فقہمذہب

حلالہ: حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے!

مطلقہ عورت کو کسی بھی طرح حلال کرنا ایک حرام کام ہے۔

ڈاکٹرمحی الدین غازی

اچھی طرح سمجھ لیں کہ عوام کو حلالہ کا ایک ہی مفہوم معلوم ہے اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، عوام میں حلالہ کا ایک ہی طریقہ رائج ہے اور وہ حرام طریقہ ہے۔ اگر آپ کو عوام کا ذہن پڑھنے اور عوام کا عمل دیکھنے کی فرصت نہیں ہے تو اردو کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ڈکشنری فیروز اللغات اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں بس اتنا لکھا ہے ’’حلالہ : طلاق دی ہوئی عورت کا عارضی نکاح کرنا، تاکہ دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے بعد اپنے پہلے خاوند سے پھر نکاح کرسکے‘‘۔

لطف کی بات یہ ہے کہ لفظ حلالہ نہ تو عربی زبان کا لفظ ہے اور نہ اسلامی فقہ کا لفظ ہے، مجھے کسی عربی لغت میں یہ لفظ نہیں ملا، اور نہ شریعت کی کسی عربی کتاب میں یہ لفظ ملا (ہندوستانی عالموں کی عربی تصانیف اس سے مستثنی ہیں) واقعہ یہ ہے کہ یہ لفظ ہندوستان میں رائج ہوا ہے اور عوام کے ذہنوں میں اس کا وہی مفہوم ہے جو سراسر حرام ہے، اور عوام کا عمل بھی اسی صورت پر ہے جو سراسر حرام صورت ہے۔ اس لئے حلالہ کے لفظ سے بعض مسلمانوں کا جذباتی تعلق بالکل بے معنی اور بے بنیاد ہے۔

جسے ہم اردو میں حلالہ کہتے ہیں، اسے عربی میں تحلیل کہا جاتا ہے، اور تحلیل کے معنی حلال ہونا نہیں حلال کرنا ہوتا ہے، اور مطلقہ عورت کو کسی بھی طرح حلال کرنا ایک حرام کام ہے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قرآن مجید میں تحلیل یا حلالہ کی حلال صورت بیان کی گئی ہے۔ اردو میں حلالہ اور عربی میں تحلیل کا مطلب ہوتا ہے حلال کرنے کی صورت اختیار کرنا۔ قرآن مجید میں حلال کرنے کی کوئی صورت نہیں بیان کی گئی ہے، بلکہ حلال ہوجانے کی صورت بیان کی گئی ہے۔ حلال ہونے کی صورت اور حلال کرنے کی صورت میں بڑا فرق ہے۔ خاوند طلاق دے دے تو مطلقہ کے لئے اس کے بھائی سے نکاح کرنا حلال ہوجاتا ہے، اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ہے، لیکن خاوند کے بھائی سے نکاح کو حلال کرنے کے لئے خاوند سے طلاق لینا نہایت قبیح اور غیر شرعی عمل ہے۔ کچھ اسی طرح کا فرق ہے قرآن میں بیان کردہ صورت میں اور معاشرے کے حلالہ کی صورت میں۔ قرآن میں مذکور پاک صورت کو حلالہ کا نام دینا بہت بڑی غلطی ہے۔ قرآن میں حلالہ نہیں ہے، بس حلال ہونے کی ایک پاکیزہ صورت ہے۔

قرآن مجید (سورۃ البقرۃ آیت 230) میں جو صورت ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی تین طلاق کا نصاب پورا کرلیتا ہے، (ظاہر ہے صحیح طریقے پر طلاق دینے کے نتیجے میں یہ نصاب شاذ ونادر ہی کسی کی زندگی میں پورا ہوگا) تو اب اس مطلقہ عورت کے لئے اس سابق شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اس دروازے کو کھولنے کی کوئی بھی کوشش قرآن اور شریعت کے مقاصد کے خلاف قرار پائے گی۔ اللہ نے یہ دروازہ اس لئے نہیں بند کیا ہے کہ بندے اسے کھولنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی بھی طرح وہ دروازہ کھولنا مقصود ہوتا تو اسے بند ہی نہیں کیا جاتا۔

تین طلاقوں کے پڑجانے کے بعد عورت اس مرد سے تو شادی نہیں کرسکتی ہے، البتہ کسی اور مرد سے ضرور شادی کرسکتی ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ وہ اپنے سابق شوہر کو بالکل بھول کر کسی اور مرد سے شادی کے بارے میں سوچے۔ اور جب شادی کرے تو اسی نیت سے کرے کہ اسی کے ساتھ رہنا ہے، کیوں کہ سابق شوہر کے ساتھ رہنا اس کے لئے اب بالکل جائز نہیں رہا۔

اس کے بعد اگر کسی بھی وجہ سے اس نئے رشتے میں بھی طلاق کی نوبت آ جاتی ہے، تو پھر وہ عورت اس دوسرے شوہر سے علیحدہ ہوجائے گی، اور کسی بھی مرد سے شادی کرنا اس کے لئے جائز ہوگا، فرق صرف اتنا ہوگا کہ دوسرے مردوں کی طرح اب وہ اپنے سابق شوہر سے بھی شادی کرسکے گی۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ سابق شوہر سے نکاح کرنے کی یہ صورت بہت ہی کم پیش آنے والی صورت ہے۔ یہ صورت رواج بننے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی ہے، یہ تو نہایت ہی شاذ ونادر پیش آنے والی صورت ہے۔

