فقہمذہب

جنازہ کے اہم مسائل واحکام (نویں قسط)

مقبول احمد سلفی

میت کے لئے ایصال ثواب کے مشروع طریقے :

قاعدہ یہی ہے کہ ہے میت کو اصلا اپنے ہی عمل کا ثواب ملتا ہے جیساکہ چند بنیادی اصول کے تحت ہم نے دلائل سے اندازہ لگایا ہے اور پھر مسلم شریف کی حدیث سے معلوم ہوا کہ میت نے خود اپنی زندگی میں صدقہ جاریہ، نفع بخش علمی کام کیا ہو یا صالح اولاد چھوڑی ہو جو دعا کرے تو میت کو ان تین کاموں کا اجر قبر میں ملتا ہے۔ یہ تینوں کام خود میت نے کئے ہیں تو ان کا اجر باقی رہتا ہے۔

شریعت میں ایسے بھی بعض کام ہیں جن کو میت نے خود نہیں کیا ہے، کوئی دوسرا میت کی جانب سے انجام دے گا اور ان کا اجر میت کو قبر میں پہنچے گا۔ وہ چند کام ہیں جنہیں ہم ایصال ثواب کے مشروع طریقے کہہ کہتے ہیں۔

 میت کے قرض کی ادائیگی :

قرض کا معاملہ بہت ہی سنگین ہے، اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے جس کے ذمہ قرض باقی رہ گیا قیامت میں اس کی نیکی بقدربدلہ قرض خواہ کو دیدی جائے گی۔ بخاری میں ہےجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پوچھتے کہ کیا یہ شخص اپنا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ مال چھوڑ کر مرا ہے؟ اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ شخص اتنا مال چھوڑ کر مرا ہے جس سے اس کا قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جناہ پڑھ لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ کچھ بھی چھوڑ کر نہیں مرا ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ خود نہ پڑھتے بلکہ مسلمانوں سے فرماتے : ( صلُّوا على صاحبكم) تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔(صحيح البخاري:2298)

نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:

نفسُ المؤمنِ معلَّقةٌ بِدَينِه حتَّى يُقضَى عنهُ(صحيح الترمذي:1078)

ترجمہ: مؤمن کی روح اپنے قرض کی وجہ سے اس وقت تک معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ ہو جائے۔

اس لئے وفات کے بعد ممکن ہوتو دفن سے پہلے ہی ورنہ تدفین کے فورا بعد میت کے ترکہ میں سے اس کے قرض کی ادائیگی کرے۔ اگر میت نے ترکہ نہیں چھوڑا ہے تو کوئی دوسرا بھی میت کا قرض ادا کرسکتا ہے۔ اس سے میت کا قرض ادا ہوجائے گا۔ اس کی دلیل مستدرک حاکم(2346) میں جابر بن عبداللہ سے مروی روایت ہے ایک شخص کے ذمہ دو دینار تھااس کا انتقال ہوگیا، اس نے ترکہ بھی نہیں چھوڑا، یہ بات آپ کو معلوم ہوئی تو آپ نے کہا اپنے بھائی کا جنازہ پڑھ لوپھر ابوقتادہ نے اس کی ذمہ داری لی تو آپ نے جنازہ پڑھا یا، آپ نے فرمایا: (هما عليكَ، وفي مالِكَ، والميِّتُ منهُما برئ)وہ دونوں تمہارے ذمہ اور تمہارے مال میں ہیں اور میت ان سے بری ہے؟۔ اگلے دن آپ نے اس صحابی سے پوچھا دو دینار کا کیا ہواکہا کہ ادا کردیاتو آپ نے فرمایا: (الآنَ حينَ برَّدتَ علَيهِ جلدَهُ)اب اسے سکون ملا۔

٭ موحد مسلمان کی جنازے میں شرکت اور سفارش کرنا :

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

ما من رجلٍ مسلمٍ يموتُ فيقوم على جنازتِه أربعون رجلًا، لا يشركون بالله شيئًا إلا شفَّعهم اللهُ فيه(صحيح مسلم:948)

ترجمہ:جو بھی مسلمان فوت ہو جا تا ہے اور اس کے جنا زے پر (ایسے )چالیس آدمی (نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہو جا تے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہر اتے تو اللہ تعا لیٰ اس کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول فر لیتا ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے

ما من ميِّتٍ تُصلِّي عليه أمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائةً . كلُّهم يشفعون له . إلَّا شُفِّعوا فيه(صحيح مسلم:947)

ترجمہ:کو ئی بھی (مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے۔

ان دونوں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس میت کے جنازہ میں کثیر تعداد شامل ہو اور وہ سب موحد ہوں یعنی شرک کرنے والے مسلمان نہ ہوں اور وہ موحد مسلمان میت کے لئے سفارش کریں تو اللہ ان موحدین کی سفارش قبول کرتا ہے۔

٭ میت کے لئے دعاواستغفار:

میت کے لئے ہمہ وقت دعا کرنا مشروع ہے، نبی ﷺ نے وفات ہونے پر گھروالوں کو، میت کی خبر پانے پر، نماز جنازہ میں، دفن کرنے کے بعد، قبرستان کی زیارت کرتے وقت صرف دعا کی تعلیم دی ہے۔ میت کے حق میں دعا مفید اور اجر کے باعث ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ(الحشر: ١٠)

ترجمہ: ور جو لوگ ان کے بعد آئے وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی مغفرت فرما جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:

إذا صلَّيتُم على الميِّتِ فأخلِصوا لَه الدُّعاءَ(صحيح أبي داود:3199)

ترجمہ: جب تم میت کی نماز( جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔

تدفین کے فورا بعد نبی ﷺ کا فرمان ہے:

استغفِروا لأخيكُم، وسَلوا لَهُ التَّثبيتَ، فإنَّهُ الآنَ يُسأَلُ(صحيح أبي داود:3221)

ترجمہ:تم لوگ اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعا کرو اور اس کے لئے ثبات قدمی مانگو کیونکہ اس وقت اس سے سوال کیا جارہا ہے۔

نبی ﷺ کا عمومی فرمان ہے :

دعوةُ المسلمِ لأخيه، بظهرِ الغيبِ، مُستجابةٌ . عند رأسِه ملَكٌ مُوكَّلٌ . كلما دعا لأخيه بخيرٍ، قال الملَكُ الموكلُ به : آمين . ولكَ بمِثل ” .(صحيح مسلم:2733)

ترجمہ: مسلمان کی اس کے بھائی کے لئے اس کے پیٹھ پیچھے کی دعا قبول کی جاتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو جب جب یہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعا کرتا ہے تو کہتا ہے آمین اور تیرے لئے بھی اسی کے مثل ہو۔

ان کے علاوہ بے شمار دلائل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے میت کو دعاواستغفار کا فائدہ ہوتا ہے، سلف وخلف نے  اس پر بلاتردد کثرت سے عمل کیا ہے اس لئے ہمیں کثرت کے ساتھ میت کے حق میں دعائے استغفار کرنا چاہئے۔

میت کی جانب سے صدقہ وخیرات :

میت کی جانب سے مالی صدقہ کرنا اجر کا باعث ہے۔ میت کے مال سے ہو یا اپنے مال سے، صدقہ اولاد کرے یا کوئی اور میت کو صدقہ کا ثواب پہنچتا ہے اس بات پر متعدد علماء نے اجماع اور اتفاق نقل کیا ہے۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔ سعد بن عبادہ سے روایت ہے وہ پوچھتے ہیں:

يا رسولَ اللهِ ! إنَّ أمي ماتت، أفأتصدقُ عنها ؟ قال : نعم . قلتُ : فأيُّ الصدقةِ أفضلُ ؟ قال : سقْيُ الماءِ(صحيح النسائي؛3666)

ترجمہ: یا رسول اللہ! میری والدہ وفات پاگئیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو وہ انہيں فائدہ دے گا؟ فرمایا: ہاں، میں نے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے تو آپ نے فرمایاپانی پلانا۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے:

أنَّ رجلًا قال : يا رسولَ اللهِ ! إنَّ أُمَّهُ تُوفيت، أفينفعُها إن تصدقتُ عنها ؟ قال : نعم، قال : فإنَّ لي مخرفًا، فأُشهدُك أني قد تصدقتُ به عنها(صحيح النسائي:3657)

ترجمہ: ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول!میری والدہ فوت ہو گئی ہے – اگر میں اس کی جانب سے صدقہ کردوں تو کیا اسے فائدہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا:ہاں-اس آدمی نے کہا :میرے پاس ایک باغ ہے -میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کی طرف سے صدقہ کر دیا ہے۔

میت کی طرف سے مالی طور پر کوئی بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے مثلا مسکینوں کو کھانا کھلانا، قرآن خرید کر ہدیہ کرنا، دینی کاموں میں صدقہ دینا، مساجد ومدارس کی تعمیر کرنا، مسافرخانہ، نہر، کنواں، سڑک وغیرہ بنانا۔

میت کی جانب سے سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے اس بابت اوپر حدیث گزری ہے۔

میت کے نام سے حج وعمرہ:

مشروع ایصال ثواب میں میت کی جانب سے حج وعمرہ کرنا بھی شامل ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

أنَّ امرأةً من جُهينةَ، جاءت إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقالت : إن أمي نذرت أن تحجَّ، فلم تحج حتى ماتت، أفأحجُّ عنها ؟ قال : نعم، حجي عنها، أرأيتِ لو كان على أمكِ دينٌ أكنتِ قاضيتِة ؟ . اقضوا اللهَ، فاللهُ أحقُّ بالوفاءِ .(صحيح البخاري:1852)

ترجمہ: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی۔ مگر اسے حج کیے بغیر موت آگئی ہے۔ آیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ نے فرمایا::ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ مجھے بتاؤ اگر تمھاری ماں کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔

میت کی طرف سے حج کی طرح عمرہ بھی کرسکتے ہیں اور میت کے اوپر حج فرض تھا، وہ بغیر حج کئےوفات پاگیا اور اس نے مال بھی چھوڑا تب تو اس کے وارث پر واجب ہے کہ اس کی جانب سے حج کرے خواہ وصیت کی ہو یا نہ کی ہولیکن اگر مال نہیں چھوڑا تو واجب نہیں ہے تاہم وارث کے لئے اپنے مال سے حج بدل کرنے کا استحباب باقی رہتا ہے۔اسی طرح غیرمستطیع (مرجائے)میت کی جانب سے بھی حج وعمر کرنا جائزہے۔حج وعمرہ بدل کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ پہلے وہ اپنا حج وعمرہ کر چکا ہو۔ ایک ساتھ اپنی اور میت کی نیت نہیں کرسکتا۔ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے حج وعمرہ بدل کرسکتے ہیں۔

 نذر،کفارات  اورچھوٹے روزے کی قضا:

میت کے ذمہ رمضان کے چھوٹے روزے، کفارات کے روزے اور نذر کے روزے باقی ہوں تو اس کے وارثین کے ذمہ ہے کہ وہ ان کی قضا کرے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)

ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔

میت کی طرف سے چھوٹے ہوئے روزوں کے متعلق تفاصیل ہیں جنہیں میں نے الگ مضمون میں ذکر کیا اس کا مطالعہ کرنے کے لئے میرے بلاگ کی زیارت کریں۔

 وصیت کئے گئے نیکی کے کاموں کا نفاذ:

وصیت دوچیزوں سے متعلق ہوتی ہے، ایک مال سے متعلق اور دوسری اعمال سے متعلق۔

مال سے متعلق ایک وصیت تو یہ ہے کہ آدمی کے اوپر لوگوں کے حقوق ہوں اس کی وصیت کرے مثلاقرض، امانت وغیرہ۔ مال سے متعلق دوسری وصیت عام ہے وہ کسی غیر وارث کو دینے کے لئےتہائی مال یا اس سے کم کی وصیت کرنا ہےمثلا بیٹے کی موجودگی میں بھائی کوکچھ مال کی وصیت کرنا۔

اعمال سے متعلق ایک وصیت مال کے ساتھ معلق ہے یعنی وصیت کرنے والا اپنی وفات کے بعد اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی وصیت کرجائے مثلا مسجد بنانے، یتیم خانہ تعمیر کرنے، جہاد میں پیسہ لگانے، غیر متعین مسکین وفقراء میں متعین مال تقسیم کرنے کی وصیت کرنا۔ اعمال سے متعلق ایک دوسری وصیت بغیر مال کے ہے، وہ اس طرح کہ وصیت کرنے والا اپنی اولاد،اعزاء واقرباء کو نمازکی وصیت، تقوی کی وصیت، شرک سے بچنے کی وصیت اور دیگر اعمال صالحہ کی وصیت کرے اور یہ عظیم وصیت ہے۔

لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان:13)

ترجمہ: اور جب کہ لقمان نے وعظ کرتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بےشک شرک بھاری ظلم ہے۔

میت کے وارثین کو چاہئے کہ میت نے جن چیزوں کی وصیت کی ہے اگر ان میں کوئی شرعی مخالفت نہیں ہے تو اسے نافذ کرے۔

حضرت ثرید بن سوید ثقفی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:

أتيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ، فقلتُ : إنَّ أمي أوصتْ أن تُعتقَ عنها رقبةٌ، وإنَّ عندي جاريةً نوبيَّةً، أفيُجزئُ عني أن أعْتِقَها عنها ؟ قال : ائْتِني بها . فأتيتُه بها، فقال لها النبيُّ : من ربك . قالت : اللهُ ! قال : من أنا . قالت : أنت رسولُ اللهِ ! قال : فأعتِقْها فإنها مؤمنةٌ(صحيح النسائي3655)

ترجمہ: میں رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میںحاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ نے (وفات کے وقت) وصیت کی تھی کہ میری طرف سے ایک غلام آزاد کیا جائے۔ میرے پاس ایک حبشی لونڈی ہے۔ اگر میں اسے آزاد کرادوں تو کیا میری ذمہ داری ادا ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آ۔‘‘ میں لے کر آیا نبیﷺ نے اسے فرمایا: تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا:میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد کردے۔ یہ مومن ہے۔

ایصال ثواب کے ان مشروع طریقوں کے علاوہ میت کی طرف سے اور کوئی عمل انجام نہیں دینا چاہئے۔ سب سے بہتر ہے کثرت سےاس کے حق میں دعا کرے اور جس قدر صدقہ کرسکتا ہے صدقہ کرے۔ میت کی جانب سے قربانی اور عقیقہ کا بھی ثبوت نہیں ہے اس لئے ان دو کاموں اور پہلے بیان کردہ ایصال ثواب کے ناجائز طریقے سے بچے۔ دین میں نئی ایجاد بدعت کہلاتی ہے اور ہر بدعت گمراہی کا نام ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close