فقہمذہب

دینی سوالوں کے جواب

 شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(1) :مستدرک حاکم کی حدیث نمبر 1990 کی صحت کیسی ہے جس میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھے گا تو یہ ننانوے مرض کی دوا ہے جس میں سب سے چھوٹی بیماری رنج وغم ہے۔

جواب: یہ حدیث ضعیف ہے، شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع میں ذکر کیا ہے۔

لا حولَ ولا قوةَ إلَّا باللهِ، دواءٌ مِنْ تسْعَةٍ وتسعينَ داءً، أيسرُها الهمُّ(ضعیف الجامع : 6286)

ترجمہ:”  لاحول ولاقوۃ الا باللہ ” ننانوے مرض کی دوا ہے جس میں سب سے چھوٹی بیماری رنج وغم ہے۔

اور بھی بہت سے محدثین کی نظر میں یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک ضعیف راوی ہے جس کا نام بشر بن رافع ہے۔

سوال (2) :زانی مردکا اس لڑکی سے نکاح کرنا جو زنا سے حاملہ ہے کیسا ہے ؟ اور اگر نکاح کرلیا ہے تو اس نکاح کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  زانی مرد یا زانیہ عورت سے شادی ناجائز وحرام ہے اور حمل میں شادی کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ طلاق، خلع اور وفات میں حمل کی عدت بیان کی گئی ہے تاکہ استبرائے رحم ہوجائے لہذا کوئی حمل کی حالت میں نکاح نہیں کرسکتا ہے اور زنا والی حاملہ سے تو ویسے بھی شادی جائز نہیں ہے الا یہ کہ زانیہ سچی توبہ کرلے۔ اللہ کا فرمان ہے :

الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)

ترجمہ:بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔

اگر کوئی مرد حاملہ عورت سے شادی کرلے تو یہ شادی باطل ہے۔

سوال (3): قبرستان میں اگے یا لگے گھاس پھوس اور درخت سے فائدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : قبرستان کے گھاس پھوس کاٹ کر لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ درخت کا معاملہ الگ ہے، گوکہ اس سے بھی فائدہ اٹھا نا جائز ہے اگر آپ خود پیدا ہوئے ہوں مگر اس کے کاٹنے میں بعض جگہ فتنہ  کھڑا ہوسکتا ہے اس لئے گاؤں یا شہر کی کمیٹی کے باہمی مشورہ سے درخت کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے مثلا قبرستان کی ضرورت یا فقراء ومساکین کی امداد کے لئے۔  اگر فتنہ کا اندیشہ نہیں تو پھر اسے کاٹنے میں یا اس کا پھل کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال (4): میرا شوہر انتقال کرگیا ہے تو میں عدت انگریزی تاریخ کے حساب سے گزاروں گی یا عربی تاریخ کے حساب سے ؟

جواب : اسلامی عبادات کا تعلق عربی تاریخ سے  ہے اس لئے شوہر کی وفات کی عدت میں  آپ عربی تاریخ کا حساب رکھیں گی۔

سوال (5): اگر صاحب جائیداد عورت کا انتقال ہوجائے اور اس کے شوہر، بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو کس طرح وراثت تقسیم ہوگی ؟

جواب :  اس صورت میں شوہر کو  بیوی کے چھوڑے ہوئے کل مال میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور لڑکے ولڑکیوں کے درمیاں "للذکرمثل حظ الانثیین” کے تحت باقی بچے مال کو تین حصہ کرکے دو حصہ لڑکوں میں ایک حصہ لڑکیوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔

سوال (6): کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ جزی اللہ عنا محمد ما ھو اھلہ پڑھنے والے کے لئے ستر فرشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں۔ بحوالہ مجمع الزوائد : 17305)

