جنازہ کے چالیس اہم مسائل( دوسری قسط )

مقبول احمد سلفی

(21) جنازہ لےجا نے کے احکام:

جب کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی تدفین میں جلدی کرنا چاہئے۔ تجہیزوتکفین کی ادائیگی کے بعد مسلمان مرد جنازہ کو تابوت میں رکھ کر قبرستان لے جائے۔ ویسے مرد کو کفن میں لپیٹنے کے بعد تابوت پر رکھ کربغیر چادر سے ڈھکے بھی قبرستان لے جا سکتے ہیں اور چادر سے ڈھک کر لے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے البتہ عورت کے حق میں بہتر ہے کہ تابوت پر پردہ ڈال کر لے جایا جائے کیونکہ وہ ستر کی چیز ہے۔

جنازہ عورت کا ہو تو اسے اجنبی مرد بھی کندھا دے سکتا ہے البتہ عورت جنازہ کو کندھا نہیں دے گی اور نہ ہی جنازہ کے پیچھے چلے گی۔

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا(صحیح البخاری: 1278)

ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔

مرد حضرات خواہ پیدل ہوں یا سوار بہتر ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلیں کیونکہ جنازہ کی اتباع یعنی پیچھے چلنے کا حکم ہے، بخاری کے الفاظ ہیں ۔

إِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ(صحیح البخاری: 5651)

ترجمہ: جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے (جنازے میں ) جاؤ۔

تاہم پیدل کے لئے جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

الرَّاكِبُ يسيرُ خلفَ الجَنازةِ، والماشي يَمشي خلفَها، وأمامَها، وعن يمينِها، وعن يسارِها قريبًا مِنها (صحيح أبي داود:3180)

ترجمہ: سوار آدمی جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل لوگ اس کے پیچھے، آگے، دائیں اور بائیں اس کے قریب قریب چلیں ۔

جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی اختیار کی جائے، بعض لوگ کلمہ شہادت اور بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں جوکہ دین میں نئی ایجاد ہے۔ صحابہ کرام جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔

كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يكرهونَ رفعَ الصَّوتِ عند الجنائزِ .(أحكام الجنائزللالبانی : 92)

ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔

٭ شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

لا تُتبَعُ الجَنازةُ بصَوتٍ ولا نارٍ(سنن أبي داود:3171)

ترجمہ: جنازے کے پیچھے آواز اور آگ کے ساتھ نہ آ۔

شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند میں غیر معروف ہے مگر مرفوع شواہد اور بعض موقوف آثارسے اسے تقویت ملتی ہے۔ (احکام الجنائز:91)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنازہ کے پیچھے جس طرح آواز لگانا منع ہے اسی طرح آگ لے کر جانا منع ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب کی مشابہت ہے۔ گوکہ جنازہ کے پیچھے سگریٹ پینا اس قبیل سے نہیں ہے مگر نشہ آور چیزیں ہمیشہ منع ہیں ، جنازہ کے پیچھے سگریٹ پینا آخرت سے ہماری غفلت پہ غماز ہے جو ایک مسلمان کو کسی طور زیب نہیں دیتا۔ جنازہ سے تو ہمیں فکر آخرت پیدا کرنا چاہئے۔

اسی طرح جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا مستحب ہے اور جب جنازہ قبرستان میں رکھ دیا جائے تو بیٹھا جائے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إذا رأيتمُ الجنازةَ فقوموا، فمن تَبِعَهَا فلا يقعدْ حتى تُوضعَ .(صحيح البخاري:1310)

ترجمہ: جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔

اس حدیث میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا واجبی حکم ہے جبکہ دوسری حدیث میں کھڑے ہونے کی ممانعت بھی آئی ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

اجلِسوا خالِفوهم(صحيح أبي داود:3176)

ترجمہ: جنازہ دیکھ کربیٹھے رہو اور یہود کی مخالفت کرو۔

دونوں احادیث کو سامنے رکھنے سے استحباب کا حکم نکلتا ہے۔

(22) نماز جنازہ سے قبل نصیحت:

موت انسانوں کے لئے بہترین موعظت ہے بشرطیکہ ایمان والا ہواور قبروں کی زیارت کا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا ہے تاکہ آخرت یاد آئے۔ مومن بندے کی نصیحت کے لئے کسی کا جنازہ اٹھنا ہی کافی ہے اور قبرستان جانا آخرت یاد دلانے کے لئے کافی وافی ہے، الگ سے موعظت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بسااوقات نمازجنازہ میں لوگوں کا انتظار ہوتا ہے اور پہلے سے موجود لوگ آنے والوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ایسے موقع سے امام صاحب لوگوں کو کچھ نصیحت کردے تو کوئی حرج نہیں ہے اور یہ نصیحت کا بہترین موقع بھی ہے، یہاں اذہان وقلوب بھی نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ نبی ﷺ سے نماز جنازہ سے قبل لوگوں کو وعظ کرنا ثابت نہیں ہے البتہ عمومی طور پرجنازہ کے وقت تذکیروبیان ملتا ہے جیساکہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

