دعوتمذہب

غیر مسلموں سے تعلقات کی قرآنی بنیادیں

قرآن مجید کی متعدد صراحتیں گواہ ہیں کہ امت محمدیہ کی حیثیت صرف فاتح کی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی اصل حیثیت امت دعوت کی ہے، دعوت دین کے ذریعہ شہادت حق کی ذمہ داری اس پرعائد کی گئی ہے۔

کمال اختر قاسمی

اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ گیر مذہب ہے، اس کے تمام نظریات و افکار آفاقی ہیں جن کی اصل بنیاد قرآن مجید ہے جو خود آفاقیت کے اعلیٰ مرتبہ پرہے اور تمام انسانوں کے لیے کتاب ہدایت ہے، پیغمبر اسلام تمام انسانوں کے رسول ہیں، پوری انسانیت کے لیے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، آپ کی بعثت تمام انسانوں کے تزکیہ، تربیت اور ہدایت کے لیے ہوئی ہے، اس طرح اسلام کی پیروکار امت بھی آفاقی ہے۔

اللہ کے رسول کی بعثت کی ہمہ گیریت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

قُلْ یٰایُّھَا النَّاسُِ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً۔

اے انسانو! میں تم سب کی طرف بھیجاہوا اللہ کا رسول ہوں۔
ایک جگہ ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء کُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّکُمْ فَآمِنُواْ خَیْْراً لَّکُمْ (النساء: ۱۷۰)

لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے، ایمان لے آؤ، تمہارے لیے ہی بہتر ہے۔
اس آفاقیت اور ہمہ گیریت کا لازمی تقاضا ہے کہ تمام انسانوں سے ربط و تعلق کو بنیادی اہمیت دی جائے، اس امت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلام کا آفاقی پیغام ان لوگوں تک پہنچائے جو اس عظیم ہدایت سے محروم ہیں۔

ربط و تعلق کی بنیادیں

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس میں قدیم و جدید محققین و علماء اور فقہاء کے درمیان بہت زیادہ بحثیں ہوئیں، بعض علماء نے حرب و جنگ اور جزیہ کو غیر مسلموں سے ربط و تعلق کی بنیاد قرار دیا، اس نظریہ کے حامل اہل علم کی تعداد بہت کم ہے، یہاں ان کے دلائل و استشہاد سے صرف نظر کیا جارہا ہے۔( تفصیل کے لیے دیکھئے: دکتور وہبہ الزحیلی کی کتاب العلاقۃ الدولیۃ فی الاسلام اور مقارنۃ بالقانون الدولی الحدیث)(۱)۔

چونکہ انھوں نے فتوحات اسلامیہ کے دور میں غور و فکر کا آغاز کیا، اس لیے ربط و تعلق کی یہی بنیاد ان کے سامنے آسکی۔
ربط و تعلق کی اصل بنیاد امن و سلامتی

قرآن مجید کی متعدد صراحتیں گواہ ہیں کہ امت محمدیہ کی حیثیت صرف فاتح کی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی اصل حیثیت امت دعوت کی ہے، دعوت دین کے ذریعہ شہادت حق کی ذمہ داری اس پرعائد کی گئی ہے۔

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً (البقرہ:۱۴۳)

اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔
مولانا مودودیؒ ’’امت وسط‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھے ہیں :

اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق و ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔(۲)

امت مسلمہ کی اس ذمہ دارانہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے پوری مضبوطی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ربط و تعلق کی اصل بنیاد امن و سلامتی، باہمی ہمدردی و تعاون اور بقاء باہمی پر ہے، یہی شریعت اسلامیہ اور اس کے عظیم مقصد کا قیمتی حصہ ہے۔

اس تعلق سے قرآن مجید کی دو آیتیں دستوری حیثیت رکھتی ہیں ، جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ربط و تعلق کے بہت سے حساس گوشوں کو واضح کرتی ہیں ، قرآن پاک میں ارشاد ہے:

لاَ یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنہ: ۸۔۹)

’’اللہ تمہیں اس با ت سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو، جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔ ‘‘

مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ عدل و انصاف کرنا، مسلمانوں کا مطلوب رویہ ہے، خواہ وہ کفار ہوں یا مشرکین، یعنی کفر و شرک ترک تعلق کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ظالمانہ رویہ اور عداوت کی وجہ سے، دوستی اور خفیہ تعلقات کی ممانعت ہے، وہ کفار جو مسلمانوں جو مسلمانوں کے ساتھ سرگرم ظلم و عداوت نہیں ہیں ان کے ساتھ نہ یہ کہ صرف عدل و انصاف کا حکم دیا جارہا ہے بلکہ اس کے علاوہ ان کے ساتھ خیر خواہی، ہمدردی اور احسان کا معاملہ کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
اور جو کفار مسلمانوں کی مخالفت اور شدید عداوت کے درپے ہیں ، ان کے ساتھ صرف دوستی اور رازدارانہ معاملہ رکھنے کی ممانعت کی ہے، نہ عدل و انصاف کی، مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس آیت کے ذیل میں اس اہم نکتہ کی وضاحت کی وہ لکھتے ہیں کہ:

’’اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں حصر ہے، اس کا زور ’’أن تولوا‘‘ پر ہے، یعنی ممنوع جو چیز ہے وہ ’’تولی‘‘ یعنی ان کفار کو دوست اور کارساز بنانا ہے نہ کہ ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنا ہے، رہا عدل و قسط کا معاملہ تو اس کی بنیاد قانون، معاہدے اور معروف پر ہوتی ہے، اس میں کافر و مومن دوست و دشمن کے امتیاز کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، قانون اور معاہدے کا جو تقاضا ہو وہ بہرحال پورا کرنا ہوگا اس سے بحث نہیں کہ معاملہ دوست کا ہے یا دشمن کا۔‘‘(۳)(امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، جلد ہفتم، ص: ۳۳۵، طبع: مکتبہ جدیدپریس، لاہو، ۱۹۷۹ء)

ان کے علاوہ متعدد آیات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان صلح و مصالحت کی بنیاد پر ربط و تعلق کی تاکید کی گئی، ایک جگہ ارشاد ہے:

وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم(الانفال: ۶۱)

’’اور اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناًوہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

یعنی اگر دشمن مصالحت اور سلامتی کی طرف میلان رکھیں تو تم اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو اگرچہ جنگ پر مکمل قدرت بھی ہو اور دشمن کی طرف سے غدر اور فریب کا بھی امکان ہو تب بھی مصالحت میں شریک ہو کر امن و سلامتی کی بنیاد پر ان سے ربط و تعلق کو ہموار کرنے کی کوشش کرو۔(۴)

ایک دوسری آیت میں اس کی بھی وضاحت کی گئی کہ دین کو اختیار کرنے میں کسی طرح کے جبر و اکراہ کی گنجائش نہیں ہے، ارشاد ہے:

لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (البقرہ: ۲۵۶)

’’دین کے معاملہ کوئی زور زبردستی نہیں ہے، صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے، اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘‘
اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب اختیار مذہب میں انسان آزاد ہے تو مسلمان اور غیر مسلموں کے درمیان مذہبی تفریق کی بنیاد پر عداوت کے بجائے امن و سلامتی کی بنیاد پر ربط و تعلق پیدا کیا جائے۔

ایک دوسری آیت میں مزید وضاحت سے کہا گیا ہے کہ غیر مسلمین خواہ تمہارے دشمن ہوں لیکن وہ تمہارے خلاف برسرپیکار نہیں ہیں اورانھوں نے تم سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے تواس صورت ان سے مخالفت و عداوت کی روش کے بجائے امن و سلامتی کی بنیاد پر تعلقات کی بحالی پسندیدہ عمل ہے، منافقین کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہے:

فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوکُمْ وَأَلْقَوْاْ إِلَیْْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّہُ لَکُمْ عَلَیْْہِمْ سَبِیْلا(النساء: ۹۰)

’’لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے بازرہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔‘‘

تاریخ اسلام کے کسی معتبر حلقے میں کبھی بھی کسی غیر مسلم کے ساتھ دین کے معاملہ میں جبر و اکراہ کا معاملہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان لوگوں سے جنگ کی گئی جو مسلمانوں کے خلاف قتل و قتال نہ کر رہے ہوں۔
ابن قیم ایک جگہ لکھتے ہیں :

