فقہمذہب

شرعی معذوروں کی طہارت و عبادت

مولانا محمدجہان یعقوب

شریعت نے بعض لوگوں کوجو مختلف بیماریوں کی وجہ سے وضو برقرار نہیں رکھ سکتے، معذور قرار دیا ہے اور ان کے لیے نمازا ور دوسری عبادات کے سلسلے میں خاص رعایت دی ہے، کیوں کہ اسلام کسی بھی شخص پر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ذیل میں ان شرعی معذوروں کے احکام بیان کیے جاتے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ کون کون سے لوگ شریعت کی نظر میں کن کن حالتوں میں معذور قرار دیے گئے ہیں۔ یاد رکھیے!شریعت کی نظر میں معذور وہ شخص کہلاتا ہے، جس کو ایسا عذرلاحق ہو کہ اس کی وجہ سے اس کا وضوبرقرار نہ رہتا ہو:مثلاً نکسیر پھوٹتی ہو کہ کسی طرح بندنہ ہو، یا ایسا زخم ہو، جو بہتا رہتا ہو، یا پیشاب کی ایسی بیماری ہو کہ ہر وقت قطرہ آتا رہتا ہو، یاگیس کی ایسی بیماری ہو کہ وضو برقرار نہ رہتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ!ان اعذارکی صورت میں بھی معذور کاحکم اس وقت لگے گا جب درج ذیل شرائط پائی جائیں:

1۔ یہ عذر نماز کے ابتدائی وقت سے لیکر اخری وقت تک اس طرح برقرار رہے کہ اس کو عذر کے بغیر اتنا وقت بھی نہ مل سکے کہ وہ جلدی جلدی وضو کرکے فرض نماز سنن و مستحبات کی رعایت کیے بغیر جلدی جلدی بغیر جماعت کے اکیلے بھی ادا کرسکے۔ سنن و مستحبات کی رعایت کیے بغیر جلدی جلدی وضو اورجلدی جلدی نماز پڑھنے کی صورت یہ ہے کہ جلدی جلدی اس طرح وضو کرے کہ صرف وہی چار عضو دھوئے جن کا وضو میںدھونا فرض ہے(وضو کی سنتیں اور مستحبات وغیرہ چھوڑ دے)فرض رکعتیں بھی اس طرح پڑھے کہ صرف نماز کے فرض و واجبات ادا ہوجائیں، اگرچہ سنن و مستحبات رہ جائیں، اس طرح یہ رکعتیں مزید مختصر ہوجائیں گی، مثلاً:قیام میں صرف سورئہ فاتحہ اورسورئہ کوثر یا سورئہ اخلاص پڑھے، نہ ثنا پڑھے اور نہ ’’اعوذ باللہ ‘‘ اورنہ ’’بسم اللہ‘‘ پڑھے۔ سورئہ فاتحہ کے بعد آمین نہ کہے۔ رکوع و سجود میں ایک ایک مرتبہ تسبیح پڑھے۔ قومہ میں ’’ربّنا لک الحمد‘‘ چھوڑ دے۔ التحیات کے بعد کوئی بھی مختصردرودمثلاً؛الّلھمّ صل علی محمد و علی ال محمدٍ‘‘پڑھے۔ اسی طرح کوئی مختصر دعا ’’الّلھم ّ اغفرلی ‘‘ پڑھے۔ اس کی بھی گنجائش ہے کہ صر ف التحیات پڑھ کر سلام پھیردے۔ تیسری اورچوتھی رکعت کے قیام میں تین تین مرتبہ ’’سبحان اللہ ‘‘ پڑھ لے، اگرچہ سورئہ فاتحہ نہ پڑھے۔ وتر میں مسنون دعائے قنوت کے بجائے کوئی مختصر دعا مثلاً:’’ ربّنا ٰاتنا ‘‘یا’’ ربّ اغفرلی‘‘ پڑھے۔

2۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بھی اس عذر سے بچنا ممکن نہ ہو۔

3۔ کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے کی صورت میں بھی اس عذر سے بچنا ممکن نہ ہو۔

4۔ اس عذر سے بچنا اس کے قابو سے باہرہو، یعنی کسی تدبیر یا علاج کے ذریعے بھی اس عذر کو ختم کرنا ممکن نہ ہو، مثلاً :

پیشاب کی نالی میںروئی وغیرہ رکھنے کے باوجود پیشاب کے قطروں سے بچنا ممکن نہ ہو۔ وغیرہ وغیرہ!(عالمگیری، کتاب الطہارۃ، الباب السادس:۱/۴۰)

نوٹ: مذکورہ تفـصیل کے مطابق اگر کسی بھی صور ت مثلاً:بیٹھ کر نماز پڑھنے سے یا اشارے سے نماز پڑھنے سے یا کسی تدبیر یا علاج کو اختیار کرکے، پاکی کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن ہو تو معذوری کاحکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ اسی صورت کواختیار کرکے پاکی کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہوگا۔ ذیل میں معذوروں کی طہارت وعبادت کے حوالے سے ضروری مسائل کتب ِ فقہ کی روشنی میں درج کیے جاتے ہیں:

