قرآنیاتمذہب

قرآن مجید کا فلسفئہ ’حجت‘

قمر فلاحی

قرآن مجید کی اصطلاح میں حجت کہتے ہیں کسی بات کو ثابت کرنے کیلئے بار بار واضح دلائل کا سہارا لینا جیسا کہ نمرود کے سامنے ابراہیم علیہ السلام نے سلسلہ وار کئ دلائل الوہیت باری تعالی کے متعلق پیش فرمایا۔

نمرود نے کہا:[ ما علمت لكم من إله غيري ) [ القصص : 38 ] اس پہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:[ ربي الذي يحيي ويميت] پھر اعتراض ہوا: [ أنا أحيي وأميت] پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: [فإن الله يأتي بالشمس من المشرق فأت بها من المغرب] اور بالآخر

فبھت الذی کفر

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ۔ البقرہ ۲۵۸۔

یہود و نصاری حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق بغیر دلیل کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حجت کررہے تھے، اس پہ اللہ سبحانہ نے فرمایا کہ جس چیز کے متعلق علم نہ ہو اس بابت حجت نہیں کرنی چاہیے۔

معلوم ہوا کہ حجت کرنے کیلئے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ اور دلیل کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کو کہتے ہیں۔

هَا أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ آل عمران ۶۶

جو لوگ ہدایت پہ ہوں یعنی مومنین اور ان سے کفار ومشرکین حجت کریں تو ان کا جواب نہایت نرم دلی کے ساتھ دیا جائے کہ میں ہدایت پہ ہوں مجھ سے حجت مت کرو اور بتوں کے عذاب سے مجھے ڈراتے ہو ان سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے، اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔

مخالفین سے الجھنا نہیں ہے، داعی کا کام صرف ابلاغ یعنی پہونچا دینا ہے، دوسرے مرحلہ کا کام یعنی ہدایت دینا اللہ تعالی کا کام ہے۔ اللہ تعالی کا کام اللہ تعالی کے ذمہ رہنے دیا جائے۔

وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ۔ الانعام ۸۰۔

حجت کرنے والوں سے داعی کا انداز نہایت مشفقانہ ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ۔ آل عمران ۲۰۔

قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ۔ البقرہ ۱۳۹

اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ تم لوگ مجھ سے اللہ کےمتعلق کیوں جھگڑتے ہو جو میرا اور تیرا رب ہے، اور ہمارے لیے ہمارا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا،اور ہم اس کیلئے مخلص ہیں۔

اور جو لوگ اللہ تعالی سے متعلق اہل ایمان سے حجت کرتے ہیں ان کی حجت باطل ہے،ان پہ غضب ہے، اور ان کیلئے سخت عذاب ہے۔

وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ۔ الشوری۔ ۱۶

الحجۃ البالغہ صرف اللہ کیلئے ہے، اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے کہ کیوں اللہ تعالی نے کسی کو ہدایت دی اور کسی کو ہدایت سے محروم رکھا۔ یہ صرف اللہ کو معلوم ہے، اس میں کسی کو حجت مانگنے اور دینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے الحجۃ البالغہ کا ترجمہ الحکمۃ التامۃ کیا ہے۔

قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ۔ الانعام ۱۴۹۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close