فقہمذہب

جنازہ کے چالیس اہم مسائل(تیسری قسط)

مقبول احمد سلفی

(31) تدفین کے آداب ومسائل:

٭ہرمسلمان کی لاش کو دفن کیا جائے گا حتی کہ کافر کی بھی لاش ملے تو اسے دفن کرنا چاہئے مگر کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔

٭ میت کو قبر میں مرد ہی اتارے گا عورت نہیں ، ہاں عورت کی لاش ہو تو بہتر ہے اسےقبر میں اس کا محرم اتارے اور محرم نہیں تو معمر آدمی اتارے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

شَهِدْنَا بِنْتًا لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ، قال : ورسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ جالسٌ على القبرِ، قال : فرأيتُ عيناهُ تدمعانِ، قال : فقال : هل منكم رجلٌ لم يُقَارِفِ الليلةَ . فقال أبو طلحةَ : أنا، قال : فانْزِلْ . قال : فنزَلَ في قَبْرِهَا .( صحيح البخاري:1285)

ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ آپ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔

٭ قبر میں اتارنے کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو پیر کی جانب سے اتارے اور اتارتے وقت کہے ” بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم”۔

٭ قبرمیں اتارکر میت کو دائیں پہلو پر لٹاکر اس کا چہرہ قبلہ رخ کردیا جائے اور بند کھول دئے جائیں مگر چہرہ نہ کھولا جائے۔

٭ اب گڑھا بند کرنے کے لئے پہلے کچی اینٹیں ، لکڑی، بانس، تخت وغیرہ کا استعمال کیا جائے تاکہ اس کے اوپر سے جب قبر پرمٹی ڈالی جائے تووہ قبر کے اندر نہ گرے۔

٭ پھر جنازے میں شریک لوگ اپنی لپوں سے دوتین لپیں مٹی قبر پر ڈال دیں اور آخر میں گورکن قبر کو زمین کے برابر یا ایک بالشت کے قریب کوہان نما اونچا کرے اور اس پر پانی جھڑک دے۔

٭مٹی دیتے وقت "مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى” پڑهنا حدیث سے ثابت نہیں ہے، ایک حدیث اس قبیل سے آئی ہے مگر اسے البانی صاحب نے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔

لمَّا وُضِعت أمُّ كلثومٍ بنتُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ في القبرِ قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ : مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى(أحكام الجنائز:194)

ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم قبرمیں اتاری گئیں تو آپ نے یہ آیت پڑھی: مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى”(ہم نے اسی مٹی سے تم کو پیدا کیا، اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے)۔

٭ میت کو فائدہ پہنچانے کے لئے قبر میں کچھ رکھنا بدعت ہے خواہ تعویذ، چادر، پیر و مرشد کا کپڑا وغیرہ اسی طرح قبر کے اوپر ثواب کی نیت سے پھول مالا، ٹہنی رکھنا بھی بدعت ہے۔ نیز قبروں کو ایک ہاتھ سے زیادہ اونچا کرنا، اس پر چراغاں کرنا، چونا گاڑھا کرنا، پختہ کروانا، کتبے لگانا جائز نہیں ہے البتہ پتھر سے نشان رد کرسکتے ہیں ۔

(32)دفن کے بعد قبر پر پانی جھڑکنا:

میت کی تدفین کے بعد قبر پر پانی ڈالنا مستحب ہے، اس سلسلے میں متعدد احادیث ملتی ہیں ۔ نبی ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ کی قبر پر پانی ڈالا، اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر بھی پانی چھڑکا۔ اسی طرح عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہا کی قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم دیا۔ بلال بن رباح نے نبی ﷺ کی قبر پہ پانی چھڑکا تھا۔ اس قسم کی روایات ملتی ہیں ۔ ان ساری روایتوں کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا تھا، بعد میں ایک صحیح روایت ملی توشیخ نے کہا:

في رش القبر أحاديث كثيرة، ولكنها معلولة – كما بينت ذلك في "الإرواء” (3/205 – 206) . ثم وجدت في "أوسط الطبراني” حديثاً بإسناد قوي في رشه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لقبر ابنه إبراهيم، فخرجته في "الصحيحة” (3045) ” انتهى من ” سلسلة الأحاديث الضعيفة ” (13/994) .

