فقہمذہب

روزہ کے جدید طبی مسائل!

مقبول احمد سلفی

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں انسانوں کی ہرقسم کی رہنمائی موجود ہے یہی  وجہ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی دیگر قوموں کے مقابلے میں بہتراور واضح ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ جب کسی مسلمان کو شعبہ حیات سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اس کا حل قرآن وحدیث میں مل جاتا ہے ۔ آج زمانہ کافی ترقی کرگیا ہے ، آج سے محض پچاس سال پہلے بہت ساری چیزیں ناپید تھیں مگر سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی نے انسانوں کو بے شمار دریافت سے متعارف کیا ، زندگی کے مختلف شعبہ جات میں آسانیاں فراہم کی، علاج ومعالجہ کے نئے نئے دروازے کھولے ۔ بہت سارے امراض جو کل تک لاعلاج سمجھے جاتے تھے یا ان کا علاج مشکل ترین مراحل سے گزرکر کامیاب ہوا کرتا تھا آج ان میں بڑی سہولت اور ترقی آگئی ہے ۔ اسلام سائنس وترقی کے مخالف نہیں  ہے، وہ جدید وسائل کو اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہےجوشرعا اسلام سے متصادم نہ ہوں ۔ علاج کے معاملے میں حرام چیزوں سے معالجہ کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر معالجہ حرام شی کی ملاوٹ سے پاک ہو تو ہرقسم کے وسائل وادویہ کا استعمال جائز ہے ۔

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے انتہائی پرمسرت اور بے پناہ فیوض وبرکات کا حامل ہے ، اس وجہ سے اس ماہ مبار ک میں مسلم قوم دینی اعتبار سے دیگر تمام مہینوں کے مقابلے میں زیادہ محتاط، چاق وچوبند، دینی غیرت وحمیت سے لبریز، اجر وثواب کے حصول کا خواہاں ، نیکی کی طرف سبقت کرنے والی اور اللہ کی خوشنودی کے لئے دن میں روزہ رکھنے والی اور راتوں کو قیام اللیل سے منور  کرنے والی نظر آتی ہے ۔

جب سائنس وٹکنالوجی نے زمانے کو  نت نئی ترقیات  اور برقی ایجادات واکتشافات سے متعارف کرایا تو مسلمانوں کو ان کے متعلق شرعی حیثیت جاننے کی ضرورت پڑی ، اس مختصر مضمون میں طب سے متعلق جدید مسائل کا شرعی موقف بیان کیا گیا ہے جن سے  ایک مسلمان کو خصوصا مریض کو دوچار ہونا پڑتا ہے ۔

(1)  مسواک  اور ٹوتھ برش وپیسٹ :

روزہ دارکے لئے رات ودن کے کسی حصے میں مسواک کرنا سنت ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :

"السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب ” (رواہ البخاری)

ترجمہ : مسواک سے منہ صاف ہوتاہے اور اللہ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے ۔

شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مسواک کا مزہ اور اثر تھوک میں آجائے تو روزہ دارکو چاہئے کہ تھوک اور ذائقہ نہ نگلے ۔ (فتاوی الصیام )

البتہ ٹوتھ برش اور پیسٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پیسٹ قوی الاثر ہے یا غیر قوی الاثر ، کیونکہ بازار میں موجود پیسٹ دونوں طرح کی ہیں ۔

٭اگرپیسٹ قوی الاثر ہو یعنی اس کا اثرمعدہ تک پہنچتا ہوتو ایسی پیسٹ استعمال نہ کی جائے ۔

٭اور اگر پیسٹ کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ہوصرف حلق تک محدود رہتاہوتو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

(2) قطرات کا استعمال (Drops) :

ضرروت کے تحت آنکھ اور کان میں قطرات (Drops) ڈالنا کوئی حرج کی بات نہیں ، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ جو قطرات آنکھ یا کان میں ڈالے جاتے ہیں ان کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ، اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ قطرات معدے میں حلول کرتے ہیں تو دوتین بوند کا اثر آنکھ سے بہ کر یا کان سے ٹپک کر معدہ تک کس مقدار میں جائے گا ؟ ۔ ظاہر سی بات ہے وہ معمولی سی مقدار ہوگی اور اس مقدار کا اثر روزہ کے لئے کسی طرح کے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ آنکھ اور کان کے متعلق عرب کے مشائخ حضرات بھی اس کے جواز کافتوی دیتے ہیں لیکن ناک کے متعلق عدم جواز کا فتوی ہے ۔ اس کی بنیاد یہ حدیث ہے "وبالِغْ فى الاستنشاقِ إلَّا أن تَكونَ صائمًا”( صحيح أبي داود:142) روزے کی حالت میں وضو کرتے وقت ناک میں مبالغہ کے ساتھ پانی مت ڈالو۔

بعض اہل علم جواز کا بھی فتوی دیتے ہیں تاہم احتیاطا ان تمام قسم کے قطرات کورات تک مؤخر کر لیا جائے تو اولی اور افضل ہے ۔

