قرآن حکیم کا سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب ہے! 

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

قرآن کریم عالم انسانیت پر نازل ہونے والی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرسکتا ہے بلکہ اپنے وجود کے حقیقی مقاصد کو بھی پہچان سکتا ہے۔ وہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کے لئے کامیابی اور نجات کی راہ کون سی ہے اور کس طرز حیات کو اختیار کرنے میں اس کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی اور ناکامیابی ہے۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے اسے کتاب ہدایت قرار دیاہے۔ ارشاد فرمایا:

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ (البقرۃ:۱۸۵)

’’(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اوّل اوّل) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں ) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے‘‘۔

یعنی راہ ہدایت اور راہ ضلالت اور حق و باطل کے فرق کو اس کتاب الٰہی نے کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ دوسری جگہ اللہ رب العزت نے اسے اپنی نصیحت،لوگوں کے دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا،ہدایت اور رحمت قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْن (یونس:۵۷)

’’ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آ پہنچی ہے ‘‘۔یعنی یہ کتاب گرچہ تمام عالم انسانیت کے لئے ان کے رب کی طرف سے نصیحت و ہدایت ہے لیکن جو لوگ اللہ کی اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں ، اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں یہ ان کے روحانی امراض؛ کفرو شرک،حب دنیا، حب جاہ،حب مال،تکبر، بغض و عناد، حسد، کینہ، بخل اور خود پسندی وغیرہ جو انسان کے دل کو تباہ و برباد کردیتے ہیں کے لئے شفااور رحمت ثابت ہوتی ہے۔

ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے یہ فوائد انسان کو جب ہی حاصل ہوسکتے ہیں جب وہ اس کی تلاوت کرے،اس کی آیتوں میں غور و فکر کرے، اس کے احکامات، امر و نواہی اور نصیحت و عبرت آمیز باتوں کو سمجھے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے اپنے رسول کو اور ایمان والوں کو اس کی تلاوت کا حکم فرمایا اور اس کے آداب بھی سکھائے۔ ایک جگہ یہ ارشاد فرمایا:

اُتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِنَ الْکِتَاب (العنکبوت:۴۵)

یعنی ’’(اے محمدﷺ!) یہ کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو‘‘۔

تو دوسری جگہ یہ حکم بھی وارد کیا:(وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً ) (المزّمِّل :۴)۔یعنی ’’قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو‘‘۔ قرآن کریم کو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ اس کے الفاظ صحیح ڈھنگ سے اور مخارج کے ساتھ ادا ہوں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے معانی و مطالب کو بھی قاری خوب سمجھتا جائے۔اس کی تائید عبد اللہ بن عمروؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں کم سے کم دنوں میں قرآن ختم کرنے کی تحدید کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے : ’’لَا یَفْقَہُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ‘‘ یعنی جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا وہ اس کے معانی کو نہیں سمجھ سکا۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب تَحْزِیبِ الْقُرْآن)۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ تلاوت میں قرآن کا سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب ہے۔

اتنا ہی نہیں قرآن کریم نے اپنے نزول کا مقصد دوسری جگہ واضح طور پر تدبر و تذکر کو ہی بتایا ہے۔(کِتٰب’‘ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَک’‘ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَاب) (آ:۲۹) یعنی ’’ (یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں ‘‘۔اس آیت سے یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ قرآن کی آیتوں میں تدبر و تفکراس کے نزول کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ امام محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آیت اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:(أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا) (محمد:۲۴)قرآن میں غور و فکر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے تاکہ اس کے معنی کو جان لیا جائے‘‘۔ (تفسیر قرطبی اردو، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔ کراچی، پاکستان، اشاعت ۲۰۱۲ء، جلد ۳، صفحہ ۲۹۳)۔ یعنی ان کے نزدیک قرآن کی آیتوں میں غور و فکر کرنا ہرمسلمان پر واجب ہے۔لیکن ایک حیرت انگیز اور افسوسناک طرز فکر جو مسلمانوں میں پیدا ہوگئی اور جس کے پیدا کرنے اور بڑھانے میں روایتی دینی درسگاہوں کے فارغین کا بڑا رول ہے کہ عام مسلمانوں کے لئے قرآن پاک کی تلاوت کافی ہے اور اس کی آیتوں میں غور و فکر کرنا اور ان کے معنی و مطالب کو سمجھنا صرف علماء (مراد مروّجہ مدرسوں کے فارغین ہیں ) کا کام ہے گویا یہ کتاب صرف علماء کے لئے نازل ہوئی تھی عوام کے لئے نہیں ! جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں غور و فکر کرنے، ان کے معنی و مطالب کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے بعد ہی ایک شخص عالم کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جیسے جیسے انسان علم میں ترقی کرتا جاتا ہے اس پر قرآن کی آیتوں کے اسرار و رموز مزید سے مزید ترمنکشف ہوتے جاتے ہیں۔