مَرُّوا بجَنازةٍ فأثنَوا عليها خيرًا، فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : وَجَبَتْ . ثم مَرُّوا بأخرَى فأثنَوا عليها شرًّا، فقال : وَجَبَتْ فقال عُمَرُ بنُ الخطابِ رضي الله عنه : ما وَجَبَتْ ؟ قال : هذا أثنَيتُم عليه خيرًا، فوَجَبَتْ له الجنةُ، وهذا أثنَيتُم عليه شرًّا، فوَجَبَتْ له النارُ، أنتم شُهَداءُ اللهِ في الأرضِ .(صحيح البخاري:1367)

ترجمہ: صحابہ کا گزر ایک جنازہ پر ہوا ‘ لوگ اس کی تعریف کرنے لگے ( کہ کیا اچھا آدمی تھا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔

اس لئے نمازجنازہ سے قبل خطبہ دینا یا وعظ ونصیحت کو لازم پکڑنا جائز نہیں ہے۔ جنازہ کا تقاضہ ہے کہ بلاتاخیر نمازجنازہ پڑھ کر جلدسے جلد میت کو دفن کردیا جائے۔ بسااوقات کچھ انتظار ہوتو بغیر خطبے کی شکل کے چند ناصحانہ کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔

سمعت جرير بن عبد الله يقول يوم مات المغيرة بن شعبة، قام فحمد الله وأثنى عليه، وقال : عليكم بإتقاء الله وحده لا شريك له، والوقار، والسكينة، حتى يأتيكم أمير، فإنما يأتيكم الآن . ثم قال : استعفوا لأميركم، فإنه كان يحب العفو . ثم قال : أما بعد فإني أتيت النبي صلى الله عليه وسلم قلت : أبايعك على الإسلام، فشرط علي : والنصح لكل مسلم . فبايعته على هذا، ورب هذا المسجد إني لناصح لكم . ثم استغفر ونزل .(صحيح البخاري:58)

ترجمہ: زیاد بن علاقہ نے کہا میں نے جریر بن عبداللہ سے سنا جس دن مغیرہ بن شعبہ ( حاکم کوفہ ) کا انتقال ہوا تو وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور خوبی بیان کی اور کہا تم کو اکیلے اللہ کا ڈر رکھنا چاہیے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحمل اور اطمینان سے رہنا چاہیے اس وقت تک کہ کوئی دوسرا حاکم تمہارے اوپر آئے اور وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ اپنے مرنے والے حاکم کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ ( مغیرہ ) بھی معافی کو پسند کرتا تھا پھر کہا کہ اس کے بعد تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کے لیے شرط کی، پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کر لی ( پس ) اس مسجد کے رب کی قسم کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر آئے۔

بظاہر اس اثر میں خطبے کی شکل ہے مگر یہ ہمیشگی والا عمل نہیں جس سے دلیل پکڑتے ہوئے ہمیشہ ایسا کرنا چاہئے، نہ بطور خاص نمازجنازہ کے وقت ہے اورنہ ہی اس طرح کا عمل نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ کی وفات پر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کا خطبہ دینا بھی ثابت ہے اس سے بھی عدم دوام پرہی دلیل لی جائے گی جس کا نمازجنازہ کے وقت ہمیشہ وعظ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ۔ نیز وہاں ایک خاص پس منظر تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی وفات کا انکار کررہے تھے اس وجہ سے ابوبکررضی اللہ عنہ کو یہ مسئلہ واضح کرنا پڑا۔

آج کل بعض مقامات پر دفن کے بعدقبرستان میں خطیب کی طرح لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے اور اسے جنازے کا حصہ سمجھا جاتا ہے جوکہ واضح بدعت کی شکل ہے، ایسا کرنا رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے۔ کبھی کبھار قبرکے پاس بیٹھے نبی ﷺ سے صحابہ کے ساتھ تذکیر کا ثبوت ملتا ہے۔ چند حضرات قبرستان میں اتفاقیہ بیٹھے ہوں اور آپس میں تذکیر کرے تو کوئی حرج نہیں مگر لوگوں میں ایک واعظ ہو جو بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر سب کو وعظ کرے سنت کی مخالفت ہے۔ دفن کے وقت جلدی سے تدفین کا کام مکمل کرنا چاہئے اور انفرادی طور پر میت کے لئے استغفار اور ثبات قدمی کی دعاکرنی چاہئے۔

