔‘‘

تقابل ادیان کا مطالبہ

تفہیم القرآن میں سید مودودیؒ نے عیسائیت، یہودیت اور دیگر اقوام وملل کی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور قرآن کی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالبہ پیش کیا ہے۔ مولانا نے تورات، زبور اور انجیل کی تحریفات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا نیز عیسائی پادریوں کے ذاتی مفادات اور ان کی کارستانیوں کو بھی عیاں کیا ہے۔ تفہیم القرآن میں مستشرقین کی طرف سے اٹھائے گئے بے جا اعتراضات کے بھی مدلل جوابات ملتے ہیں۔  انہوں نے دوسرے مذاہب کا بے لاگ اور بے باق تنقیدی جائزہ پیش کر کے ان کی جملہ کمزوریوں کو عیاں کیا ہے۔ بنا بریں یہ بھی ثابت کیا کہ کس طرح سے عیسائیت اور یہودیت نے اپنی اہمیت اور معنویت کھو دی ہے۔ یہودیت وعیسائیت کے بنیادی عقائد میں بگاڑ، تورات انجیل اور زبور کی مجرمانہ غلطیاں، عقیدۂ تثلیث پر محاکمہ، بنی اسرائیل کا انبیاء کے ساتھ روگردانی اور سابق اقوام کی نافرمانیاں، جیسے موضوعات پر تفہیم القرآن کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔  سید مودودیؒ نے تورات (عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید) اور عیسائی ویہودی مصنفین کے حوالوں سے عیسائیت اور یہودیت کے فسادات اور تضادات مبرہن کئے ہیں۔

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. ایک قابل فخرومرجوع عالم دین,دقیقہ رس وآفاقی مفکرہردلعزیزمذہبی مصنف کی حیثیت سےمولانامودودی کوبرصغیرمیں ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام میں جوبلندوبالامقام حاصل ہےوہ محتاج تعارف نہیں_
    لیکن صاحب طرزادیب اوراعلی انشاپردازکی حیثیت سےبھی وہ اپناایک منفرداوراونچامقام رکھتےہیں,سلیس وشگفتہ الفاظ,بےساختگی اوربےتکلفی کےسانچےمیں ڈھلااسلوب بیان,فصیح ورواں فقرے,نرم وپرکارلہجہ,چست اورمرصع دروبست یہ خوبیاں انہیں اچھےادیبوں کی صف اول میں نمایاں مقام عطاکرتی ہیں.
    اس تمہیدکامقصدیہ ہےکہ گرکوئی مقالہ اس عالی مرتبت شخصیت یااس کی تصنیفات پرلکھاجائےاوراس میں زبان وبیان اورسنین وغیرہ کی غلطیاں درآئیں توکتناافسوس ہوگااس کاادراک وہی لوگ کرسکتےہیں جواس شخصیت کےمقام ومرتبہ سےآگاہ ہیں.
    بدقسمتی سےیہ باتیں درج بالامقالےکےذیل میں کہی جارہی ہیں جس میں مقالہ نگارنےبہت سی غلطیاں کی ہیں جس پرہم بصدمعذرت مختصراًکلام کریں گے.
    اس مضمون کاعنوان,,تفہیم القران کی عصری معنویت,,ہےفاضل مضمون نگارنےنصف سےزائدمضمون تمہید وتعارف میں صرف کردیالیکن,,عصری معنویت,,کی تشریح نہیں کی جبکہ اس بات کی ضرورت تھی کہ ابتداہی میں عصری معنویت کی تشریح ہوجائےاورقاری اس کےمفہوم سے آشنا ہوجائے.
    عصری معنویت کیا ہے؟
    عصری معنویت سےمرادیہ ہےکہ مفسردینی واعتقادی مباحث پیش کرتےوقت ایسااسلوب اختیارکرےکہ عام ناظراس کتاب کوپڑھتےہوئےقران کامفہوم ومدعاباالکل صاف صاف سمجھتاچلاجائےاوروہ اپنےدورکی زبان اورفکرمیں قران کےپیغام کوپاسکے.اس طرح دوران مطالعہ جہاں جہاں اسےالجھنیں پیش آسکتی ہوں وہ صاف کردی جائیں.پھرجہاں کچھ سوالات اس کےذہن میں پیداہوں اس کابروقت جواب مل جائے.یہ ہے عصری معنویت…
    فاضل مضمون نگارایک جگہ ارشادفرماتےہیں کہ:(سیدمودودی)نےایسی شاہکارتحریریں چھوڑیں ہیں جوطویل عرصےتک زندہ وجاویدرہیں گی.
    اس مختصرجملےمیں مقالہ نگارنےکتنی فاش غلطی کی ہےجواس پورے مضمون کےشایان شان نہیں ہے.پہلی بات یہ کہ زندہ وجاویدنہیں زندہ جاویدہےجس کامطلب,حیات جاودانی یاامرہوجانے کے ہیں,طرفہ تماشہ یہ کہ,,طویل عرصےتک زندہ جاویدرہیں گی,,
    ایک جگہ ارشادفرماتے ہیں کہ:مولانامودودی علیہ الرحمہ نےتفہیم القران کو1962میں لکھناشروع کیا.
    جبکہ حقیقت یہ ہےکہ تفہیم القران کی ابتدافروری 1932میں ہوئی تھی.
    ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مولانامودودی نے1985 میں تفہیم القران کے سلسلے میں اپنےرفیق کے ساتھ مشرق وسطی کاسفر کیا…..
    یاللعجب!سیدی کا انتقال 1979 میں ہوجاتاہےتو1985 میں کس نے سفرکیا؟
    واقعہ یہ ہے کہ مولانامودودی رحمہ اللہ نےتفہیم القران کے سلسلے میں اسلامی آثاروتاریخی مقامات دیکھنےکےلیے1959 میں ارض القران کاطویل سفرکیاتھا.
    تفہیم القران کی نثری خوبیاں بیان کرتے ہوئے فاضل مضمون نگار نےامریکہ کےپروفیسرکی انگریزی تحریرکاحوالہ دیا ہے,حیرانی اس بات پرہےکہ اردوزبان کےصف اول کےادباوشعرانےتفہیم القران کی کوثروتسنیم سے دھلی ہوئی اردوئے مبین کی تعریف وتوصیف میں زمین وآسمان ایک کردیےہیں ان کی آرا کوپیش کرنےکی بجائےفاضل مقالہ نگارنےامریکی پرفیسرکی انگریزی تحریرکاحوالہ دیاہے.
    لفظ تفسیرمؤنث ہےاسے مذکراستعمال کیا گیا ہے.
    بہرکیف طول کلام سے بچتےہوئےاتناعرض کردیناضروری سمجھتاہوں کہ عظیم ہستیوں پرلکھتےوقت احتیاط کادامن نہیں چھوڑناچاہیے.

متعلقہ

Close