فقہمذہب

عیدین کی نماز کا مسنون وقت

مقبول احمد سلفی

عید الفطر کی نماز یکم شوال اور عیدالاضحی کی نماز دس ذوالحجہ کو ادا کی جائے گی، ان دونوں نمازوں کا وقت فجر کی نماز کے بعد جواز کا وقت ہے جو سورج نکل جانے کے بعد سے شروع ہوتا ہےزوال تک یعنی ظہر کے وقت سے کچھ پہلے تک رہتا ہے۔ دونوں عید کی نماز کا وقت ایک ہی ہے اوران دونوں کے اوقات میں صحیح حدیث سے کوئی فرق ثابت نہیں ہوتا ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جب سورج ایک یا دو نیزہ بلند ہوجائے تو نماز ادا کریں، یہ حکم جہاں عام نفل نمازوں کے لئے ہے وہیں نماز عیدین کے لئے بھی ہے۔

سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

قلتُ يا رسولَ اللَّهِ أيُّ اللَّيلِ أسمَعُ قالَ جوفُ اللَّيلِ الآخرُ فصلِّ ما شئتَ فإنَّ الصَّلاةَ مشْهودةٌ مَكتوبةٌ حتَّى تصلِّيَ الصُّبحَ ثمَّ أقصر حتَّى تطلعَ الشَّمسُ فترتفعَ قيسَ رمحٍ أو رمحينِ فإنَّها تطلعُ بينَ قرني شيطانٍ ويصلِّي لَها الْكفَّارُ ثمَّ صلِّ ما شئتَ فإنَّ الصَّلاةَ مشْهودَةٌ مَكتوبةٌ حتَّى يعدلَ الرُّمحُ ظلَّهُ(صحيح أبي داود:1277)

ترجمہ:میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! رات کا کون سا حصہ زیادہ مقبول ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آخر رات کا درمیانی حصہ، سو جس قدر جی چاہے نماز پڑھو۔ بیشک نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس کا اجر لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ فجر پڑھ لو۔ پھر رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل آئے اور ایک یا دو نیزوں کے برابر اونچا آ جائے۔ بیشک یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھتے رہو، بیشک نماز میں فرشتے حاضر ہوتے اور اس کا اجر لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ نیزے کا سایہ اس ( نیزے ) کے برابر ہو جائے ( یعنی دوپہر ہو جائے اور کوئی زائد سایہ باقی نہ رہے )۔

مذکوہ بالا حدیث کے چند اہم مستفادات مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)اس حدیث میں قیس رمح کا لفظ سمجھنے والا ہے، کہیں پر یہی لفظ قید رمح اور کہیں قدر رمح آیا ہے، معانی ایک ہی ہیں۔ رمح کا اردو ترجمہ نیزہ کیا جاتا ہے جس کی لمبائی بارہ بالشت بتائی جاتی ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ رمح والی بحث پہ لکھتے ہیں کہ جب سورج طلوع ہوتو اسے دیکھو جب وہ "قدررمح” یعنی ایک میٹر آنکھوں سے لمبائی کے برابر بلند ہوجائے توممانعت کا وقت نکل گیا۔ وقت کے حساب سے اس کا اندازہ بارہ منٹ سے دس منٹ تک ہوگا بس،زیادہ لمبا نہیں۔ تاہم احتیاطا پونہ گھنٹہ (پندرہ منٹ) زیادہ کرلیا جائے تو ہم کہیں گے کہ سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد ممنوع وقت ختم ہوجاتا ہے۔ (الشرح الممتع : 4/113)

(2) اس حدیث سے ایک بات یہ بھی معلوم ہورہی ہے کہ فجر کے بعد نمازوں کا وقت یہ ہے کہ سورج نکل کر کم ازکم ایک میٹر بلند ہوجائے جس میں دس سے پندرہ منٹ لگتا ہے خواہ نفلی ہو یا عیدین کی البتہ چھوٹی ہوئی نماز یا اسباب والی نماز ممنوع اوقات میں بھی ادا کرسکتے ہیں۔

(3) سورج ایک نیزہ بلند ہوجانے سے ممنوع وقت ختم ہوجاتا ہے اب اس وقت سے لیکر زوال تک نوافل ادا کرسکتے ہیں، اسی طرح اس درمیان عیدین کی نماز بھی ادا کرسکتے ہیں۔

(4) نماز عید کا اول و افضل وقت اس کا ابتدائی وقت ہے جو کہ سورج کا ایک نیزہ بلند ہونا ہے تاہم اس سے متاخر کرکے پڑھنے سے بھی نماز ہوجائے گی یعنی عیدین کی نماز پڑھنے کا انتہائے وقت(وقت جواز) زوال تک ہے۔

(5)سورج کے طلوع کا وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع کا وقت ہوتا ہے جب شیطان کے پچاری اس کی پوچا کررہے ہوتے ہیں اس لئے نبی ﷺ نے سورج طلوع ہونے کے وقت کوئی نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

مذکورہ حدیث سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ عیدین کی نماز کو اول وقت یعنی سورج ایک نیزہ بلند ہوجانے کے وقت ادا کرنا افضل ہے، اس کی صراحت ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے۔

جناب یزید بن خمیر الرجی بیان کرتے ہیں:

خرجَ عبدُ اللَّهِ بنُ بُسْرٍ صاحبُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ معَ النَّاسِ في يومِ عيدِ فطرٍ أو أضحَى فأنكرَ إبطاءَ الإمامِ فقالَ إنَّا كنَّا قد فرغنا ساعتَنا هذِه وذلِك حينَ التَّسبيحِ(صحيح أبي داود:1135)