جواب : اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔

مَن قالَ : جزَى اللَّهُ عنَّا محمَّدًا قالَ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ بما هوَ أهلُهُ، أتعَبَ سبعينَ كاتبًا ألفَ صَباحٍ(السلسلۃ الضعیفۃ:1077)

ترجمہ: جو کہے ” جزی اللہ عنا محمد ما ھو اھلہ” اس کے لئے ستر فرشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں۔

سوال (7): لڑکے کی شادی میں باپ کافی پیسہ خرچ کرتا ہے جیسے اس کے گھر کی سجاوٹ پہ تاکہ لڑکا ناراض نہ ہوجائے اور یہی خرچ لڑکی کے والد لڑکی  کی شادی میں سامان دینے پر کرے جسے سماج میں جہیز کہاجاتا ہے تو برا کیوں ؟ جبکہ قرآن میں اولاد کے درمیان انصاف کرنے کا حکم ہے۔

جواب : لڑکے کے باپ کا  اس کی شادی پہ فضول خرچ کرنا مثلاگھروگاڑی  کی سجاوٹ یا  پھول مالا پہ ناجائز ہے اور اسی طرح لڑکی کے باپ کا اپنی بیٹی پہ بے جا خرچ کرنا اور سماج و سسرال کے ڈر سے جہیز کی بار گراں  رسم ادا کرنا شرعا غلط ہے۔ ان دونوں کاموں کا اولاد کے درمیان عدل وانصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لڑکا اور لڑکی کے والدین کوشادی میں جائز امور پہ پیسہ صرف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

سوال (8): کیاوالد کی میراث میں اس لڑکے کا مال بھی شامل کرکے تقسیم کیا جائے گا جس نے کماکر باپ کو دیا ہو یا وہ مال الگ کرکے ؟

جواب :  جب بیٹے باپ کے ساتھ شامل ہوں تو سارے بیٹوں کا دیا ہوا پیسہ باپ کی میراث میں شامل ہوکر تقسیم ہوگا کیونکہ یہ مشترکہ مال ہوگا جس طرح باپ کی زندگی میں بیٹے کا کمایا ہوا مال مشترکہ خرچ کیا جاتا تھا۔

سوال(9): عمرہ کے لئے غسل کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

جواب : عمرہ کے لئے غسل کرنا مسنون ہے اورعمرہ کے لئے غسل کا کوئی خاص طریقہ نہیں ہے بلکہ اسی طرح غسل کریں گے جس طرح جمعہ کے لئے غسل کرتے ہیں۔ غسل میں ایک بات خاص دھیان دیں کہ طہارت حاصل کرنے کی نیت سے غسل کرنے میں پورا بدن بھیگنا ضروری ہے حتی کہ بال کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے اور ناک ومنہ میں بھی پانی داخل کیا جائے۔

سوال(10): قبر میں آٹھ لوگوں سے سوال نہیں کیا جائے گا؟اس بات  کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب : شامی کے حوالے سے یہ بات لوگوں میں ذکرکی جاتی ہے کہ شہید،مرابط،مرضِ طاعون سے انتقال ہونے والا،طاعون کے زمانہ میں طاعون کے علاوہ کسی مرض سے فوت ہونے والا،صِدّ یق،بچے،جمعے کے دن یا رات میں مرنے والا،ہر رات سورہ تبارک پڑھنے والاقبر کے سوال سے محفوظ رہے گا۔

پہلے یہ جان لیں کہ ایک ہے فتنہ قبر اور ایک ہے عذاب قبر،دونوں میں فرق ہے۔ حافظ ابن حجرؒ وغیرہ نے فتنہ قبر سے مراد منکر نکیر کا سوال کرنا لیاہے اسی وجہ سے ان فرشتوں کو فتان کہتے ہیں اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ کئی قسم کے افراد قبر کے فتنے سے محفوظ رہیں گے، اسکا  مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ منکرنکیر کے سوال کے فتنے سے بچ جائیں گے۔ صحیح احادیث کی روشنی میں وہ لوگ شہید، مرابط(اسلامی سرحد کی نگرانی کرنے والا)، جمعہ کے دن یا رات میں وفات پانےوالا ہے۔

سوال (11) کیا جو اذان دے گا وہی اقامت کہہ سکتا ہے ؟

جواب : بیہقی اور ابوداؤد وغیرہ میں ایک حدیث ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے مگر وہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس سے استدلال نہیں کیا جائے گالہذا مؤذن کے علاوہ بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔

سوال(12):  جب انسان موت کے قریب ہو اس کے پاس سورہ یسین پڑھنا کیسا عمل ہے ؟

جواب : اس سلسلے میں کئی روایات ملتی ہیں۔

پہلی روایت:اقرؤوا على موتاكم يس. (أخرجه أبو داود في كتاب الجنائز، باب القراءة عند الموت برقم 3121، وابن ماجه في كتاب ما جاء في الجنائز، باب ما جاء فيما يقال عند المريض إذا حضر برقم 1448)

ترجمہ: تم اپنے میت کے پاس سورہ یسین پڑھو۔

دوسری روایت:اقرؤوها عند موتاكم(أخرجه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان)

ترجمہ: تم اسے اپنے میت کے پاس پڑھو۔

تیسری روایت: عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ ( روى أحمد: 19789 وأبو داود :3121)

ترجمہ: معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:تم لوگ سورہ یسین اپنے مردوں کے پاس پڑھو۔

مذکورہ بالا تینوں روایات ضعیف ہیں۔ بعض محدثین نے پہلی روایت کو صحیح قرار دیا ہے حالانکہ یہ بھی ضعیف ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میت کے پاس یعنی جن کی موت کا وقت قریب ہو ان کے پاس سورہ یسین پڑھنا کیسا ہے۔

اس سلسلہ میں علماء کے دو اقوال ملتے ہیں۔ (1) سورہ یسین پڑھنا جائز ہے۔ (2) پڑھنا جائز نہیں ہے۔

اب علماء کے اقوال دیکھیں :

(1) شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے محتضرکے پاس سورہ یسین پڑھنے کو مستحب قرار دیاہے۔ (الاختيارات ص 91)

(2)امام مالک نے مکروہ قرار دیا ہے۔ (الفواكه الدواني1/284)

(3) شیخ البانی ؒ نے احکام الجنائز میں لکھا ہے : محتضر کے پاس سورہ یسین پڑھنا، اسے قبلہ رخ کرنا، اس سلسلہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(4)شیخ ابن بازؒ نے لکھا کہ مریض کے پاس قرآن پڑھنا مستحسن ہے مگر سورہ یسین کی تخصیص صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سلسلہ میں احادیث ضعیف ہیں۔

(5)شیخ ابن عثیمین ؒ نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس عمل کوحديث ( اقرأوا على موتاكم يس )کی وجہ سے صحیح قرار دیا ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے۔

مذکورہ بالااقوال کی روشنی میں بھی پتہ چلتا ہے کہ مرنے والے کے پاس سورہ یسین پڑھنا صحیح نہیں ہے اور احادیث سے اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔

سوال (13) : ایک عورت کا سوال ہے کہ اس کے گھر میں شوہر کے علاوہ دیور اور جیٹھ بھی رہتے ہیں کیا وہ عورت خوشبو استعمال کرسکتی ہے ؟

