فقہمذہب

روزہ داروں کے اقسام واحکام!

مقبول احمد سلفی

(الف)بیمارکے احکام

بیمارکی دوقسمیں ہیں ایک وہ بیمارآدمی جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتا ہے ۔ ضررونقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گا اتنے کا بعد میں قضا کرنا ہے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)

ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔

دوسرا وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کو روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں ، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)

ترجمہ :اور اس کی طاقت رکھنے والےفدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں ۔

یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلا زکام ، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے ۔

(ب)مسافرکے احکام

رمضان میں مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :

فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)

ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔

اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافر حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے ۔ اس کے بہت سارے دلائل ہیں ۔ مثلا۔

ایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:

إن شئتَ صمتَ وإن شئتَ أفطرتَ( صحيح النسائي:2293)

ترجمہ : اگر تم چاہو تو روزہ اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔

مسافر چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کرے گا۔

(ج) روزہ کے مسائل اور خواتین

حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کے لئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے ۔

اور جیسے ہی خون بند ہوجائے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء چالیس دن سے پہلے

 ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔عورت کےلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے ۔حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا ہے بلکہ روزہ جاری رکھناہے ۔

دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کےلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے ۔ بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے ۔

إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وضعَ للمسافرِ الصَّومَ وشطرَ الصَّلاةِ ، وعنِ الحُبلَى والمُرضِعِ( صحيح النسائي:2314)

ترجمہ: اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔

بیمار اور سن رسیدہ عورت کے احکام پہلے نمبر میں شامل ہیں ۔

جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ۔

(د)بچوں کا روزہ:

بچوں پر روزہ فرض نہیں ہے جب تک بالغ نہ ہوجائے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عنِ المجنونِ المغلوبِ على عقلِهِ حتَّى يُفيقَ، وعنِ النَّائمِ حتَّى يستيقظَ، وعنِ الصَّبيِّ حتَّى يحتلمَ(صحيح أبي داود:4401)

ترجمہ:ميرى امت ميں سے تين قسم ( كے لوگوں ) سے قلم اٹھا ليا گيا ہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تك كہ وہ ہوش ميں آجائے، اور سوئے ہوئے سے جب تك كہ وہ بيدار ہو جائے، اور بچے سے جب تك كہ وہ بالغ ہو جائے۔

لیکن تربیت کے طور پر بچوں سے بھی روزہ رکھوایا جائے جب وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔ بعض علماء نےروزہ کے لئے بچوں کی مناسب عمردس سال بتلائی ہے کیونکہ حدیث میں دس سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے ۔ بہر کیف دسواں سال ہو یا اس سے پہلے کا اگر بچے روزہ رکھ سکتے ہوں تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ ان سے روزہ رکھوائیں ۔ اس کی نظیر قرون مفضلہ میں ملتی ہے ۔

عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رضي الله عنها قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِى حَوْلَ الْمَدِينَةِ :مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الإِفْطَارِ(صحيح البخاري:1960وصحيح مسلم :1136) .

ترجمہ:ربيع بنت معوذ بن عفرا رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يوم عاشوراء كے دن مدينہ كے ارد گرد رہنے والے انصار كى طرف ايك شخص كو يہ پيغام دے كر بھيجا كہ:جس نے روزہ ركھا ہے وہ اپنا روزہ پورا كرے، اور جس نے روزہ نہيں ركھا وہ باقى سارا دن بغير كھائے پيے گزارے ۔ چنانچہ اس كے بعد ہم روزہ ركھا كرتے تھے، اور ان شاء اللہ اپنے چھوٹے بچوں كو بھى روزہ ركھواتے اور ہم مسجد جاتے تو بچوں كے ليے روئى كے كھلونے بنا ليتے، جب كوئى بچہ بھوك كى بنا پر روتا تو ہم اسے وہ كھلونا دے ديتے۔

تعليقات بخاری میں باب صوم الصبيان کے تحت یہ روایت مذکورہے کہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے رمضان المبارك ميں نشہ كرنے والے شخص كو مارتے ہوئے فرمايا:تو تباہ ہو جائے، ہمارے تو بچے بھى روزے سے ہيں ۔

(ر)بلاعذرقصدا روزہ چھوڑنے والا:

رمضان میں بغیر عذر کے قصدا روزہ چھوڑنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔ اسے اولا اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنا چاہئے اور جو روزہ چھوڑا ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے ۔ اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتا ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرناہے ۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل دو مہینے کا روزہ رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ۔ یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے ۔ مستدرک وغیرہ کی روایت ہے ۔

