دعوتمذہب

رمضان المبارک کے فضائل

مقبول احمد سلفی

رمضان المبارک بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے باعث سعادت ہے ۔ یوں تو اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے بہتیرے مواقع ایسے ہیں جو باعث اجروثواب ہیں مگررمضان مقدس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ یہ رحمت وبرکت سے لبریز،بخشش وعنایت سے پر،مغفرت ورضوان کا مہینہ ہے ۔ اس کا ایک ایک دن اورایک ایک رات اور رات ودن کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت سے معطر ہے ۔

روزہ گوکہ سال میں ایک دفعہ اور فقط ایک مہینہ کے لئے آتا ہے مگر اس کے فیوض وبرکات اور آثارو نتائج کم ازکم سال بھرپر مرتب ہوتے ہیں ۔

قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں رمضان اور روزہ کے بے شمار فضائل ہیں ، انمیں سے چند ایک آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

(1) رمضان میں قرآن کریم کا نزول :

اللہ تعالی کا فرمان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ

ترجمہ : ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں ) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے ۔

(2) رمضان میں روزے کی فرضیت :

مذکورہ بالا آیت جو نزول قرآن سے متعلق ہے اس آیت میں روزے کی فرضیت کی بھی دلیل ہے ۔

(3) جنت کا دروازہ کھلنا:

(4) جہنم کا دروازہ بند ہونا:

(5) شیاطین کا قید کیا جانا:

مذکورہ بالا تینوں خصائص کی دلیل :

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

إذا جاء رمضان , فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النارو صفدت الششياطين – (صحیح مسلم :1079)

ترجمہ : جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دورازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔

مسلم شریف میں بایں طور بھی مروی ہے :

اذاکان فتحت ابواب الرحمۃ وغلقت ابواب جہنم وسلسلت الشیاطین .(صحیح مسلم :1079)

ترجمہ : رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔

(6) شب قدر :

اسی ماہ مبارک میں لیلة القدر ہوتی ہے، جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌ ﴾ (القدر: 3)

ترجمہ : شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

مجاہد ؒ کا قول ہے : اس رات کا عمل ، روزہ اور قیام ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے (تفسیرالقرآن العظیم 4/ 687)

یعنی ایک رات کی عبادت کم از کم تراسی سال چار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ، زیادہ کا کوئی شمار نہیں ۔

(7) مغفرت کا حصول :

جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے روزہ رکھے اس کے لئے پچھلے گناہوں سے مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

(8) قیام کرنے والوں کے لئے مغفرت کا حصول :

جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے رمضان شریف کی راتوں میں قیام کرے تواس کو سابقہ گناہوں سے گلوخلاصی ملتی ہے ۔

(9) شب قدرمیں قیام کرنے سے مغفرت :

چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه،‏‏‏‏ ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏(صحیح بخاری :2014، صحیح مسلم: 760)

ترجمہ : جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب کی نیت) کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ اور جو لیلۃالقدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔

(10) جہنم سے آزادی :

ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں :

"للہ عند کل فطرعتقاء ” (رواہ احمد وقال الالبانی ؒ : حسن صحیح )

ترجمہ : اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے ۔

ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت جسے علامہ البانی ؒ نے حسن قرار دیاہے اس میں مذکور ہے کہ ہررات اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی دیتا ہے ۔

روایت اس طرح ہے : إنَّ للَّهِ عندَ كلِّ فِطرٍ عتقاءَ وذلِك في كلِّ ليلةٍ ( صحيح ابن ماجه:1340)

ترجمہ: اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے، یہ آزادی ہررات ملتی ہے۔

(11) دعا کی قبولیت :

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان للہ تبارک وتعالی عتقاء فی کل یوم و لیلۃ یعنی فی رمضان – وان لکل مسلم فی کل یوم ولیلۃ دعوۃ مستجابۃ (صحیح الترغیب للالبانی: 1002)

ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ( رمضان المبارک میں ) ہردن اورہررات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اورہردن اورہررات ہرمسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔

(12) روزہ کا بدلہ بے حدوحساب :

(13) روزہ دار افطار کے وقت اور رب سے ملاقات کے وقت فرحت محسوس کرتا ہے :

(14) روزہ دار کے منہ کی بدبواللہ کے نزدیک مشک سے بہتر ہے :

ابوہریرہؓ سے مروی ہے :

قال اللهُ : كلُّ عملِ ابنِ آدمَ لهُ إلا الصيامَ ، فإنَّه لي وأنا أُجْزي بهِ, والصيامُ جُنَّةٌ ، وإذا كان يومُ صومِ أحدِكُم فلا يَرْفُثْ ولا يَصْخَبْ ، فإنْ سابَّه أحدٌ أو قاتَلَهُ فلْيقلْ : إنِّي امْرُؤٌ صائمٌ, والذي نفسُ محمدٍ بيدهِ لَخَلوفِ فمِ الصائمِ أطيبُ عندَ اللهِ من ريحِِ المسكِ ,للصائمِ فَرْحتانِ يفرَحْهُما إذا أَفطرَ فَرِحَ ، وإذا لقي ربَّه فَرِحَ بصومِهِ(صحيح البخاري:1904و صحيح مسلم:1151)

ترجمہ : اللہ تعالی فرماتا ہے : روزہ کے علاوہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں اور روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔ روزہ ڈھال ہے ۔ جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوتو وہ کوئی گناہ کا کام نہ کرے اور نہ وہ جھگڑا اور نہ ہی شور وشرابہ کرے ۔ اگر کوئی دوسرا اس سے زبان درازی کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی ہوا اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے ۔ روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک تو جب روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا ۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح مذکورہے :

كلُّ عملِ ابنِ آدمَ يضاعَفُ الحسَنةُ بعَشرِ أمثالِها إلى سَبعِ مائةِ ضِعفٍ إلى ما شاءَ اللَّهُ يقولُ اللَّهُ إلَّا الصَّومَ فإنَّهُ لي وأنا أجزي بِه يدَعُ شَهوَتَه وطَعامَه مِن أجلي (صحيح ابن ماجه:1335)

ترجمہ : ابن آدم کے ہرعمل کا بدلہ بڑھاکر دیا جاتاہے ، نیکی (بدلہ ) دس گنا سے سات سو گنا لکھی جاتی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے : سوائے روزے کے کہ یہ خالص میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔ وہ خواہشات اور کھانے کو میرے لئے ترک کرتا ہے ۔

(15) روزہ دار کے لئے جنت میں مخصوص دروازہ :

” عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان فی الجنۃ بابا یقال لہ الریان ، یدخل فیہ الصائمون یوم القیامۃ ، لایدخل منہ احد غیرھم ، فاذا دخلوا اغلق فلم یدخل منہ احد ( صحیح البخاری:1896،صحیح مسلم :1152 )

ترجمہ : سیدنا سہل بن سعد ؓنبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک جنت

میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے ، قیامت کے دن اس میں روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ اس میں داخل ہوجائیں گے تو اس دروازہ کو بند کردیا جائے گا، پھر اس میں کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا ۔

ترمذی میں ان الفاظ کی زیادتی ہے : ” ومن دخلہ لم یظما ابدا” جو اس میں داخل ہوگیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔روایت دیکھیں ۔

إنَّ في الجنَّةِ لَبابًا يُدعى الرَّيَّانَ . يُدعى لَه الصَّائمونَ ، فمَن كانَ مِنَ الصَّائمينَ دخلَهُ ، ومن دخلَهُ لَم يظمأْ أبدًا(صحيح الترمذي:765)

ترجمہ: جنت میں ایک دروازہ ہے اس کا نام ریان ہے ، اس دروازے سے روزہ داروں کو پکارا جائے گا۔ جوروزہ داروں میں سے ہوگاوہ اس میں سے داخل ہوگا اور جو اس میں داخل ہوگیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔

(16) روزہ جہنم سے ڈھال ہے :

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال : الصیام جنۃ وحصن حصین من النار (صحیح الجامع : 3880)

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے ۔

(17) روزہ خیروبرکت کا دروازہ :

عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال : الا ادلکم علی ابواب

الخیر ؟ قلت : بلی یا رسول اللہ ! قال : الصوم جنۃ ، الصدقۃ تطفی الخطیئۃ کما یطفی الماء النار (رواہ الترمذی وقال الالبانی ؒ : صحیح لغیرہ )

ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں خیر کے دروازوں کی خبر نہ دوں ، میں نے کہا کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے ۔ صدقہ گناہوں کوویسے ہی مٹادیتا ہے جیسےپانی آگ کو ۔

اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور شیخ البانی ؒ نے اس صحیح لغیرہ قرار دیا ہے ۔

(18) روزہ باعث سفارش :

عن عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ ، یقول الصیام : ای رب ، منعتہ الطعام والشھوۃ فشفعنی فیہ ، ویقول القرآن : ای رب ، منعتہ النوم باللیل فشفعنی فیہ ۔ قال : فیشفعان ( رواہ احمد والطبرانی وصححہ البانی ؒ )

ترجمہ : روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے) سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔

اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی ؒ نے صحیح قرار دیاہے ۔

(19) روزہ کی کوئی برابری نہیں :

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں :

أتيتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فقلتُ مُرني بأمرٍ آخذُهُ عنْكَ قالَ عليْكَ بالصَّومِ ، فإنَّهُ لا مثلَ لَه(صحيح النسائي:2219)

کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بات بتائیں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالی ہمیں نفع پہنچائے تو آپ نے فرمایا:

” علیک بالصوم فانہ لامثل لہ ” تم روزہ رکھو کیونکہ اس کے مثل کوئی چیز نہیں ۔

(20) روزہ تقوی کا ذریعہ :

اللہ تعالی کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورة البقرة:183)

ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

(21) جہنم سے دوری :

بندہ جس قدر روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کے اورجہنم کے درمیان اسی قدر دوری بڑھاتاہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا۔ (صحیح البخاری:2840)

ترجمہ : جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو

جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔

سبیل اللہ سے کیا مراد ہے ؟ اس سے متعلق علماء میں دو رائیں ہیں ۔ پہلی رائے جہاد ہے اس کے قائلین میں شیخ ابن عثیمینؒ بھی ہیں ۔ دوسری رائے اللہ کی خوشنودی ہے اس کے قائلین میں شیخ ابن بازؒ ہیں ۔

ویسے سبیل اللہ کا عام طور سے اطلاق جہاد پر ہی ہوتا ہے ساتھ ہی بسااوقات طاعت کے کاموں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں عام معنی یعنی اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے طور پر مراد لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر اخلاص کے ساتھ روزہ رکھنا معنی ہوگا۔

یہ ایک دن کا بدلہ ہے اور جب بندہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ، یا سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھے ، یا پھر ہرمہینے کم ازکمتین روزہ رکھے تو ان کا کیا حال ہوگا؟۔

(22) رمضان میں عمرہ حج کے برابر:

اس مہینہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عمرہ کا ثواب حج کے برابرہوتاہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا:

فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِیْ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْہِ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔(صحیح مسلم :1256)

ترجمه : جب ماہِ رمضان آجائے تو تم اس میں عمرہ کرلینا کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابرہوتا ہے.

ایک دوسری روایت میں رمضان میں عمرہ کرنا رسول اللہﷺ کے ساتھ عمرہ کرنے کے برابر کہا گیا ہے چنانچہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَقْضِیْ حَجَّۃً مَّعِیْ۔(صحیح البخاری:1863)

ترجمہ: رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کی قضا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ماہ مبارک کے ان فضائل وبرکات سے مالا مال کردے ، ہمارے گناہوں کو بخش دے اور جنت الفردوس ہمارا ٹھکانہ بنادے ۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close