جواب: گاؤں دیہات میں اکٹھے دیور وجیٹھ کے ساتھ عورت کا مل جل کر رہنا سہنا اور کام کاج کرناانتہائی خطرناک ہے، اس کے بڑے مفاسد ہیں۔ کوئی پردہ نہیں، ستر کے اعضا ء کا ان پر ظاہر ہونے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اکثر کام کاج میں بے حجابی رہتی  ہےکیونکہ اکثران لوگوں کا گھر میں بلاجھجھک آنا جانا رہتا ہے اور انہیں کھانا کھلانا، پانی پلانااور دوسرے کاموں پر عورت کومدد کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ دیور اور جیٹھ عورت کے لئے نامحرم ہے ان سے پردہ کرنا ہے، بدن کا پورا حصہ ان سے چھپانا ہے اور ان کے سامنے زینت کا اظہار نہیں کرنا ہے، خوشبو لگاکر ان کے پاس آنا یا ان کے پا س سے گزرنا بھی منع ہے لہذا ان باتوں کا خیال کرکے رہے۔

سوال(14): کیا یہ بات صحیح ہے کہ جہاں آدھی دھوپ اور آدھا چھاؤں ہو وہاں نماز نہیں ہوتی ہے ؟

جواب : دھوپ اور سایہ میں نماز نہیں بلکہ بیٹھنے کی ممانعت ایک حدیث میں آئی ہے، یہ ممانعت حرام کے قبیل سے نہیں ہے بلکہ کراہت کے قبیل سے ہے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ خودنبی ﷺ سے دھوپ اور سایہ میں بیٹھنا ثابت ہے۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے میرے بلاگ پر جائیں۔

سوال (15): آج ایک بہن کا کورٹ کے ذریعہ خلع ہوا مگر خلع کے کاغذات ایک ہفتہ بعد ملیں گے تو خلع کی عدت کب سے شروع ہوگی ؟

جواب : خلع کی عدت اس وقت سے شمار ہوگی جس دن خلع ہوئی ہے، پیپر ایک ہفتہ بعد ملے یا اس سے بھی زیادہ بعد اس کا اعتبار عدت کی شروعات میں نہیں ہوگا۔

سوال (16): مسجد میں تلاوت قرآن کے دوران کبھی کبھی فرش پہ قرآن مجید رکھنے کی ضرورت پڑجاتی ہے کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

جواب :  پاک فرش پر قرآن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پاس میں ریحل، اونچی جگہ یا آدمی بیٹھا ہوتو اسے تھمادیں ورنہ ضرورت کے تحت پاک فرش پہ کہیں بھی قرآن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال (17) : کیا قرآن کو چومنا جائز ہے ؟

جواب :  یہ عمل رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرا م سے ثابت نہیں ہے اگر کوئی ثواب کی نیت سے ایسا کرتا ہے تو یہ بدعت ہے اور اگر بلاثواب کرتا ہے توبھی ایسا نہ کرے کیونکہ اس عمل کا ثبوت نہیں ہے۔ ہمارے لئے ہردینی کام کے واسطے کتاب وسنت سے دلیل چاہئے۔

سوال (18): کیا کسی محدث سے کہیں یہ کہنا ثابت ہے کہ ضعیف حدیث بیان کرنے میں اور اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ آدمی کو حدیث کا ضعف معلوم ہو؟

جواب :  محدثین نے حدیث پر تحقیق کرکے اس کی صحت وضعف کا حکم لگادیا ہے لہذا ہمیں بھی حدیث کو اس کے حکم کے ساتھ بیان کرنا چاہئے گرچہ حدیث صحیح ہو(سوائے بخاری ومسلم کےکیونکہ ان کی ساری احادیث صحیح ہیں )لیکن اگر حدیث ضعیف ہے تو لامحالہ اس کا ضعف بیان کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو اس کے ضعف کا علم ہوسکے اور اس پر عمل نہ کرے۔

سوال(19) : موبی کیش اکاؤنٹ میں 1000 سے زائد رقم رکھنے پر فری منٹ ملتے ہیں اس بابت رہنمائی فرمائیں۔

جواب :  میری معلومات کی حد تک موبائل کمپنی کا  موبی کیش پروگرام انشورنس کے کاموں میں بھی ملوث ہے اس لئے اس میں اکاؤنٹ کھلوانا سود کے کاموں پر تعاون ہے، نیز اس میں اکاؤنٹ بناکر ایک متعین رقم رکھنا اس کے بدلے فائدہ اٹھا نا قرض سے فائدہ اٹھانے کے متبادل ہے اس لحاظ سے بھی میری نظر میں یہ کام جائز نہیں ہے۔