(23)نماز جنازہ اور صف بندی کے احکام :

٭نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، گاؤں کے چند لوگ جنازے میں شریک ہوگئے تو سبھی سے فریضہ ساقط ہوگیا اور اگر کوئی جنازہ نہ پڑھے تو پوری بستی والے گنہگار ہوں گے۔

٭میت کے لئے تین صفیں بنانا مستحب ہے لیکن اسے ضروری خیال نہ کیا جائے کیونکہ اس سلسلے میں آثار ملتے ہیں مگر مرفوع روایات ضعیف ہیں ۔ کسی کے جنازہ میں سو آدمی شریک ہو اور وہ میت کے حق میں سفارش کریں تو قبول ہوتی ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

ما من ميِّتٍ تُصلِّي عليه أمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائةً . كلُّهم يشفعون له . إلَّا شُفِّعوا فيه(صحيح مسلم:947)

ترجمہ: کو ئی بھی (مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے۔

نبی ﷺ کا ایک دوسرا فرمان ہے :

ما من رجلٍ مسلمٍ يموتُ فيقوم على جنازتِه أربعون رجلًا، لا يشركون بالله شيئًا إلا شفَّعهم اللهُ فيه(صحيح مسلم:948)

ترجمہ: جس مسلمان کے جنازے میں چالیس آدمی ایسے ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ضرور ان کی شفاعت قبول کرتا ہے۔

حتی کہ اگر کسی میت کی خیروبھلائی پر دو شخص بھی گواہی دے تو وہ اللہ کی رحمت سے جنت کا مستحق ہوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

أيُّما مسلمٍ، شَهِدَ له أربعةٌ بخيرٍ، أدخَله اللهُ الجنةَ . فقُلْنا : وثلاثةٌ، قال : وثلاثةٌ . فقُلْنا : واثنانِ، قال : واثنانِ . ثم لم نسألْه عن الواحدِ .(صحيح البخاري:1368)

ترجمہ: جس مسلمان کی اچھائی پر چار شخص گواہی دے دیں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ہم نے کہا اور اگر تین گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تین پر بھی‘ پھر ہم نے پوچھا اور اگر دو مسلمان گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا کہ دو پر بھی۔ پھر ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایک مسلمان گواہی دے تو کیا؟

٭صفوں کا طاق ہونا ضروری نہیں جفت بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

٭ میت مرد ہو تو امام سر کے پاس اور عورت ہو تو درمیان میں کھڑا ہو۔

٭ اگر میت میں کئی مردوعورت اور بچے ہوں تو عورتوں کو قبلہ کی طرف پھر بچوں کو،اس کے بعد مردوں کو امام کی جانب رکھا جائے۔

٭ اگر عورتیں نماز جنازہ میں شامل ہوں تو ان کی صف مردوں کے پیچھے ہوگی۔

٭ باشعوربچے بڑوں کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہاجب بچے تھے تو نبی ﷺکے ساتھ بڑوں کی صف میں نماز جنازہ پڑھی اور بچے باشعور نہ ہوں تو انہیں پچھلی صفوں میں رکھا جائے۔

٭ نماز جنازہ مسجد میں بھی ادا کرسکتے ہیں جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے بیضا کے دو بیٹے سہل اور سہیل کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔ (مسلم :973)

٭ عموما شہروں میں قبرستان کی بونڈری سے باہر نماز جنازہ کےلئےایک مسجد بنی ہوتی ہے اس میں نماز جنازہ یا دیگر نماز اداکرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ قبرستان میں داخل نہیں ہے تاہم قبرستان کے اندر مسجد بنانا اور اس میں پنچ وقتہ نمازیں ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

الأرضُ كلَّها مسجدٌ إلَّا المقبرةَ والحمَّامَ(صحيح الترمذي:317)

ترجمہ: پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اورطہارت وپاکیزہ گی کاذریعہ بنائی گئی ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔

حتی کے نماز جنازہ بھی قبرستان میں اور قبروں کے درمیان ادا کرنا منع ہے اس کی وجہ شرک کاسد باب ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

نَهَى أنْ يُصَلَّى على الجنائِزِ بينَ القبورِ( صحيح الجامع:6834)

