فقہمذہب

جنازہ کے اہم مسائل و احکام (آٹھویں قسط)

مقبول احمد سلفی

میت کے لئے ایصال ثواب کے جائز طریقے:

انسان کی دنیاوی زندگی محدود ہے، ہرکوئی اپنی حد زندگی تک پہنچ کر دم توڑ دیتا ہے۔ انسان کی انتہاء موت ہے۔ موت کے بعد انسان دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے، وہ اب کوئی دنیاوی عمل انجام دینے سے قاضر ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی حس وحرکت نظام الہی کے تحت بند ہوجاتی ہے۔ موت کے سبب اعمال کے منقطع ہونے کی دلیل آگے گزرچکی ہے۔ یہ مشاہدہ بھی ہے کہ میت کے تمام اعمال بند ہوجاتے ہیں اسی لئے اس کے رشتہ دار اسے نہلاتے ہیں، کفن دیتے ہیں، اپنے کندھوں پراٹھاکر قبرستان لے جاتے ہیں وہاں قبر کھود کر دفن کردیتے ہیں۔ یہ مشاہدہ بھی بتلاتا ہے اگر میت میں عمل کرنے کی صلاحیت ہوتی تو ان کاموں کے لئے وہ دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا اور اسے مٹی کے نیچے دفن نہیں کرتے جہاں سانس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ تو وہ جگہ جہاں زندوں کو دفن کیا جائے دم گھٹ جائے گا۔ آپ نے دورجاہلیت میں زندہ درگور ہونے والی لڑکیوں کے واقعات پڑھے ہوں گے، درگور ہونے والی لڑکیا ں قبروں سے واپس نہیں لوٹتیں کیونکہ قبر میں دفن کرنے سے جان نکل جاتی تھی۔

اس عنوان کے تحت اتنی تمہید باندھنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں میت کے ایصال ثواب کے تعلق سے بہت سارے خرافات پائے جاتے ہیں۔ وفات کے بعد تیجا، فاتحہ،قرآن خوانی، نذرونیاز،ساتواں، دسواں، تیسرہواں، چالیسواں، برسی اور عرس وغیرہ بدعتی کام کئے جاتے ہیں یہ سب میت کے نام سے، اس کی محبت و عقیدت میں  اور اس کو فائدہ پہنچانے کے واسطے انجام دئے جاتے ہیں جبکہ دین محمدی میں ان کاموں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے دنیا میں آنے والے کو جو مہلت دی وہی اس کے لئے عمل کرنے کا محدود وقت تھا جس کی بنیاد پر قیامت میں اللہ تعالی فیصلہ کرے گا۔ جب انسان کی دنیاوی مہلت ختم ہوگئی، اس کی موت واقع ہوگئی اب نہ وہ کوئی کام کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا کے کسی بندے کا عمل اسے فائدہ پہنچائے گا۔ اللہ تعالی نے قرآن میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنے فرامین میں اس بات کو کئی پیرائے میں بیان کیا ہے۔

 اس سلسلے میں چند دلائل کا مطالعہ کرتے ہیں اور میت کے ایصال ثواب کے واسطے پہلے اسلام کے چند بنیادی اصول دیکھتے ہیں پھر ان بعض مشروع طریقوں کو بیان کیا جائےگا جن کے ذریعہ میت کے لئے ایصال ثواب کرسکتے ہیں۔

(1) میت کوئی عمل نہیں کر سکتا ہے: اس کی دلیل اوپر گزری مسلم شریف کی حدیث ہے کہ جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں۔

(2) میت بول بھی نہیں سکتاہے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :

أَنَّ رجلًا قال للنبيِّ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أمِّي افْتُلِتَتْ نفسُها، وأظنُّها لو تكلمَتْ تَصدَّقَتْ، فهل لها أجرٌ إِنْ تَصدَّقَتْ عنها ؟ قال : نعم .(صحيح البخاري:1388)

ترجمہ: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔

(3) کوئی میت کو اس کی قبر میں سنا بھی نہیں سکتا ہے : اللہ کا فرمان ہے :

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ (النمل:80)

ترجمہ: بے شک آپ نہ مردوں کو سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے جبکہ وہ پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں۔

(4)آخرت میں  کوئی بیٹا بھی اپنے باپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتاہےچہ جائیکہ غیر ہو: اللہ کا فرمان ہے :

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ (لقمان :33)

ترجمہ: لوگو !اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا ( یاد رکھو ) اللہ کا وعدہ سچا ہے ( دیکھو ) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز ( شیطان ) تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔

(5) ہرکوئی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے: اللہ کا کلام ہے: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ(فاطر:18)

ترجمہ: کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

(6) جتنا جس کے پاس عمل ہوگا اتنا  ہی بدلہ پائے گا۔ اللہ کا فرمان ہے:

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (النجم:39)

ترجمہ: انسان کو صرف اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے۔

(7) جس کے پاس عمل کی کمی ہوگی اور مجرم قرار پائے گا، آخرت میں  کوئی مددگار نہ پائے گا تو اللہ سے دوبارہ عمل کرنے کے لئے دنیا میں آنے کی درخواست کرے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:

وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (السجدۃ:12)

ترجمہ: کاش کہ آپ دیکھتے جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں۔

(8) آخر کار قیامت میں انسان کو خود انہی کا عمل فائدہ پہنچائے گا، نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد کام آئے گی۔ اللہ کا فرمان ہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (الشعراء :88)

ترجمہ: جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close