بَينا أنا نائمٌ أتاني رجلانِ ، فأخذا بِضَبْعَيَّ فأتَيا بي جبلًا وعْرًا ، فقالا : اصعدْ . فقلتُ : إنِّي لا أُطيقُهُ . فقال : إنَّا سَنُسَهِّلُهُ لكَ . فصعدتُ ، حتَّى إذا كنتُ في سَواءِ الجبلِ إذا بأصواتٍ شديدةٍ . قلتُ : ما هذهِ الأصواتُ ؟ قالوا : هذا عُوَاءُ أهلِ النَّارِ ثمَّ انْطُلِقَ بي فإذا أنا بقَومٍ مُعلَقِينَ بعراقيبِهِم ، مُشَقَّقَةٌ أشداقُهُم ، تسيلُ أشداقُهُم دمًا . قال : قلتُ : مَن هؤلاءِ ؟ قال : الَّذينَ يُفطِرونَ قبلَ تَحلَّةِ صَومِهِم .(صحيح الترغيب: 2393)

ترجمہ : ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے:ایک مرتبہ میں سو رہا تھا میرے پاس دو آدمی آئے انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور وہ دونوں مجھے ایک مشکل پہاڑ کے پاس لے آئے تو انہوں نے کہا کہ اس پر چڑھو میں نے کہا میں اس پر چڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا ہم اس کو آپ کے لیے آسان کر دیتے ہیں تو میں اس پر چڑھ گیا حتیٰ کہ جب پہاڑ کے درمیان میں تھا تو میں نے خوفناک آوازیں سنی تو میں نے کہا یہ آوازیں کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ آگ والوں کی چیخ و پکار اور واویلہ ہے، پھر مجھے ایک جگہ لے جایا گیا تو میں وہاں کچھ لوگوں کو دیکھا جو الٹے لٹکائے گئے تھے ان کی باچھیں (منہ کی دونوں اطراف ) پھاڑی ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا میں نے کہا یہ کون ہے تو کہا یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ افطار کے وقت سے پہلے ہی کھول دیتے تھے۔

ہماری نصیحت کے لئے ایک حدیث ہی کافی ہے ۔

(س)نماز کے بغیر روزہ رکھنے والا:

جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے ۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ نبی ﷺ فرمان ہے :

العَهدُ الَّذي بيننا وبينهم الصَّلاةُ ، فمَن تركَها فَقد كَفرَ(صحيح الترمذي:2621)

ترجمہ :ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا۔

اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائے گاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ۔

اس سلسلے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

"الذي يصوم ولا يصلى لا يقبل منه صوم ، لأنه كافر مرتد ، ولا تقبل منه زكاة ولا صدقة ولا أي عمل صالح ، لقول الله تعالى ( وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلا يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَارِهُونَ ) التوبة/54

فإذا كانت النفقة وهي إحسان إلى الغير لا تقبل من الكافر فالعبادة القاصرة التي لا تتجاوز فاعلها من باب أولى ، وعلى هذا فالذي يصوم ولا يصلى هو كافر والعياذ بالله ، وصومه باطل ، وكذلك جميع أفعاله الصالحة لا تقبل منه”(فتاوى نور على الدرب لابن عثيمين :124 /32) .

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی روزہ رکھتا اور نماز نہیں پڑھتا ہے اس کا روزہ مقبول نہیں ہے اس لئے کہ وہ کافر اور مرتد ہے ۔ اس کی طرف سے زکوۃ ،صدقات بلکہ کوئی نیکی قبول نہیں کی جائے گی۔

اللہ کا فرمان ہے : وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ۔

ترجمہ :انکے صدقات کی قبولیت کے سامنے صرف یہی بات آڑے آئی کہ انہوں نے اللہ ، اور رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، اور وہ نمازوں کیلئے صرف سستی کرتے ہوئے آتے ہیں ، اور صدقہ دیتے ہیں تو انکے دل تنگی محسوس کرتے ہیں ۔

جب کافر سے دوسروں پہ خرچ کرنے کا احسان قبول نہیں ہوگا تو عبادت جو کہ ذاتی فعل ہے بدرجہ اولی قبول نہیں ہوگی ۔ اس لئے جو آدمی روزہ رکھتا اور نماز ادا نہیں کرتا (اللہ کی پناہ )وہ کافر ہے ۔اس کا روزہ باطل ہے اور اسی طرح تمام نیک اعمال( بھی باطل ہیں )قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

اسی طرح روزے دار کو چاہئے کہ رمضان میں بھلائی کا کام کرے اور منکر کام سے بچے ۔ جو آدمی روزے سے ہو اور جھوٹ بولے ، برا کام کرے اور گندی حرکتوں سے باز نہ آئے ایسے روزہ داروں کے روزہ کی کوئی وقعت نہیں ۔ اللہ ایسوں کو پسند نہیں فرماتا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْل فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ .(صحيح البخاري:6057)

ترجمہ : ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جوکوئي قول زور اوراس پر عمل کرنا اورجہالت نہ چھوڑے اللہ تعالی کو اس کے بھوکا اورپیاسا رہنے کی کوئي ضرورت نہیں ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close