(3) بے ہوشی  (Anaesthisia):

کبھی کبھی انسان پر بے ہوشی کے حالات طاری ہوتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلا کسی حادثے میں شکار ہوکر بے ہوش ہوجائے یا علاج کی غرض سے بے ہوش کیا جائے ۔ اس سے متعلق احکام مندرجہ ذیل ہیں ۔

٭ناک میں گیس سونگھاکر یا چینی طریقے سے حساس مقام پر سوئی چبھوکر بعض حصے کو بے ہوش کرنا ناقض روزہ نہیں ہے ۔

٭ مریض کی رگ میں سریع العمل انجکشن لگاکر مخصوص مدت کے لئے عقل کو ماؤف کرنا بھی ناقض روزہ نہیں ہے ۔

٭ مریض نے بے ہوشی سے پہلے روزہ کی نیت کرلی اورپھر بے ہوش ہوا اورغروب شمس سے پہلے پہلے افاقہ ہوگیا تو اس کا روزہ صحیح ہے مگر غروب آفتاب کے بعد افاقہ ہونے پر روزہ نہیں درست ہوگا۔ اس لئے ایسے روزہ کے متعلق بہتری اسی میں ہے کہ اس کی قضا کرلی جائے ۔

٭ بے ہوشی اگر لمبی مدت مہینہ دو مہینہ والی ہو تو اسے جنون پر قیاس کیا جائے گا اور فرض روزے چھوٹ جانے پر اس کی قضا کا مکلف نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ اللہ تعالی انسان کو اس کی طاقت سے باہر کا مکلف نہیں بنایا ہے ۔

(4) پچھنا، نشتر اور نکسیر کا حکم :

پچھنا کے سلسلہ میں دوطرح کی احادیث وارد ہیں بعض روایات میں ذکر ہے کہ پچھنا لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےجبکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بحالت روزہ پچھنا لگوایا(صحیح بخاری) اور دوسروں کے لئے سینگی لگانے کی رخصت بھی دی ۔ (طبرانی ، دارقطنی)

بعض علماء نے روزہ ٹوٹنے والی روایات کو منسوخ مانا ہے اور آپ ﷺکے عمل یا امت کو رخصت دینے والی روایات کو ناسخ مانا ہے۔ اس لئے روزہ کی حالت میں حجامت کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ البتہ اکثر وبیشتر اہل علم کی نظر میں سینگی ناقض روزہ ہے لہذا اختلاف سے بچنے کے لئے میں یہ مشورہ دونگا کہ اس عمل کو رات تک مؤخر کرلے ۔

(5) جسم کے اندرونی حصے میں آلات یا پائپ داخل کرنا:

مریض کو علاج کی غرض سے  کبھی معدے میں یا ضرورتا کبھی مقعد میں یا صنف نازک کے اگلے اور پچھلے راستے میں آلات یا پائپ وغیرہ داخل کئے جاتے ہیں تاکہ اندرونی حصے کا چیک اپ کیا جائے ۔ اس کی مختلف شکلیں اور طریقے ہیں ۔

ان حالات میں غورطلب امر یہ ہے کہ اگر اوزاریا آلات کے استعمال میں غذائی مواد ہو توروزہ فاسد شمار ہوگا، اور یونہی بغرض معائنہ یا علاج کی خاطر غیرغذائی موادکا استعمال ہوتو روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ دراصل یہ عمل انجکشن کے مشابہ ہے اور اسی طرح کے احکام بھی لاگو ہونگے ۔

(6) ٹیکہ لگانا (Injection) :

٭ٹیکہ چاہے جلد میں لگے ، چاہے گوشت میں لگے یا پھر نص میں لگے ۔ اگر ان ٹیکوں میں غذائی مواد نہیں تو روزہ درست ہےوگرنہ روزہ فاسد ہوگا ۔

٭شوگر کے مریض کا ٹیکہ لگانا بھی جواز کے قبیل سے ہے ۔

٭ شریان میں مستقل لگی رہنے والی سوئیوں کا بھی یہی حکم ہے ۔

(7) گردوں کی صفائی (Dialysis):

گردوں کے مریض کو ڈائیلوسس کیا جاتاہے اور اس کے مختلف طریقے ہیں مگر جتنے بھی طریقے رائج ہیں ان میں غذائی ادویہ کا استعمال ہوتا ہے اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے ڈائیلوسس کا عمل ناقض روزہ ہے ۔ اگر بغیر غذائی ادویہ کے علاج ممکن ہو تو پھر روزہ درست ہوگا ۔

(8) خون کا عطیہ (Blood Donation) :

ضرورت پڑنے پر روزہ دار اپنا خون چیک اپ کراسکتا ہے اور کسی دوسرے مریض کو اپنا خون نکال کر عطیہ بھی کرسکتا ہے ۔ یہ عمل روزہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ،یہی شیخ ابن باز ؒ کی بھی رائے ہے ۔ (مجموعہ فتاوی ابن بازؒ 15/274)

