قرآنیاتمذہب

قرآن مجید کافلسفئہ ’السبیل‘

قمر فلاحی

"السبیل ” معرفہ اور نکرہ دونوں استعمال ہوا ہے۔ السبیل جہاں بھی معرفہ استعمال ہوا ہے اس کی دو شکلیں ہیں یا تو "ال”  کے ساتھ معرفہ ہے یا اضافت کے ساتھ مثلا "سبیلی”[ یوسف ]۱۰۸۔ سبیل اللہ ” [التوبہ ۱۹] سواء السبیل۔ [المائدہ ۷۷] سبیل الرشد [ الاعراف ۱۴۶] سبیل الرشاد [غافر ۳۸] سبیل الذین لایعلمون  [یونس ۸۹] سبیل مقیم [الحجر ۷۶] ساء سبیلا [النساء ۲۲]سبیلک [ یونس ۸۸] سبلنا [ابراہیم ۱۲] سبیل الطاغوت [النساء ۷۶] قطع السبیل رہزنی کرنا ڈاکہ ڈالنا [العنکبوت ۲۹] سبل السلام [المائدہ ۱۶]

السبل جمع بھی مستعمل ہے برے راستوں کے معنی میں:

  الانعام ۱۵۳۔وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔

السبل اچھے راستوں کے معنی میں المائدہ ۱۶۔يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

جہاں بھی معرفہ استعمال ہوا ہے اس سے مراد صرف اللہ کا بتایا ہوا راستہ یعنی دین اسلام ہوتا ہے یہ "صراط” کا بدل ہے۔

اکثر مقامات پہ فی سبیل اللہ کا ترجمہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ وقاتلوا فی سبیل اللہ، اور اللہ کے راہ میں جہاد کرو قتال کرو۔البقرہ ۱۹۰۔و لئن قتلتم فی سبیل اللہ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کئے جائو۔آل عمران ۱۴۶۔ انہیں مردہ نہ کہوجو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں۔ البقرہ ۱۵۴۔ وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ۔

اور جہاں پہ سبیل نکرہ استعمال ہوا ہے اس کا معنی "چارہ” اور” گزرگاہ ” ہے۔ یعنی کوئی چارہ نہیں کوئی گزرگاہ  نہیں۔

وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ : آل عمران ۷۵۔

وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ  الشوری ۴۱۔

الانسان ۳۔ إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا۔ السبیل شکر کے ساتھ ہی حاصل کیا جاسکتاہے۔

سواء السبیل اور صراط مستقیم دونوں ایک ہی ہے۔ سواء ترازو کے پلڑے جیسا برابر ہونے کے معنی میں ہے۔ جب وہ بالکل سیدھا اور برابر ہو۔

جو کفر کو ایمان کے بدلے خرید لے یا ایمان پہ کفر کو ترجیح دے تو وہ سواء السبیل سے بھٹک گیا۔ البقرہ ۱۰۸۔ أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ۔

جو کفر کرے وہ سواء السبیل سے بھٹک گیا۔

المائدہ ۱۲۔وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لأُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ

بنی اسرائیل سواء السبیل سے بھٹک گئے۔

المائدہ ۶۰۔قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلا أَنْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ (59) قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ۔ 60

ابن السبیل اس مسافر کو کہتے ہیں جو دین کی راہ میں سفر کر رہے ہوں۔ عام مسافروں کو ابن السبیل نہیں کہا جا سکتا ہے۔

ابن السبیل کیلئے زکوة کے مال میں حصہ لگایا گیا ہے۔ عام مسافروں کا حصہ زکوةکے مال میں نہیں ہے۔

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ  التوبہ 60۔

اس آیت کریمہ میں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد اور ابن السبیل سے مراد  وہ لوگ جو دین کی سربلندی کیلئے کوشاں ہوں۔

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ البقرہ ۱۷۷۔

عام مسافروں کیلئے قرآن مجید میں الگ سے اصطلاح موجود ہے اور لفظ سفر کے ساتھ ہے لہذا اس اعتبار سے بھی ابن السبیل سے مراد عام مسافر نہیں لیا جاسکتا۔

عام مسافروں کیلئے "علی سفر” جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

 وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ البقرہ : 283۔

 أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ البقرہ : (184)

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْـزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ البقرہ : (185)

 اسی طرح یہ آیتیں : النساء 43.المائدہ 6.التوبہ 42.الکہف 62 اس ضمن میں بڑی دلیل ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close