یاد رہے کہ قرآن مجید کی اس صورت میں کسی بند دروازے کو کھولنے کی بات نہیں کہی گئی ہے۔ پاک شریعت کی اس پاک صورت میں کسی بھی طرح کی کوئی قباحت تلاش نہیں کی جاسکتی ہے۔ کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس میں رشتوں کی حرمت ذرا بھی پامال نہیں ہوتی ہے، اور نکاح وطلاق کے اعلی انسانی اصول کہیں ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں۔

عربی میں تحلیل اور اردو میں حلالہ اس لئے حرام ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کے بند کئے ہوئے دروازے کو کھولنے اور شریعت میں چور دروازہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طریقے میں زنا والی قباحت بھی ہے، اللہ کے حدود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا گھناؤنا جرم بھی ہے۔ یہ مردانہ غیرت اور نسوانی حیا کو پیروں تلے روند دینے والا عمل ہے۔ اس عمل میں جو نکاح کیا جاتا ہے وہ حرام نکاح ہے اور جو اس کے بعد طلاق دی جاتی ہے وہ حرام طلاق ہے۔ اسے صاف صاف حرام کہنا اہل علم پر فرض ہے۔

یہ بحث کہ حلالہ تو حرام ہے، مگر کیا اس کا نتیجہ واقع ہوجائے گا؟ اور حلالہ کے حرام ہونے کے باوجود کیا سابق شوہر کے لئے وہ عورت حلالہ کے بعد حلال ہوجائے گی؟ یہ بحث اس وقت جائز ہوسکتی تھی جب کہ کم علمی میں اکا دکا یا چند ایک واقعات پیش آگئے ہوں۔ لیکن جب اس حرام عمل کو شریعت کا بند دروازہ کھولنے، اور شریعت کی دیوار میں نقب لگانے کے لئے برملا استعمال کیا جانے لگے، اور جب مقصد شریعت کے خلاف ایک ناجائز رواج وجود میں آجائے، اور اس ناجائز رواج کی بنیاد پر ناجائز کاروبار شروع ہوجائیں، تو پھر اس بحث کی بھی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ اور یہ طے ہوجاتا ہے کہ حلالہ حرام ہی ہے، اور حلالہ کرنے کے باوجود وہ عورت اپنے سابق شوہر پر حرام ہی رہے گی۔

یاد رہے کہ جس معاشرے میں طلاق دینے کا صحیح طریقہ اختیار کیا جائے گا، وہاں تیسری طلاق کی نوبت شاذ ونادر ہی پیش آئے گی۔ اور جہاں تیسری طلاق شاذ ونادر پیش آتی ہو، وہاں سابق شوہر سے نکاح کے حلال ہونے کی نوبت بھی شاذ ونادر ہی پیش آئے گی۔ حلالہ کا مسئلہ دراصل اس سماج کا مسئلہ ہے جہاں ایک مجلس میں تین طلاقوں کے واقعات عام ہوجاتے ہیں۔ اگر حلالہ کی لعنت سے سماج کو بچانا ہے تو لازما ایک مجلس کی تین طلاقوں کی برائی سے سماج کو پاک کرنا ہوگا۔

ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا شریعت کے کھولے ہوئے دروازوں کو بند کرنا ہے، اور حلالہ کرنا شریعت کے بند کئے ہوئے دروازے کو کھولنا ہے، اور یہ دونوں ہی اللہ کو ناراض کرنے والے کام ہیں۔

ملک کی پارلیمنٹ یا عدالت حلالہ کے سلسلے میں کوئی قانون بنائے تو ہمارا صحت مند رد عمل کیا ہوگا اس پر ابھی سے سوچنا چاہئے۔ لیکن اس سے بہت زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں ایک مجلس کی تین طلاقوں کی طرح حلالہ کے معاملے کو بھی اہل وطن میں اسلام کو بدنام کرنے اور خود مسلمانوں کو اسلام سے بدگمان کرنے کے لئے ضرور استعمال کریں گی۔ اسلام سے محبت کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا داغ بھی اسلام کی پیشانی سے مٹائیں، اور حلالہ کا داغ بھی اسلام کی پیشانی سے مٹائیں۔ اللہ کی پاک وصاف اور حسین وجمیل شریعت ایسے داغوں سے پاک ہے۔

مزید دکھائیں

محی الدین غازی

ڈاکٹر محی الدین غازی معروف اسلامی مفکر، دانش ور اور مصنف ہیں۔ آپ کے پسندیدہ موضوعات خواتین اور تحریک اسلامی، اسلامی معاشیات، فقہی اختلافات میں اعتدال کی راہ اور مسلم خاندان ہیں۔ آپ کی حالیہ کتاب 'نمازکے اختلافات اور ان کا آسان حل' میں آپ نے علمی لیکن عام فہم انداز میں ثابت کیا ہے کہ نماز میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے اور جو بھی اختلافات موجود ہیں وہ تمام کے تمام عملی تواتر سے ثابت ہیں۔

متعلقہ

Close