ترجمہ : نبی نے منع کیا کہ جنازہ کی نماز قبروں کے درمیان پڑھی جائے۔

ہاں تدفین کے بعدوہ شخص نماز جنازہ اس میت کی قبر پر ادا کرسکتا ہے جس میت کا جنازہ نہیں پڑھ سکا۔

(24) نماز جنازہ کا طریقہ :

نماز جنازہ کے لئے وضو، استقبال قبلہ اور نیت شرائط میں سے ہے۔ صفوں کی ترتیب کے بعد امام صاحب یا جنہیں نماز جنازہ کے لئے میت نے وصیت کی ہو وہ نماز پڑھائے۔ نماز جنازہ میں نو تکبیرات تک کا ثبوت ملتا ہے مگر چار تکبیرات نبی ﷺ کا آخری عمل ہے اور اس پہ صحابہ کرام کا اجماع ہے اس لئے جنازہ میں چار تکبیرات ہی کہی جائیں گی اس پہ مفصل بحث آگے آرہی ہے۔

پہلی تکبیر: اعوذ باللہ، بسم اللہ اور سورہ فاتحہ پڑھیں ۔ سورہ فاتحہ سے قبل دعائے استفتاح اور اس کے بعد کوئی سورت پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہےتاہم سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔

دوسری تکبیر: نماز میں پڑھا جانے والا درودابراہیمی پڑھیں ۔

تیسری تکبیر: جنازے کی دعا پڑھیں ۔

جنازہ کی کئی دعائیں ہیں ، ان میں سے کوئی پڑھ لینا کافی ہے۔ ایک دعا یہ ہے : اللَّهمَّ اغْفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا وشاهدنا وغائِبنا وصَغيرنا وَكبيرنا وذَكرِنا وأُنثانا اللَّهمَّ مَنْ أحييتَه مِنَّا فأحيِه علَى الإسلامِ ومن تَوَفَّيتَه مِنَّا فتَوفَّهُ علَى الإيمانِ اللَّهمَّ لا تحرمنا أجرَه ولا تُضلَّنا بعدَه(صحيح ابن ماجه:1226)

چوتھی تکبیر: آخری تکبیر پر سلام پھیر دیں ، نماز جنازہ میں ایک سلام کا ذکر ملتا ہے اس وجہ سے اصل نماز جنازہ میں ایک سلام ہی ہے تاہم عام نمازوں میں دو سلام کی دلیل سے نماز جنازہ میں بھی دو سلام پھیرا جاسکتا ہے لہذا ایک سلام اور دو سلام دونوں عمل جائز ہیں ۔

٭ ہر تکبیر پر رفع یدین کرنا چاہئے۔

٭ نماز جنازہ سرا اور جہرا دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے۔

(25)نماز جنازہ عورت بھی ادا کرسکتی ہے :

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتی اور اس خیال سے متعلق ثبوت کے طور پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے :لَيْسَ للنِّسَاءِ في الجنازَةِ نصيبٌ(مجمع الزوائد:16/3)

ترجمہ: عورتوں کے لئے جنازہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے اسے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔ (ضعيف الترغيب:2069)

حقیقت یہ ہے کہ عورتیں بھی میت کا جنازہ پڑھ سکتی ہیں ۔ حضرت ابوسلمی بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ادخُلوا به المسجدِ حتى أصليَ عليه(صحيح مسلم:973)

ترجمہ: سعد کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔

عورتوں کی افضل نماز تو گھر میں ہی ہے، اس لحاظ سے عورتیں میت کے غسل اور کفن کے بعد جمع ہوکر جماعت سے میت کی نماز جنازہ گھر ہی میں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں اور وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر والی حدیث عائشہ گزری جس سے مسجد میں عورت کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔

اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں کے لئے جائز ہے کہ گھر کی ساری عورتیں جمع ہوکر گھر ہی میں میت کی نماز جنازہ پڑھ لے؟

توشیخ رحمہ اللہ نے جواب کہ کوئی حرج نہیں عورتیں نماز جنازہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرے یا جنازہ والے گھر میں ادا کرلے کیونکہ عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ("مجموع فتاوى” ابن عثيمين:17/157)

(26)تکبیرات جنازہ اور صحابہ کرام:

نماز جنازہ میں چار سے زائد تکبیرات کابھی ثبوت ملتا ہے، تین تکبیر سے لیکر نو تکبیرات کا ذکر ہے تاہم صحیحین میں پانچ تک کا ذکر ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں :

كان زيدٌ يُكبِّرُ على جنائزِنا أربعًا . وإنه كبَّر على جنازةٍ خمسًا . فسألتُه فقال : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُكبِّرُها .(صحيح مسلم:957)

ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے جنازوں (کی نماز) میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا کہ ” آپ تو ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ تکبیریں کیوں کہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔

یہ حدیث متعدد کتب احادیث میں مروی ہے مثلا ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی، مسند طیالسی اور مسند احمد وغیرہ۔

امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تحت لکھا ہے :

دل الإجماع على نسخ هذا الحديث لأن ابن عبد البر وغيره نقلوا الإجماع على أنه لا يكبر اليوم إلا أربعا، وهذا دليل على أنهم أجمعوا بعد زيد بن أرقم، والأصح أن الإجماع يصح من الخلاف (شرح مسلم)

ترجمہ: اجما ع اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس لئے کہ ابن عبدالبر وغیرہ نے اس بات پہ اجماع نقل کیا ہے کہ اس وقت صرف چار تکبیرات کہی جائے گی، یہ اس بات پہ دلیل ہے کہ زید بن ارقم کے بعد اس پہ اجماع کرلیا گیا اور صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف سے اجماع صحیح ہوتا ہے۔

گویا امام نووی رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ والی روایت منسوخ ہے اور جنازہ کی چار تکبیرات پہ اجماع ہے۔ جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ چار تکبیرات ہی مشروع ہیں ، ان کی چار وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ اکثر صحابہ سے مروی ہے، ان کی تعداد پانچ تکبیرات بیان کرنے والے صحابہ سے زیادہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ صحیحین کی روایت ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ چار تکبیرات پہ اجماع واقع ہوا ہے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کا آخری عمل یہی ہے جیساکہ امام حاکم نے مستدرک میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان لفظوں کے ساتھ روایت ذکر کیا ہے(آخر ما كبر رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجنائز أربع ) کہ نبی ﷺ نے جنازہ پہ سب سے آخری مرتبہ چار تکبیرات کہیں ۔ (نیل الاوطار، باب عددتکبیر صلاۃ الجنائز)

صاحب عون المعبود کا رحجان چار تکبرات کی طرف لگتا ہے چنانچہ انہوں نے علی بن جعد کے حوالے سے صحابہ کے کچھ آثار پیش کئے جن سے چار تکبیرات پہ اجماع کا علم ہوتا ہے جیسے کہ بیہقی میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا صحابہ کبھی چار تو کبھی پانچ پر عمل کرتے تو ہم نے چار پہ جمع کردیا۔ بیہقی میں ابووائل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کے زمانہ میں چار، پانچ، چھ اور سات تکبیرات کہا کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کرکے اس اختلاف کی خبر دی اور انہیں چار تکبیرات پہ جمع کردیا۔ابراہیم نخعی کے طریق سے یہ روایت بھی ہے کہ صحابہ کرام ابومسعود رضی اللہ عنہ کے گھر جمع ہوئے اور جنازہ کی چار تکبیرات پہ اجماع کرلیا۔ (عون المعبود، باب التکبیر علی الجنازۃ)

امام ترمذی نجاشی والی روایت جس میں چار تکبیر کا ذکر ہے اسے بیان کرکے لکھتے ہیں کہ اسی حدیث پر نبی ﷺ کے اکثر اصحاب کا عمل ہے اور دیگر اہل علم کا بھی کہ جنازہ کی تکبیرات چار ہیں ۔ یہ قول سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن المبارک، شافعی، احمد اور اسحاق وغیرھم کا ہے۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی التکبیر علی الجنازۃ)

شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی میت فضل کے اعتبار سے بڑا ہو تو کیا ان کے جنازہ میں تکبیر ات زائد کہی جاسکتی ہیں ؟ تو شیخ نے جواب دیا کہ افضل یہی ہے کہ چار پہ اکتفا کرے جیساکہ اس وقت عمل کیا جاتا ہے اس لئے کہ یہ نبی ﷺ کا آخری عمل ہے، نجاشی کی بڑی فضیلت ہے پھر بھی نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ میں چار تکبیرات پہ ہی اکتفا کیا۔ (مجموع فتاوى و رسائل بن باز – تیرہویں جلد)

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نماز جنازہ میں چار تکبیرات نبی ﷺ کا آخری عمل ہے اور اس پہ صحابہ کرام کا اجماع ہے اس لئے جنازہ میں چار تکبیرات ہی کہی جائیں گی۔

(27) کئی جنازے کی ایک ساتھ نماز :

