دعوتمذہب

رمضان المبارک: فضائل، فوائد اور مسائل!

محمدجمیل اخترجلیلی

 رمضان المبارک کا مہینہ بے شمار رحمتوں ، برکتوں اورفضیلتوں کامہینہ ہے، یہاں پر چندموٹے موٹے فصائل ذکرکئے جاتے ہیں :

(1): روزہ دار کے منھ کی بو، مشک وعنبرکی خوشبوسے بہترہے: سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں ؛ لیکن کسی مہینے کی یہ خصوصیت نہیں ہے کہ اس مہینہ میں کسی انسان کے منھ کی بومشک کی خوشبوسے زیادہ خوشبودارہوجائے، یہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے، اورخوشبوکی یہ تیزی اورعمدگی انسانی ذوق کے مطابق نہیں ؛ بل کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک یہ اہمیت ہے، آپ اکاارشادہے: لخلوف فم الصائم أطیب عنداللہ من ریح المسک۔ (بخاری، کتاب الصوم، حدیث نمبر: 1894)’’روزہ دارکے منھ کی بواللہ کے نزدیک مشک سے بہترہے‘‘

(2): مردودجنات اورشیاطین قید کردئے جاتے ہیں :گیارہ مہینے انسا ن شیطانی بہکاوے او رنفسانی خواہش کی پیروی کرتے نہیں تھکتا، جس کے نتیجہ میں وہ بہت سارے خیرکے کاموں سے محروم رہتاہے، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خاص فضل ہے کہ رمضان المبارک کے موقع سے اُن متروکہ بھلائیوں کی تلافی کے لئے مردودشیاطین اورجنات کوپابہ زنجیر کردیتاہے؛ تاکہ انسان ہرطرح کے بہلاوے اورپھسلاوے سے محفوظ رہ کرخیرکے کاموں کوانجام دے سکے اورگیارہ مہینے جن بھلائیوں سے محروم رہا، ان کو انجام دے کر اپنی آخرت سنوار سکے، حدیث ِ پاک میں آتاہے: إذاکان أول لیلۃ من شہررمضان ، صفدت الشیاطین، ومردۃ الجن۔(ترمذی، ابواب الصوم، حدیث نمبر: 682)’’جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے، توشیاطین اورسرکش جنات بیڑیوں میں جکڑدئے جاتے ہیں ‘‘۔

(3): جنت کے درواز ے کھول دئے جاتے ہیں : گیارہ مہینوں میں جنت کے دروازے خاص خاص موقعوں سے کھولے جاتے ہیں ؛ لیکن رمضان المبارک کی یہ خصوصیت ہے کہ مہینہ بھراس کے دروازے کھلے رہتے ہیں ، انسان جب اورجس وقت چاہے ایک قدم بڑھاکراس میں داخل ہوسکتاہے، حدیث شریف میں ہے: إذاجاء رمضان، فتحت أبواب الجنۃ، وغلقت أبواب النار (مسلم، کتاب الصیام، حدیث نمبر: 2495)’’جب رمضان آجاتاہے توجنت کے دروازے کھول اورجہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ‘‘۔

(4): جہنم کے درواز ے بند کردئے جاتے ہیں :جس طرح رمضان المبارک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پورے مہینے تک جنت کے دروازے کھلے رہتے ہیں ، اسی طرح ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ پورے مہینے تک جہنم کے دروازے بندکردئے جاتے ہیں کہ اگرانسان پرانی عادت کے مطابق گناہ کی طرف قدم بھی بڑھاناچاہے توبھی اس کا قدم خیر کی طرف ہی اُٹھے۔

(5): اس مہینہ میں ہزارمہینوں سے افضل ایک رات ہے: رمضان المبارک کی ایک اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینے میں ایک ایسی رات آتی ہے، جسے قرآن نے ہزارمہینوں سے بہترقرارادیاہے، ارشاد باری ہے: لیلۃ القدرخیرمن ألف شہر۔{القدر:۳} یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اورخصوصیت کے ساتھ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے، اس رات میں کی ہوئی عبادت کاثواب ہزارمہینوں میں کئی ہوئی عبادت کے برابرہے، اوراس رات کی عبادت سے محرومی کومحروم القسمتی کہاگیاہے، حدیث شریف میں ہے: من حرم خیرہا، فقد حرم۔(نسائی، باب فضل شہر رمضان، حدیث نمبر: 2108) ’’جواس کی بھلائیوں سے محروم رہا، وہ محروم (القسمت) ہے‘‘۔

(6): ایمان اورامیدِثواب کے ساتھ روزہ رکھنے سے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں : ماہِ رمضان کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس مہینہ کا روزہ اگرایمان کے ساتھ اورثواب کی امید رکھتے ہوئے رکھاجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردیتے ہیں ، اللہ کے رسول ا کاارشاد ہے:من صام رمضان إیماناً واحتساباً، غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ (بخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، حدیث نمبر: 2014)’’جس نے ایمان اورثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ‘‘۔

(7): روزہ، روزہ دارکے لئے ڈھال بنتاہے: جوشخص روزہ رکھتاہے، وہ گناہوں سے بچارہتاہےاورجوگناہوں سے بچارہتاہے، ظاہرہے کہ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا، یہی وجہ ہے کہ روزہ کوروزہ دارکے لئے ایک ڈھال قراردیاگیاہے، آپ ا کاارشادہے: الصیام جنۃ۔ (بخاری، کتاب الصوم، حدیث نمبر: 1894)’’روزہ ڈھال ہے‘‘، کس چیز سے ؟ اس کی تشریح میں علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں : وانماکان الصوم جنۃ من النار؛ لأنہ إمساک من الشہوات، والنار محفوفۃ بالشہوات۔ (عمدۃ القاری: 8/9) ’’اورروزہ دوزخ سے ڈھال اس وجہ سے ہے کہ یہ(روزہ) شہوات(نفسانی خواہشات) سے رکنے کا نام ہے اورجہنم شہوات سے گھری ہوئی ہے‘‘،امام نووی ؒ لکھتے ہیں کہ’’روزہ گناہ اورجھگڑے سے روکاوٹ ہے‘‘۔(شرح النووی علی صحیح مسلم، باب فضل الصیام، حدیث نمبر: 2705)

(8):فرض نمازوں کا ثواب سترگنابڑھادیاجاتاہے: عام دنوں میں انسا ن جب کوئی نماز پڑھتاہے تواس کاثواب اللہ تعالیٰ کے عام قانون من جاء بالحسنۃ فلہ عشرأمثالہا {الأنعام: 160}’’جوشخص نیک کام کرے گا، اس کو اس کے دس گناملیں گے‘‘، کے مطابق دس گنا ملتاہے؛ لیکن رمضان المبارک کویہ فضلیت حاصل ہے کہ عمل کے اس ثواب میں عام قاعدہ سے ہٹ کرسترگنااضافہ کردیاجاتاہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:من أدی فریضۃ فیہ، کان کمن أدی سبعین فریضۃ فیماسواہ۔ (صحیح ابن خزیمہ، 3/191، حدیث نمبر: 1887)’’جوشخص اس مہینہ میں کسی فرض کواداکرے، وہ ایساہے، جیساکہ غیر رمضان میں سترفرض اداکرے‘‘۔

(9): روزہ دار جنت میں خاص دروازہ ’’ریان‘‘ سے داخل ہوں گے: جنت میں داخلہ کے لئے عام لوگوں کوایک ہی دروازے سے گزاراجائے گا؛ لیکن روزہ داروں کوایک خصوصی اعزاز سے نوازاجائے گااوروہ اعزاز یہ ہوگاکہ اُنھیں ’’ریان ‘‘نامی خاص دروازہ سے داخل ہونے کوکہاجائے گا، اس دروازے سے صرف روزہ دارہی داخل ہوسکیں گے، حدیث پاک میں ہے: إن فی الجنۃ باباً یقال لہ: ریان، یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ۔(بخاری، کتاب الصوم، حدیث نمبر: 1896)’’جنت میں ایک دروازہ ہے، جسے ریان کہاجاتاہے، قیامت کے دن اس دروازے سے روزہ دارداخل ہوں گے‘‘۔

یہ تو چند موٹے موٹے فضائل اورخصوصیات نقل کئے گئے ہیں ، ورنہ اس مہینہ کے فضائل اورخصوصیات بے حد وبے شمارہیں ، کاش ! ان فضائل کودیکھ کرہم میں سے ہرشخص تلافی مافات کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے، آمین!

روزہ کے فوائد

جس طرح رمضان المبارک اوراس کے روزے کے اپنے الگ الگ فضائل اورخصوصیات ہیں ، اسی طرح اس کے بہت سارے روحانی، معاشرتی اورجسمانی فائدے بھی ہیں ، ان میں سے چندیہاں پرنقل کئے جاتے ہیں :

روحانی فائد ے:

(الف): روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان کے اندرتقوی کا ملکہ پیداہوتاہے، جس کی وجہ سے روزہ دارفرشتوں کی صف میں کھڑاہوجاتاہے، اسی کے ساتھ ساتھ اس صفت کے وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعزت بھی قرارپاتاہے، ارشادِ باری ہے: إن أکرمکم عنداللہ أتقاکم{الحجرات: 13}’’بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک باعزت وہ ہے، جوتم میں سے زیادہ ڈرنے والاہے‘‘۔

(ب): جوشخص روزہ رکھتاہے، وہ صابربن جاتاہے کہ روزہ نام ہی کھانے پینے اورشہوات سے رکنے کاہے، انسان بازارجاتاہے، وہاں بہت سارے لوگوں کوکھانے پینے میں مصروف دیکھتاہے، طبیعت اس کی بھی چاہتی ہے اوربھوک بھی محسوس ہوتی رہتی ہے؛ لیکن پھربھی صرف اس وجہ سے ان چیزوں کوترک کردیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، اسی طرح کوئی اسے بُرابھلا کہتاہے، لیکن وہ جواب صرف اس وجہ سے نہیں دیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، ان چیزوں سے رکنا’’کفِ نفس‘‘ کہلاتاہے اورصبرکف نفس ہی کانام ہے۔