ترجمہ: قبر پر پانی چھڑکنے سے متعلق بہت احادیث ملتی ہیں مگر کوئی بھی علت سے خالی نہیں جیساکہ میں نے ارواء الغلیل میں بیان کیا ہے۔ پھر میں نے طبرانی اوسط میں ایک حدیث پائی جو قوی سند سے ہے، وہ ہے نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا تھا۔ تو میں نے اس حدیث کی تخریج سلسلہ صحیحہ میں کی۔ (حوالہ : سلسلہ ضعیفہ :13/994)

طبرانی اوسط کی روایت یہ ہے :

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم رش على قبر ابنه إبراهيم‏.‏(رواه الطبراني في الأوسط)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا۔

اسے طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ہے۔

اس روایت کے متعلق ہیثمی نے کہا کہ اس کے سارے رجال صحیحین کے ہیں سوائے شیخ طبرانی کے۔

اس لئے یہ کہا جائے گا کہ قبر پر پانی چھڑکنا مستحب و مسنون ہے، اس جانب بہت سے اہل علم بھی گئے ہیں ان میں شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ بھی ہیں ۔

قبر پر پانی چھڑکنے سے متعلق چند باتیں دھیان میں رکھنا ضرروی ہیں ۔

(ا) قبر پر پانی چھڑکنا دفن کے فوراً بعد ہو تاکہ پانی چھڑکنے کے جو فوائد ہیں وہ حاصل ہوسکیں ۔ پانی چھڑکنے کے چند فوائد یہ ہیں ۔

٭ دھول مٹی بیٹھ جائے۔

٭ ہوا کے جھونکھوں سے قبر کی حفاظت ہو۔

٭ میت سے آنے والی بدبو کو روک سکے کیونکہ ہوسکتا ہے کسی درندہ کو یہ محسوس ہو اور وہ میت کو چیرپھاڑ کرے۔

(ب) دفن کے بعد پانی ڈالنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے، نہ ڈالے تو کوئی حرج نہیں ۔

(ج) بعض لوگ ہر زیارت کے وقت قبر پہ پانی ڈالتے ہیں یہ بدعت ہے۔

(د) بعض لوگ پانی کے ساتھ قبر کی لپائی پوتائی کرتے ہیں ، اس پر پھول چڑھاتے ہیں ، اگربتی جلاتے ہیں ، ٹہنیاں گاڑتے ہیں ، یہ سارے ناجائز اعمال ہیں ۔ ان سے بچیں ۔

(ر) کچھ لوگ پانی کے ساتھ قبر پرپرندوں کے لئے دانہ ڈالتے ہیں ، ممکن ہو اس عمل سے میت کو صدقہ کا ثواب پہنچانے کی نیت ہو یہ بھی مردود عمل ہے۔

(ش) بعض لوگ خاص مواقع پر پانی ڈالتے ہیں مثلا عاشوراء،ربیع الاول، رجب اور پندرہویں شعبان وغیرہ پہ ایسا کرتے ہیں سو یہ بھی بدعت ہے کیونکہ پانی ڈالنے کا کوئی وقت متعین نہیں ہے۔

(ص) اگر مٹی دھنس جائے اور لاش نظر آنے یا اس کی اہانت کا اندیشہ ہو تو بعد میں بھی مٹی ڈال کر پانی چھڑکا جاسکتا ہے۔

(ط) بدعتیوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قبر پر پانی چھڑکنے سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے یا اس کو ٹھنڈک ملتی ہے۔ یہ سراسر باطل عقیدہ ہے، اس عقیدہ سے مسلمان توبہ کرے۔

(33) جنازہ اور دفن میں شریک ہونے کا اجر:

جنازہ میں شرکت کا بہت اجر ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے : من صلَّى على جنازةٍ فلَهُ قيراطٌ ومنِ انتظرَ حتَّى يُفرَغَ منْها فلَهُ قيراطانِ قالوا وما القيراطانِ قالَ مِثلُ الجبَلينِ(صحيح ابن ماجه:1259)

ترجمہ: جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جس نے انتظار کیا حتی کہ اس (کے دفن )سے فراغت ہو جائے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔صحابہ نے کہا: دو قیراط کیسے ہوتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو پہاڑوں ‌کے برابر۔

