فقہمذہب

عورت کی نماز مسجد سے افضل گھر میں ہے

مقبول احمد سلفی

دین میں عورت ومرد کے بہت سے مسائل مختلف ہیں،  یہ اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالی نے دونوں کی تخلیق میں نمایاں فرق رکھا ہے۔ عورت سراپا پردہ ہے اسے گھروں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جیساکہ اس کا فرمان ہے :

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (الاحزاب :33)

ترجمہ: اور اپنے گھروں میں سکونت اختیار کرو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ نےعورت کی کفالت مردوں کے ذمہ رکھا ہے اور انہیں زمین میں نکل کرروزی حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعۃ:10)

ترجمہ: پھر نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

عورت ومرد کی نماز سے متعلق یہاں ایک اہم مسئلہ  یہ ہے کہ اس وقت عام طور سے عورت اپنے گھر میں اکیلی نماز پڑھتی ہے جبکہ عا طور سےمرد حضرات مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں،  مسجد میں جماعت سے نماز ادا کرنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیں گنا افضل ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

صلاةُ الجماعةِ تَفضُلُ صلاةَ الفَذِّ بسبعٍ وعشرين دَرَجَةً .(صحيح البخاري:645)

ترجمہ: باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے سے ستائیس گنا افضل ہے۔

اسی طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا اجر بہت زیادہ ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

صلاةٌ في مسجِدي أفضلُ من ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ إلَّا المسجدَ الحرامَ وصلاةٌ في المسجدِ الحرامِ أفضلُ من مائةِ ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ(صحيح ابن ماجه:1163)

ترجمہ:میری مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد کی ہزاروں نمازوں سے افضل ہے۔ اور مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا کسی دوسری مسجد کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔

ان احادیث کی روشنی میں عورت مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی بے پناہ فضیلت سے محروم نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں عورت کہیں پر بھی فضیلت و فوائد سے محروم نہیں ہے۔ اسلام نے مردوں کی طرح عورت کو بھی بے پناہ فضیلت سے نوازا ہے اور اجر وثواب میں زیادتی کے ہر قسم کے مواقع اور سہولت فراہم کیا ہے۔ وہ مواقع وسہولت کیفیت کے اعتبار سے بسا اوقات مردوں سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

جس طرح عورتوں کی شایان شان اللہ نے انہیں اپنے گھروں میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا ہےاسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ان کی شان واحترام کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیاہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تمنعوا نساءَكمُ المساجدَ وبيوتُهنَّ خيرٌ لَهنَّ(صحيح أبي داود:567)

ترجمہ:اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو،  مگر ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ  مرد کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے سے جوفضیلت ملتی  ہے وہی فضلیت عورت کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنے سے مل رہی ہے۔ عورت پہ نہ مسجد جانا لازم ہے اور نہ ہی جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے۔ ہاں یہ مسئلہ اپنی جگہ مسلم ہے کہ عورت پنچ وقتہ اور جمعہ کی نماز مردوں کے ساتھ مسجد میں جس طرح  خواتین اسلام عہد رسول اللہ ﷺ میں ادا کرتی تھی اسی طرح آج بھی ادا کرسکتی ہے۔ مذکورہ حدیث اس کی بین دلیل ہے اور اس کے علاوہ بے شمار دلائل ہیں۔

نبی ﷺ کے زمانے میں صحابیات نمازجمعہ میں بھی شریک ہوتی تھیںاس کی دلیل ذیل کی روایت ہے۔

عن أم هشام بنت حارثة بن النعمان: وما أخذت (ق والقرآن المجيد) إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كل يوم جمعة على المنبر إذا خطب الناس.(صحیح مسلم : 873)

ترجمہ :سیدہ اُم ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابیہ ام ہشام رضی اللہ عنہاجمعہ کی نماز میں شریک ہوتی تھی،  جمعہ میں شرکت کی وجہ سے خطبہ نبوی میں پڑھی جانے والی سورت ق انہیں یاد ہوگئی۔

جو لوگ آج کے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں نماز ادا کرنا ناجائز کہتے ہیں وہ صحیح احادیث کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ کے فرامین کی صراحتا مخالفت کرتے ہیں۔

عورت اول وقت میں پنچ گانہ نماز اپنے گھر میں ادا کرے، اخلاص کے ساتھ نماز میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرے، خشوع وخضوع اور حضور قلبی کے ساتھ نماز ادا کرے، نماز میں اعتدال وسکون برقرار رکھے،  ایک نماز ادا کرکے دوسری نماز کا خیال اسی وقت سے کرنے لگے اور گھر میں بھی نماز کے لئے مزید اندرونی کوٹھری کا انتخاب کرے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

صلاةُ المرأةِ في بيتِها أفضلُ من صلاتِها في حجرتِها وصلاتُها في مَخدعِها أفضلُ من صلاتِها في بيتِها(صحيح أبي داود:570)

ترجمہ: عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں صحن کے بجائے کمرے کے اندر زیادہ افضل ہے،  بلکہ کمرے کی بجائے ( اندرونی ) کوٹھری میں زیادہ افضل ہے۔

اس سے زیادہ واضح روایت میں ذکر ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں تو آپ انہیں گھر میں نماز پڑھنے کی تعلیم دیتے ہیں اور اسے افضل قرار دیتے ہیں۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجدنبوی میں نمازپڑھنے سے زیادہ افضل عمل کیا ہوسکتا ہے مگر روایت دیکھیں اورگھرمیں عورتوں کی نماز کی افضلیت کا اندازہ لگائیں اور صحابیہ کاقابل قدر ادائیگی نمازدیکھیں۔ سبحان اللہ

امام احمد نے اپنی مسندمیں، ابن حبان وابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے۔

عن أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي رضي الله عنهما :أنها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله إني أحب الصلاة معك قال : قد علمت أنك تحبين الصلاة معي،  وصلاتك في بيتك خير لك من صلاتك في حجرتك،  وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك،  وصلاتك في دارك خير لك من صلاتك في مسجد قومك،  وصلاتك في مسجد قومك خير لك من صلاتك في مسجدي،  قال : فأمرت فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عز وجل۔

ترجمہ: ابو حمید ساعدی کی بیوی ام حميد رضی اللہ عنها سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور پوچھا: اے الله كے رسول میں آپ کے ساتھـنمازپڑھناپسندکرتیہوں،كہا:میںجانتاہوںکہتممیرےساتھنمازپڑھناپسند کرتی ہو {لیکن} بہتر ہے تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنے كمرے میں نماز پڑھنے سے اور بہتر ہے تمہارا اپنے كمرے میں نماز پڑھنا اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے اور بہتر ہے تمہارا اپنے گھرمیں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے اوربہتر ہے تمہارى اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔كہا: مجھے حکم دیا کہ گھر کے آخری کونے میں اس کے لئے مسجد بناؤں اور اسے تاریک رکھوں، قسم بخدا مرنے تک اسی گھر میں نماز پڑھتی رہی۔

اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن لغیرہ کہا ہے۔ (صحیح الترغیب والترہیب : 1/340)

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے اور اسی میں اس کے لئے زیادہ خیروبھلائی، عفت وعصمت سے حفاظت اور فتنہ وفساد سے عافیت ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے کا جو اضافی ثواب ہے اگر عورت مسجد میں نماز ادا کرے مثلا مسجد نبوی یا مسجد حرام تو وہ اضافی ثواب کا مستحق ہوگی۔ ان شاء اللہ

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close