قرآنیاتمذہب

قرآن مجید کا فلسفئہ ’جدال‘

قمر فلاحی

قرآن مجید کی اصطلاح میں جدال مباحثہ اور زبانی لڑائ کو کہتے ہیں جس میں جانبین اپنی باتوں کو منوانے کے لئے دلائل کا سہارا لیتا ہے۔

مومنوں کے مجادلے مبنی بر حق ہوا کرتے ہیں اور کتاب منیر اور ہدایت الہی کی روشنی میں ہوتے ہیں جبکہ کافروں کے مجادلہ میں دلائل نہیں ہوتے ،ان کے جدال کے پیچھے شیطان کی اکساہٹ اور کبر ہوتا ہے تاکہ ہو حق کو نیچا دکھادیں اسے باطل ثابت کردیں ۔

مومنوں کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ رہنمائ ہے کہ جب وہ جدال کریں تو احسن طریقہ سے جدال کریں یعنی وہ سارے عیوب جو باطل میں پائے جاتے ہیں ان عیوب سے پاک ہوکر جدال کریں ۔وہ یہ جان لیں کہ اللہ تعالی کی نظر میں خوب واضح ہے ان کا جدال کرنا اور اللہ تعالی انہیں بخشنے والا نہیں ہے ۔

جدال دفاعی ہوتا ہے اور مومنوں کو بھی اپنی دفا کا حق ہے ۔جدال انسان کی فطرت میں شامل ہے اور انسان بڑا جدالی پیدا کیا گیا ،وہ اپنی باتوں کو منوانا چاہتاہے جبکہ انہیں اللہ تعالی کی بات ماننی چاہیے اور اسی کی بات منوانی چاہیے ۔

شیطان نے اللہ تعالی سے جنت میں جدال کیا کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم مٹی سے پھر آگ مٹی کو کیوں سجدہ کرے جبکہ دیگر فرشتوں نے اللہ تعالی کی بات کو مانا اور جدال سے گریز کیا ۔شیطان اپنے اسی وصف کو انسانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے ،ہر حکم کی لوجک logic پوچھواتا ہے اور جس چیز کی لوجک نہ سمجھ میں آئے اس کا انکار کروا ڈالتاہے ۔

اللہ تعالی نے کچھ لوگوں کی طر سے جدال کرنے سے منع فرمادیا ہے  یہ لوگ خیانتی ہیں ۔النساء ۱۰۷۔  وَلا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ۔ان لوگوں کی طرف سے جدال نہ کرو جو اپنی ہی خیانت کرتے ہیں ،یقینا دغاباز گنہگار اللہ تعالی کو محبوب نہیں ہے ۔

اللہ تعالی انسانوں کے جدال کو براہ راست سنتا رہتاہے جیساکہ ایک خاتون کے جدال کو سن لیا جو اپنے شوہر سے متعلق اللہ کے نبی ص سے جدال کر رہی تھی ۔المجادلہ ۱

قوم نوح کے لوگوں نے کہا کہ اے نوح تم نے ہم سے بہت زیادہ جدال کیا۔ ھود ۳۲قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (

لوگوں نے باطل کی دفاع میں جدال کیا تاکہ حق کو سرنگوں کرے۔

غافر ۵۔ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ

اگر وہ آپ سے جدال کریں تو آپ کا یہ جواب ہونا چاہیے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ الحج ۶۸۔ لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلا يُنَازِعُنَّكَ فِي الأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ (67) وَإِنْ جَادَلُوكَ فَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ 68

قیامت میں تمام نفوس جدال کریں گے۔

النحل ۱۱۱۔يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِهَا وَتُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ

اللہ تعالی نے اس خاتون کی بات سن لی جو آپ ص سے اپنے شوہر کے متعلق جدال کر رہی تھی ۔

المجادلہ ۱قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

مومنوں کو یہ ہدایت الہی ہے کہ وہ احسن طریقہ سے جدال کریں ۔

النحل ۔۱۲۵ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ۔

کیا تم ایسے ناموں سے متعلق جدال کرتے جسے تم نے گھڑا ہے اور تمہارے آباء نے گھڑ رکھا ہے۔

الاعراف ۷۱۔قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ

جن سے اللہ قیامت کے دن جدال کریگا ان کیلئے کوئی مددگار نہ ہوگا۔

النساء ۱۰۹۔هَا أَنْتُمْ هَؤُلاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلا

لوگون میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو بغیرعلم کے اللہ کے متعلق جدال کرتے  ہیں اور وے لوگ شیطان مرید کی اتباع میں ایسا کرتے ہیں ۔

الحج ۳۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ (3) كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ 4

لوگوں میں سے بہت سارے ایسے ہیں جواللہ کے متعلق بغیر علم ،بغیر ہدایت،اور بغیر کتاب منیر کے جدال کرتے ہیں ۔الحج ۸وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلا هُدًى وَلا كِتَابٍ مُنِيرٍ (8) ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ (9)

اللہ تعالی آیات کے متعلق صرف کافر جدال کرتے ہیں ۔

غافر ۴ مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلادِ

بغیر سلطان کے جدال کرنے والوں کے دلوں میں کبر ہوتا ہے ۔

غافر ۵۶۔ إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلا كِبْرٌ مَا هُمْ بِبَالِغِيهِ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ(56)

شیطان اپنے پرستاروں کو وحی کرتاہے تاکہ وہ تم سے جدال کریں۔

الانعام ۱۲۱۔وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

جدال کی سزا

الرعد ۱۳وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ ۔

بادلوں کی گرج اسے کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے،اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئ بجلیوں کیو بھیجتا ہےاور [بسااوقا] انہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتاہے جبکہ لوگو اللہ کے بارے میں جدال کر رہے ہوتے ہیں ،فی الواقع اس کی تدبیر بڑی زبردست ہے ۔

جو لوگ جدال کرتے ہیں اللہ تعالی ان سے خوب واقف ہے اور ان کیلئے کوئ چھٹکارا نہیں ہے۔

الشوری ۳۵ وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ۔

حق سے متعلق جدال کرنے والے حق واضح ہونے کے بعد بھی کرتے ہیں۔

الانفال ۶يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ

انسان کی فطرت میں جدال کرنا ہے وہ بڑا جدالی ہے ۔

الکھف ۵۴۔وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا

حج کے دوران رفث فسوق کے علاوہ جدال بھی حرام ہے ۔البقرہ ۱۹۷۔ یعنی اس کی پہل کرنا۔

الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الأَلْبَابِ ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close