ایک ساتھ متعدد جنازے کے سوال پر شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ سب جنازے کو جمع کیا جائے اور ان پر ایک بار نماز ادا کی جائے کیونکہ نبی ﷺ نے جنازہ کے متعلق جلدی کرنے کا حکم دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز میں کہتے ہیں کہ جب عورت ومرد کے کئی جنازے جمع ہوجائیں تو ان سب پر ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جائے، دلیل میں ابن عمر کا اثر پیش کرتے ہیں جس میں ایک ساتھ نو میت کا جنازہ پڑھنے کا ذکرہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اکیلے اکیلے بھی جنازہ پڑھنا جائز ہے اور یہی اصل ہے، نبی ﷺنے شہداء احد پر ایسا ہی کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ میت کے حق میں بہتر یہ ہے کہ ایک ساتھ سب کا جنازہ پڑھا دیا جائے لیکن اگر سب کا الگ الگ جنازہ پڑھا یا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

جب ایک مرتبہ میں ایک سے زائد میت کی نماز جنازہ ہوجاتی ہے تو مصلی کو جنازہ کے عدد کے حساب سے ثواب ملے گا یعنی ہرجنازہ کی نماز کے بدلے ایک قیراط ثواب۔ اللہ کا فضل زیادہ وسیع ہے۔

(28) :نماز جنازہ کی بعض تکبیر کی قضا کا طریقہ:

نماز جنازہ کی چاروں تکبیریں رکن اور بحیثیت رکعت کے ہیں ، ان کی ادائیگی کے بغیر نہ تو امام کی نماز درست ہے، نہ ہی مقتدی کی۔

اگر امام بھول کر تین تکبیر پہ سلام پھیردے تو یاد دلائی جائے تاکہ چوتھی کہے۔ ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ اگر تین ہی سلام پھیردیا اور تنبیہ کرنے پر بھی چوتھی تکبیر نہیں کہی تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ خود سے چوتھی تکبیر کہہ کر اپنی نماز جنازہ مکمل کرے۔

اگر مقتدی دو تکبیریں ختم ہونے کے بعد نماز جنازہ میں شامل ہوتو وہ اپنی پہلی تکبیر میں فاتحہ پڑھے، دوسری تکبیر میں درود۔ اور جب امام سلام پھیردے تو وہ تیسری تکبیر خود سے کہے اس میں میت کی دعا پڑھے اور خود سے ہی چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیردے۔

شیخ ابن بازرحمہ اللہ جس سے جنازہ کی بعض تکبیر چھوٹ گئی اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ جس سے جنازہ کی بعض تکبیر یں چھوٹ گئیں وہ ان کی قضا کرے نبی ﷺ کے قول کے عموم کی وجہ سے۔

إذا أقيمت الصلاة فامشوا إليها وعليكم السكينة والوقار، فما أدركتم فصلوا، وما فاتكم فاقضوا(جب نماز کھڑی ہوجائے تو اس کی طرف چل پڑو اور سکینت ووقار لازم پکڑو، جو مل گئی اسے پڑھو اور جوچھوٹ گئی اس کی قضا کرو)

قضا کا طریقہ یہ ہے: جو مل گئی ہے اسے اول نماز سمجھے اور چھوٹ گئی ہے (جس کی قضا کرنی ہے)اسے آخر نماز سمجھے۔ نبی ﷺ کے فرمان کی وجہ سے: فما أدركتم فصلوا، وما فاتكم فأتموا(جو مل گئی اسے پڑھو اور چھوٹ گئی اس کی قضا کرو)۔

اگر مقتدی امام کو تیسری تکبیر میں پائے تو وہ تکبیر کہہ کر فاتحہ پڑھے اور جب امام چوتھی تکبیر کہے تو وہ اس کے پیچھے تکبیر کہے اور نبی ﷺ پر درود پڑھے۔ اور جب امام سلام پھیردے تو وہ (سلام نہ پھیرکر) خود سے تکبیر کہے تو اور میت کے لئے مختصر دعا کرے اور پھر چوتھی تکبیر کہے اور سلام پھیردے۔ (مجموع الفتاوى :13/149)

(29)نماز جنازہ غائبانہ کا حکم :

جس طرح جنازہ سامنے رکھ کر اس کی نماز پڑھنا یا دفن کے بعد قبر پر اس کے لئے نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی ثابت ہے کہ جنازہ کسی شہر میں ہو اور اس کے متعارفین دوسرے شہر میں ہوں وہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کرسکتے ہیں ۔

صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قد تُوُفِّيَ اليومَ رجلٌ صالحٌ من الحبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عليه . قال : فصَفَفْنا، فصلَّى النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عليه ونحن صُفوفٌ(صحيح البخاري:1320)