حضرت عبداللہ بن بسررضی اللہ عنہ صحابئی رسول لوگوں کے ساتھ عید فطر یا عید اضحٰی کے لیےتشریف لائے توامام کے تاخیر کر دینےکو انہوں نے ناپسند کیا اور کہاکہ ہم تواس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھےیعنی اشراق کے وقت۔

اس حدیث سے جہاں اول وقت میں عید کی نماز ادا کرنے کا علم ہوتا ہے وہیں اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ زوال سے قبل اول وافضل وقت کے بعد بھی ادا کی گئی نماز ہوجاتی ہے کیونکہ کچھ تاخیر سے عید کی نماز ادا کرنے کو عبداللہ بن بسر رضی اللہ نے بس ناپسند کیا۔ یہاں ایک اور بات یہ معلوم ہوئی کہ عید الفطر اور عیدالاضحی کا وقت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک ہی تھا۔

بعض علماء نے عیدالفظر کی نمازمعمولی تاخیر سےاور عیدالاضحی کی نماز جلدی ادا کرنے کو کہا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ عید الفظر کے دن اہم کاموں میں سے ایک کام فطرانہ کی ادائیگی ہے جس کا وقت نماز عیدالفطر سے قبل ہے، اگر اس نماز میں کچھ تاخیر کردی جائے تو فطرانہ کی ادائیگی میں لوگوں کو سہولت ہوجائے گی۔ اور عیدالاضحی کے دن اہم کاموں میں سے ایک اہم کام قربانی کرناہے جس کا وقت عیدالاضحی کی نماز کے بعد ہے۔ اگر جلدی اول وقت پہ اس نماز کو اداکرلی جائے تو قربانی دینے اور اس کا گوشت کھانے کھلانے اور تقسیم کرنے میں لوگوں کو آسانی ہوگی۔

یہ فرق جید علماء سے بھی منقول ہے، اس پہ عمل کرنے میں حرج کی بات نہیں ہے کیونکہ نماز اس کے جواز کے وقت میں ہی ادا کی جاتی ہے تاہم میری ناقص نظر سے عیدالفطر میں تاخیر سے خاصا فرق نہیں پڑتا کیونکہ فطرانہ کا افضل وقت عیدکاچاند نکلنے سے ہی شروع ہوجاتا ہے جبکہ وقت جواز کے حساب سے عیدسے ایک دو دن پہلے ہی لوگ فطرانہ دے سکتے ہیں۔ نماز میں تاخیر کرنے سے لوگ فطرانہ ادا کرنے میں قصدا تاخیر کرتے ہیں،اگر نماز میں تاخیر نہ ہو تو لوگ وقت سے ادا کردیں گے  اس لئے عیدالفطر کی نمازبھی اول وقت پر ہی ادا کی جائے تو اولی وافضل ہے۔ اوپر نماز عید میں تاخیر کرنے پر صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی آپ نے پڑھی ہی ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے وقتوں میں فرق سے متعلق مجھے کوئی صحیح روایت نہیں ملی۔

(1)ایک روایت اس طرح سے آئی ہے۔

كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يُصلِّي بنا يومَ الفطرِ والشمسُ على قيدِ رُمحيْنِ والأضحَى على قيدِ رُمْحٍ(ارواء الغلیل: 3/101)

ترجمہ: نبی ﷺ ہمیں عیدالفطر کی نماز دونیزے کے برابر سورج ہونے پرپڑھاتے اور عیدالاضحی کی نماز اس وقت پڑھاتے جب سورج ایک نیزہ پر ہوتا۔

شیخ البانی اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اس میں معلی بن ہلال کے کذب پر سارے نقاد کا اتقاق ہے۔ دیکھیں ارواء الغلیل کا مذکورہ حوالہ۔

(2)ایک دوسری روایت اس قسم کی ہے۔

أنَّ رسولَ اللهِ – صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم – كتب إلى عمرو بنِ حَزْمٍ وهو بِنَجْرانَ : عَجِّلِ الأضحى وأَخِّرِ الفِطرَ وذَكِّرِ الناسَ۔

ترجمہ: بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے والی نجران عمروبن حزم کو لکھا کہ وہ عیدالاضحی میں جلدی اور عیدالفطر میں تاخیر کریں اور لوگوں کو (خطبہ میں) نصیحت کریں۔

یہ مرسل روایت ہے جسے امام شافعی نے بیان کیا ہےاورشیخ البانی نے کہا کہ اس میں مہتم روای ہے۔ دیکھیں (تخريج مشكاة المصابيح:1394)

کبھی کبھی عید کی اطلاع زوال کے بعد ہوتی ہے اور ہمیں اوپرمعلوم ہوا کہ نمازعیدین زوال تک ہی پڑھی جاسکتی ہیں لہذا اس صورت میں روزہ توڑ دینا چاہئے اور اگلے دن نماز عید پڑھنا چاہئے۔

جناب ابوعمیر بن انس اپنے چچوں سے، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، بیان کرتے ہیں:

أنَّ رَكبًا جاءوا إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يشهدونَ أنَّهم رأوا الهلالَ بالأمسِ فأمرَهم أن يفطروا وإذا أصبحوا أن يغدوا إلى مصلَّاهم(صحيح أبي داود:1157)

ترجمہ: ایک قافلے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے شہادت دی کہ ہم نے کل شام کو چاند دیکھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں اور اگلے دن صبح کو عید گاہ میں پہنچیں۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close