فقہمذہب

عقیقہ کے جانور میں اشتراک کا شرعی حکم

مقبول احمد سلفی

عقیقہ کے مسائل میں لوگوں کی طرف سے یہ سوال بار بار دہرائے جاتے ہیں کہ کیا عیدالاضحی کے وقت یا دوسرے کسی مواقع سے بڑے جانور کی قربانی کرتے وقت اس میں عقیقہ کا حصہ لینا درست ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب نیچے سطور میں دلائل کی روشنی میں دیا جارہاہےاس سے پہلے ہم عقیقہ اور اشتراک کو جان لیتے ہیں؟

عقیقہ کسے کہتے ہیں؟ امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ وہ ذبیحہ ہے، جو نو مولود کی خاطر ذبح کیا جاتا ہے۔ اصل میں عَقَّ کا معنی پھاڑنا اور کاٹنا ہے اور عقیقہ کو عقیقہ کہنے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ذبح کے وقت ذبیحہ کا حلق کاٹا جاتا ہے، نیز کبھی عقیقہ کا اطلاق نومولود کے بالوں پر بھی ہوتا ہے۔(نیل الأوطار : 5/140)

اشتراک کسے کہتے ہیں ؟ اشتراک یہ ہے کہ قربانی کے بڑے جانور میں نومولود کی جانب سے عقیقہ کے طور پر حصہ لینا۔

عقیقہ اور اشتراک دونوں الفاظ کی حقیقت جان لینے کے بعد عرض ہے کہ عقیقہ کا اصل مقصد خون بہانا ہے جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

معَ الغُلامِ عقيقةٌ فأَهريقوا عنهُ دَمًا وأميطوا عنهُ الأذَى۔

ترجمہ: لڑکے کےساتھ عقیقہ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کرو۔

تخریج : صحيح النسائي:4225،صحيح الترمذي:1515،سنن أبي داود:2839، مجمع الزوائد:4-61،صحيح ابن ماجه:2579، صحيح الجامع:5877، صحيح ابن خزيمة:2067، السنن الكبرى للبيهقي:9/298، المعجم الأوسط:2/247، سنن الدارمي:1967، مسند الإمام أحمد:25542۔

جس طرح یہاں عقیقہ کی بابت شریعت نے صراحت کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ بچہ کی طرف سے (ساتویں دن) خون بہاکر اسے گندگی سے پاک کیا جائے، اس طرح قربانی کے لئے وضاحت نہیں آئی ہے۔ حالانکہ دونوں قربانی ہیں مگر دونوں کے احکام مختلف ہیں۔ عقیقہ کے لئے خون بہانے کے متعلق یہاں تک وضاحت کردی گئی کہ لڑکا کی جانب سے دو خون یعنی دو جانور اور لڑکی کی جانب سے ایک خون یعنی ایک جانورذبح کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: عنِ الغُلامِ شاتانِ مُكافئتانِ وعنِ الجاريةِ شاةٌ(صحيح أبي داود:2842)

ترجمہ: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابراور لڑکی کی طرف سے ایک بکری(عقیقہ کرو)۔

قربانی عبادت کے قبیل ہے اور عبادت کے امور توفیقی ہیں یعنی عبادت کی جو صورت جس طرح وارد ہے اسی کیفیت وانداز میں ادا کی جائے گی۔ مختصرا یہ کہا جائے گا کہ چونکہ عقیقہ کے لئے مستقل طور پر جانور ذبح کرنے کا ذکر ہےاس لئے کسی جانور میں عقیقہ کا حصہ لینا جائز نہیں ہے بلکہ مستقل طور پر لڑکا کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔

اشتراک کے مسئلہ سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بڑے جانور میں عقیقہ کرنا درست ہے ؟

جمہور علماء کا قول ہے کہ اونٹ اور گائے میں عقیقہ دینا جائز ہے، ان کی دلیل ایک ضعیف روایت  اوربعض صحابہ کا عقیقہ کے طور پر اونٹ ذبح کرنا ہے۔ وہ مندرجہ ذیل روایات ہیں۔