(ج): روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان اپنے نفس پرکنٹرول کرنے کاعادی بنتاہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص مغلوب الغضب ہونے کے باوجودرمضان کے مہینے میں لڑائی جھگڑے سے بہت زیادہ پرہیز کرتاہے، اوراگرکوئی اس سے منھ لگانے کی کوشش بھی کرتاہے تووہ وإذاخاطبہم الجاہلون قالواسلاماً’’اورجب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تووہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے‘‘{الفرقان: 63}پرعمل کرتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرلیتاہے۔

(د): پیٹ بھرارہنے کی وجہ سے انسان کی طبعی خواہشات میں ایک قسم کی ہلچل رہتی ہے اوردل لذت کوشی کے لئے بے چین رہتاہے، اسی طرح سیرابی کی وجہ سے انسان غفلت ، کوتاہی اورعجب وتکبرمیں مبتلاہوجاتاہے؛لیکن جب پیٹ خالی رہتاہے تویہ سب چیزیں پیدانہیں ہوتیں اورطبیعت میں تکسرکی کیفیت پیداہوجاتی ہے، جواللہ تعالیٰ کے نزدیک مطلوب بھی ہے۔

(ھ): روزہ ذکرواذکاراورغوروفکرکے لئے دل کوتمام طرف سے کاٹ کرمتوجہ کرنے میں ممدومعاون ہوتاہے۔

(و): روزہ رکھنے کی وجہ سے خون کی گردش سست ہوجاتی ہے، جوشیطان کے دوڑنے کی جگہ ہے، اس طرح شیطانی وساوس سے محفوظ رہتاہے۔

معاشرتی فائد ے:

(الف): مسلمان عمومی طورپر رمضان المبارک کے مہینے میں زکواۃ وصدقات اوردیگرخیرات وغیرہ نکالتے ہیں ، یہ محتاجوں کے ساتھ تعاون اوراحسان کا اظہارہوتاہے۔

(ب): افطارکے لئے لوگ عمومی طورپر جماعت کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اس سے آپسی اتحاد کاظہورہوتاہے۔

جسمانی فائد:

(الف): انسان کا نظامِ ہضم درست ہوجاتاہے۔

(ب): جسمِ انسانی سے زائدچربی اورموٹاپاگھٹ جاتاہے۔

(ج): ضرررساں فضلات جسم سے نکل جاتے ہیں ۔

(د): آنتوں کی صفائی ہوجاتی ہے۔

روزہ سے متعلق چنداہم مسائل

(1) روزہ کی حالت میں ہرطرح کی مسواک کرنادرست ہے، خواہ وہ نیم کی ہو یاکرونج کی ۔

(2)  ٹوتھ پیسٹ اورمنجن کااستعمال مکروہ ہے، جب کہ گل کا استعمال مکروہِ تحریمی ہے۔

(3) تھوک نگلنا، سریابدن میں تیل لگانا، عطروپھول وغیرہ سونگھنااورسرمہ لگاناجائزہے۔

(4) وضویا غسل کے دوران پانی حلق سے نیچے چلاجائے توروزہ ٹوٹ جائے گا۔

(5) کان میں دواڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، جب کہ دن میں آنکھ میں دواڈالنے سے پرہیز کرناچاہئے؛ کیوں کہ بسا اوقات دواکااثرحلق میں محسوس کیاجاتاہے۔

(6) استھماکے مرض میں انہیلر(INHALER)کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔

(7) روزہ کی حالت میں دانت اکھڑوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ لیکن خون اندرنہیں جانا چاہئے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گااوراُس کی قضالازم ہوگی۔

 (8) خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے۔

(9) انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ البتہ بیٹ میں لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

(10) قےسے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ لیکن منھ بھرکرآئی ہوئی قے کونگلنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔

(11) دل یا پیٹ کا آپریشن کروانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔

(12) سگریٹ ، بیڑی، حقہ، پان، کھینی، گٹکھااورچیونگم کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔

(13) بہت بوڑھے یا شوگرکے مریض کے لئے روزہ نہ رکھ کرفدیہ اداکرنے کی اجازت ہے۔

(14) روزہ کی حالت میں احتلام ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے۔

(15) بواسیرکے باہری مسوں پرمرہم لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے۔

(16) سانپ کے ڈسنے، بچھوکے کاٹنے، تیزبخاررہنے یاپیٹ وغیرہ میں سخت دردکی وجہ سے دواکھاکرروزہ توڑنے کی گنجائش ہے، البتہ بعدمیں اُس کی قضا لازم ہوگی۔

(17) بچہ کودودھ پلانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close