قرآنیاتمذہب

قرآن مجید کا فلسفئہ ’اولو الالباب‘

قمر فلاحی

عربی زبان میں لُب٘ گودا، مغز، عمدہ حصہ، خالص، حقیقت، اور عقل کو کہتے ہیں۔

اس مناسبت سے عام طور پر” اولوالالباب” کا ترجمہ عقل والے کیا گیا ہے، مگر یہ ترجمہ درست نہیں ہے کیوں کہ عقل تو مومن اور کافر دونوں کے پاس یکساں طور پہ ہوتی ہے مگر کافر اپنی عقل کا درست استعمال نہیں کرتے اسی لئے اولوالالباب کا اصل ترجمہ عقل کا درست استعمال کرنے والا کیا جانا بہتر ہے جو آیت کریمہ کی ترجمانی سے مزید واضح ہوجائےگا۔ ہاں عقلمند اس کا ترجمہ درست ہوگا مگر اس شرط پہ کہ عقلمند کو مخصوص مانا جائے اور کافروں کو بے عقلوں میں شمار کیا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

 أُولَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ [یہ لوگ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں] وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (179) الاعراف۔

اسی آیت کریمہ سے اولولاالباب کا ترجمہ عقل کا درست استعمال کرنے والا نکلتاہے یعنی سلیم العقل۔

اسی طرح ان کافروں کو  بلانا جانوروں کوآواز دینا بتایا گیا ہے:

 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْـزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلا يَهْتَدُونَ (170) وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لا يَسْمَعُ إِلا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَعْقِلُونَ (171) البقرۃ

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پرہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائ  ہوتو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟

یہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہےاور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لئے کوئ بات ان کے سمجھ میں نہیں آتی۔

اولوالالباب کسے کہتے ہیں؟

جو غور سے سنتے ہیں بات کو، پھر اچھی طرح اس کی اتباع کرتے ہیں، [اس پہ عمل کرتے ہیں ]یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ اولوالاالباب ہیں۔ الزمر ۱۸۔

 الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الألْبَاب

جو لوگ ایمان لائے وہ اولوالالباب ہیں۔ الطلاق ۱۰

 أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا

 إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ (190) الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [91]

آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات و دن کے آگے پیچھے آنے میں نشانیاں ہیں اولوالالباب کیلئے جو اللہ تعالی کو کھڑے اور بیٹھے اور پہلو کے بل یاد کرتے ہیں [یعنی مومن ] اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ اے میرے رب تو نے اسے بے وجہ پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

 اولو الالباب سے کہا گیا کہ تقوی کا زاد سفر اختیار کرو۔ البقرہ ۱۹۷۔

 الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الأَلْبَابِ

اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والوتاکہ تم متقی بن سکو۔ البقرہ ۱۷۹

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

 معلوم یہ ہوا کہ قصاص میں زندگی والی بات صرف عقلمندوں [مومنوں] کو سمجھ میں آئیگی ہر ایک کو نہیں۔

اور نصیحت نہیں حاصل کرتے مگر اولوالالباب۔ البقرہ ۲۶۹۔

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ

آپ کہدیجئے کہ خبیث اور طیب یکساں نہیں ہوسکتے گرچہ خبیث کی زیادتی آپ کو بھلی لگے، اے اولو الالباب اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔المائدہ ۱۰۰

ان کے قصوں میں عبرت ہے اولوالالباب کیلئے۔ یوسف ۱۱۱۔

اللہ تعالی نے” اولی” کی اضافت سے مزید تین اصطلاحات کو استعمال کیا ہے جو اولو الالباب کی اصطلاح کو سمجھنے میں معاون ہے۔ اولی الابصار: آل عمران ۱۳، اولی الامر: النساء ۵۹، اولی الضرر: النساء ۹۵۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close