فقہمذہب

فقہ مقارن

شاد محمد شاد

جن کتب میں فقہی مسائل کے اندر مختلف مسالک ومکاتبِ فکر کی آراء کو جمع کیا جاتا  اور ان میں تقابلی مطالعہ کیا جاتا ہے ان کو ”فقہ مقارن“کہتے ہیں۔ پہلے پہل اس کے لیے ”علم الخلاف“ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ اگرچہ ہر مسلک کی تحقیق کو اس کی بنیادی کتب سے براہ راست لینا چاہیے، لیکن اس قسم کی کتب  سے انسان کو جلد اور آسانی کے ساتھ مختلف مسالک کی تحقیقات سے واقفیت حاصل ہوجاتی ہے۔

فقہ مقارن کی کتابوں میں عموما صرف اختلافی فقہی مسائل سے بحث ہوتی ہے اور صورتِ مسئلہ، مختلف ائمہ و مجتہدین کی آراء، ان کے دلائل، محلِ نزاع کی تحلیل، منشاءِ اختلاف ، مناقشہ اور راجح کی تعیین جیسی ابحاث کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔

فقہ مقارن پر مبنی کتب میں درج ذیل پانچ کتابیں زیادہ اہم اور دوسری کتب سے مستغنی کردینے والی ہیں:

1۔بدایۃ المجتہد، ابن رشد قرطبیؒ

2۔المدونۃ الکبری، امام مالکؒ

3۔المغنی، ابن قدامہ حنبلیؒ

4۔الفقہ الاسلامی وادلتہ، شیخ وہبہ زحیلیؒ

5۔الفقہ علی المذاہب الاربعہ، عبد الرحمن جزیریؒ

ان کے علاوہ جن کتب میں مختلف ائمہ و مجتہدین کی آراء اور دلائل وغیرہ کی بحث موجود ہے  وہ درج ذیل ہیں:

۔۔۔اختلاف الفقهاء؛ لابن جرير الطبری

۔۔۔اختلاف الفقهاء؛ لأبي جعفر الطحاوی

۔۔۔الأوسط في السنن لابن المنذر

۔۔۔تأسيس النظر؛ للدبوسي الحنفی

۔۔۔اختلاف العلماء؛ للإمام محمد بن نصر المروزی

۔۔۔التجريد؛ للقدوري الحنَفی

۔۔۔الخلافيات؛ للبيهقی الشافعی

۔۔۔الوسائل فی فروق المسائل؛ لابن جماعة الشافعی

۔۔۔مختصر الكفاية؛ للعبدری الشافعی

۔۔۔حلية العلماء فی اختلاف الفقهاء؛ لأبی بكر محمد بن أحمد الشاشی الشافعی

۔۔۔الإشراف على مذاهب الأشراف؛ للوزير ابن هبيرة الحنبلی

۔۔۔اختلاف الفقهاء؛ لمحمد بن محمد الباهلی الشافعی

۔۔۔شرح المہذب للنووی

۔۔۔بدائع الصنائع؛ للكاسانی الحنفی

۔۔۔الہدایہ للمرغینانی

۔۔۔الحاوي؛ للماوردی

۔۔۔المحلى؛ لابن حزم الظاهری

۔۔۔البحر الزخار الجامع لمذاهب علماء الأمصار؛ لأحمد بن يحيى المرتضى

۔۔۔مختصر اختلاف العلماء؛ للرازی

۔۔۔القوانين الفقهية؛ لابن جزی

۔۔۔الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ، وزارۃ الاوقاف الکویت

۔۔۔موسوعۃ الفقہ الاسلامی،وزارۃ الاوقاف المصریۃ

۔۔۔الفقه الإسلامي المقارن؛ للأستاذ الدرينی

۔۔۔محاضرات في الفقه المقارن؛ للأستاذ البوطی

۔۔۔الفقه المقارن؛ للأستاذ محمد رأفت ورفاقه

۔۔۔بحوث في الفقه المقارن؛ للأستاذ محمود أبو ليل والأستاذ ماجد أبو رخية

۔۔۔مسائل فی الفقہ المقارن،استاذہاشم حجیل عبد اللہ۔

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

2 تبصرے

  1. جزاک اللہ خیر، اچھی معلومات حاصل ہوئی فقہ مقارن کے تعلق سے.

متعلقہ

Close