اس حدیث پر علماء نے بحث کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ قیراط کا ثواب صرف اسی کو ہے جو جنازے کی نماز میں شرکت کرے اور اگر تدفین تک باقی رہتا ہے تو دو قیراط کا ثواب ملے گا۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ فقط جنازہ کے ساتھ چلے تو بھی ثواب کا مستحق ہے۔

اگر کوئی آدمی اس وقت قبرستان آیا جب جنازے کی نماز ہوچکی تھی تو وہ تدفین میں شریک ہوسکتا ہے، اسی طرح کوئی آدمی قبرستان کے راستے سے گذر رہا تھا، اور وہاں جنازہ دفناتے ہوئے دیکھا تو اسے بھی چاہئے کہ تدفین میں شریک ہوجائے۔ جہاں تک قیراط کا ثواب ہے تو احادیث کی روشنی میں وہ قیراط کا مستحق نہیں لیکن اپنی نیت کے حساب سے اجر کا مستحق ہے۔

(34) میت کے لئے دعاکے مقامات و آداب :

میت کے حق میں ہمیشہ دعا کرنا مشروع ہے مگر دعا کے لئے اپنی طرف سے کوئی مخصوص وقت یا مخصوص طریقہ متعین کرنا دین میں نئی ایجاد ہے۔ چند اوقات جن میں میت کے لئے دعا کرنا نبی ﷺ سے ثابت ہیں انہیں یہاں بیان کیا جاتا ہے تاکہ لوگ میت کو دعا دینے کے لئے سنت کو لازم پکڑیں اور بدعت سے باز رہیں ۔

اولا : جب کسی کی وفات ہوجائے تو اس کے گھر والے میت کے حق میں خیر و بھلائی اور مغفرت کی دعا کریں کیونکہ وہاں موجود فرشتے اہل خانہ کی خیروبھلائی پہ آمین کہتے ہیں ۔

ثانیا: نماز جنازہ میں میت کے لئے دعاواستغفار کیا جائے اورنبی ﷺ سے اس بابت کئی دعائیں منقول ہیں ۔

ثالثا: دفن کرنے کے بعد لوگ میت کی قبر پر کھڑے ہوں اور اس کی مغفرت اور ثابت قدمی کے لئے دعا کریں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم ديا ہے۔

وفات سے لیکر میت کو قبرستان میں دفن کردینے تک تین مقامات پر میت کے لئے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لئے دعائیں کرنا اور اپنی امت کو تعلیم دینا ثابت ہے۔

وفات سے لیکر دفن تک ان تین مقامات کے علاوہ بھی میت کے لئے جس قدر چاہیں دعا کرسکتے ہیں مگر وقت متعین کرنا مثلا بعض لوگ نماز جنازہ کے فورا بعد دعا کرتے ہیں یا طریقہ متعین کرنا مثلا بعض لوگ میت کے گھروں میں جمع ہوکر اجتماعی دعا کرتے ہیں یہ سب بدعات کی قبیل سے ہیں ۔

میت کے لئے دعا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کی عافیت، بخشش اور بلندی درجات کے لئے قبلہ رخ ہوکر انفرادی طور پراللہ سے دعا کریں ، نہ کہ ہم دعاؤں میں میت کا وسیلہ لگائیں اور ان سے حاجات طلب کریں ۔

جیساکہ اوپر بیان کیا گیا کہ میت کے لئے ہمیشہ دعا کرنا مشروع ہے مگر اپنی جانب سے کوئی وقت یا طریقہ مخصوص کرنا جائز نہیں ہے اور میت کو فائدہ پہنچانے کے لئے دعا کرنے کے افصل اوقات وہی ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں مثلا درمیانی رات، رات کا آخری حصہ، جمعہ کا دن اور سجدہ میں وغیرہ۔

(35) میت کے اقسام و احکام :

اس عنوان کے تحت میت کی جو قسمیں بنتی ہیں ان کے متعلق مختصر حکم بیان کیا جائے گا تاکہ کم ازکم ایک آدمی کو ان سے متعلق اہم بات معلوم ہوجائے۔

مقروض کا جنازہ :میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کے مال سے سب سے پہلے قرض اتارا جائے، اگر قرض کی ادائیگی کے لئے میت کا ترکہ نہیں ہو تو مالداروں میں سے کسی کو قرض کی ادائیگی کا ذمہ لینا چاہئے۔ اگر کسی میت کا قرض ادا کرنے والا کوئی نہ ہو تو بھی اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا۔

بے نمازی کا جنازہ:بے نمازی کے حکم میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اکثر اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ بے نمازی کو نہ غسل دیا جائے، نہ کفن دیا جائے، نہ نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ اگر وہ نماز کی فرضیت کا قائل تھا اور سستی کی وجہ سے اس کی ادائیگی نہیں کرتا تھا تو مسلمان کی طرح اس کو دفن کیا جائے گا لیکن اس کے جنازہ میں صالح افراد شامل نہ ہوں ۔

خود کشی کرنے والے کا حکم: خود کشی کرنے والا اہل علم کے نزدیک کافر نہیں ہے اس لئے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی البتہ صاحب علم وتقوی لوگوں کی نصیحت کے لئے اس جنازہ میں شریک نہ ہوں تو بہتر ہے۔ جب خودکشی کرنے والا کافر نہیں ہے تو اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا اورتعزیت کرنا جائز ہے۔

فاسق وفاجر کا جنازہ: فاسق وفاجر کو بھی مسلمان کی طرح کفن دفن کیا جائے گا۔

اہل شرک و بدعت کا جنازہ :اگر کوئی شرک اکبر اور بدعت مکفرہ کا مرتکب ہو تو اس کی نمازجنازہ نہیں ہے اور اگر ایسے لوگوں کا جنازہ اٹھایا جائے تو اس میں ہماری شرکت بھی جائز نہیں ۔

کافر کا جنازہ: کافر میت پہ انا للہ واناالیہ راجعون اور فی نار جہنم کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اورکافر کی میت پہ اس کی تعزیت(اسلامی احسان و سلوک کے تئیں ) یعنی اس کے اقرباء کو دلاسہ دینا ماسوا استغفار کے جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔

آپ ﷺ ابوطالب کی موت پہ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی تدفین میں جبکہ ابوطالب نے قدم قدم پہ آپ کی مدد کی تھی۔

ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے کفار سے موالات کو منع فرمایاہے اور کافر کی میت میں شرکت موالات میں سے ہے، اس میں کافر کا احترام اور اس سے محبت کا اظہار ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا، یہ تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ حق ہے، اسے کافروں کو کیسے دیا جاسکتاہے۔

جنبی، حائضہ اور نفساء کا حکم:وہ ناپاکی (حیض ونفاس) جو اللہ کی طرف سے فرض ہے اس میں وفات پانا حیرت یا گناہ کاباعث نہیں ہے، مومن معنوی اعتبار سے ہمیشہ پاک ہی رہتا ہے۔ جنابت سے بھی مومن حقیقی طور پر پاک ہی رہتا ہے۔ ایسے قسم کے میتوں کو اسی طرح وضو اور غسل دیا جائے گا جیسا کہ ایک عام میت کو غسل دیا جاتا ہے یعنی زائد غسل دینے کی ضرورت نہیں ۔

خواجہ سرا کا جنازہ : اگر مخنث مسلمان ہے تو اسے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔خواجہ سرا کی تین قسمیں ہیں ۔

پہلی قسم : جس میں لڑکی کے آثار ہوں اس پہ لڑکی کا حکم لگے گا اور عورت اسے غسل دے گی۔

دوسری قسم : جس میں لڑکے کے آثار ہوں اسے مرد غسل دے گا۔

تیسری قسم : مخنث مشکل کی ہے، اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر اس کے محارم ہوں تو اسے غسل دیدے ورنہ کپڑا سمیت کوئی دوسرا غسل دے سکتا ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ تیمم کرادے۔ اور دفن کا طریقہ بھی مسلمان مرد و عورت کی طرح ہے۔

جو فطری طور پر مخنث ہوں ان پر کوئی گناہ نہیں ، مگر جو ہجڑا بن جاتے ہیں وہ ملعون ہیں انہیں توبہ کرنا چاہئے۔

دوران حج فوت ہونے والا: دوران حج وفات پانے والے کو بیری، پانی اور غیرخوشبو والے صابون سے غسل دیا جائے گااور احرام کے کپڑے میں ہی کفن دیا جائے گا۔ نہ اس کا بال کاٹاجائے گا، نہ اس کا ناخن کاٹا جائے گا اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے گی۔ محرم کی طرح اس کا سر بھی کھلارہے گا اور کھلے سر، ایک چادر، ایک ازارمیں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ حاجی ہے، قیامت میں اسی حالت میں تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ ہاں اگر مرنے والی عورت ہو تو اس کا سر وچہرہ سمیت مکمل بدن ڈھانپا جائے گا۔ (اس پہ مفصل ومدلل احکام جاننے کے لئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں )۔

