فقہمذہب

سوشل میڈیا پہ کئے گئے پندرہ اہم سوالات اور ان کے جوابات

 شیخ مقبول احمد سلفی

سوال (1): ڈینگی وائیرس کے خاتمہ کے لیے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 16 اور 17 پڑھ کر دم کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب : قرآن میں ہربیماری کی شفا ہے ، کسی بھی مرض میں قرآن پڑھ کر دم کرنا جائز ہے لیکن ڈینگی وائرس کے لئے سورہ الانعام کی آیت نمبر سولہ اور سترہ کو خاص کرنا خلاف شریعت ہے ۔ جو چیز خاص نہیں دین میں اسے خاص کرنے کو کسی کا حق نہیں ہے لہذا ڈینگی وائرس یا دیگرکسی بھی مصیبت میں بلا تخصیص سورہ انعام کی بھی آیات پڑھ سکتے ہیں ،کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی طرف سےکوئی سورت یا آیت خاص کرنا درست نہیں ہے ۔

سوال(2) : بچہ اگر کپڑوں پر قے کرلے تو کیا کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں یا ہم کو غسل کی ضرورت ہوتی ہے؟ کسی نے کہا کہ دودھ اگر ثابت ہو تو کپڑے بدلنا ہوگا اور اگر دودھ پھٹا ہوا ہو تو غسل کرنا پڑے گا۔

جواب : قے نجس ہے ، یہ موقف ائمہ اربعہ اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے اور دلائل سے بھی قے کا نجس ہونا قوی معلوم ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ کو قے آیا تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور وضو کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:

أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ فلَقيتُ ثوبانَ مَولى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ في مسجِدِ دمشقَ فقلتُ إنَّ أبا الدَّرداءِ، حدَّثَني أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قاءَ فأفطَرَ قالَ: صدقَ، وأَنا صَببتُ لَهُ وَضوءَهُ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ(صحيح أبي داود:2381)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا ۔ ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا : سیدنا ابولدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا تھا ۔ کہا کہ انہوں نے صحیح کہا ہے اور میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیلا تھا ۔

لہذا اگرکوئی کپڑے پر قے کردے تو اسے دھوکر پاک کرے کیونکہ قے نجس ہے البتہ دودھ پیتا بچہ برابر قے کردیتا ہے اس کی صفائی میں مشقت ہے ، بچے کا قے بدبو سے پاک ہو یا دودھ منہ سے گرائے تو کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اگر بدبو محسوس ہوتو اسے دھولے ۔

سوال(3) : بچے گھر میں کارپیٹ پر کہیں کہیں پیشاب کر دیتے ہیں اور وہ حصہ سوکھ جاتا ہے۔ ہم دھو نہیں سکتے۔ کیا وہاں جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی جاسکتی ہے؟

جواب :  اگر کھانے پینے کی عمر کے بچے ہیں تو ان کا پیشا ب زائل کیا  جائے گا اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ کم ازکم  ایک مرتبہ پانی بہایا جائے گا ، نچوڑنا ضروری نہیں ہے جیساکہ اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا تو نبی ﷺ نے صرف پانی بہانے کا حکم دیا تھا۔ ایک  مرتبہ پانی بہانے سے نجاست دور ہونےکا اندازہ نہیں ہوا توایک سے زائد مرتبہ پانی بہایا جائے گایہاں تک کہ صفائی کا گمان ہوجائے پھر اسفنج سے اسے صاف کرلیا جائے ۔اوروہ بچے جو شیرخواری کی عمرکے ہوں ان کے پیشاب پہ پانی کا چھینٹا مارنا ہی کافی ہوگا۔ معلوم یہ ہوا کہ کارپیٹ پہ بچہ پیشاب کردے اور سوکھ جائے تو کارپیٹ پہ پانی بہاکر اسفنج سے صاف کیا جائے گا پھر اس جگہ نماز پڑھی جائے گی ۔ بچہ کی تفصیل اوپر معلوم ہوگئی یعنی شیرخواربچہ  کا الگ حکم اور دانہ پانی استعمال کرنے والے بچہ کا الگ حکم۔

سوال (4): ایک شخص ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملحد کہتا ہے ایسے شخص سے تعلق رکھنا یا ایسے شخص کے بارے میں ہمارا  کیا موقف ہونا چاہئے؟

