فقہمذہب

تین مہینے کا مردہ بچہ بذریعہ آپریشن اسقاط

مقبو ل احمد سلفی

جامعہ ہمدرد سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی کا پوچھنا ہے کہ  اگر تین مہینے کابچہ خراب ہو جائے اورابارشن(abortion) کروا دیا جائے تو کیا وہ جنت میں باقی نا بالغ بچوں کی طرح رہیگا اور اپنے والدین کے لئے شفارش کا باعث بنے گا ؟ مندرجہ ذیل سطور میں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے نیز اس سے ملحق مزید چند مسائل واضح کئے گئے ہیں ۔

اس مسئلہ میں سب سے پہلی بات یہ جان لینی ہے کہ مصیبت تقدیر کا حصہ ہے ، جو لکھ دی گئی ہے وہ آکر رہے گی۔ ماں کے پیٹ میں بچے کا مر جانا بھی اللہ کی طرف سے مقدر ہے ، اس پر آدمی کو صبر سے کام لینا چاہئے ۔ آج سائنس اس قدر ترقی کرگیا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے پتہ لگالیا جاتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ کس کیفیت میں ہے جو کہ کچھ سالوں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی۔ اسلام ہمیں جدید طبی سہولیات سے  منع نہیں کرتا اگر شرعا کوئی قباحت نہ ہوتو ۔جب کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ تین ماہ کا ماں کے پیٹ میں مر گیا ہے تو آپریشن کے ذریعہ اس بچے کو نکال لینا چاہئے ۔ اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں بلکہ ماں کی صحت کے ضروری ہے ورنہ مردہ بچے کا زہر اندر پھیل کر عورت  کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ مومن کو کوئی غم لاحق ہوتا ہے ، کوئی پریشانی درپیش ہوتی ہے اور اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے اس کو اجر ملتا ہے ۔ نبی ﷺکا فرمان ہے :

ما مِن مصيبةٍ تصيبُ المسلِمَ إلَّا كفَّرَ اللَّهُ بِها عنهُ ، حتَّى الشَّوكةِ يُشاكُها(صحيح البخاري:5640)

ترجمہ: جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کردیتا ہے ( کسی مسلمان کے ) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے ۔

نیز نبی ﷺ کا فرمان ہے :

ما يُصيبُ المُسلِمَ، مِن نَصَبٍ ولا وَصَبٍ، ولا هَمٍّ ولا حُزْنٍ ولا أذًى ولا غَمٍّ، حتى الشَّوْكَةِ يُشاكُها، إلا كَفَّرَ اللهُ بِها مِن خَطاياهُ(صحيح البخاري:5641)

ترجمہ: مسلمان جب بھی کسی پریشانی ، بیماری ، رنج وملال ، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ جب کوئی بچہ  بلوغت سے پہلے  مرجاتا ہے تو وہ جنت میں جاتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش فطرت اسلام پہ ہوتی ہے اور وہ اسی فطرت پہ مرجاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ في الجنَّةِ والشَّهيدُ في الجنَّةِ والمولودُ في الجنَّةِ والوئيدُ في الجنَّةِ( صحيح أبي داود: 2521)

ترجمہ: نبی جنت میں ہوں گے ، شہید جنت میں جائے گا ، چھوٹا بچہ جنت میں جائے گا اور زندہ دفن کیا گیا بچہ جنت میں جائے گا ۔

اس بچہ کی وفات پہ جب والدین صبر کرتے ہیں تو جنت میں اس کے لئے بیت الحمد کے نام سے ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إذا ماتَ ولَدُ العبدِ قالَ اللَّهُ لملائِكتِهِ قبضتم ولدَ عبدي فيقولونَ نعم فيقولُ قبضتُم ثمرةَ فؤادِهِ فيقولونَ نعم فيقولُ ماذا قالَ عبدي فيقولونَ حمِدَكَ واسترجعَ فيقولُ اللَّهُ ابنوا لعبدي بيتًا في الجنَّةِ وسمُّوهُ بيتَ الحمْدِ(صحيح الترمذي: 1021)