سورۃ محمدکی مذکورہ آیت نمبر۲۴ کے مثل ایک آیت سورۃ النساء میں ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً (النساء:۸۲)۔

’’ بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے‘‘۔

قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ ’’ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ میں واؤ ضمیر سے مراد منافق ہیں ،یعنی کیا منافق قرآن حکیم کے الفاظ اور معانی میں تدبر نہیں کرتے اور اس میں جو غرائب ہیں ان میں نظر و فکر نہیں کرتے تاکہ ان پر یہ حقیقت ظاہر ہوجائے کہ یہ انسان کا کلام نہیں کہ انہیں ایمان کی نعمت حاصل ہوجاتی اور وہ نفاق کو چھوڑ دیتے‘‘۔ (تفسیر مظہری اردو، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔ کراچی، پاکستان، اشاعت ۲۰۰۲ء، جلد ۲، صفحہ ۴۲۴)۔ذرا غور کیجئے کہ قرن اولیٰ کے منافقوں سے بھی یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ قرآن میں غور و فکر کریں تاکہ ان کے ایمان و اعمال کی اصلاح ہو لیکن اب ایک مسلمان سے بھی اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ یہ اسی انداز فکر کا نتیجہ ہے جس کا ذکر راقم نے سطور بالا میں کیا ہے۔ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھایا گیا ہے کہ تم قرآن کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے اس میں غور و فکر کرنے کے بجائے صرف ثواب اور برکت کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے جاؤ گرچہ بہت سے بدنصیب توایسے بھی ہیں جنہیں فقط الفاظ کی تلاوت کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔بلاشبہ قرآن کی تلاوت گو وہ معنی و مطالب کو سمجھے بغیر ہو ثواب، برکت اور نفع سے خالی نہیں لیکن کیا اس سے نزول قرآن کا مقصد پورا ہوجاتا ہے؟نہیں اورقطعاًنہیں ! کوئی بھی کتاب یا تحریر جس کے اندرکچھ ہدایات ہوں اس کو سمجھے بغیر پڑھنااس کی تالیف و تصنیف کے بنیادی مقاصد کو پورا نہیں کرسکتا۔یہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے ایک مریض کا ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ اس کی تجویزات کو سمجھے بغیر پڑھتے رہنا اوراس سے شفا کی امید رکھنا۔

سوال یہ بھی ہے کہ جس کتاب کو اللہ رب العزت نے عالم انسانیت کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہو وہ اتنی مشکل کیسے ہوسکتی ہے کہ لوگوں کو سمجھ میں ہی نہ آئے؟ آخر کیا ہے اس میں ؟ کن موضوعات سے یہ بحث کرتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو دین کے ایک عام طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ۔اگر آپ ان کا جواب قرآن میں تلاش کریں تو آپ پائیں گے کہ اس میں کائنات میں موجود اللہ کی نشانیاں جو لوگوں کے روز مرہ کے مشاہدہ میں ہیں کی بنیاد پر اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل دئے گئے ہیں ، نبی کریم ﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں ، دنیا کی بے ثباتی اورآخرت کی حقیقت کے بیانات ہیں ، انسان کی زندگی کے مقاصد کی وضاحتیں ہیں ، اخلاق حسنہ کی تعلیم ہے اور اخلاق رذیلہ سے بچنے کی نصیحتیں ہیں ، اعمال صالحہ کی ترغیبات اور ان سے متعلق بشارتیں ہیں ، اعمال قبیحہ سے بچنے کی ہدایات اور اور ان سے متعلق وعیدیں ہیں ،قصص و واقعات ہیں جن سے انسان عبرت حاصل کرسکے اور اوامر و نواہی یعنی احکامات ہیں جن کا تعلق انسان کی زندگی سے ہے۔ان میں ایسی کیا چیز ہے جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے سمجھ میں نہ آسکے؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ قرآنی آیتوں سے مسائل کی تخریج اور فقہی استنباط ہر کسی کے بس میں نہیں لیکن علم کا وہ مقام جہاں یہ صفات حاصل ہوتی ہیں درجہ بدرجہ مطالعہ اور تدبر و تفکر سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں ۔نیز یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ احکام سے متعلق آیات بھی کتنی ہیں ؟ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے امام غزالیؒ کے حوالہ سے ان کی تعداد پانچ سو بتائی ہے اور ایک دوسرا قول ایک سو پچاس آیتوں کا بھی نقل کیا ہے۔ (الاتقان فی علوم القرآن اردو، دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۰۸ء ؁، جلد ۲، صفحہ ۲۷۸)۔

ان سب کو اگر یکجا کیا جائے تو ان کی مقدار دو ڈھائی پارے کی مقدار سے زیادہ نہیں ہوگی۔ فرض کرلیجئے کہ اگر اتنی آیتیں صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں تو باقی بچے ہوئے حصہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرز فکر لچر دلیلوں پر ہی ٹکی ہے خصوصاً تب جبکہ علماء نے ان آیات کی تشریح بھی کردی ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تو یہ اعلان عام پہلے ہی کیا ہواہے کہ قرآن مجید رشد و ہدایت کی آسان کتاب ہے۔ ارشاد ہے:

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (القمر:۱۷)

’’ اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنا بالکل آسان ہے، بس ضرورت ہے تو اس سلسلہ میں نیک نیتی سے سعی اور جد و جہد کی لیکن ہم لوگوں نے اسے مشکل بتاکرامت کے ایک بڑے طبقہ کو قرآن سے کاٹ دیاحالانکہ انسان اگر اخلاص کے ساتھ اور ہدایت کی طلب میں معنی پر غور و فکر کرتے ہوئے قرآن کا مطالعہ کرے تو اسے ضرور بالضرور ہدایت ملے گی۔

ہندوستان کے صف اول کے محدث و مجدد شاہ ولی اللہ دہلویؒ (متوفٰی ۱۱۷۶ھ ؁ ) نے سب سے پہلے اس نظریہ کی تردید کی اور عوام تک قرآن کو پہنچانے کے لئے اپنے دور کی عام زبان یعنی فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا اور بعدہٗ ان کے اس مشن کو ان کے لائق فرزندان ارجمند شاہ عبد القادر دہلویؒ (متوفٰی ۱۲۳۰ھ ؁) اور شاہ رفیع الدین دہلویؒ (متوفٰی ۱۲۳۳ھ ؁)نے اردو تراجم کے ساتھ اور شاہ عبد العزیز دہلویؒ (متوفٰی ۱۲۳۹ھ ؁) نے دہلی جیسے مرکزی شہر میں ۶۲۔۶۳ سال تک درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھ کر آگے بڑھایا۔اسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاہ اسمٰعیل شہیدؒ جن کو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے حجۃالاسلام، تاج المفسّرین، فخرالمحدثین، سرآمد علمائے محققین جیسے القاب سے نوازا ہے اور انہیں علمائے ربانی میں سے شمارکیا ہے، اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’تقویۃ الایمان‘‘ میں اس باطل نظریہ کی تردید میں یوں رقمطراز ہیں :’’ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا بڑا مشکل ہے، اس کے لئے بڑے علم کی ضرورت ہے، ہم جاہل کس طرح سمجھ سکتے ہیں اور کس طرح اس کے موافق عمل کرسکتے ہیں ، اس پر عمل بھی صرف ولی اور بزرگ ہی کرسکتے ہیں ان کا خیال قطعی بے بنیاد ہے کیونکہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک کی باتیں صاف صاف اور سلجھی ہوئی ہیں ۔(وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَک ْ فُرُ بِہَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ) (البقرۃ: ۹۹)۔’بلاشبہ ہم نے آپ ﷺ پر صاف صاف آیتیں اتاری ہیں ان کا انکار فاسق ہی کرتے ہیں ‘۔یعنی ان کا سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں نہایت آسان ہے البتہ ان پر عمل کرنا مشکل ہے، کیونکہ نفس کو فرماں برداری مشکل معلوم ہوتی ہے، اسی لئے نافرمان ان کو نہیں مانتے‘‘۔