پہلی روایت:

مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلامٌ فَلْيَعُقَّ عنْهُ مِنَ الإبِلِ والبقرِ والغنمِ(أخرجه الطبراني في المعجم الصغير:229)

ترجمہ: جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ عقیقہ میں اونٹ، گائے یا بکری ذبح کرے۔

اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے (ارواء الغلیل:1168)

دوسری روایت :

عن قتادة:أن أنس بن مالك كان يعق عن بنيه الجزور( رواه الطبراني)

ترجمہ: قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ انس بن مالکؓ اپنے بچوں کا عقیقہ اونٹ سے کیا کرتے۔

ہیثمی نے کہا کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ (مجمع الزوائد:4-62)

تیسری روایت:

عن أبي بكرة أنه نحر عن ابنه عبد الرحمن جزوراً فأطعم أهل البصرة(تحفة المودود ص:65)

ترجمہ: ابو بکرہؓ سے مروی ہےکہ انہوں نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا تھا اوراس سے اہل بصرہ کی دعوت کی تھی۔

علامہ ابن القیم  رحمہ اللہ نے ان دونوں روایات کو اپنی کتاب "تحفۃ المودود فی احکام المولود "میں ذکر کرنے کے بعد اس عمل پہ بعض صحابہ کرام سے انکار کرنا ذکر کیا ہے یہ کہتے ہوئے کہ لڑکا کی طرف سے دو بکری اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری دینا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہےاس کے علاوہ دوسرے کا عقیقہ جائز نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی انکار پہ یوسف بن ماھک سے ایک اثر بھی ذکر کئے ہیں کہ جب انہوں نے حفصہ بنت عبدالرحمن سے لڑکے کی پیدائش پہ اونٹ ذبح کرنے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ میری پھوپھی (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ لڑکا کی طرف سے دوبکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔ یہ روایت ترمذی (ح:1513)میں ہے مگر وہاں اونٹ کا ذکر نہیں ہے البتہ سنن کبری میں اس کا ذکر ہے روایت دیکھیں :

عن ابن أبي مليكة قال: نفس لعبد الرحمن بن أبي بكر غلام فقيل لعائشة – رضي الله عنها -: يا أم المؤمنين، عقي عنه جزورا، فقالت: معاذ الله، ولكن , ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: شاتان مكافأتان (سنن البيهقي الكبرى:19063)

ترجمہ: عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو عائشہؓ صدیقہ سے کہا گیا :اے امّ المومنین!اسکی طرف سے ایک اونٹ عقیقہ کریں، اس پر اُنھوں نے کہا : معا ذ اللہ ! بلکہ ہم وہ ذبح کریں گےجو رسول ﷺ نے فرمایا ہے:”لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے ( ارواء الغلیل: 1168)

ان ساری روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں بڑے جانور کا ذبح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتا ہے جہاں تک صحابہ کا عمل ہے تو اس بابت دوسرے صحابہ سے انکار ثابت ہے جس کی وجہ سے اونٹ میں عقیقہ کا جواز نہیں نکلتا ہے اور رہا جمہور اہل علم کا قول تو اس کی کوئی صحیح دلیل نہ ہونے کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ چند مسائل واحکام

٭ جن علماء نے بڑے جانورمیں عقیقہ کا جواز پیش کیا ہے اس پہ ٹھوس دلیل وارد نہیں ہونے کی وجہ سے افضل واولی یہی ہے کہ آدمی چھوٹے جانور میں ہی عقیقہ کرے اور جنہیں چھوٹے جانور میں عقیقہ کرنے کی طاقت نہیں وہ اللہ کی طرف سے وسعت کا انتظار کرے تاوقتیکہ کوئی سبیل پیدا ہوجائے اور چھوٹے جانور میں عقیقہ کرے خواہ عمر طویل ہی کیوں نہ ہوجائے۔