ترجمہ: جب کسی بندے کا بچہ فوت ہوجاتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتاہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟تووہ کہتے ہیں : ہاں ، پھر فرماتاہے: تم نے اس کے دل کاپھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں : ہاں ۔ تواللہ تعالیٰ پوچھتاہے: میرے بندے نے کیاکہا؟ وہ کہتے ہیں :اس نے تیری حمد بیان کی اور’إنا لله وإنا إليه راجعون ‘ پڑھاتو اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کانام بیت الحمد رکھّو۔

چوتھی بات اس بچے سے متعلق ہے جو یا تو ماں کے پیٹ میں پیدائش سے پہلے مرجاتا ہے اور اسے آپریشن کے ذریعہ نکالا جاتا ہے یا ازخود کسی سبب سے قبل از ولادت  گر جاتا ہے ۔اس کے متعدد احکام ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

٭جو بچہ از خود گر جائے یا پیٹ میں مرجانے کے سبب اس کا اسقاط کیا جائے ایسے بچے کی عمر چار ماہ یا اس سے زیادہ ہوتو وہ بچہ انسان  کی حیثیت رکھتا ہےکیونکہ اس میں روح پھونکی جاچکی ہے اور وہ قیامت میں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

٭ چار ماہ یا اس سے زائد عمر کے بچے (جس کے اعضاء بدن ظاہر ہوگئے ہوں ) سقط ہوجانے یا شرعی عذر کے تحت اسقاط کیا گیاہوایسے بچے جنت میں جائیں گے اور اپنے والدین کے لئے شفارش کا سبب بنیں گے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔

والَّذي نفسي بيدِه إنَّ السِّقطَ ليَجرُّ أمَّهُ بسَرَرِه إلى الجنَّةِ إذا احتَسبَتهُ(صحيح ابن ماجه:1315)

ترجمہ: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! ناتمام بچہ اپنی ماں کو آنول کے ذریعے سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا جب کہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔

٭ چار ماہ یا اس سے زائد عمر کے بچے  کی میت کو غسل دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔

٭ علمائے طب کی روشنی میں تقریبا ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ پہ بچے کے اعضاء ماں کے پیٹ میں بن جاتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے ایسے بچے سقط کے حکم میں ہیں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

والسِّقطُ يصلَّى علَيهِ ، ويُدعى لوالديهِ بالمغفِرةِ والرَّحمةِ(صحيح أبي داود:3180)

ترجمہ : ساقط شدہ (یعنی نامکمل حمل گر جانے والے بچے)كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور اس كے والدين كے ليے مغفرت و رحمت كى دعا كى جائيگى ۔

جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور  نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ، اس کی دلیل مندرجہ ذیل روایت ہے ۔

‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ(سنن الترمذی و ابن ماجہ)

ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بچہ (پیدائش کے وقت) زندگی کے آثار پائے جائیں ،تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا۔

٭ اس حدیث کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔

اس حدیث سے اس طرح استدلال کیا جاتا ہے چونکہ  چار ماہ سے قبل بچے میں روح ہی نہیں ہوتی تو پھر زندگی کے آثار کہاں سے پائے جائیں گے ، اس لئے چار ماہ سے پہلے گرنے والے بچے کی نماز جنازہ نہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہواکہ تین ماہ کا جو بچہ پیٹ میں خراب ہونے کی وجہ سے ابارشن کے ذریعہ نکالا گیا اس کے جنت میں جانے کی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی والدین کی شفارش کی دلیل ہےگویا اس پر انسان کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جنت میں جانے کی دلیل چار ماہ یا اس سے زائد عمر کے لئے ہے ، یہی بچے جب ساقط ہوجائیں تو والدین کی شفارش بھی کریں گے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close