آگے فرماتے ہیں کہ’’ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ علم کی ضرورت نہیں ، کیونکہ پیغمبر نادانوں کو راہ بتانے کے لئے،جاہلوں کو سمجھانے کے لئے اور بے علموں کو علم سکھانے ہی کے لئے ہی آئے تھے، فرمایا:

ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْن(سورۃ الجمعۃ:۲)

’’ اسی نے ناخواندوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجاجو انہیں ( شرک و کفر سے) پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔یقیناً پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے‘۔

یعنی حق تعالیٰ کی یہ بڑی زبردست نعمت ہے کہ اس نے ایسا رسول مبعوث فرمایاجس نے ناواقفوں کو واقف، ناپاکوں کو پاک،جاہلوں کو عالم، نادانوں کو دانا اور گمراہوں کو ہدایت یافتہ بنا دیا۔اس آیت کو سمجھنے کے بعد اب بھی اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ قرآن سمجھنا عالموں اور اس پر عمل کرنابڑے بڑے بزرگوں ہی کا کام ہے تو اس نے اس آیت کو ٹھکرادیااور رب کی اس جلیل الشان نعمت کی ناقدری کی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس کو سمجھ کر جاہل عالم اورگمراہ عمل کرکے بزرگ بن جاتے ہیں ‘‘۔(شاہ اسمٰعیل شہیدؒ، تقویۃ الایمان، مکتبہ دعوت و توعیۃالجالیات، ربوہ، ریاض،سعودی عرب، صفحات ۳۷۔۳۹)۔

ان حضرات کے ان تجدیدی خیالات اور متعلقہ کوششوں کے بعد برصغیر میں قرآن مجید کا ترجمہ اردو اور دیگر زبانوں میں ہونے کی راہیں کھلی۔ اس کے بعد تو مختلف زبانوں میں ترجموں کا ایک سیلاب رواں ہوگیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک قرآن کا جزوی ترجمہ ۱۱۹ بین الاقوامی زبانوں میں اور مکمل ترجمہ ۶۱ بین الاقوامی اور ۱۵ ہندوستانی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ برصغیر کے کئی جید اور معتبر عالموں نے اردو زبان میں قرآن کی تفسیریں نہایت سہل انداز میں لکھیں تاکہ عوام کا طبقہ ان سے مستفیض ہوسکے۔ان کے علاوہ عربی کی معرکۃ الآرا تفاسیر مثلاً تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی، تفسیر الدرّ المنثور، تفسیر جلالین، تفسیر مظہری وغیرہ کا اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اب لوگ ان کتب کے انگلش، ہندی و دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں بلکہ تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ انگلش میں مکمل ہوچکا ہے۔ان کے علاوہ اردو کی مشہور تفاسیر بھی انگلش اور ہندی میں منتقل ہورہی ہیں ۔ان کاوشوں نے قرآن کو سمجھنا اب اور بھی آسان کردیا ہے۔ لیکن بہت افسوس کے ساتھ یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ ان تمام کاوشوں کے باوجود اس فکر میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی کہ قرآن کا سمجھنا بس عالموں کا ہی کام ہے۔اب بھی بعض روایتی عالموں (مراد مروجہ مدرسوں کے فارغین ہیں ) سے یہ سننے کو مل جاتا ہے۔

عصری تعلیم سے وابستہ افراد اگر مطالعہ قرآن کی طرف راغب بھی ہوتے ہیں تو یہ روایتی علماء بجائے حوصلہ افزائی کے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ علم پر گویا ان کی ہی اجارہ داری ہو۔ایسا کرکے یہ لوگ نہ صرف یہ کہ قرآن فہمی سے لوگوں کو دور کردیتے ہیں بلکہ اکابر علماء کی ان کاوشوں پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں جو انہوں نے قرآن اور اس کی تفاسیر کو اردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرکے عصری تعلیم یافتہ افرادتک پہنچانے کے سلسلہ میں کی ہیں ۔ راقم کے خیال میں اس بیش بہا دینی علمی ذخیرہ سے استفادہ نہ کرنا جواکابر علماء نے اردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرکے ہم تک پہنچادیا ہے، کفران نعمت ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ غیرعربی داں تعلیم یافتہ افراد کو بھی قرآن سے جوڑنے کی فکرکریں تاکہ ان کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہواوروہ مغربی تہذیب کے داعی عصری تعلیمی اداروں کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہ سکیں ۔نیز امت میں ایسے افراد کا ہونا بھی ضروری ہے جو مغربی تہذیب سے متاثر اور خود کو روشن خیال تصور کرنے والے حلقوں سے اسلام اور اسلامی تہذیب کے خلاف اٹھنے والے سوالات و اعتراضات کا جواب انہیں کی زبان میں دے سکیں ۔عصری تعلیم سے وابستہ افراد تک علم دین پہنچانے کے اور بھی فوائد ہیں جن کی نشاندہی راقم اپنے ایک سابقہ مضمون میں جس کا عنوان’’عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے علم دین کیوں ضروری ہے ؟‘‘ تھا، پہلے ہی کرچکا ہے۔ (دیکھیں روزنامہ قومی تنظیم،پٹنہ، مورخہ ۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء ؁، صفحہ ۶)۔

