فقہمذہب

خرید و فروخت میں غلط بیانی کا حکم

شادمحمدشاد  

جھوٹ کی خواہ کوئی بھی صورت ہو یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ سرورِ دوعالمﷺکا ارشاد ہے کہ ”جھوٹ انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف“۔ (بخاری، حدیث نمبر:6049)ایک اور موقعہ پر آپﷺ نے جھوٹ کو نفاق کی علامت قراردیا ہے۔ (بخاری، حدیث نمبر:34)

 خریدوفروخت اور تجارتی معاملات میں غلط بیانی یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایک فریق دوسرے کو لبھانے کے لیے ایسی بات بیان کرےجس پر اعتماد کرتے ہوئے دوسرا فریق معاملہ کرنے پررضامندی ہوجائے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ حقیقت اس کے خلاف ہے جو پہلے فریق نے بیان کی تھی۔

تجارتی معاملات میں  جھوٹ بولنا عام جھوٹ سے زیادہ قبیح اور بُرا ہے، کیونکہ اس میں جھوٹ  بولنے والا غلط بیانی کے ساتھ ساتھ دھوکہ کی قباحت اور دوسرے انسان کے حق کو ضائع کرنے یا دوسروں کا مال ناحق کھانے کابھی سبب بنتا ہے۔ حضورﷺنے فرمایا”جوشخص دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ (مسلم، حدیث نمبر:101)

 جہاں تک تجارتی معاملات میں غلط بیانی کے دنیوی اثر کی بات ہے تو مختصر طور پر ان کی درج ذیل تین صورتیں ہیں :

1۔ چیز کی جنس میں غلط بیانی

 جو چیز بیچی جارہی ہے اس کی جنس بیان کرنے میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینا۔ مثلا جیولری بیچنے والا یوں کہے کہ یہ سونے کی جیولری ہےاور خریدار اس کی بات پر اعتماد کرکے جیولری خرید لیتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوجائے کہ یہ جیولری سونے کی نہیں ہے، بلکہ سونے کے پانی سے ملمع چاندی کا زیور ہے۔ اس صورت میں یہ معاملہ باطل ہے، لہذافروخت کنندہ پرلازم ہے کہ خریدار کو اس کی قیمت واپس کردے اور خریدار اس کا زیور واپس کردے۔

2۔ چیز کی صفت میں غلط بیانی

بیچی جانے والی چیزمیں کسی ایسی صفت کو بیان کرنا جو درحقیقت اس چیز میں نہ ہو۔ مثلا گاڑی بیچنے والا کہے کہ یہ نئی گاڑی ہے یا جاپان کی بنی ہوئی ہےیا یہ موبائل پین پیک ہے۔ خریدار اس کی بات پر اعتماد کرکے گاڑی یا موبائل  خریدلیتا ہے، لیکن بعد میں حقیقت اس کے خلاف نکلے۔ گاڑی نئی نہ ہو، یا جاپان کی نہ ہو یا موبائل استعمال شدہ ہو۔ ایسی صورت میں خریدار کو معاملہ ختم کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔

3۔ چیزکی مارکیٹ ویلیوبتانے میں غلط بیانی

  فریقین میں سے کوئی ایک بیچی جانے والی یا خریدی جانے والی چیز کی بازاری قیمت بتانے میں غلط بیانی سے کام لے۔ یہ غلط بیانی فروخت کنندہ بھی کرسکتا ہے اور خریدار بھی۔ مثلافروخت کنندہ نے کہا کہ اس چیز کی بازاری قیمت ایک ہزار روپے ہے، لہذا خریدار نے ہزار روپے میں چیز خرید لی، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس چیز کی بازاری قیمت پانچ سو روپے ہے۔ یا خریدار نے فروخت کنندہ کو کہا کہ اس چیز کی بازاری قیمت پانچ سوروپے ہے، لہذا فروخت کنندہ نے پانچ سو روپے میں چیز بیچ دی، لیکن بعد میں علم ہوا کہ اس چیز کی بازاری قیمت ہزار روپے ہے۔ اس صورت میں بھی جس شخص کے ساتھ غلط بیانی کئی گئی ہے اس کو معاملہ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ پہلی صورت میں خریدار کو اور دوسری صورت میں فروخت کنندہ کو یہ حق حاصل ہوگا کہ معاملہ ختم کردے۔ (فقہ البیوع 1/208)

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

متعلقہ

Close