تصوفمذہب

عشق!

ہم نے عشق کو صرف عورت ذات تک محدود کر دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں عشق صرف جنس مخالف کے لیے رونے دھونے اور جان کی بازی لگانے کا نام ہے۔

محمد عرفان ندیم

دن کے گیارہ بج چکے تھے لیکن موسم ابھی تک سرد تھا۔یہ 2014کی دوسری صبح تھی اور میں بابا جی کی خانقاہ پر بیٹھا ان کی نصیحتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ باتوں باتوں میں ہمارا موضوع عشق کی طرف مڑ گیا اوراس کے بعد بابا جی نے میرے سامنے عشق کی گتھیاں سلجھانا شروع کر دیں۔ میں مذہب عشق کا سخت کافر تھا لیکن اس دن کے بعد مجھے احساس ہوا عشق کے بغیر زندگی ادھوری ہے اور جس شخص نے ابھی تک عشق کی گنگا میں ہا تھ نہیں دھو ئے اس کی شخصیت ابھی تک نامکمل اور ادھوری ہے۔ بابا جی سے ملا قات سے پہلے عشق کے بارے میں میرا نقطہء نظر وہی تھا جو ہم میں سے اسی فیصد لو گوں کا ہے لیکن اس دن کے بعد مجھے پتاچلا شاید اسی فیصد لوگ عشق کو غلط رنگ میں دیکھتے ہیں اور بلا وجہ عشق سے نفرت کر تے ہیں۔

ہم نے عشق کو صرف عورت ذات تک محدود کر دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں عشق صرف جنس مخالف کے لیے رونے دھونے اور جان کی بازی لگانے کا نام ہے۔ اور اگر کو ئی جنس مخالف کوپانے کے لیے مجنون، پاگل یا دیوانہ بن جائے یا خود کشی کر لے ہم اسے عشق کی معراج سمجھتے ہیں جبکہ یہ عشق کی کھلی توہین ہے۔ میں نے پو چھا ’’بابا جی عشق کیا ہے ‘‘بابا جی نے ماہر فلسفی کی طرح نظریں گھمائیں اور میری طرف دیکھ کر بولے ’’عشق کمال انسانیت، حاصل مذہب، ایک بلند ترین تجزیہ اور انسانی تلا ش کا نام ہے۔

انسان کا دل اگر عشق سے خالی ہو تو وہ انسان نہیں پتھر کا بت ہے، عشق انسان سے خدا نہیں چھڑواتا بلکہ انسان کو خدا کے قریب کر دیتا ہے اور عشق ایک تاریک جنگل کی طرح ہو تا ہے جو ایک دفعہ اس جنگل میں چلا جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ عشق بے لوث ہو تا ہے اور طبیعت میں شائستگی پیدا کر تا ہے، عشق صندل کی لکڑی کی طرح سلگتے رہنے کا نام ہے اور عشق کسی کو پانے اور کھونے سے بہت ما وراء ہو تا ہے۔ عشق ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کر تا ہے اور عشق ہر کسی کی آہ اور دکھ میں اپنا دکھ اور اپنی آہ محسوس کر تا ہے، جو خود غرض ہو وہ عشق نہیں ہو تا اور عشق انسان کو خلق عظیم کا پیکر بنا دیتا ہے ‘‘میں نے پوچھا ’’بابا جی عشق حقیقی اور عشق مجازی کی حقیقت کیا ہے ‘‘بابا جی نے گہری سانس لی اور سرد آہ بھر کر بولے ’’عشق عشق ہوتا ہے خواہ حقیقی ہو یا مجازی، یہ خوش نصیبوں کو ہو تا ہے اور اگر کو ئی سمجھنے والا ہو تو عشق اللہ کی بہت بڑی توفیق ہو تی ہے گناہ نہیں۔