سوال(20): بٹکوائن کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

جواب : بٹکوائن انٹرنیٹ کی دنیا میں کرنسی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کرنسی کا وجود باہری دنیا میں نہیں صرف نٹ کی دنیا میں ہے اس لئے یہ ڈیجیٹل کرنسی میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بات صحیح ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اسے کرنسی کے طور پر تسلیم کرتی ہیں اور اپنے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دیتی ہیں، بعض ممالک میں اسے بحیثیت کرنسی تسلیم بھی کرلیا گیا ہے۔ یہ بٹکوائن انٹرنیٹ پہ مختلف پراسیس اور اعمال انجام دینے پہ حاصل ہوتے ہیں جو محنت والے ہیں۔ بظاہر اس کے استعمال میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے۔ اس کے کچھ نقصانات یا قابل نقص پہلو بتلاکر  بعض اہل علم نے اس کے استعمال سے منع کیا ہے مگر وہ قابل توجہ امر معلوم نہیں ہوتا۔ میری نظر میں اس کے استعمال میں اس وقت تک کوئی حرج نہیں ہےجب تک اسے غیر قانونی یا مکمل طور پرمضر نہ تسلیم کیا جائے۔

سوال(21) : کیا سات دن، یا چودہ دن یا اکیس دن کے بعد عقیقہ کرنے سے عقیقہ ہی ہوگا یا صدقہ ہوگاجیساکہ عید سے پہلے قربانی کرنے سے صدقہ ہوجاتا ہے؟

جواب : ساتویں دن عقیقہ کرنا مسنون ہے اور علماء کی اکثریت اس بات کا قائل ہے کہ جو ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے وہ بعد میں جب سہولت ہوعقیقہ کرلے یہ بات زیادہ مناسب ہے کیونکہ ہربچہ اپنے عقیقہ کے عوض کروی ہوتا ہے، تو جو عقیقہ ساتویں دن کے بعد دیا جائے عقیقہ ہی ہوگا، صدقہ تو عام ہے۔ اگر ساتویں دن کے بعد عقیقہ عام صدقہ شمار ہوتو پھر علماء بعد میں عقیقہ کرنے کا جواز نہیں بیان کرتے بلکہ یہ کہتے بچہ کی طرف سے صدقہ کرو اور صدقہ میں عقیقہ کی طرح جانور ذبح کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ نماز عید سے پہلے قربانی کرنے کو ساتویں دن بعد عقیقہ کرنے پر منطبق نہیں کیا جائے گا۔قربانی اور عقیقہ دونوں الگ الگ ہے اور ان دونوں کے الگ الگ احکام ہیں۔

سوال(22) : بعض ممالک مثلا جرمنی وغیرہ میں احمدی فرقہ میں شامل ہوجانے سے وہاں کی شہریت مل جاتی ہے ایسی شہریت حاصل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

جواب :مادی چیز کے بدلے اپنے ایمان کا سودا کرنا ہے، جرمنی والے اپنی شہریت اس لئے ہی دیتے ہیں کہ آدمی اپنا ایمان احمدی کے ہاتھوں بیچ ڈالے اور پھر ایسا بھی نہیں ہوگا کہ یہ احمدی مشن شہریت دے کر آدمی کویونہی چھوڑ دے، اس کے پیچھے ضرور کوئی  بہت بڑا منصوبہ ہوگا۔ کسی مسلمان کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ جرمنی کی شہریت کے لئے احمدی ہونے کا اقرار کرے چہ جائیکہ اس کا دل  اسلام پہ مطمئن ہو۔