معذور شخص ہر نماز کے وقت نیا وضو کرلیا کرے گا، جب تک اس نماز کا وقت رہے گا اس کا وضو بھی باقی رہے گا۔ جو شخص معذور ہو اس کو وقت سے پہلے وضو کرنا درست نہیں، وہ وقت داخل ہونے کے بعد ہی وضو کرے، اگرچہ جماعت فوت ہوجائے۔ معذور شخص غیر معذ ورلوگوں کا امام نہیں بن سکتا۔ :معذور ہونے کے بعد قطروں کا وقفہ وقفہ سے آنا اورجلدی جلدی آنا سب برابر ہیں۔ معذور کے لیے فجر کا وضو سورج نکلنے تک اورسورج نکلنے کے بعد کیا ہو اوضو عصر تک باقی رہتا ہے، چنانچہ اشراق، چاشت اورعیدین کے وضو سے ظہر کی نما زپڑھی جاسکتی ہے، عصر کاوضو مغرب تک، مغرب کاوضو عشاء تک اورعشاء کا وضو صبح صادق تک رہے گا، لہذا تہجد کے وضو سے فجر کی نماز نہ پڑھی جائے۔ اگر عذر کے علاوہ کسی اوروجہ سے وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کرنا ضروری ہوگا۔ قطروں کی بیماری کی صورت میں روئی پیشاب کی نالی میں تھوڑ ا اندر کرکے رکھی جائے، تاکہ روئی کا وہ حصہ جو نظر آتا ہے اس پر پیشاب کی تری کا اثر ظاہر نہ ہو، چنانچہ اگراثر ظاہر ہوگیا تو باقی نہ رہے گا۔ :اگر معذور اس بات پر قادر ہے کہ زخم پر کپڑا باندھنے یا روئی رکھنے یا روئی بھرنے سے خون، پیپ وغیرہ کے عذر کو روک سکتا ہے یاکم کرسکتا ہے تو اس کو بند کرنا یاکم کرنا واجب ہے، ایسا شخص معذور نہیں رہتا۔

اگر جھکنے یا سجدہ کرنے سے خون جاری ہوجاتا ہے یا پیشاب کے قطرے گرنے لگتے ہیں، اورکھڑے رہنے یا بیٹھنے سے جاری نہیں ہوتے تو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے، اسی طرح اگر کھڑے ہونے سے عذر جاری رہتا ہے، بیٹھنے سے نہیں تو نماز بیٹھ کر پڑھے، ان صورتوں میں یہ شخص معذور نہیں ہوگا۔ اگر لیٹے رہنے سے عذر جاری نہیں ہوتا، بیٹھنے یاکھڑے ہونے سے جاری ہوتا ہے تو یہ شخص معذور ہے، لہٰذالیٹ کر نماز نہ پڑھے، بلکہ نماز کے سارے رکن اداکرے، اگرچہ عذر برقرار رہتا ہو، کیوں کہ ایسا شخص شرعی معذور ہے۔ اگر کسی کو مثلاًنماز ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد عذر پیش آیا تو آخر وقت تک انتظار کرے، اگر عذر برابر جاری رہے یعنی جلد ی جلدی وضو کرکے جلدی جلدی نماز ادا کرنے کا موقع بھی نہ مل سکے تو اسی حالت میں نماز ادا کرے اورپھر دیکھے کہ عصر میں عذر تمام وقت  رہتا ہے یا نہیں، اگر اس کو نماز پڑھنے کا موقع مل گیا تو وہ ظہرکے چار فرض دوبارہ لوٹائے، اس لیے کہ وہ معذور نہیں ہے، سنن اورنوافل دہرانے کی ضرورت نہیں اور اگر عصر کے پورے وقت میں اس کو پاکی کی حالت میں نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو وہ معذور ہے اورظہر کی نماز اس کی درست ہے۔ :اگر وضو کرتے وقت خون جاری تھا اورنماز پڑھتے وقت بند تھا اورپھر دوسری نما زکے تما م وقت میں بندرہا تو پہلی نماز کو دہرائے، اسی طرح جب نماز کے اندر خون بند ہوا اودوسری نما زکے سارے وقت میں بند رہا تو پہلی نما زکو دہرائے۔ کسی شخص کے ایک مرتبہ معذور ہوجانے کے بعد اس کی معذوری باقی رہنے کے لیے شر ط یہ ہے کہ ہر نماز کے پورے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ ضروریہ عذر لاحق ہو، چنانچہ معذور ہونے کے بعد اگر کسی نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ بھی یہ عذر لاحق نہیں ہوا تو اس کا معذور ہونا ختم ہوجائے گا، اب اس کا حکم یہ ہوگا کہ جتنی مرتبہ عذر لاحق ہوگا وضو ٹوٹ جائے گا۔

عمومی طور پر معذوروں کو نماز، طہارت اور عبادات کے سلسلے میں جن جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے مسائل ذکر کیے گئے ہیں، اگر ان مسائل سے ہٹ کر کوئی مسئلہ پیش آجائے، تو علما ومفتیان کرام سے رابطہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام مریضوں اورمعذوروں کو صحت تن درستی عطا فرمائے، اور ہر حال میں اپنی عبادت واطاعت سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کرتے رہنے کی زندگی کے آخری سانس تک توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close