عشق بندے کو رب کے قریب کر دیتا ہے اور دنیا میں ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیاء بھی بندے کو رب کے قریب کر نے آئے تھے اب اس سے تم عشق کے مقام اور مرتبے کا اندازہ کر سکتے ہو ‘‘بابا جی کے اس جواب نے مجھے تذبذب میں ڈال دیا تھا میں رکے بغیر بولا ’’باباجی عشق حقیقی تو بجا مگر عشق مجازی کو ہم کیسے اللہ کی توفیق کہہ سکتے ہیں کیا یہ کھلا گناہ نہیں ‘‘بابا جی نے ناصحانہ انداز میں بولنا شروع کیا’’عشق مجازی عشق حقیقی کی منزل آسان کر دیتا ہے اور عشق مجازی کے دریا میں بہنے والا نافرمان کبھی نہ کبھی عشق حقیقی کے سمندر میں اتر جا تا ہے اور پھر اس کے اور رب کے درمیان صرف ایک باریک سا پردہ حائل ہو تا ہے، وہ پہلی ہی جست میں عشق حقیقی کے اس مقام تک پہنچ جا تا ہے جہاں صوفیاء بیسیوں سالوں کی محنت، ریاضت اور مشقت کے بعد پہنچتے ہیں ‘‘مجھے بات پو ری طرح سمجھ نہیں آئی تھی میں نے بابا جی سے وضاحت چاہی انہوں نے اپنے دو مریدوں کی طرف اشارہ کیا اور بولے ’’یہ پہلا مرید دس سال سے میری خدمت میں ہے لیکن یہ ابھی تک تصوف کی دوسری سیڑھی پر کھڑا ہے لیکن جو دوسرا مرید ہے اس کو اس خانقاہ میں آئے ہوئے صرف چھ ماہ ہو ئے ہیںلیکن اسے میں نے اپنی خلافت عطا کر دی ہے ‘‘دس سال اور چھ ماہ میں زمین و آسمان کا فرق تھا، میرے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر بابا جی خود ہی گویا ہوئے ’’اس دوسرے مرید کی کہانی بڑی عجیب ہے۔

یہ آج سے دس سال پہلے لا ہو ر گیا اور وہاں لیکچرار کی نو کر ی شروع کر دی۔ نو کری کے دوران ہی اسے عشق ہو گیا اور دونوں نے اکھٹے جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں، کچھ وقت تک سب ٹھیک چلتا رہا لیکن دو سال بعد کہانی ایک سو اسی زاویے الٹ چلنا شروع ہو گئی۔ محبوب نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا لیکن اس کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی، اس نے لا کھ منانے کی کو شش کی مگر نتیجہ خاک نکلا۔ یہ کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہتا لیکن محبوب کو ترس نہ آیا۔ ایک دن سخت سردی کی رات تھی یہ گھر سے نکلا اور محبوب کی تلاش میں آہیں بھرنے لگا، اس کا محبوب لا ہو رکے ایک نامور ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ رات کا وقت، دسمبر کی سردی اور یہ سوائے تن کے کپڑوں کے ہر چیز سے خالی۔ پوچھ گچھ کرتا ہسپتال پہنچ گیا، محبوب پر نظر پڑتے ہی بچوں کی طرح رونے لگا کہ مجھے بس یہی چاہئے، پورے وارڈ میں کھلبلی مچ گئی، ارد گرد سے لو گ اکھٹے ہو گئے لیکن محبوب کو پھر بھی ترس نہ آیا اور اس نے سنی ان سنی کر دی۔ یہ غش کھا کر گر پڑا، صبح ہو ش آیا تو اسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل تھا۔ اس کے ساتھ والے بیڈ پر میرے کسی مرید کا کو ئی رشتہ دار تھا اس نے اسے میرا ایڈریس دے دیا، یہ ہسپتال سے سیدھا میرے پا س چلا آیا، میں نے اسے خانقاہ میں رہنے کی اجازت دے دی، پہلے یہ ایک ہفتہ پریشان رہا لیکن پھر اس پر خانقاہ کا رنگ جمنا شروع ہو گیا۔ دو ہفتے بعد یہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے یہاں عجیب سی خوشی محسوس ہو نے لگی ہے، جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اللہ سے باتیں کر رہا ہوں اور جب ذکر کی محفل ہو تی ہے تو جو حال اس پر طاری ہوتا ہے وہ اب تک بڑوں بڑوں کو حاصل نہیں ہوا ‘‘لیکن باباجی آپ نے ایک عورت کے عاشق کو اتنی جلدی خلافت کیسے دے دی ‘‘بابا جی ہنستے ہو ئے بولے ’’یہی وہ نکتہ ہے جو میں تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے دو ماہ میں اس کے ذہن سے اس عورت کو نکال کر اللہ کو بٹھا دیا، میں نے اس کی ساری توجہ اس عورت سے ہٹا کر اللہ کی طرف مو ڑ دی اور پھر اس دن کے بعد اس کی قسمت بدلنا شروع ہو گئی۔ عشق مجازی نے اسے رونا دھونا، محبوب سے باتیں کرنا، محبوب کو منانا اور کبھی محبو ب کو مناتے ہو ئے خود روٹھ جا نا یہ سب سکھا دیا تھا۔