علماء کو تو یہ چاہیے کہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں طلباء اور اساتذہ کے لئے اسلامی معلومات پر مبنی قلیل مدتی کورسز (Short Term Courses) کا وقتاً فوقتاً انعقاد کریں تاکہ اسلام کی صحیح جانکاری ان تک پہنچ سکے اور اسلام سے ان کا لگاؤ بڑھے۔ بڑے مدارس کے ذمہ داران اگر چاہیں تو اس طرح کے پروگرام منظم ڈھنگ سے چلاسکتے ہیں لیکن اس طرح کے توسیعی کام (Extension Work) کی طرف ان کا ذہن ہی نہیں جاتابرعکس اس کے عصری اداروں کے جو لوگ خود سے دینی علوم کی طرف راغب ہوتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ علماء عصری تعلیم سے وابستہ افراد کی اصلاح سے بالکل غافل ہیں ۔ان کو ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے اور اس کے نتیجہ میں جب وہاں سے سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور طارق فتح جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ہائے واویلا مچاتے ہیں ۔

عصری تعلیم سے وابستہ افراد بلکہ ہر پڑھے لکھے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی کتاب سے اپنا رشتہ جوڑیں ۔روزانہ قرآن کی تلاوت معنی و مطالب کے ساتھ کریں ۔اردو، ہندی اور انگلش ہر زبان میں قرآن کے مستند تراجم و تفاسیر موجود ہیں اس لئے کسی کے لئے کوئی عذر نہیں ہے۔ اگر دو صفحہ بھی روزانہ اس طرح تلاوت کی جائے تو اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئینگے۔یہ قطعی نہ سوچیں کہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گا، جب آپ فزکس، کیمسٹری، بایولوجی، کمپیوٹر سائنس، اکانومکس وغیرہ جیسے پیچیدہ دنیوی علوم کو سمجھ سکتے ہیں تو قرآن کو کیوں نہیں سمجھ سکتے جس کا تعلق آپ کی زندگی سے ہے؟بس قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔کبھی اس پر بھی غور کریں کہ اپنے جیسے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں جن میں بہت سے فاسق و فاجر بھی ہوتے ہیں محض چند دنوں کے دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے آپ دن رات پڑھتے ہیں لیکن اگر نہیں پڑھتے تو اللہ کی کتاب جس سے دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی وابستہ ہے۔ آخر اللہ کے سامنے ہم کیا عذر پیش کرسکیں گے جب نبی کریم ﷺ روز قیامت بارگاہ خداوندی میں یہ شکایت درج کریں گے کہ اے اللہ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوراً)(الفرقان:۳۰)؟ اس لئے اس کار خیر کی ابتدابلاتاخیر آج ہی سے کردیجئے۔ ترجمہ یا تفسیر کے انتخاب کے سلسلہ میں اگر کسی طالب کو مشورہ کی ضرورت ہو تو راقم سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں ۔اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عنایت کرے۔آمین!



⋆ ڈاکٹر محمد واسع ظفر

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نماز کے بعد آیت الکرسی و دیگر اذکار کا بالجہر پڑھنا

اگر کوئی صاحب ذکر بالجہر کو اختیار کرنا ہی چاہیں توان کے لئے راقم کا مشورہ یہ ہے کہ وہ سلام کے بعد ایک بار یا تین بار (جیسا کہ صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے) صرف تکبیر متوسط آواز سے کہہ لیں اور باقی اذکار کو آہستہ پڑھیں ، اس طرح ان کے اعتبار سے ذکر بالجہر کی سنت بھی ادا ہوجائے گی، دیگر مصلیان کو نماز و ذکر کی ادائیگی میں خلل بھی واقع نہ ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے