فقہمذہب

عورتوں کے لیے اذان واقامت کا حکم

مقبول احمد سلفی

نماز میں اذان واقامت صرف مردوں کے حق میں مشروع ہے کیونکہ مردوں پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے جبکہ عورتوں کی نماز اپنے گھر میں ادا کرنا بہتر ہے۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ عورت اگر مردوں کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتی ہے شریعت نے اجازت دی ہے۔

جب عورت کو اکیلے گھر میں نماز پڑھنا ہے تو اذان کی ضرورت ہی نہیں اور نہ ہی اقامت کی، جیسے ہی کسی نماز کا وقت ہوجائے بغیر اذان کا انتظار کئے اپنی نماز انفرادی طور پرپڑھ سکتی ہے بخلاف مردوں کے کہ ان کے لئے اذان مشروع ہے پہلے اذان دے پھر اقامت کہہ کر جماعت سے نماز ادا کرے، آگے اس بات کی دلیل بھی ذکر کی جائے گی۔ اذان دوسروں کو نماز کی اطلاع دینے اور مسجد میں حاضر ہونے کے لئے دی جاتی ہے اور اقامت بھی نماز کی جماعت کھڑی ہونے کی اطلاع دینے کے لئے ہے۔ یہاں یہ مسئلہ بھی واضح رہے کہ مردوں کے حق میں بھی اذان واقامت فقط مشروع ہے یعنی اگر کسی نے بغیر اذان کے نماز ادا کرلیا یا کسی نے بغیر اقامت کے نماز پڑھ لیا تو نماز اپنی جگہ درست ہے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم قصدا  اذان یا اقامت چھوڑ کے نماز نہیں ادا کرنا ہے۔

ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کئی عورتیں مل کر جماعت سےفرض نماز ادا کریں اس صورت میں ان کے حق میں اذان واقامت کا کیا حکم ہے ؟ مثلا نسواں ادارہ ہے وہاں پنج وقتہ عورتوں کی جماعت ہوتی ہے اس جگہ عورتوں کو ہر نماز کے لئےاذان دینا چاہئے اور جماعت کھڑی ہونے سے پہلے اقامت کہنا چاہئے کہ نہیں ؟

نماز کا معاملہ توقیفی ہے ہمیں اس سلسلے میں اپنے من سے کچھ نہیں کہنا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اقوال یا ضعیف وموضوع احادیث سے استدلال کیا جائے گا۔ جب ہم عورتوں کی نماز اور ان کی جماعت کے سلسلے میں صحیح احادیث تلاش کرتے ہیں تو یہ ثبوت ضرور ملتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورتوں کی جماعت کراسکتی ہے خواہ فرض نماز ہو یا نفل نماز لیکن عورتوں کے حق میں اذان واقامت کی کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں ملتی ہے تاہم صحیح دلائل سے اس بات کا اشارہ ضرور ملتا ہے کہ عورتوں کے حق میں اذان واقامت نہیں ہے۔ سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے:

كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ يَزورُها في بَيتِها، وجعلَ لَها مؤذِّنًا يؤذِّنُ لَها، وأمرَها أن تؤمَّ أهلَ دارِها(صحيح أبي داود:592)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں ملنے کے لیے آیا کرتے تھے اور انکے لیے ایک مؤذن مقرر کیا تھا جو ان کے لیے اذان دیتا تھا اور آپ نے انہیں ( ام ورقہ کو ) حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں ۔

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر عورتوں کا اذان دینا مشروع ہوتا تو آپ ﷺ ام ورقہ اور ان کے گھر کی عورتوں کے لئے مرد مؤذن کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ انہیں میں سے کسی ایک عورت کو یا ام ورقہ کو اذان دینے پر مامور کرتے مگر آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔

اسی طرح سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

أتيتُ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أنا وصاحِبٌ لي فلمَّا أردنا الانصرافَ قالَ لنا إذا حضرَتِ الصَّلاةُ فأذِّنا وأقيما وليؤمَّكما أَكبرُكُما(صحيح ابن ماجه:806)

ترجمہ: میں اور میرا ایک ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب ہم نے واپس ( وطن) جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم لوگ اذان اور اقامت کہنا اور تمہارا امام وہ بنے جو تم دونوں میں سے زیادہ بڑا ہے۔

اس حدیث میں جس طرح نبی ﷺ نے مردوں کو مخاطب ہوکر اذان واقامت اور جماعت کا حکم دیا ہے اس طرح کسی مرفوع حدیث سے عورتوں کے حق میں اذان واقامت کا ثبوت نہیں ملتا ہےالبتہ یہ اثر ” ليس على النِّساءِ أذانٌ ولا إقامةٌ” کہ عورتوں پر اذان واقامت نہیں ہے ثابت نہیں ہے۔

اس مسئلے میں بعض علماء نے عورتوں کے حق میں اذان واقامت دونوں اور بعض نے صرف اقامت کو مباح کہا ہے اور استدلال کے طور پر نبی ﷺ کا ایک یہ فرمان پیش کیا جاتا ہے :

إنَّما النِّساءُ شقائقُ الرِّجالِ(صحيح أبي داود:236)

ترجمہ: ہاں ! عورتیں ( بھی ) بلاشبہ مردوں ہی کی مانند ہیں۔

بلاشبہ عورتیں بھی مردوں کی مانند ہیں مگر تمام چیزوں میں نہیں جیساکہ ہم ان کی فطرت، جنس اور خلقت مردوں سے مختلف پاتے ہیں ۔ جس حدیث میں عورتوں کو مردوں کی مانند قرار دیا گیا ہے وہاں مسئلہ احتلام کا ہے کہ احتلام ہوجانے پر مردوں کی طرح عورتوں پر بھی غسل ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عورتوں کے حق میں اذان واقامت مشروع نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close