شہید کا جنازہ:شیخ صالح فوزان شہید کے جنازہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ شہید کو دوسرے میت کے مقابلے میں خصوصیت حاصل ہے وہ خصوصیت یہ ہے کہ انہیں نہ تو غسل دیا جائے گا، نہ ہی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور جس کپڑے میں قتل کئے گئے اسی میں دفن کر دئے جائیں گے۔

بچے کا جنازہ :اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟

اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو لیکن جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ۔

سمندر میں مرنے والا:اگر سمندر ی جہاز میں کسی کی موت ہوجائے تو اس کے رقفاء کوشش کریں ساحل تک پہنچنے کی تاکہ زمین میں دفن کرسکے، اگر یہ ممکن نہ ہوتو کسی جزیرہ کی تلاش کرے جہاں دفن کرسکے۔ اگر کوئی جزیرہ بھی نہ ملے اور ساحل سمندر بہت دور ہو میت میں تعفن پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس میت کو غسل دے، اس کو کفن پہنائے اور پھر جہاز میں سوار لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور کسی بھاری پتھر سے میت کو باندھ دیں اور سمندر میں ڈال دیں اسی میں میت کی حفاظت ہے۔ ویسے آج کل بحری جہاز میں برف اور فرج کا انتظام ہوتا ہے اس صورت میں بہتر ہے کہ میت کو برف میں محفوظ کرکے ساحل تک پہنچاجائے اور قبر کھود کر اس میں دفن کیا جائے۔

قصاص میں قتل ہونے والا: قصاصا قتل ہونے والا آدمی مسلم ہے اور اس پر جاری ہونے والی حد اس کے گناہ کا کفارہ ہے اس لئے جسے خواہ زنا یا قتل کے بدلے قتل کیا جائے ایسے مقتول کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی البتہ اگرمقتول مرتد، جادوگر، کاہن، یہودیہ،نصرانیہ اورشاتم رسول وغیرہ ہو تو اسے کپڑا میں لپیٹ کر کسی گڑھا میں دفن کردیا جائے گا جس طرح کافر میت کا حکم ہے۔

حاملہ میت کا حکم :پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ حالت حمل(حلال حمل) میں عورت کی وفات درجہ شہادت کے بلند مقام میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں غیر متحرک یعنی مردہ بچہ ہو تو بلااختلاف عورت کو مردہ بچہ سمیت دفن کیا جائے گا لیکن تیسری بات میں اختلاف ہے کہ اگر بچہ زندہ ہو یعنی پیٹ میں حرکت کر رہاہوتو کیا بچے کو ماں سمیت دفن کردیا جائے گا یا بچہ باہر نکالاجائے گا؟

اس سلسلے میں میرے نزدیک راحج بات ابن حزم کا قول ہے کہ اگر حاملہ عورت مر جائے اور بچہ پیٹ میں حرکت کر رہاہو اور حمل چھ مہینے کا ہوگیا ہو تو لمبائی میں ماں کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور بچے کو نکالا جائے گا۔

نامعلوم لاش کا حکم: آج کے ترقی یافتہ دور میں بڑی سہولت ہوگئی ہے، اگر کسی انجان جگہ پر لاوارث لاش ملے اور ظاہری آثار و علامات سے مسلم وغیر مسلم ہونے کا پتہ نہ چلے تو ترقی یافتہ دور کی طبی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آج لاشوں کی تحقیق وپوسٹ مارٹم کی جدید ترین ایجادات مثلا ڈی این اے ٹسٹ، فنگر پرنٹس، باڈی اسکین، بلڈ گروپ ٹسٹ وغیرہ سے بآسانی معاملہ حل کرسکتے ہیں ۔

کٹی ہوئی لاش کا حکم :سڑی گلی، کٹی پٹی اور جلی ہوئی لاشوں میں اہم مسئلہ غسل کا ہے جسے میت کے غسل کے احکام کی جگہ بیان کر دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close