فقہمذہب

سود اور رشوت کی شرعی حیثیت

محمد صابر حسین ندوی

سود کو عربی میں [الربا] کہتے ہیں، ربا، یربو، ربواً و رُبواً وربائً کے لغوی معنی اضافہ کے ہیں، ’’الأصل فی معناہ الزیادۃ، یقال:ربا الشیٔ اذا زاد‘‘ (دیکھئے: المصباح المنیر و تاج العروس اور لسان العرب:مادۃ: ربا)کتاب و سنت میں متعدد مواقع پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ شرعی اصطلاح میں ’’ربا‘‘ ایسے اضافہ کو کہتے ہیں ؛جس کے مقابلہ میں دوسرے فریق کی طرف سے کوئی عوض نہ ہو’’وفی الشرع عبارۃ عن فضل مالا یقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال‘‘(عنایۃ علی ھامش الفتح:۶؍۲۴۷)، ابن اثیر کا بیان ہے ؛’’الاصل فیہ الزیادۃ علی اصل المال من غیر عقد تبایع ‘‘(النھایۃ شرح الھدایۃ:۲؍۱۹۲)زیلعی کہتے ہیں :’’فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال‘‘(۔ تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق:۴؍۸۵، دیکھئے:التعریفات :باب الراء’’الربا‘‘)یہی تعریف کم و بیش دوسرے اہل علم نے بھی کی ہے، مگر اس تعریف میں ربا کی ایک خاص نوع کو ہی ملحوظ رکھا گیا ہے۔

ربا کی دو قسمیں ہیں :ربا فضل۔ ربا نساء:۔ دو چیزیں جو ایک ہی جنس کی ہوں اور ان کا ذریعہ پیدائش بھی ایک ہی ہو جسکو فقہاء احناف ’’قدر‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں تو ایسی صورت میں خرید و فروخت کے معاملہ میں ایک کی طرف سے تعداد اور دوسرے کی طرف سے ادھار کا معاملہ درست نہیں اسکو ’’ربا نساء‘‘ کہتے ہیں۔ ربا کی دوسری قسم ’’ربا فضل‘‘ ہے:۔ عام طور پر فقہاء نے ربا کی جو تعریف کی ہے وہ اسی نوع کی ہے یعنی فریقین میں سے ایک کی طرف سے ایسا اضافہ جس کے عوض دوسرے فریق کی طرف سے کچھ نہ ہو۔ (بدائع الصنائع:۵؍۱۸۳، مغنی المحتاج:۲؍۲۱ )ربا کی حرمت قرآن و حدیث سے صراحتا ثابت ہے:’’احل اللہ البیع وحرم الربا ‘‘ (بقرہ:۲۵۷)’’، ’’یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات‘‘ (بقرۃ: ۲۷۶)، حضور اکرمؐ نے صریح طور پرفر مایا کہ ؛کسی قسم کے قرض پر نفع حاصل کر نا ناجائز ہے’’کل قرض جر منفعۃفہوربا‘‘(۔ مصنف ابن ابی شیبۃ:حدیث: ۲۰۶۹۰)، اسی طرح آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سود کے قہر کو اپنے قد موں تلے روندتے ہوئے اسکی حرمت کا اعلان ببانگ دہل فرمایا تھا’’ألاان کل ربا الجاھلیۃ موضوع عنکم کلہ ؛لکم رؤوس المال لا تظلمون ولا تظلمون‘‘۔ ۔ ۔ ’’کل ربافی الجاھلیۃ موضوع تحت قدمي ھاتین‘‘(صحیح مسلم، و سنن ترمذی:حدیث:۳۰۷۸)۔