ترجمہ: آج حبش کے ایک مرد صالح ( نجاشی حبش کے بادشاہ ) کا انتقال ہوگیا ہے۔ آؤ ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم صف باندھے کھڑے تھے۔

اس روایت کوبعض علماء نے نجاشی کے ساتھ خاص مانا ہے جبکہ اسے خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نجاشی کی میت بطور معجزہ نبی کے سامنے کردی گئی تھی اس لئے وہ جنازہ غائبانہ نہیں تھا بلکہ حاضرانہ تھا۔ یہ قول مرجوح ہے اس کی طرف التفاف نہیں کیا جائے گا اور جنہوں نے نمازجنازہ غائبانہ کو بدعت یا ناجائز کہا وہ بھی خطا پر ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز جنازہ غائبانہ مشروع و مطلق طور پر عام ہے کیونکہ نبی ﷺ نے خود غائبانہ نمازجنازہ پڑھی اورصحابہ کو پڑھنے کا حکم جوکہ آپ ﷺ کے الفاظ ” فصلوا علیہ” (تم سب ان کی نماز کی نماز جنازہ پڑھو) سے صراحت کے ساتھ بالجزم ظاہروباہر ہے۔ نیز کسی صحابی سے غائبانہ نماز جنازہ پر نکیر منقول نہیں ہے۔

رئیس الاحرار مولانا محمد رئیس ندوی حفظہ اللہ اپنی کتاب نماز جنازہ اور اس کے مسائل میں واقعہ نجاشی پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

اس سے صاف طاہر ہے کہ مسلمان میت کی نماز جنازہ علی الاطلاق اور علی العموم مشروع ہے اس کی لاش کا نمازیوں کے سامنے موجود وحاضر ہوناضروری نہیں ۔ نجاشی پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کا حکم دیتے وقت رسول اللہ ﷺ نے "صلواعلی اخیکم النجاشی” کے واضح الفاظ کے ذریعہ صراحت کردی تھی کہ جس نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا حکم میں تمہیں دے رہاہوں وہ تمہارے یعنی مومنوں کے بھائی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ آپ نے یہ بات اسلام کے اس اصول کے تحت فرمائی تھی کہ انماالمومنون اخوۃ(الحجرات:1) سارے کے سارے اہل ایمان باہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے میت کا مومن ہونا تو شرط ہے اس کی لاش کا نمازیوں کے سامنے حاضروموجود ہونا شرط نہیں ۔ انتہی

(30) جنازہ کے مکروہ اوقات :

تین اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا اور میت کو دفن کرنا منع ہے۔ عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

ثلاثُ ساعاتٍ كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ينهانا أن نُصلِّيَ فيهنَّ . أو أن نَقبرَ فيهن موتانا : حين تطلعُ الشمسُ بازغةً حتى ترتفعَ . وحين يقومُ قائمُ الظهيرةِ حتى تميلَ الشمسُ . وحين تَضيَّفُ الشمسُ للغروبِ حتى تغربَ .(صحيح مسلم:831)

ترجمہ: تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺہمیں نمازپڑھنے سے یا اپنے مردوں کودفنانے سے منع فرماتے تھے,جس وقت سورج نکل رہا ہویہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے،جس وقت ٹھیک دوپہرہورہی ہویہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اورجس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔

اس حدیث میں صلاۃ کا لفظ بھی وارد ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح میت کو ان تین وقتوں میں دفن کرنا منع ہے اسی طرح میت پر نماز جنازہ پڑھنا بھی منع ہے۔ اس طرح فجر کے بعد، ظہر کے بعداورعصرکے بعد میت پر نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور دفن بھی کرسکتے ہیں ۔

ایک اشکال اور اس کا حل :

ایک حدیث میں ہے کہ جب جنازہ آجائے تو تاخیر نہ کی جائے، اس سے بعض علماء نے یہ دلیل پکڑی ہے کہ ہم میت کو کبھی بھی دفن کرسکتے ہیں یہاں تک کہ مکروہ اوقات میں بھی۔ پہلے وہ حدیث دیکھیں :

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

أنَّ النبيَّ – صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم – قال له : يا عَلِيُّ ! ثلاثٌ لا تؤخِّرْها : الصلاةُ إذا أَتَتْ، والجَنازةُ إذا حَضَرَتْ، والأَيِّمُ إذا وَجَدْتَ لها كُفْؤًا (مشکوۃ , ترمذی، بیہقی)

ترجمہ: نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا:’ علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نمازکو جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ کوجب آجائے، اور بیوہ عورت (کے نکاح کو) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر)مل جائے۔