سوال(23): کیا ہم تین بجے نماز تہجد پڑھ سکتے ہیں جبکہ فجر کی اذان ساڑھے چار بجے ہو؟

جواب :  تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے لیکر فجر کی اذان تک ہےکیونکہ نبی ﷺ سے شروع رات، درمیانی رات اور آخری رات تینوں اوقات میں تہجد پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے تاہم رات کے آخری پہر میں ادا کرنا بہتر ہے۔ سوال میں مذکور وقت تہجد کے لئے  بہتر ہے۔

سوال(24): ٹھیکہ پہ کام کرنے والا آدمی جگہ کی کھدائی یا مکان کی تعمیر کا ٹھیکہ لیتا ہے وقت کی تعیین نہیں ہوتی ہے، اس ٹھیکہ میں اکثر فائدہ اور کبھی کبھی نقصان ہوجاتا ہے اس قسم کے روزگار کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  یہ ایک قسم کی تجارت ہے اور عام طور سے اس میں ٹھیکیدار کو فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ٹھیکہ لینے والا یہ طے کرتا ہے کہ اتنے پیسے میں یا اتنی مزدوری میں یہ کام کرکے دے دوں گا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہاں تودونوں طرف کے لوگوں کو فائدہ ہے، ایک طرف جلدی کام ہوجاتا ہے تو دوسری طرف جلدی کام کرنے کا فائدہ زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ تجارت میں نقصان کا پہلو تو موجود ہے، ایک شخص حلال کاروبار میں پیسہ لگاتاہے اور سارا ڈوب جاتا ہے یہ ممکن ہے اس نقصان کی وجہ سے کوئی کاروبار ناجائز نہیں کہلائے گا۔

سوال (25): ہاروت وماروت فرشتے تھے یا شیطان دلیل سےبتائیں ؟

جواب : شیطان کبھی برائی سے نہیں روکتا جبکہ ہاروت وماروت کے قصے میں قرآن میں مذکور ہے کہ وہ لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور کہتے تھے ہم آزمائش ہیں۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ہاروت وماروت اللہ کی طرف سے بھیجے گئےآزمائش کے طور پرفرشتے تھے شیطان نہیں تھے۔

سوال(26): دس سال کی ایک لے پالک بچی ہے اسکول پڑھنے جاتی ہے، اسکول فارم پہ لازما باپ کا نام چاہئے جبکہ اس کے باپ کا پتہ نہیں، کیا اسے گود لینے والا اپنا نام دے سکتا ہے؟

جواب :  اسکول والے کو بتلایا جائے کہ یہ لے پالک ہے اس کے حقیقی باپ کا علم نہیں ہے، اسے گود لینے والے سرپرست کی حیثیت سے فارم پہ نام لکھیں، مجبوری میں بھی والد کے خانہ میں نام لکھنے سے آگے میراث کا مسئلہ ہوگا کیونکہ لے پالک کے لئے میراث میں حصہ نہیں ہے۔ لہذا لے پالک کو لے پالک ہی رہنے دیں، اللہ تعالی نے کسی بچہ کو دوسرے باپ کی طرف منسوب کرنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس کا باپ نہیں معلوم تو وہ تمارے دینی بھائی ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے :

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الاحزاب:5)

ترجمہ: لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ گناہ وہ ہے جسکا تم ارادہ دل سے کرو اللہ تعالٰی بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔

سوال (27): نبی ﷺ کا دودھ پلانے والی کتنی خاتون تھیں ان کا نام بتائیں۔

جواب : آمنہ کے بعد نبی ﷺ کو ابولہب کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، بخاری (5101)میں مذکور ہے "أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ ” (مجھ کواور ابو سلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے )۔ اور ایک دوسری خوش نصیب خاتون حلیمہ بنت ابی ذُوَیب ہیں جو تعارف کی محتاج نہیں۔

سوال(28): شریعت کی روشنی میں نائی کی دوکان کھولنا کیسا ہے جبکہ داڑھی بھی مونڈنے والے آتے ہیں ؟

جواب : نائی کی دوکان کھولنا اپنی جگہ درست ہے اور اس دوکان میں لوگ داڑھی منڈوانے  بھی آتے ہیں اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اگر کوئی نائی کے کام میں شریعت مخالف کام سے بچ سکے مثلا داڑھی منڈنا، سفید بالوں میں کالا خضاب لگانا، بال کاٹنے میں غیروں کی مشابہت اختیار کرنا وغیرہ تو اچھا ہے اور ان کاموں سے نہ بچ سکے تو کوئی اور کاروبار کرے۔

سوال(29): 12/ربیع الاول سے پہلے نبی ﷺ کو  پانچ کروڑ درود کا تحفہ بھجنا چاہتے ہیں اس کے لئے کچھ لڑکے واٹس ایپ پہ درود لکھ کر ایک دوسرے کو شیئر کررہے ہیں ایسا کرنے کا حکم بتائیں۔

جواب : نبی ﷺ پر متعین کرکے پانچ کروڑ درود بھیجنا اور اس کے لئے وقت متعین کرنا دونوں کام بدعت کے ہیں، اس کام پر بدعتیوں کی مدد نہ جائے، ایسے میسج آگے بھیجنے کی بجائےفورا ڈیلیٹ کردئےجائیں۔

سوال(30): تسبیح کے دانہ پہ ذکر کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں ؟

جواب : گوکہ بعض علماء نے اس کا استعمال جائز کہا ہے تاہم ان علماء نے بھی اسے چھوڑدینا اولی اور انگلیوں پہ ذکر کرنا افضل قرار دیا ہے۔ میں صاف لفظوں میں اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مخالفت سمجھتا ہوں، آپ ﷺ سے ثابت ہے کہ وہ انگلیوں پر ہی ذکر کیا کرتے تھے تو ہمیں آپ ﷺ کی اقتداء میں انگلیوں پر ذکر کرنا چاہئے۔ آج کل تسبیح کے دانوں پہ ذکر کرنے والوں سے  ریاکاری زیادہ ظاہر ہوتی ہے اس وجہ سے بچنا اور بھی اولی ہے۔ ذکر عبادت ہے اس عبادت کا سرعام اظہار شرک میں وقوع کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی اکیلے میں یا مسجد میں  اس دانے کا استعمال کرتا ہے تو اس میں عیب نہیں ہے مگر اسے مجمع میں، بازا ر میں، ہوٹل میں، دوکانوں اور عوامی جگہوں میں استعمال  کرتا ہے تو یہ ریا کاری کا سبب ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

2 تبصرے

  1. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته. ایک مرد اور عورت جنکی شادی 29 سالوں سے ھو چکی۔۔۔مرد حقوقِ زوجیت نہیں ادا کر سکتا تھا ۔اس نے کبھی علاج بھی نہیں کرایا۔۔۔زندگی اسی طرح گزر گئی۔۔۔عورت شادی کے چند سالوں بعد اپنے والدین کے گھر آ گئی۔۔۔اب یہ وبال ۔الله کے ھاں سزا کا مستحق کون ھوگا۔جبکہ عورت نے تو دنیا میں بھی بہت کٹھن سزا کاٹ لی؟۔۔(طلاق بھی نہیں دی یا لی کیونکہ دونوں کزنز ھیں۔۔۔۔سزا کس کو ھوگی۔۔۔۔۔؟
    جبکہ عورت نے اپنے بڑوں کو بھی بتایا کہ وہ اس طرح نہیں رہ سکتی۔مگر انہوں نے خاموش رھنے کو بولا اور کہا کہ یہ سب ضروری نہیں ۔جس کے لیئے تم تعلق توڑنا چاھتی ھو۔۔۔پلیز جواب فرمائیں۔۔۔

متعلقہ

Back to top button
Close