جواب : جو شخص کسی مسلمان کو ملحد اور کافر کہے تو اس کا الحادوکفر اسی کی طرف لوٹ جائے گا یعنی وہ خود کافر ہوجائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أيُّما امرئٍ قالَ لأخيهِ : يا كافِرُ . فقد باءَ بِها أحدُهما . إن كانَ كما قالَ . وإلَّا رجعَت عليهِ(صحيح مسلم:60)

ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا۔

ڈاکٹر ذاکر نائک منہج سلف پہ قائم صحیح العقیدہ مسلمان ہیں انہیں جو کوئی کافر کہے گا اس کا کفر اس کی طرف ہی لوٹ جائے گا ،ایسا شخص تکفیری ہے اور حدیث کی رو سے خود کفر کا مستحق ہورہاہےایسوں سے تعلق استوار نہ کیا جائے بلکہ دوسروں کو بھی ایسے تکفیری  لوگوں سے بچنے کی ترغیب دی جائے ۔

سوال (5) :کیا کسی عالم کا کسی دوسرے عالم کو رد کرنا اسلام میں جائز ہے ؟

جواب : ایک عالم دوسرے عالم کا عام طور سے رد نہیں کرتا ہے بلکہ کوئی علمی مسئلہ ہوتا ہے اس مسئلہ پہ دو عالم کے دلائل کی روشنی میں الگ الگ دو نظریات اور دو موقف ہوسکتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ فقہی مسائل یا اجتہادی قسم کے سوالات پہ علماء کے آراء مختلف ہوسکتے ہیں ۔ اگر دو عالموں کا آپس میں کسی فقہی اور اجتہادی مسئلہ پہ دلائل کی روشنی میں اختلاف ہو تو دونوں عالم اسلام کی نظر میں اچھے ہیں ۔ ہاں جو عالم بغیر دلیل کے اپنے من سے بات کرتا ہے یا کتاب وسنت سے ثابت شدہ عقائد میں اختلاف کرتا ہے یا اپنے مذہب ومسلک کے مخالف علماء کی تکفیر یا کسرشان کرتا ہے تو ایسے آدمی / عالم کے مخالف شرع باتوں کی بھرپور مذمت اوررد کرنا چاہئے یہ ضرروی امر ہے ، مبادہ سادہ لوح اس کی کج فکری ، غلط نظریات اور باطل عقائد کا کہیں شکار نہ ہوجائے ۔

سوال (6) : مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق کیا جس میں وہ بتا رہے تھے کہ عید الاضحی اور حج کے موقع پر منی میں اور تیسرا عقیقہ کے علاوہ جانور (بکرا) ذبح کرنا عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے اگر یہ سچ ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا ارادہ مساکین کو جانور ذبح کر کے کھانا کھلانے کا ہو تو ہمارے عمل پہ کیا حکم لگے گا؟

جواب :  میں نے بھی مفتی صاحب کا بیان سنا تھا جس میں مذکورہ بات وہ بتلارہے تھے ، ان کا یہ بیان بلادلیل ہے اس لئے رد کردیا جائے گا۔ آپ بلاشبہ بکرا ذبح کرکے فقراء ومساکین کو کھلا سکتے ہیں ، یہ عمل بدعت نہیں مسنون ہوگااور ہر وہ کام جو مسنون ہے عبادت بھی ہے ۔اسی طرح کوئی اللہ کے لئے نذر میں جانور ذبح کرنے کا ارادہ کرے تو ذبح کرسکتا ہے ،حدیث مصطفی ﷺ سے اس کی دلیل دیکھیں :

سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:

نذرَ رجلٌ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أن ينحرَ إبلًا بِبُوانةَ فأتى النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فقالَ إنِّي نذرتُ أن أنحرَ إبلًا ببُوانةَ فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ هل كانَ فيها وثَنٌ من أوثانِ الجاهليَّةِ يعبدُ قالوا لا قالَ هل كانَ فيها عيدٌ من أعيادِهم قالوا لا قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ أوفِ بنذرِكَ فإنَّهُ لا وفاءَ لنذرٍ في معصيةِ اللَّهِ ولا فيما لا يملِكُ ابنُ آدمَ(صحيح أبي داود:3313)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : بیشک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو ؟  صحابہ نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی ؟  صحابہ نے کہا نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنی نذر پوری کر لے ۔بے شک ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو  اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو ۔

سوال (7) : کیا قیامت کے دن مساجد بھی فنا ہوجائیں گی یا پھر وہ باقی رہیں گی ؟

جواب :  ایک روایت مجمع الزوائد وغیرہ میں ہے کہ ساری زمین فنا ہو جائے گی سوائے مساجد کے ، روایت اس طرح سے ہے :

تَذْهَبُ الْأَرَضُونَ كُلُّها يومَ القيامةِ ، إلا المساجدَ ، فإنها يَنْضَمُّ بعضُها إلى بعضٍ(مجمع الزوائد: 9/2)

ترجمہ: قیامت کے دن ساری زمین فنا ہوجائے گی سوائے مساجد کے کہ یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گی ۔

اس میں اصرم نامی ایک راوی متہم وکذاب ہے اوریہ روایت موضوع ہے جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا (دیکھیں : ضعیف الجامع: 2420)

ابن عدی نے باطل کہا ہے ۔(الکامل فی الضعفاء : 2/96)

اس لئے اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا ،قیامت کے دن ساری چیزیں فنا ہوجائے گی حتی کہ مساجد بھی یہی قرآن وحدیث کے عمومی دلائل سے واضح ہوتا ہے ۔

سوال (8) : کتنے کلو میٹر پہ نماز قصر کرنا ہے ؟

جواب :  اصلا احادیث میں کلو میٹر کے حساب سے قصر کا تعین نہیں ہے ،قصر کے لئے عرف میں جسے سفر کہا جائے گا اس میں نماز قصر کرنا ہے خواہ وہ جتنے کلو میٹر کا ہو البتہ سعودی علماء نے اندازہ کے طور پر تقریبا اسی (80) کلو میٹر لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص اسی کلو میٹر کا سفر کرے یا اس سے بھی کم کلومیٹر کا سفر کرےمگر عرف عام میں اسےسفر کہا جاتا ہو تو قصر کریں گے ۔

سوال (9) : کیا مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کئے جا رہے ظلم و ستم کے خلاف جلوس و احتجاج اور مظاہرے کرنا یا اس میں شامل ہونا شرعا صحیح نہیں ہے؟ ایک شخص سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ شرعا صحیح نہیں ہے، کیا ظلم کے خلاف خاموشی جرم نہیں ہے؟ برائے مہربانی ہماری اصلاح کریں ۔

جواب :  اسلام امن کا پیغامبر ہے جو کام امن کے خلاف ہے اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ آجکل جو مظاہرے ہورہے ہیں اس میں امن مخالف نعرے، اشتعال انگیزی، لوٹ مار، طعن وتشنیع، توڑپھوڑ ، اختلاط مردوزن، فتنہ وفساد، قتل وغارت گری ، رقص وسرود وغیرہ پایا جاتا ہے اس وجہ سے اس قسم کے مظاہرے واقعی شرعا جائز نہیں ہیں لیکن اگر پرامن مظاہرے ہوں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔

سوال (10): اگر اللہ تعالی ہی صرف عالم الغیب ہے تو رسول اللہ ﷺ نے کیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ، یہ بھی تو غیب کی خبر ہے ؟

جواب : نبی ﷺ نے مستقبل کی جوبھی خبر دی ہے وہ اللہ کی طرف سے دی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ آپ ﷺ خود سے جان لیتے تھے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور صرف مستقبل ہی بلکہ دین کی جو بھی بات آپ نے بتلائیں سب اللہ کی جانب سے ہیں آپ نے ذرہ برابر بھی اپنی جانب سے نہیں بتلایا ہے ۔ اس بات کی دلیل اللہ کا کلام ہے ۔ فرمان الہی ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم: 3-4)

ترجمہ: آپ اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں بولتے ،جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو بیان کرتے ہیں ۔

یہ آیت بتلاتی ہے کہ نبی ﷺ نے جو عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی ہے وہ اپنی جانب سے نہیں دی بلکہ اللہ کی طرف سے دی ہے اس لئے تن تنہا  اللہ کا عالم الغیب ہونا اپنی جگہ برحق ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں جابجا بیان فرمایا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی نبی یا ولی غیب کی خبر نہیں رکھتا ہے۔

سوال (11) کیا ضعیف اور من گھڑت روایات پر عمل کیا جا سکتا ہے؟اگر کیا جا سکتا ہے تو کس حد تک؟ کیا ضعیف اور من گھڑت روایات و قصے کی حقیقت لوگوں کے سامنے لانا اچھا ہے برا؟ براہ کرم وضاحت کردیں ۔

جواب : من گھڑت روایات اور من گھڑت قصے تو مردود ہیں ، عمل کرنے کی تو دور کی بات انہیں بیان بھی نہیں کیا جائے گا ۔ ہاں اگر یہ عوام میں مشہور ہوگئے ہوں تو لوگوں کی آگاہی کے لئے بیان کرسکتے ہیں اس شرط کے ساتھ ان کا موضوع ہونا بھی بیان کیا جائے۔ رہا مسئلہ ضعیف احادیث کا تو فضائل اعمال میں ان پر عمل کیا جائے گا مگر مطلقا نہیں علماء کچھ شرائط بیان کرتے ہیں ۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ تین شرائط ذکر کرتےہیں :

پہلی شرط یہ ہے کہ حدیث میں شدید نوعیت کا ضعف نہ پایا جاتا ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ ضعیف حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہو یعنی اس کی اصل کسی صحیح حدیث سے ثابت ہو۔

تیسری شرط یہ ہے کہ عمل کرتے ہوئے اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔

آج کل لوگوں میں ضعیف وموضوع احادیث و قصص بہت گردش میں ہیں جو سوشل میڈیا پہ ضعیف احادیث سے لوگوں کو باخبر کرنے کا کام کرتا ہے بہترین عمل ہے کیونکہ یہاں عوام کی کثرت ہے حدیث کو دیکھ کر فورا یقین کرلیتی ہے قطع نظر اس سے کہ یہ صحیح ہے یا ضعیف ؟ اس لئے وہ لوگ جو سوشل میڈیا پہ دفاع عن السنہ کا کام کررہے ہیں عوام کے لئے بہت مفید ومبارک عمل ہے ۔

سوال (12) : کیا پانچ نمازیں سب سے پہلے انبیاء نے پڑھیں ؟

جواب : قرآن وحدیث کے بے شمار نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر بھی نمازیں فرض تھیں ، قرآن میں متعدد انبیاء کا نام لیکر نماز کا ذکر ہے مگر کہیں کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انبیاء بھی ہماری طرح پانچ نمازیں پڑھتے تھے یا پھر انبیاء نے سب سے پہلے پانچ نمازیں پڑھیں ۔ہاں شرح معانی الآثار میں ایک روایت اس طرح مروی ہے ۔

رقم الحديث: 624 (حديث مقطوع) مَا حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَكَمِ الْكَيْسَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ : ” إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لَمَا تِيبَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْفَجْرِ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحَ ، وَفُدِيَ إِسْحَاقُ عِنْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَرْبَعًا ، فَصَارَتِ الظُّهْرَ ، وَبُعِثَ عُزَيْرٌ فَقِيلَ لَهُ كَمْ لَبِثْتَ ؟ فَقَالَ : يَوْمًا ، فَرَأَى الشَّمْسَ ، فَقَالَ : أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَصَارَتِ الْعَصْرَ ، وَقَدْ قِيلَ غُفِرَ لِعُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَغُفِرَ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، عِنْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَجُهِدَ فَجَلَسَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصَارَتِ الْمَغْرِبُ ثَلاثًا ، وَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلِذَلِكَ قَالُوا الصَّلاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلاةُ الْعَصْرِ ” .(شرح معاني الآثار للطحاوی، كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابُ الصَّلاةِ الْوُسْطَى أَيُّ الصَّلَوَاتِ ؟)

ترجمہ: عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب فجر کے وقت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو دو رکعت نماز پڑھی پس صبح کی نمازہوئی، اسحاق علیہ السلام کا فدیہ ظہر کے وقت آیا تو ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعت نماز پڑھی تو ظہر کی نماز ہوئی، عزیز علیہ السلام اٹھائے گئے اور پوچھا گیا کہ کتنی دیر ٹھہرے رہے ؟ انہوں نے جواب دیا ایک دن۔ پس انہوں نے سورج دیکھا تو کہا یا کچھ دن اور چار رکعت نماز ادا کی تو عصر کی نماز مقرر ہوگئی، اور کہا جاتا ہے کہ مغرب کے وقت عزیز علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام معاف کئے گئے تو انہوں نے چار رکعات نماز ادا کرنے کھڑے ہوئے تو تھک کر تیسری رکعت پر بیٹھ گئے تو مغرب کی نماز تین رکعت ہوگئی، اور عشاء کی نماز سب سے پہلے محمد ﷺ نے پڑھی اسی لئے انہوں نے کہا کہ صلاۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔

یہ روایت مقطوع ہے یعنی اس کی سند نبی ﷺ یا کسی صحابی تک نہیں پہنچتی بلکہ اس سے نیچے تابعی یا تبع تابعی تک پہنچتی ہے اور اس کی سند میں قاسم بن جعفر مجہول الحال راوی ہے ۔ اس روایت سے کسی طرح استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

ترمذی کی ایک روایت میں ہے ذکر ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو دوبار کعبہ کے پاس  پانچ وقتوں کی نمازیں  پڑھائیں پہلی دفعہ  اول وقت میں پھر آخر وقت میں اور کہا اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقاتِ نمازتھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۔(صحیح الترمذی: 149)

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انبیاء بھی پانچ نمازیں ان اوقات میں ادا کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ کے لئے اول وآخر وقت ہے یعنی نماز کو اول وقت سے لیکر آخر وقت تک ادا کرسکتے ہیں اسی طرح انبیاء کو بھی اول وآخر وقت کی وسعت تھی ۔

سوال (13): غسل کے دوران ناک اور منہ میں پانی ڈالنا بھول جائے تو غسل ہوگا کہ نہیں ؟

جواب : اگرکوئی غسل طہارت کررہاہو اور غسل میں ناک اور منہ میں پانی ڈال کر صفائی کرنا بھول گیا تو غسل نہیں ہوگا اس لئے جس نے غسل کیا اور غسل کے دوران یاد آیا کہ کلی نہیں کی اور ناک میں پانی نہیں ڈالا تو ناک ومنہ میں پانی ڈال کر صفائی کرلے حتی کے غسل کے بعد بھی یاد آئے تو ان کی صفائی کرلے غسل صحیح ہوگا کیونکہ غسل میں ترتیب ضروری نہیں ہے ہاں اگر غسل کے ایک لمبے وقفے کے بعد یاد آیا تو غسل دہرالے بہتر ہے اور طہارت والا غسل نہیں بلکہ ریفریش ہونے کے لئے غسل کیا ہو اور اس غسل میں ناک ومنہ میں پانی ڈالنا بھول جائے توکوئی مسئلہ نہیں ۔

سوال (14) : پیر کا لباس زعفرانی کیوں ہوتا ہے ؟

جواب : اولا اسلام میں اس قسم کے پیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے پیر کے نام پہ کاروبار کرنے والے جعلی لوگ ہیں ،ایسے لوگوں کا زعفرانی کپڑا پہننا ہندؤں کے باباؤں ، سادھوؤں اور  سنتوں کی مشابہت  اختیارکرناہےاور ساتھ ساتھ نبی ﷺ نے زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے ۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔

سوال (15):کاروبار میں رکاوٹ ہوتو گھر بدلنے سے فائدہ ہونے کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے ؟

جواب : کاروبار میں سودوزیاں کا تعلق گھر سے نہیں ہے اور یہ بات جان لیں کہ گھر سے نحوست یا بدفالی لینا جائز نہیں ہے ، ایک روایت میں گھر، عورت اور گھوڑے میں نحوست کا ذکر ہے مگر اس کا اصل معنی یہ ہے کہ اگر نحوست ہوتی ہے تو ان تین چیزوں میں ہوتی یعنی گھر،عورت اور گھوڑا میں ۔روایت وترجمہ دیکھیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إن كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففي الدارِ، والمرأةِ، والفَرَسِ.(صحيح البخاري:5094)

ترجمہ: نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتی، گھر، عورت، گھوڑا۔

بلکہ نبی نے تو ہرقسم کی نحوست کی نفی کرتے ہوئے ان تین چیزوں میں برکت پائے جانے کی خبر دی ہے ۔ فرمان نبوی ہے :

لا شؤمَ وقد يَكونُ اليُمنُ في ثلاثةٍ: في المرأَةِ، والفَرَسِ، والدَّارِ(صحيح ابن ماجه:1633)

ترجمہ: نحوست کچھ نہیں اور برکت بعض اوقات تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت میں ، گھوڑے میں اور مکان میں ۔

ان احادیث اور دیگرقرآنی آیات وفرمان رسول  کو سامنے رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ گھر بدلنے سے کاروبار میں فائدہ ہوگا یا یہ کہےکہ فلاں گھر کی نحوست سے تجارت میں نقصان ہوگیا۔ہاں روزی کمانے کے لئےگھر چھوڑنا پڑے یا مکان کی تنگی یا مجبوری ہوتو گھر بدلنا پڑے اس میں حرج نہیں ۔ یاد رکھیں ہندؤں کے یہاں گھروں میں نحوست مانی جاتی ہے بطور خاص جب کسی گھر میں کسی کی غیرطبعی موت ہوجائے ۔ اس لئے یہ ہندو کا عقیدہ توہوسکتا ہے مگرکسی مسلمان کا عقیدہ نہیں ہوسکتا۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close