شریعت اسلامی اور تعلیمات نبویؐ میں تمام ادوار و حالات کی رہنمائی بخوبی موجود ہے، اگر ایک طرف مردار کی حرمت کا اعلان ہے ’’حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر‘‘(مائدۃ:۳)تودوسری طرف اضطراری حالت میں مردار سے بھی بقدر ضرورت استفادہ کی اجازت ہے’’ فمن ا ضطر غیر باغ فلا اثم علیہ (بقرۃ:۱۷۳، انعام:۱۴۵، نحل:۱۱۵)، چنانچہ رشوت لینا، دینا او راس میں کسی بھی قسم کا تعاون حرام ہے ’’لعن رسول اللہ ﷺ علی الراشی والمرتشی و فی روایۃ زیادۃ والرائش‘‘(سنن ترمذی:۲؍۶۱۴، مسنداحمد:۵؍۲۷۹، من ثوبان وفیھا زیادۃ ’’والائش‘‘ )لیکن اپنی ضرورت و حاجت (۱۰)پوری کرنے اور اپنا حق اصول کر نے کیلئے رشوت دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے(الأ شباہ والنظائر للسیوطی:ص:۲۸۱)اسی طرح سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، لیکن فقہاء کی صراحت سے پتہ چلتا ہیکہ؛دارالحرب (وہ ممالک جن پر مسلمانوں کو سیاسی بالا دستی حاصل نہ ہو )میں وہا ں کے حر بیوں سے سود لے سکتے ہیں (السیر الکبیر:۷؍ ۱۴۹۳۔ فقرۃ:۲۹۱۹) گووہ حربی مسلمان ہی کیوں نہ ہو ’’لا یحرم الربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب ولا بین مسلمین اسلما فی دار الحرب ولم یھاجرا منھا‘‘یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کی رائے ہے (دیکھئے:تبیین الحقائق:۴؍۹۷، ردالمحتار:۴؍۱۸۸۔ شرح النقایۃ:۲؍۵۹، الاختیار لتعلیل المختار: ۲؍۳۳)، جمہور فقہاء اس صورت میں بھی سود کو حرام قرار دیتے ہیں ؛ یہی رائے احناف میں قاضی ابو یوسف کی ہے ’’ذھب جمھور الفقھاء وابو یوسف من الحنفیۃ الی انہ لافرق فی تحریم الربا بین دارالحرب ودار الاسلام ‘‘(بدائع الصنائع:۷؍۱۳۲، المجموع:۱؍۳۹۱، المغنی:۴؍۴۹، ۵۰)۔ طر فین اور جمہور کے ادلہ کا تجزیہ و تحلیل اور ان کا جواب فقیہ العصر حضرت مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی نے بڑی مہارت وخوبی کے ساتھ دیاہے اور اخیر میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے علا وہ شراب و خنزیر کی فروخت کی اجازت، سود کی اجازت اور دوسرے عقود فاسدہ کی اجازت ؛ اس بات کا قوی احتمال ہیکہ حدود شرعیہ کی حرمت وشناعت کا تصور جو مسلمانوں میں ہے یا ہو نا چاہئے بتدریج وہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ اتنا بڑا مفسدہ ہے کہ تنہاا سکی حرمت کیلئے کافی ہے۔ اس لئے حقیقت یہ ہیکہ اس مسئلہ میں امام ابو یوسف کی رائے قوی نظر آتی ہے اور اہل علم کے نزدیک امام ابو حنیفہ کے مقابلہ امام ابویوسف کی رائے دلیل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہو تو امام ایو یوسف کی رائے پر فتوی دیا جاتا ہے ‘‘۔ (۔ دیکھئے:جدید فقہی مسائل:۴؍۶۲، نیز:الموسوعۃ الفقہیۃالکویتیۃ:’’ربا‘‘)

مذکورہ تصریحات (تمامتر ادب و احترام کے ساتھ )اور آج کی صورت حال میں دن اور رات کا فرق ہے ایسے میں خیال آتا ہیکہ طرفین کے نقطئہ نظر پرغور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آج اکثر مسلمان جس عہد نظامہائے مملکت میں سانس لے رہے ہیں وہ نہ تو دارالاسلام ہے اور نہ ہی دارالحرب، بلکہ آج نظامہائے حکومت میں جو تنوع ملتا ہے اس کا وجود تو دور؛ گزشتہ زمانوں میں تصور بھی نہ رہا ہو گا، لیکن عہد رسالت میں بھی ہمیں تین طرح کی مملکتین ملتی ہیں جو غیر مسلم ممالک میں مسلمان شہریوں کے ساتھ سلوک اور ان کے مذہبی بنیاد کے اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔

دارالکفریا حرب:۔ یہ وہ ممالک تھے جہاں مسلمانوں کو اپنے عقائد، عبادات اور دعوت و تبلیغ کے حقوق حاصل نہ تھے، یہاں تک کہ اپنی جان اور اپنے مال و دین کیلئے دوسرے ملکوں کی ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا جیسے مکۃالمکرمہ(سورہ انفال۔ ۔ ۷۲)۔

دارالاسلام :۔ یہ وہ ملک و حکومت تھی جن میں گو مختلف اقوام کی بقاباہم اور مذہبی آزادی کے اصول پر تھی، لیکن مسلمانوں کو سیاسی بالا دستی حاصل تھی اس لئے اصطلاحا یہ دارالاسلام کہلایا۔

دارالامن یا دارالعہد:۔ یہ وہ ملک ہے جہاں کلید اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھ مین لیکن مسلمان مامون ہوں، مسلمان دعوت دین کا فریضہ انجام دے سکتے ہوں اور ان اسلامی احکام پر جن کے  نفاذ کے لئے اقتدار ضروری نہ ہوں عمل کر سکتے ہوں جیسے کہ ملک حبش؛ جس میں اقتدار کی باگ ڈور عیسائیوں کے ہاتھ میں تھی مگر مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی۔ (اصطلاحات کیلئے دیکھئے:الموسوعۃ الفقہیۃالکویتیۃ:’’دار‘‘)

