قرآنیاتمذہب

قرآن مجید کا فلسفئہ ’زینت‘

قمر فلاحی

دنیا میں ایک شئ حقیقت ہے اور دوسری چیزحقیقت جیس یعنی دھوکہ ہے ،دھوکہ انسانوں کو حقیقت سے دور کرنے والی شئ ہے اور دنیا کی زینت بھی ایک دھوکہ ہے جو آخرت کی خوبصورتی کو چھپا دیتی ہے اسے انسانوں کے نظروں کے سامنے نہیں آنے دیتی ہے۔

دنیاوی زندگی کو مزین کرنے میں شیطان ہر پل لگاہواہے ،وہ انسانوں کے برے اعمال کو بھی مزین کر دیتاہے یعنی برے اعمال کو اچھائ کا لباس پہنا دیتاہے لہذا برے اعمال بھی اچھے لگنے لگتے ہیں ۔ شیطان نے اللہ تعالی کو یہ چیلنج کیا تھاکہ میں زمین کو زینت سے بھر دوں گااور اسی کے ذریعہ میں سبھوں کو گمراہ بھی کروں گا اور آج وہ بہت حد تک اس مشن میں کامیاب ہوگیا ہے۔

زینت کے اندر ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ حقیقت اور عیوب دونوں چھپ جاتے ہیں ۔ زیورات زینت کی ایک شکل ہے جسے زیب تن کرنے والی خوبصورت دکھنے لگتی ہے گرچہ وہ حقیقت میں خوبصورت نہ ہو۔

زینت کی دوقسمیں ہیں ایک فطری اور دوسری مصنوعی اسلام میں فطری زینت حرام نہیں ہے بلکہ محبوب ہے اسی لئے ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کو کہا گیاہے ،فطری خوبصورتی کی مثال اللہ تعالی کا تاروں سے آسمان کا سجانا ہے تاکہ لوگوں اچھا دکھے ۔فطری خوبصورتی میں دھوکہ نہیں ہوتا جو دکھتا ہے وہی ہوتا بھی ہے ۔

سب سے اچھی زینت ایمان کی خوبصورتی ہے جس کے ذریعہ مومنوں کے قلوب مزین ہوجائیں یعنی مومنوں کو اپنے اعمال کو دیکھنے کے بعد اپنے خوبصورت اور اچھے ہونے کا احساس ہو، وہ اپنے اعمال پہ شرمندہ نہ ہواور کسی کے مقابلہ میں کہتری کا شکار نہ ہومثلا داڑھی ایمان کی ایک علامت ہے اسے رکھنے والا اپنے کو خوبصورت خیال کرے کسی مجبوری میں داڑھی نہ رکھے، بغیر داڑھی والوں کی محفل میں ہوتو اسےاپنی کہتری کا احساس نہ ہو۔

دنیا کی زندگی مسلمانوں کیلئے مزین نہیں کی گئ بلکہ کافروں کیلئے مزین کی گئ جو اس دنیا کو جنت بنانے میں لگے ہیں اور وہ مومنوں پہ ہنستے ہیں کہ یہ مسلمان دنیا کوenjoy  نہیں کر رہے ہیں۔

مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کیلئے مزین کر دی گئ، جیسے عورتیں اور بیٹےاور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے [آجکل مہنگی گاڑیاں] اور چوپائے اور کھیتی ،یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ آپ کہہ دیجئے کیا میں  تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتائوں ؟ تقوی والوں کیلئے ان کے رب تعالی کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ،جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور اللہ تعالی کی رضامندی ہے ، سب بندے اللہ تعالی کی نگاہ میں ہیں ۔[آل عمران  ۱۴ ،۱۵]۔ چونکہ دنیا کی ساری زینت مومنوں کو آخرت میں ملنے والی ہے اسی لئے مومنوں کیلئے یہ دنیا مزین نہیں کی گئ ہے ۔ اسی کا اشارہ الاعراف ۳۲ میں بھی کیا گیا ہے۔

دنیا کی زینت مومنوں کی آزمائش ہے کہ کون اسمیں اپنے کو ملوث کرتا ہےاور کون اس سے بے نیازی برتتے ہوئے بچ نکلتاہے ۔جیسا کہ جادو اور سحر بابل کے  لوگوں کیلئے آزمائش بنا تھا۔ مومنوں سے کہا گیا کہ وہ دنیاوی زینت کی طرف اپنی نگاہیں نہ پھیلائے۔ الکھف ۲۸۔مال و اولاد دنیا وی زینت ہے یہ آخرت میں بے وزن ہوگا اس سے کسی کو فائدہ نہیں ملنے والا ہاں اگر اس کا استعمال درست ہے تو یہ جنت دلانے والا ایک ذریعہ ہے۔

جو لوگ دنیا کی زینت کے طلبگار ہیں انہیں آخرت میں کچھ نہیں ملنے والا ہے ۔

عورتوں کی وہ زینت جسکا غیر مردوں پہ اظہار حرام ہے وہ زیورات اور ان کی اپنی ذاتی خوبصورتی بھی ہے ۔

حوالہ جات:

 فَلَوْلا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ الانعام ۴۳

 اور میں نےاسے اور اس کی قوم کو اس حال میں پایا کہ وہ سورج کو سجدہ کر رہے تھے اللہ کے مقابلہ میں اور شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کردیا۔

 إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ (23) وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ : النمل ۲۴۔

اسی طرح ہم نے تمام امتوں کے اعمال کو مزین کردیا پھر ان کے رب کی طرف ہی انکا پلٹ کر جانا ہے ۔

 وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ :الانعام ۱۰۸

آسمان دنیا کو ہم نے تاروں کی زینت سے مزین کر دیا۔ إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ :الصافات ۶

مگر اللہ تعالی نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب جانا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا۔

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (8) الحجرات ۷

شیطان نے کہا اے میرے رب بوجہ اس کے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کیلئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہگائوں گا بھی۔

 قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ: الحجر ۳۹۔

کافروں کیلئے دنیا کی زندگی مزین کر دی گئی ہے ۔

 زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ  البقرہ ۲۱۲۔

لوگوں کیلئے شہوات کی محبت جو کہ عورتوں اور بچوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے حاصل ہوتی ہے مزین کر دی گئی ہے۔

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ (14) قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (15) آل عمران ۱۴۔

اسی طرح کافروں کیلئے انکے اعمال کو مزین کر دیا گیا ہے ۔

 أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَالانعام ۱۲۲

اسی طرح مسرفین کیلئے ان کے اعمال کو مزین کر دیا گیا ہے۔

یونس ۱۲۔  وَإِذَا مَسَّ الإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۔

إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔یونس ۲۴

اس طرح ہم نے فرعون کیلئے شیطان نے اس کے برے اعمال کو مزین کر دیااور اس نے اللہ کے راستے سے روکا۔

  أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلا فِي تَبَابٍ : غافر ۳۷

آپ ان سے پوچھیے کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے نکالا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ الاعراف ۳۲

اورموسی علیہ السلام نے کہا اے میرے رب تو نے فرعون اور اس کے وزراء کو زینت عطا فرمایا تاکہ اسے دکھا کر وہ تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرے ۔

 وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِيمَ یونس ۸۸

گھوڑے خچر اور گدھوں کو سواری اور زینت بنایا۔

وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ : النحل ۸

زمین کے اوپر کی چیزوں کو اللہ تعالی نے زینت بنایا تاکہ لوگوں کے اعمال آزمائش کرے کہ کس کا عمل بہتر ہے ۔

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا (7) وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا :الکھف ۷

دنیا کی زینت کو پانے کیلئے آپ اپنی نگاہوں کو نہ پھیلائیں۔

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا :الکھف ۲۸

مال اور اولاد دنیا کی زینت ہیں

 الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلا :الکھف۴۶

 قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ: طہ ۸۷

یہاں زینۃ القوم سے مراد زیورات ہیں ۔

دنیا کی زندگی زینت ہے اور یہ دھوکہ ہے۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ : الحدید ۲۰

اے بنی آدم ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو۔ :

 يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ: الاعراف ۳۱۔

یعنی فطری خوبصورتی کے ساتھ نماز میں آیاکرو میلے کچیلے لباس اور بدن میں نہ آئو۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ (15) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ :ھود ۱۵،۱۶

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا : الاحزاب ۲۸

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ النور ۳۱

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close