اس حدیث کو شیخ البانی ؒ نے ضعیف کہا ہے مگر اس کا معنی صحیح ہے۔ (تخریج مشکوۃ المصابیح : 577)

اس حدیث کی روشنی میں چند باتیں ملحوظ رہے۔

اولا : تین اوقات میں دفن کی ممانعت واجبی نہیں ہے بلکہ کراہت کے درجے میں ہے کیونکہ وجوب کا قرینہ نہیں پایا جاتا۔

ثانیا: اگر وقت تنگ ہو اور میت کو دفن کرنےکی ضرورت ہو تومکروہ اوقات میں دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

ثالثا: جان بوجھ کر مکروہ اوقات میں دفن کرنا منع ہے ہاں تجہیز و تکفین میں تاخیر ہوگئی اور اب مزید تاخیر صحیح نہیں تو پھر ممنوع وقت میں دفن کرسکتے ہیں ۔

رابعا: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ میت ہونے کے بعد اس کی تدفین میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ جلدی سے دفن کردینا چاہئے۔ دوسری حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أَسْرِعُواْ بالجنازةِ، فإن تَكُ صالحةً فخيرٌ تُقَدِّمُونَهَا، وإن يَكُ سِوَى ذلكَ، فشَرٌّ تضعونَهُ عن رقابكم .(صحيح البخاري:1315)

ترجمہ: جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔

رات میں دفن کرنے کا حکم :

ایک حدیث میں رات میں دفن کرنے کی ممانعت وارد ہے۔ وہ روایت مندرجہ ذیل ہے۔

مسلم شریف میں ہے :

فزجر النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أن يُقبرَ الرجلُ بالليلِ حتى يصلى عليهِ . إلا أن يضطرَ إنسانٌ إلى ذلك . وقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ” إذا كفَّنَ أحدكم أخاهُ فليُحْسِنْ كفنَه ” .(صحيح مسلم:943)

ترجمہ: پس نبی ﷺ نے ڈانٹا کہ آدمی کو رات میں دفن کیا جائےالا یہ کہ انسان اس کے لئے مجبور ہوجائے ہاں اگر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو تو چنداں حرج نہیں ہے۔ نیز نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بھائی کو کفن دو تو اچھے طریقے سے کفناؤ۔

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر رات میں نماز جنازہ یا کفن و دفن میں دقت ہو یعنی صحیح سے میت کی تجہیزوتدفین نہ ہونے کا خطرہ ہو تو رات میں دفن نہ کیا جائے لیکن اگر رات میں دفنانے کی سہولت ہو تو رات میں بھی دفن کرسکتے ہیں ۔ اس کی دلیل ملتی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :

مات إنسانٌ، كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يعودُهُ، فمات بالليلِ، فدفنوهُ ليلًا، فلمَّا أصبحَ أخبروهُ، فقال : ما منعكم أن تُعَلِّمُوني . قالوا : كان الليلُ فكرهنا، وكانت ظلمةٌ، أن نَشُقَّ عليك، فأتى قبرَهُ فصلَّى عليهِ .(صحيح البخاري:1247)

ترجمہ: ایک شخص کی وفات ہوگئی, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے, چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے رات ہی میں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا اور جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ جنازہ تیار ہوتے وقت ) مجھے بتانے میں ( کیا ) رکاوٹ تھی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور اندھیرا بھی تھا۔ اس لیے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں آپ کو تکلیف ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔

اور بہت سے صحابہ وصحابیات کو رات رات میں دفن کیا گیا ہے۔ ابوبکررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا رات میں ہی دفن کئے گئے۔



⋆ مقبول احمد سلفی

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

میرے عظیم محسن و مربی شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ

2003 میں بچوں کے میگزین المنار کا ایڈیٹر تھا۔ یہ موقع بھی آپ سے سیکھنے، سمجھنے، بننے، کرنے، پھلنےاور پھولنے کابہترین موقع میسر ہوا۔ سال بھر مضامین، مقالے اور تحریری رہنمائی کے علاوہ آپ کی کئی خوبیوں سے فیضیاب ہونے کا سنہرا موقع دستیاب ہوا۔ یہ دو مواقع ایسے تھے جہاں نہ صرف سیکھنے کا موقع ملا بلکہ یہ سمجھنا بھی آسان بنادیا کہ استاد کسے کہتے ہیں، استادی کا ہنر کیا ہے، استاد کی رہنمائی کیا رنگ لاتی ہے اور کیسے استاد طلبہ میں تعمیرفکروفن کی روح پھونک سکتے ہیں ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے