فقہمذہب

فرض نماز کے بعد تسبیح (سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر) میں ترتیب کا حکم

مقبول احمد سلفی

سوال : کیا ہم فرض نماز کے بعد کی تسبیح سبحان اللہ 33 بار، الحمد للہ 33 بار اور اللہ اکبر 33 بار کو اسی ترتیب سے پڑھیں گے یا اس کی ترتیب بدل جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ؟

جواب : اکثر روایات میں تسبیح کی ترتیب میں سبحان اللہ پہلے پھر الحمد للہ اور اس کے بعد اللہ اکبر آیا ہے مگر کچھ دوسری روایات میں تقدیم وتاخیر بھی وارد ہے جیساکہ ایک ہی روایت میں پہلے یہی ترتیب ہے پھر ترتیب بدل گئی ہے، روایت دیکھیں :

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

خصلتان، أو خلتان لا يحافظُ عليهما عبدٌ مسلمٌ إلا دخل الجنةَ، هما يسيرٌ، ومن يعملُ بهما قليلٌ، يسبِّحً في دُبُرِ كلِّ صلاةٍ عشْرًا، ويحمَدَ عشْرًا، ويكبِّرُ عشْرًا، فذلك خمسون ومائةٌ باللسانِ، وألفٌ وخمسمائةٍ في الميزانِ، ويكبِّرُ أربعًا وثلاثين إذا أخذ مضجعَه، ويحمَدُ ثلاثًا وثلاثين، ويسبِّحُ ثلاثًا وثلاثين، فذلك مائةٌ باللسانِ، وألفٌ في الميزانِ(صحيح أبي داود:5065)

ترجمہ: دو عمل ایسے ہیں اگر کوئی مسلمان بندہ ان کی پابندی کر لے، تو جنت میں داخل ہو گا اور وہ بہت آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ( ایک یہ ہے کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہے تو زبان کی ادائیگی کے اعتبار سے ایک سو پچاس بار ہے ( مجموعی طور پر پانچوں نمازوں کے بعد ) اور ترازو میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے اور جب سونے لگے تو چونتیس بار «الله اكبر» تینتیس بار «الحمد الله» اور تینتیس بار «سبحان الله» کہے۔ زبانی طور پر تو یہ ایک سو بار ہے مگر میزان میں یہ تسبیحات ایک ہزار ہوں گی۔

یہ حدیث سونے کے باب میں ہے مگر چونکہ وہی تسبیح ہے اس لئے دلیل پکڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس بات کو مزید ایک دوسری حدیث سے تقویت ملتی ہے۔

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ(صحيح مسلم:2137)

ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چارکلمات ہیں:” سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ” اورتم(ذکر کرتے ہوئے) ان میں سے جس کلمے کو پہلے کہو،کوئی حرج نہیں۔

صحیح البخاری، باب الذکر بعد الصلاۃ کے تحت آئی حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔

قوله : ( وتسبحون وتحمدون وتكبرون ) كذا وقع في أكثر الأحاديث تقديم التسبيح على التحميد وتأخير التكبير، وفي رواية ابن عجلان تقديم التكبير على التحميد خاصة، وفيه أيضا قول أبي صالح يقول : الله أكبر وسبحان الله والحمد لله ومثله لأبي داود من حديث أم الحكم، وله من حديث أبي هريرة تكبر وتحمد وتسبح وكذا في حديث ابن عمر . وهذا الاختلاف دال على أن لا ترتيب فيها، ويستأنس لذلك بقوله في حديث الباقيات الصالحات لا يضرك بأيهن بدأت لكن يمكن أن يقال : الأولى البداءة بالتسبيح لأنه يتضمن نفي النقائض عن الباري – سبحانه وتعالى -، ثم التحميد لأنه يتضمن إثبات الكمال له، إذ لا يلزم من نفي النقائض إثبات الكمال . ثم التكبير إذ لا يلزم من نفي النقائض وإثبات الكمال أن يكون هنا كبير آخر، ثم يختم بالتهليل الدال على انفراده – سبحانه وتعالى – بجميع ذلك . (فتح الباری شرح صحیح البخاری)

ترجمہ: اللہ کے نبی ﷺ کا قول "وتسبحون وتحمدون وتكبرون ” اکثر احادیث میں سبحان اللہ، الحمدللہ پر مقدم ہے اور آخر میں اللہ اکبر ہے۔ ابن عجلان کی روایت میں خاص طور سے اللہ اکبر، الحمدللہ پر مقدم ہے۔ اس میں ابوصالح کا بھی قول ہے کہتے ہیں : الله أكبر وسبحان الله والحمد لله، اور اسی کے مثل ابوداؤد میں ام الحکم سے مروی ہے، اور ابوھریرہ کی حدیث میں اللہ اکبر، الحمدللہ اور سبحان اللہ ہے، اسی طرح ابن عمر کی حدیث میں بھی ہے۔

یہ اختلاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں ترتیب (ضروری ) نہیں ہے، اس کی تائید حدیث "الباقیات الصالحات” میں اس قول سے ملتی ہے ” لَا يَضُرّك بِأَيِّهِنَّ بَدَأْت” یعنی جس کلمے کو پہلے کہو،کوئی حرج نہیں. لیکن ممکن ہے کہ کہاجائے کہ اولی یہ ہے کہ سبحان اللہ سے شروع کیا جائے کیونکہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالی سے تمام نقائص کی نفی کو متضمن ہے، پھر الحمدللہ کہا جائے کیونکہ یہ اللہ کے تمام کمالات کے اثبات کو شامل ہے تو نقائص کی نفی سے اثبات کمال لازم نہیں آتا، پھر اللہ اکبر کہے تو نقائص کی نفی اور اثبات کمال سے لازم نہیں آتا کہ وہاں کوئی دوسرا بھی بڑا ہے۔ پھر لاالہ الا اللہ پر ختم کرے جو اللہ سبحانہ وتعالی کی انفرادیت پران سارے امور میں دلیل ہے۔

اس باب میں حافظ رحمہ اللہ کی بات عمل کرنے کے اعتبار سے بالکل واضح ہے، اب کوئی اشکال باقی نہیں رہ جاتا۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close