٭ قربانی کے بڑے جانور مثلاگائے، بیل، اونٹ وغیر میں عقیقہ کا حصہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ جب بڑے جانور میں عقیقہ کا ثبوت نہیں ہے تو پھر اس میں اشتراک کیسے جائز ہوگا؟ اگر تھوڑی دیر کے لئے بعض آثار کو بطور دلیل مان بھی لیتے ہیں تو اشتراک کی کوئی دلیل نہیں ہے، عقیقہ کا مقصد خون بہانا اور فدیہ دینا ہے، یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب نومولود کی جانب سے مستقل طور پر جانور ذبح کیا جائے گا۔ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں کہ عقيقہ ميں شراكت كفایت نہيں كرتى چنانچہ دو بچوں كى جانب سے نہ تو اونٹ كفائت كرتا ہے اور نہ ہى گائے اور بالاولى تين اور چار بچوں كى جانب سے كفایت نہيں كريگا، اس كى وجہ يہ ہے كہ:

اول:اس ميں شريك ہونا ثابت نہيں، اور عبادات توقيف پر مبنى ہوتى ہيں.

دوم:يہ فديہ ہےاور فديہ كے حصے نہيں ہوتے؛ چنانچہ يہ جان كى طرف سے فديہ ہے، تو جب جان كى جانب سے فديہ ہوا تو پھر ضرورى ہے كہ وہ بھى جان ہى ہو، اور پہلى علت بلا شك زيادہ صحيح ہے، كيونكہ اگر اس ميں شركت ثابت ہوتى تو دوسرى تعليل باطل تھى، تو اس كا ثبوت نہ ملنا ہى حكم بر مبنى ہے(بحوالہ الاسلام سوال وجواب)

٭ جن بعض علماء نے بڑے جانور میں عقیقہ کو جائز کہا ہے ان میں اکثر اشتراک کو جائز نہیں کہتے ہیں چنانچہ عبداللہ ناصح علوان فرماتے ہیں کہ عقیقہ میں اشتراک درست نہیں ہے جیساکہ سات افراد اونٹ میں اشتراک کرتے ہیں کیونکہ اگر اس میں اشتراک صحیح مان لیا جائے تو بچہ کی طرف سے ” إهراقة الدم” کا مقصد پورا نہیں ہوتا،وجہ یہ ہے کہ عقیقہ کا ذبیحہ مولود کی جانب سے بطورفدیہ ہوتا ہے۔ بھیڑ، بکری کی جگہ اونٹ / گائے ذبح کرنا درست ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ ذبیحہ ایک مولود کے لئے ایک جانور کی صورت میں ہو۔ (تربیة الأولاد في الإسلام : 1/98)

٭ بہت سے لوگ باوجودیکہ وقت پر عقیقہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر بلاوجہ اسے کسی خاص موقع یا عموما عیدالاضحی تک موخر کرتے ہیں اور بڑے جانور میں حصہ لیکر قربانی کے ساتھ عقیقہ  کرتے ہیں۔ اولا :بغیر عذر ساتویں دن کے بعد عقیقہ کرنا خلاف سنت ہے، ثانیا:بڑے جانور میں عقیقہ کا ثبوت نہیں ہے، ثالثا: بڑے جانور میں اشتراک بالکل جائز نہیں ہے۔

٭ اگر کسی کو لڑکا کی جانب سے عقیقہ کے وقت دو جانور میسر نہیں ہوسکا تو پہلے ایک ہی  جانورعقیقہ کرلے اور جب بعد میں ایک دوسرا جانور مل جائے تو اس وقت دوسرا جانور ذبح کرلے۔

اس پورے مضمون کا خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عقیقہ میں چھوٹا جانور ہی ذبح کیا جائے، اگر کسی نے بڑے جانور میں عقیقہ کرلیا تو بعض اہل علم کے قول کی روشنی میں جائز ہے مگر اس کی ٹھوس دلیل وارد نہیں ہونے کی وجہ سے آئندہ بڑے جانور میں عقیقہ کرنے سے بچنا افضل واولی ہے اورجس نے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ لیکر کیا وہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ عقیقہ کے جانور میں اشتراک کی دلیل نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close