(9) ٹکیوں کا استعمال (Tablets) :

دل کی بعض بیماریوں کے لئے اطباء ٹکیوں کا نسخہ دیتے ہیں ، یہ ٹکیاں زبان کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور فورا منہ میں تحلیل ہوجاتی ہیں ، ایسا کرنے سے مریض کو راحت محسوس ہوتی ہے ۔

ایسے مریض سے متعلق شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایسے ٹکیوں کے بارے میں کیا حکم ہے جسے دل کے مریض زبان کے نیچے رکھتے ہیں ،وہ روزہ بھی ڈاکٹر کے مشورہ سے رکھتے ہیں لیکن بسااوقات افطار سے چند منٹ پہلے دل میں درد شروع ہوجاتا ہے تو اپنی زبان کے نیچے رکھ لیتے ہیں تاکہ آرام مل جائے ؟

شیخ نے جواب دیا : زبان کے نیچے ٹکئے کا استعما کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس لئے کہ عمدا اس کا ذائقہ حلق کے نیچے اترتا ہے ۔ ( الفتاوی الشرعیۃ علی المشکل من المسائل الطبیۃ : ص: 54،55)

بعض دیگر علمائے عرب و عجم کا موقف ہے چونکہ یہ ٹکیاں منہ ہی تک محدودرہتی ہیں ان کا اثر اندر نفوذ نہیں کرتا ، اس لئے ان ٹکیوں کا استعمال  بحالت روزہ جائز ہے ۔بہرحال یہ مسئلہ اختلافی ہے ، میری نظر میں یہ موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس ٹکیہ سے اثر حلق سے نیچے اترتا ہے تو بلاشبہ مفطر ہوگا مگر اس کا اثر زبان تک ہی محدود رہے حلق سے نیچے نہیں اترے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا ، اس صورت میں یہ مثل کلی کے ہوگا کہ جس طرح کلی سے پانی کا اثر معدے میں حلول نہیں کرتاٹھیک  اسی طرح ٹکیہ کا بھی  اثر  ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

(10) جلد  پرمادے کا استعمال :

علاج کی غرض سے ہو یا شوق کے طورپر ،،،،،، جلد پر کسی بھی قسم کا تیل ، مرہم اور کریم کا استعمال کرسکتے ہیں ۔

"جلدپرملی جانے والی کوئی بھی چیز مسام کے ذریعہ جلد کے نیچے خونی مواد میں جذب ہوجاتی ہے لیکن جذب ہونے کا یہ عمل بہت سست ہے ۔ لہذا جلد پرملی جانے والی بھی چیز ناقض روزہ نہیں ” (مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ ؒ 25/ 267)

(11) دانتوں کی صفائی :

روزہ کی حالت میں دانتوں کی صفائی (Scaning) یا دانت نکلوانایا دانتوں کی اصلاح کرنا سارے امور جائز ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عمل کو رات کے لئے مؤخر کردیں یا دن میں ایسا عمل انجام دینے کی صورت میں دانتوں سے بہنے والا خون حلق سے نیچے نہ اتارے ۔ دانتوں کی صفائی میں استعمال ہونے والے ٹیکے بھی روزے کے لئے نقصان دہ نہیں ۔

(12) زخموں کا علاج :

جسم کے کسی حصے میں زخم ہو، روزہ دار  ان زخموں کا علاج کراسکتا ہےکیونکہ یہ عمل نہ تو کھانے پینے پر قیاس کیا جائے گا اور نہ ہی عرف میں اسے کھاناپینا کہتے ہیں ۔

(13) اسپرے کا حکم :

دمہ کے مریضوں کے لئے اسپرے (بخاخ) کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ ان کی سخت ترین مجبوری ہے ، اور اسلام میں قاعدہ ہے کہ آدمی جس چیز کا مضطر ہوتا ہے اس کے لئے اس چیز کا استعمال جائز ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

"وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ)    "الأنعام:119(

ترجمہ : اورجو چیزیں اس نے تمہارے لئےحرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ.

لہذا دمہ کا مریض روزہ رکھتے ہوئے اسپرے کا استعمال کرے گااور اس کا روزہ درست ہوگا۔ اور اسے رکھے گئے روزہ کی قضا نہیں کرنی پڑے گی ۔

اللہ تعالی نے دین اسلام کو اپنے بندوں کی خاطر آسان بنا دیا ہے ، حسب سہولت یعنی بقدر استطاعت دین پر عمل پیرا ہونا ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ جہاں اللہ تعالی نے مسافروں ، مریضوں اور معذوروں کو رخصت دی ہے وہاں رخصت پر عمل کرنا ہی افضل ہے اور رخصت پر عمل کرتے ہوئے دل میں ذرہ برابر بھی تنگی کا احساس نہ پیدا ہونے پائے جیسا کہ بعض مخصوص طبقوں میں یہ دیکھا جاتا ہے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close