لما بعث الرسول ﷺ استجاب لہ ولخلفاۂ بعدہ اکثر الأدیان طوعاً و اختیاراً ولم یکرہ احد قط علی الدین، وانّما کان یقاتل من یحاربہ ویقاتلہ، واما من سالمہ وھاربہ لم یقاتلہ و لم یکرہہ علی الدخول فی دینہ۔ (۵) اللہ کے رسول کے بعد ان کے خلفاء کے سامنے بہت سے مذاہب کے لوگوں نے اپنی پسندیدگی اور مکمل رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کیا، کبھی کسی کو دین اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا، یہ حضرات صرف انھیں لوگوں سے جنگ کرتے جو ان سے جنگ کرتے اور جن غیر مسلموں نے جب بھی ا ن سے امن و سلامتی، صلح و مصالحت اور کنارہ کشی کی راہ اختیار کی انھیں کبھی بھی اسلام میں داخل ہونے کے لیے مجبور نہیں کیا گیا۔‘‘

بلکہ متعدد احادیث میں جنگ و جدال سے بچنے اور امن و عافیت کے ماحول کو تلاش کرنے کی تاکید کی گئی۔
ایک موقع سے اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:

یا ایھا الناس لا تمنوا لقاء العدو، وسلوا اللّٰہ العافیۃ، فاذا لقیتموھم فاصبروا۔(۶)

’’اے لوگو! دشمنوں سے جنگ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن و عافیت کی دعا کرو، لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو جمے رہو۔‘‘

غزوہ خیبر کے موقع سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فواللہ لأن یھدی بک رجلاً خیر لک من أن یکون لک حمر النعم۔(۷)

’’بخدا تمہارے ذریعہ کسی ایک آدمی کو ہدایت مل جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ تمہیں غنیمت میں سرخ اونٹ ملیں۔ ‘‘

تکریم انسانی

غیر مسلموں سے ربط و تعلق کی دوسری اہم بنیاد تکریم انسانی ہے، قرآن مجید کے مطابق تمام انسان مکرم ہیں ، اس میں کسی جنس و نوع، رنگ و نسل، خاندان و نسب اور مذہب و فکر کی تخصیص نہیں ہے، بلکہ یہ مقام کرامت تمام اولادِ آدم کو حاصل ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

ولقد کرمنا بنی آدم( اسراء: ۷۰)

ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی۔

قرآن مجید میں تکریم انسانی کے مختلف جہات کو واضح کیا گیا :

ذات انسانی کی تکریم:

قرآن مجید کے مطابق انسان کو ذاتی طور پر مکرم بنایا گیا اور اسے نہایت حسین اور خوبصورت قالب میں بنایا گیا، اس کی بناوٹ میں عمدگی کا خاص لحاظ رکھا گیا، قرآن مجید کی متعدد آیات میں ذات انسانی کی تکریم کا تذکرہ ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے:

لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم (التین:۴)

ہم نے انسان کو بہترین اندازے سے بنایا۔

فطرت پر تخلیق:

فطر ۃ اﷲ التی فطرت الناس علیھا لا تبدیل لخلق اﷲ (الروم: ۳۰)

اللہ کی اس فطرت پر قائم ہوجاؤ جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا،اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں

خلافت و قیادت

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی نیابت اور خلافت کے لیے پیدا کیا،

واذ قال ربک للملٰئکۃ انی جاعل فی الاض خلیفۃ۔۔۔ الآیۃ (البقرہ: ۳۰)

’’اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ، انھوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا، آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کرہی رہے ہیں۔ فرما میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔‘‘
کائنات کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگانا

وسخر لکم البحر لتجری فی البحر بأمرہ و سخرلکم الانہار والنھار، وسخر لکم الشمس والقمر دائبین وسخر لکم اللیل والنہار (ابراہیم: ۳۲۔۳۳)

’’اور جس نے تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا، سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا جو لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات کو تمہارے لیے مسخر کیاہے۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

الم تروا أن اﷲ سخر لکم مافی السماوات وما فی الارض (لقمان: ۲۰)

’’کیا تم نہیں دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔‘‘

تمام علوم و فنون سے بہرہ مند کرنا

وعلم آدم الأسماء کلھا ثم عرضہم علی الملٰئکۃ فقال انبؤنی بأسماء ھؤلاء ان کنتم صٰدقین، قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علَّمتنا انک انت العلیم الحکیم، (البقرۃ: ۳۱۔۳۲)

’’اور اللہ نے آدم کو تمام نا م سکھا کر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ، ان سب نے کہا اے اللہ تیری ذات پاک ہے، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو ہمیں سکھا رہا ہے، پورے علم و حکمت والا تو توہی ہے۔

معرفت و ادراک کی صلاحیت ودیعت کرنا

علوم و فنون کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو غور و فکر و تدبر، عقل و شعور اور استدلال کی قوت سے نوازا۔
قرآن میں متعدد جگہوں پر انسانوں کو غورو فکر کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد ہے:

اولم ینظروا فی ملکوت السمٰوات والارض وما خلق اللہ (الاعراف:۱۸۵)

’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا،آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں۔ ‘‘
ایک جگہ ارشاد ہے: اولم یتفکروا فی انفسھم ما خلق اللہ السماوات والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمیٰ(الروم: ۸)
’’کیا ان لوگونے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ا ن کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے اور مقرر وقت تک کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘

ان خوبیوں اور کرامت و شرافت میں تمام انسان مشترک ہیں ، اس لیے انسان کی ان صفات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام لوگوں سے ربط و تعلق ہموار کرنا امت دعوت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وحدت انسانی 

انسانوں کے درمیان ربط و تعلق کی اہم بنیاد وحدت انسانی کا تصور ہے، قرآ ن مجید میں ایک سے زائد مقام پر انسانوں کی وحدت اور متعدد امور میں یکسانیت کا تذکرہ کیا گیا ہے، قرآن تمام انسانوں کی ایک اصل قرار دیتے ہوئے اطاعت ربانی اور تقویٰ کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے۔

یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ(النساء :۱)

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔‘‘

قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر یا ایھا الناس، یا بنی آدم، للعالمین وغیرہ متعد د کلمات سے وحدت انسانیت کو فروغ دینے اور اس بنیاد پر باہمی ربط و تعلق استوار کرنے کی تاکیدہوئی ہے، ساتھ ہی ان اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو باہمی اتحاد اور انسانی وحدت کے لیے معاون ہیں۔

عدل:

انسانوں کے درمیان ربط و تعلق اور تعاون و تعامل کی اہم بنیاد عدل و مساوات ہے،کیونکہ عدل اللہ کا وہ میزان ہے جس سے کمزوروں کو زندگی ملتی ہے، تاکہ طاقت ور کمزور کو ختم نہ کرسکے۔

عدل و انصاف اسلام کی اصل پہچان ہے، اس لیے قرآ ن و حدیث میں اس کی سخت تاکید کی گئی، قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد ہے:

ان اﷲ یأمر بالعدل والاحسان الخ (النحل: ۹۰)

’’اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں ، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔‘‘

قرآ ن ہر حال میں عدل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، خواہ وہ اپنے خلاف ہو یا والدین یا اورقریبی رشتہ داروں کے خلاف، ارشادہے:

یاایھا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء ﷲ ولو علیٰ انفسکم او الوالدین والأقربین (النساء: ۱۳۵)

’’اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودئ رب کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے۔‘‘

عدل و انصاف کی ان تاکیدی تعلیمات میں مسلم و غیر مسلم دوست و دشمن سبھی شامل ہیں اور ایک جگہ اس کی خصوصی ہدایت دی گئی کہ کسی کی قومی اور مذہبی عداوت بھی تمہیں عدل وانصاف کرنے سے نہ روکے، قرآن مجید میں ارشاد ہے: یاایھا الذین آمنوا کونوا قوامین للّٰہ شھداء بالقسط ولا یجرمنکم شناٰن قوم علیٰ ان لا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ(المائدہ: ۸)

’’اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہوجاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ، عدل کرو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔‘‘

ربط و تعلق کی دیگر بنیادیں

تعارف

مختلف جماعتوں اور گروہوں کے درمیان ربط و تعلق پیدا کرنے سے پہلے ہونے والی جان پہچان کو کہا جاتا ہے، گویا تعارف ایک پل ہے جو ادیان و مذ اہب، قوموں کی تہذیب و ثقافت کو جاننے اور باہمی ربط و تعلق پیدا کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے، قرآن مجید میں پڑھنے اور علم حاصل کرنے کی خاص تاکید آئی ہے، اس میں قوموں کے حالات، تہذیب و ثقافت وغیرہ کی معرفت بھی شامل ہے، اسی طرح قرآن مجید میں انبیاء کے حالات، سابق اقوام و ملل کی تہذیب و تمدن، مزاج و ذوق اور پسندو ناپسند کا تذکرہ کیاگیا ہے، قوموں کے عقائد اور ان کی کتابوں اور صحیفوں کی تفصیلات بھی درج ہیں ، یہ سب اسی تعارف کی شکلیں ہیں ، قرآن مجید میں ایک جگہ انسانوں کی تخلیق اور قبائل و گروہ میں تقسیم کی حکمت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہے:

یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثیٰ وجعلناکم شعوباً و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اﷲ اتقاکم (الحجرات: ۱۳)

’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور پھر تمہاری قومیں اور برادیاں بنادیں ، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘

بقاء باہمی

بقاء باہمی، ہمدردی و غم خواری کی بنیاد پر کئے جانے والے ربط و تعلق اور باہمی تعاون کا نام ہے۔

اس تعلق سے قرآ ن مجید میں نہایت صراحت کے ساتھ دو آیتوں میں بقاء باہمی کا تذکرہ دستوری حیثیت سے کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے ادیان و مذاہب کے اختلاف کے باوجود مخالفین اگر آمادہ جنگ نہیں ہیں اور مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کے درپے نہیں تو ان سے باہمی تعاون و ہمدردی کا سلوک رکھا جائے گا، اس کے برخلاف جو لوگ مسلمانوں کے دین کی وجہ سے ان کے قتل کے درپے ہیں ، ان سے عدل و انصاف کا حکم تو ہے لیکن دوستی اور خفیہ تعلقات کی ممانعت ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

لا ینھاکم عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین الخ(الممتحنہ: ۸۔۹)

’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں سے نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالاہے، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ یہ ہے تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔ ‘‘

ان کے علاوہ متعدد آیات میں تمام انسانوں کے ساتھ خیر خواہی اور نفع رسانی کا حکم دیا گیا ہے۔دیکھئے: البقرہ:۲۲۴،۸۳،۱۳۴،۱۸۸،۲۴۳، النساء:۵۸،۱۶۸

معاشرتی روابط

اسلام تمام انسانوں کے درمیان ادیان و مذاہب کے اختلاف کے باوجودانسانیت، اخوت، باہمی ہمدردی، عدل و مساوات اور امن و سلامتی کی بنیادوں پر ربط و تعلق کو پسند کرتا ہے، اور معاشرتی روابط کے متعدد پہلوؤں کو اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، قرآن مجید کی متعدد آیات میں تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیا گیا ہے جس سے انسانی بنیادوں پر ربط و تعلق کی اہمیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں متعدد انبیاء اور ان کی قوم کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں اختلاف مذہب کے باوجود انبیاء کرام کا ان کے ساتھ اعلیٰ طرز عمل، معاملات اور قوموں کے تئیں فکر مندی اور انھیں راہ راست پر لانے کے لیے طویل جد و جہد کا تذکرہ ہے، جس سے قومی بنیاد پر رابطہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

جان و مال کا تحفظ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے غیر مسلموں سے جان و مال کے تحفظ کا معاہدہ فرمانے کے بعد مزید فرمایا:
’’ولنجران و حاشیتھا جوار اﷲ و ذمۃ محمد النبی رسول اﷲ علی اموالھم و ارضھم و ملتھم و غائبھم و شاھدھم و عشیرتھم و تبعھم و کل ما تحت ایدیھم من قلیل و کثیر، (۸)

’’اہل نجران اور ان کے تمام افراد کے لیے اللہ کی پناہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے، ان کے اموال، زمین و جائداد، ان کے مذہب و ملت، ان کے غائبین و حاضرین اور ان کے خاندان اور ان تمام ماتحتوں پر۔‘‘
قرآن مجید میں انسانی جان کی حرمت و تقدس کا متعدد مقامات پر تذکرہ کیا گیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے:

من قتل نفساً بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فأنما احیا الناس جمیعا۔(المائدہ: ۳۲)

’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘

اسلام انسانی جان کے ناحق قتل کا سخت مخالف ہے، اسے سنگین جرم قرار دیتا ہے، خاص کر غیر مسلموں (جو برسر جنگ نہیں ہیں ) کے ناحق قتل کی مزید مذمت کرتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:

من قتل معاہداً لم یرح رائحۃ الجنۃ وان ریحھا لیوجد من سیرۃ اربعین عاماً (۹)

’’جس نے کسی معاہد (غیر مسلم) کاقتل کیا وہ جنت کی بو بھی نہیں پاسکے گا، اگرچہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔‘‘

تاریخ اسلامی کے صفحات غیر مسلموں کے تحفظ و ضمان کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل ذمہ (غیر مسلموں کے متعلق اہل حیرہ کو لکھا :

وجعلت لھم ایماشیخ ضعف عن العمل أو أصابتہ آفۃ من الآفات أو کان غنیا فافتقر و صار اہل دینہ یتصدقون علیہ طرحت جزیتہ و عیل من بیت المسلمین ھو وعیالہ۔(۱۰)

یعنی غیر مسلم کام کرنے سے عاجز ہوگیا یا کسی آفت کا شکار ہوگیا، یا پہلے مالدار تھا پھر غریب ہوگیا اور لوگ اسے صدقہ دینے لگے تو اس کے جزیہ کو معاف کردیا جائے اور اس کی اور اس کے اہل خانہ کی پرورش مسلمانوں کے بیت المال سے کی جائے گی۔

باہمی تعلقات کے حقوق

اسلام باہمی ربط و تعلق کو ہموار کرنے میں مذہب و افکار کی تفریق کو اہمیت نہیں دیتا، بلکہ اختلاف ادیان کے باوجود مفید بنیادوں اور اعلیٰ اخلاقی اساس پر تعلقات کے قیام کی تاکید کرتا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کی بھی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ اہل کتاب سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہے:

قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ(آل عمران: ۶۴)

’’کہو! اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔‘‘

داخلی وخارجی تحفظ

اسلام عام انسانوں کو اس کا پابند کرتا ہے کہ ہر ایک کو ایک دوسرے کے ذریعہ تمام داخلی و خارجی مضرات و نقصان سے مکمل تحفظ حاصل ہو، قرآن مجید میں کسی ایک انسان کے قتل کرنے کو سنگین بین الاقوامی جرم قرار دیا گیا ہے۔ (المائدہ:۳۲)بطور خاص غیر مسلموں کو تحفظ کی فراہمی کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

من ظلم معاہداً او انتقصہ حقا او کلفہ فوق طاقتہ أو اخذ منہ شیئاً بغیر طیب نفسہ فانا حجیجہ یوم القیامۃ۔ (۱۱)

’’جس شخص نے کسی معاہد غیر مسلم پر ظلم کیا یا اس کا حق کم کیا یا اس کی قوت برداشت سے زیادہ اس پر ذمہ داری ڈالی یا اس کی مرضی یا پسندیدگی کے بغیر اس سے کوئی چیز لے تو میں قیامت کے دن اس کے خلاف حجت بنوں گا۔‘‘

ان من کان فی الذمۃ وجاء اھل الحرب الی بلادنا یقصد منہ وجب علینا ان نخرج لقتالھم بالکراع والسلاح ونموت دون ذلک صونا من ھو ذمۃ اﷲ تعالیٰ و ذمۃ رسولہ، ان تسلیمہ دون ذلک اھمالا لعقد الذمۃ۔(۱۲)

یعنی کسی ذمی (غیر مسلم) کو اہل حرب ہمارے علاقہ میں پکڑنے کے ارادہ سے آجائیں توہم پر ضروری ہے کہ ہم ہتھیاروں کے ذریعہ ان سے جنگ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ اس غیر مسلم کی حفاظت میں جان کی قربانی دینی پڑ جائے، جو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ میں رہ رہاہے، اس کو سپرد کردینا، اس عقد ذمہ سے غفلت شعاری ہوگی۔

تاتاریوں نے بہت سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو قید کرلیا، جب رہائی کی بات آئی تو انھوں نے صرف مسلمانوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت امام ابن تیمیہ نے اس حکم کی مخالفت کی اور کہا:

اننالا نرضی الا بافتکاک جمیع الأسری من المسلمین وغیرھم لأنھم اھل ذمتنا ولا ندع اسیراً لا من اھل الذمۃ ولا من اھل الملۃ،(۱۳)

’’یعنی ہم صرف تمام قیدیوں کی رہائی پر ہی راضی ہوسکتے ہیں ، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، اس لیے کہ وہ اہل ذمہ ہیں اور ہم کسی کو قید کی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے ہیں چاہے وہ اہل ذمہ میں سے ہوں یا اہل ملت میں سے۔‘‘

عزت و عصمت کا تحفظ

قرآن مجید کی صراحت کے مطابق تمام انسان قابل تکریم و تعظیم ہیں اور ہر ایک کے عزت و عصمت کا تحفظ ضروری ہے۔ (الاسراء: ۷۰)

غیر مسلم معذور، بوڑھے اوربچوں کی خصوصی رعایت

متعدد روایات میں جنگ کی حالت میں بھی غیر مسلم عورتیں ، بوڑھے اور بچوں سے تعرض کی ممانعت ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بوڑھے یہودی کو دیکھا کہ زیادتی عمر کی وجہ سے وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلارہا ہے، حضرت عمر اسے بیت المال کی طرف لے گئے اور حکم فرمایا کہ

’’ما انصفناہ اذا اخذنا منہ الجزیۃ شاباً نخذ لہ عند الھرم

یعنی ہم اس سے اس کی جوانی میں جزیہ لیتے رہے پھر اب بڑھاپا آیا تو ہم اسے رسوا ہونے کے لیے چھوڑ دیں ، یہ بالکل بھی انصاف نہیں ہے،

چنانچہ حضرت عمر نے یہ عام قانون بنادیا کہ بوڑھے غیر مسلم سے جزیہ نہ لیا جائے اور اس کی اور اس کے گھر والوں کی کفالت مسلمانوں کے بیت المال سے کی جائے۔(۱۴)

مراجع:

(۱) دکتور وہبہ الزحیلی، کتاب العلاقۃ الدولیۃ فی الاسلام اور مقارنۃ بالقانون الدولی الحدیث،دارالمکتبی للطباعۃ والنشروالتوزیع،سوریا،تاریخ غیر مذکور۔

(۲)سید ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، جلد اول، ص: ۱۱۹، حاشیہ نمبر ۱۴۴) طبع مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، نومبر ۲۰۰۰ء

(۳)امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، جلد ہفتم، ص: ۳۳۵، طبع: مکتبہ جدیدپریس، لاہو، ۱۹۷۹ء

(۴)محمدبن جریر ابو جعفرالطبری، جامع البیان فی تاویل آی القران،دارالتربیۃ والتراث،المکۃ المکرمۃ۱۴۲۰ھ، جلد ۶ص:۲۷۸)

(۵)محمد بن ابی بکر ابن القیم الجوزی، احکام اھل الذمۃ،ناشر:رمادی للنشر دمام،۱۴۱۸ھ، جلد ۱ص:۱۷)

(۶)الصحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب کراہیۃ تمنی العدو،موسوعۃ الحدیث الشریف،الکتب الستۃ،دارالسلام للنشر والتوزیع،ریاض

(۷)الصحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل من اسلم علی یدیہ رجال،موسوعۃ الحدیث الشریف

(۸)قاضی ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم، کتاب الخراج، ، طبع: دارالمعرفۃ للطباعۃ والنشربیروت،لبنان، تاریخ مذکور نہیں ،ص:۷۲

(۹)الصحیح البخاری،کتاب الجزیۃ،باب اثم من قتل معاھدابغیر جرم،موسوعۃ الحدیث الشریف،الکتب الستۃ،حوالہ سابق

(۱۰)قاضی ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم، کتاب الخراج، ، طبع: دارالمعرفۃ للطباعۃ والنشربیروت،لبنان،، ص : ۱۲۶)

(۱۱) ابوداؤد،کتاب الخراج والامارۃ والفئی،باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذااختلفوا بالتجارات، موسوعۃ الحدیث الشریف،الکتب الستۃ،حوالہ سابق

(۱۲)شہاب الدین القراقی، الفروق، مؤسسۃ الرسالۃ ناشرون، ۱۴۲۴ھ، الفرق، ۱۹، جلد ۳ص :۱۴)

(۱۳)احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ، الرسالۃ القبرصیۃ، طبع: دارالمکتبۃ السلفیۃ ۱۳۹۴ھ ص:۴۰

(۱۴) قاضی ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم، کتاب الخراج، ، طبع: دارالمعرفۃ للطباعۃ والنشربیروت،لبنان،، ص : ۱۲۶)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close