موجودہ دور کے غیر مسلم ممالک پر عمومی مئو خر الذکر قسم منطبق نظر آتی ہے جیسے کہ ہمارا ملک ہندوستان جہاں جمہوریت رائج ہے اور سلطنت کا کوئی مذہب نہیں ہے، ہر شہری اپنے بنیادی دین و مذہب پر عمل پیرا ہو نے اور اسکی اشاعت میں آزاد ہے، چونکہ دارالامن ہی سے مسلمانوں کا زیادہ سامنا ہے ایسے میں اسی کے چند بنیادی احکام و ضوابط استاذگرامی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’جدید فقہی مسائل‘‘سے نقل کئے جا رہے ہیں۔

۱۔ دارالامن میں اسلامی حدود و قصاص جاری نہ ہونگے۔

۲۔ دارالامن کے مسلمان اور دوسرے باشندوں کے معاملات دارالاسلام کی عدالت میں فیصل نہ ہوسکینگے۔

۳۔ یہاں کے مسلمان باشندے پر ہجرت واجب نہ ہوگی۔

۴۔ یہاں کے دفاعی قوت میں اضافہ اور مدد کرنا مسلمانوں کیلئے درست ہوگاجیسا کہ صحابہؓ نے شاہ حبش نجاشی کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تھی بشرطیکہ  کسی مسلم ممالک سے بر سرپیکار نہ ہوں۔

۵۔ احکام شرعیہ سے نا واقفیت اور جہل کے معاملہ میں جس طرح دارالحرب کے مسلمانوں کو معذور سمجھاجائے گا اسی طرح ان کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔

۶۔ زوجین مین سے ایک دارالامن سے دارالاسلام چلا جائے تو ان کے درمیان محض’’تباین دار‘‘کی وجہ سے تفریق واجب نہ ہوگی، کیونکہ صلح وامن کی فضاء کی وجہ سے آمد و رفت اور حقوق زوجیت کی تکمیل ممکن ہے۔ زوجین میں سے ایک اسلام قبول کرلے تو تفریق میں وہی قانون نافذ ہوگا جو دارالحرب کا ہے کیونکہ دارالاسلام کے قاضی کو اختلاف دار کی وجہ سے ولایت حاصل نہیں ہے، اور خود اس ملک میں مسلمانوں نے باہمی تراضی سے قاضی مقرر کیا ہے تو اسکو صرف مسلمانوں ہی پر ولایت حاصل ہے، دوسرافریق جو حالت کفر میں ہے اس پر قاضی المسلمین کی ولایت ثابت نہیں۔

۷۔ جیسے دارالاسلام میں رہنے والے ذمی اوردارالحرب سے آنے والے مستامن حربی کی جان و مال معصوم ہیں اور غیر اسلامی طریقوں سے سود، قمار، شراب وخنزیر کی فروخت وغیرہ کے ذریعہ انکے مال کا حصول جائز نہیں اسی طرح دارالامن کے دوسرے باشندوں کے ساتھ معاہدہ و امن کی وجہ سے ان کے جان و مال بھی معصوم ہیں اور غیر شرعی طریقوں پر ان کا حصو ل جائز نہیں۔ (دیکھئے:جدید فقہی مسائل:۴؍۴۷۔ )

چونکہ ہمارا ملک ہندوستان بھی نظام حکومت کے اعتبار سے ’’دارالامن وا لمعاہدہ ‘‘ ہے، لہذاانہی اصول و قواعد کے پیش نظرسود لینے، دینے، رشوت لینے اور دینے کی بحثیں رقم کی جاتی ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہیکہ :۔ سود یا رشوت لینا کسی بھی صورت میں جائز نہ ہوگا، کیونکہ فقہاء کا عام قاعدہ ہیکہ ’’ما حرم اخذہ حرم اعطاء ہ ‘‘(الأشباہ لابن نجیم:ص:۱۵۸، المنثور فی القواعد:۳؍۱۴)، البتہ جس طرح حالت اضطراری میں عام حالت کے برعکس حکم دیا جاتا ہے، اسی رو سے فقہاء نے صراحت کی ہیکہ ؛اپنے آپ سے مضرتوں کو دور کرنے، جان ومال کی حفاظت کرنے اور اپنا حق اصول کر نے کیلئے رشوت دی جا سکتی ہے، ’’الرشوۃ جائزۃ لخوف علی مالہ او نفسہ او لیسوی امرہ عند سلطان او امیر ‘‘(الأشباہ والنظائر للسیوطی:ص:۲۸۱)غالبا یہی وجہ ہے علامہ ابن نجیم المصری نے سود لینے اور دینے میں بھی فرق کیا ہے کہ سود لیناکسی طرح جائز نہیں لیکن حاجت مندوں کیلئے سود دینا جائز ہے’’ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح‘‘ (الأشباہ مع الغمز:۱؍۱۴) ان تشریحات و تو ضیحات کی اہمیت اس طور پر بھی ہے کہ آج کے اس عہدمیں عموما اسلام یا مسلمان سیاسی وحکومتی اقتدار سے کوسوں دور ہیں چنانچہ’’ الاسلام یعلواولا یعلی علیہ‘‘ کلی تصویر ممکن نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اپنے ایمان کے خود محافظ وذ مہ دارہوں، اور حتی الامکان مشتبہ کیفیات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ واللہ اعلم۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close