 یہ عشق کے اسرار ورموز کو جانتا تھا اور یہ جانتا تھا کہ عشق میں معشوق کی رضاکے لیے سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے اس دن سے اس نے گنا ہوں سے توبہ کی، اللہ سے لو لگا ئی اور خانقاہ میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گیا۔ یہ راتوں کو اٹھ ٹھ کر اس کے سامنے روتا اور اسے مناتا، اور اب یہ اس طرح محبوب سے راز ونیاز کر تا ہے کہ مجھے بھی اس پر رشک آنے لگتا ہے۔ دو ہفتے پہلے میں تہجد کے لیے اٹھا، دیکھا یہ جا ئے نماز پر بیٹھا دعا مانگ رہا تھا، میں نے غور سے سنا تو کہہ رہا تھا ’’یا اللہ تجھے موسیٰ اور چرواہے کا قصہ تو یاد ہے نا ؟موسیٰ کے دور کا وہ چرواہا جو تجھ سے بہت پیار کر تا تھا اور ایک دفعہ وہ آپ سے دعا مانگتے ہو ئے کہ رہا تھا اے اللہ کا ش تو میرے پاس ہو تا، میں تیرے بالوں میں تیل لگاتا، تجھے کنگھی کر تا، تیرے پاؤں دھوتا لیکن موسیٰ نے پیچھے سے زور سے تھپڑ مارا کہ نادان تو کیا کہہ رہا ہے۔ تو یا اللہ تو نے فورا جبرائیل کو بھیج دیا تھا کہ موسیٰ تم نے اسے کیوں مارا، یہ مجھ سے پیار کی باتیں کرر ہا تھا، یہ مجھ سے لاڈ کر رہا تھا، مجھ سے مانگ رہا تھا تم نے اسے کیوں مارا، اے اللہ میں بھی اس چرواہے کی طرح آپ سے پیار کرتا ہوں اور آپ کا ہو نا چاہتا ہوں، اس کے بعد مجھ میں مزید سننے کی سکت نہ تھی اور میں نم آنکھوں کے ساتھ اپنے حجرے میں چلا گیا ‘‘بابا جی کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار ظاہر ہو رہے تھے، میں نے دوسرے مرید کے متعلق پو چھا جو پچھلے دس سالوں سے تصوف کے دوسرے زینے پر کھڑا تھا۔

بابا جی نے مختصرجواب دیا ’’یہ بیچارہ عشق کے اسرار و رموز سے ناواقف ہے، اس کا دل عشق جیسے لطیف جذبات سے خالی ہے، اسے محبوب کے لیے رونا اور اسے منانا بھی نہیں آتا، اس کی دعائیں بے اثر ہیں، اسے مانگنا بھی نہیں آتا، یہ محبوب کے لیے بے چین ہو نا بھی نہیں جانتا اور یہ محبوب کو پانے اور منانے کے لیئے کو ئی حیلے بہانے بھی نہیں کرتا۔ یہ عبادت تو کرتا ہے، نمازیں تو پڑھتا ہے، روزے تو رکھتا ہے، نفل تو پڑھتا ہے، تسبیحات تو کرتا ہے لیکن اس کی یہ ساری عبادت خشک ہوتی ہے، اس میں عشق کا تڑکا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے یہ ابھی تک تصوف کی دوسری سیڑھی پر کھڑا ہے ‘‘نماز کا وقت ہو چکا تھا، میں نے مزید گفتگو مناسب نہ سمجھی، بابا جی اٹھے، سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، چپکے سے اپنے حجرے کی جانب چل دیئے اور میں جنوری کی میٹھی دھوپ میں بیٹھا عشق کو سمجھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close