قرآنیاتمذہب

قرآن کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں!

محمد ہاشم قادری مصباحی

  کلام ِ الٰہی ، قرآن مجید کا نزول تاریخ انسانی کے لئے ایک عظیم انقلاب ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری بلکہ سارے انسانوں کی رہنمائی کرنے والا قرآن عظیم ہمارے درمیان موجود ہے۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں لوحِ محفوظ سے منتقل ہوکر آسمان اول پر لایا گیا،جہاں سے آہستہ آہستہ 23؍سال میں محمد الرسول اللہ( ﷺ) پر نازل ہوا ۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اس میں صاف صاف بیانات و احکامات ہیں ۔ قرآن کریم کے 23نام ہیں جن میں ایک نام فرقان ہے۔ یعنی کافروں ومومن، حلال وحرام میں فرق کرنے والی کتاب۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان۔ترجمہ:رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کی ہدایت کے لئے اور رہنمائی کے لئے اور فیصلہ کی روشن باتیں ہیں اس میں ۔(سورۃ البقرہ، آیت184،کنز الایمان)

  قرآن کریم کسی خاص قوم یا ملک کے لئے نہیں نازل ہوا بلکہ ھدی اللناس تمام اولادِ آدم کے لئے ہادی و مرشد ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی اتنی کھلی ہے کہ حق او رباطل بالکل ممتاز ہوجاتے ہیں ۔ہدایت و نصیحت و حکمت دینے والی کتاب تمام انسانوں کے لئے نصیحتِ الٰہی ہے ۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر موجود ہے۔ حکمت، نصیحت ، ہدایت اور ڈر کا اعلان قرآن کر رہا ہے۔وَذْکُرُوْ نِعْمَتَ للّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْکُمْ مِنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُمْ بِہٖ ط وَتَّقُو اللّٰہَ وَعْلَمُوْاَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْم۔ترجمہ: کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو اللہ سب جانتا ہے۔(سورۃ البقرہ، آیت 231، کنز الایمان)دیکھو ، کلام ِ الٰہی قرآن مجید ایسی کتابِ ہدایت تمہیں عطا کی گئی ہے کہ اس نعمتِ عظمیٰ کا ہمیشہ خیال و پاس ،تکریم و عزت کرنا ہے۔ تبھی تو تم اس احسانِ عظیم کی شکر گزاری کا حق ادا کر سکو گے۔

رب العزت نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی کریمانہ ہدایت عطا فرمائی ہیں جو عالمِ انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ان پاکیزہ ہدایت کی جانکاری نہیں رکھتے یا جانکاری ہے تو ان پر عمل نہیں کرتے ۔ قرآن کے حقوق بھی ہمارے اوپر ہیں ۔ قرآن کے تئیں ہماری ذمہ داریاں بہت ہیں ۔ اول اس کو حق اور سچ جانیں ۔ ہر ہر حرف پر ایمان کامل رکھیں اور اس کے حقوق میں سے یہ ہے کہ اس کی تلاوت کریں ۔ جو احکامات نازل ہوئے ہیں ان پر صدق دل سے عمل پیرا ہوں ۔ انسانوں پر قرآن مجید کا یہ بھی حق ہے کہ دل وجان سے اس کی قدر کریں ، اس لئے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔ قرآن مجید کی طرف سے غافل ہونے کامطلب یہ ہے کہ ہم خود خدا کی عظمت سے بے خبر ہیں جو ہمارا خالق و رب ہے۔

جس نے اپنا کلام نازل فرماکر ہمارے لئے فلاح و نجات اور کامرانی کی راہیں کشادہ فرمادیں ۔ قرآن کریم کی جو تلاوت کرتا ہے اور خالص نجات کی نیت کے ساتھ اس پر عمل کرتا ہے اس کو رفعت و بلندی عطاکرتاہے اور جو دکھاوے کے لئے بغیر عمل کے اس کو پڑھتاہے اللہ تعالیٰ اس کو گرادیتا ہے ، ذلیل کرتا ہے۔(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، کشف القلوب جلد اول ، صفحہ 767)جو قرآن کا حق ادا نہیں کرتاہے اور بحیثیت مومن قرآن کریم کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نہیں اداکرتا قرآن عظیم اللہ کی بارگاہ میں اپنے حمایتیوں (تلاوت کرنے والے،عمل کرنے والے)کی حمایت میں حجت کرے گا ، سفارش کرے گا۔ وہیں اپنے ساتھ نا انصافی کرنے والوں (تلاوت نہ کرنے والے، بے عمل لوگ)کے خلاف شکایت کرے گا۔ (الحدیث)اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتاہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں ۔(سورۃ البقرہ، آیت 26)

قرآن کا یہ حق بھی ہے کہ ہم اہتمام کے ساتھ اس کی تلاوت کریں اور تلاوت کے وقت قرآن کے احترام کو پوری طرح ملحوظ رکھیں ۔باوضو قرآن پڑھیں ، سنجیدگی کو قائم رکھیں جس سے قرآن کی عظمت و شان ظاہر ہو۔ قلب شکر کے جذبے سے لبریزہو۔ جب غضب کی آیتیں پڑھے سنے تو خوفِ خدا ہم پر طاری ہو اور خدا کی پناہ کے طالب ہوں ۔ قرآن میں ہے اَلَّذِیْن اٰتَیْنَا ہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُوْ نَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ط اُوْلٓئِکَ یُوْمِنُوْنَ بِہٖ ط وَمَن یَّکْفُرْ بِہِ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْن۔ ترجمہ :جنہیں ہم نے کتاب دی ہے جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں وہی خسارے میں رہیں گے۔ (سورۃ البقرہ، آیت211) قرآن کی تلاوت کرنا قرآن کو پوری طرح سے پکڑنا یہ ایمان کی پہچان اور قرآن کا حق ادا کرناہوگا۔ قرآن کا یہ حق بھی ہے کہ اسے ہم زندگی کا رہنما بنائیں اور کتاب ہدایت مان کر پوری قوت سے اسے تھام لیں ۔ اللہ نے اپنے نبیوں کو بھی فرمایا کہ کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں ، پکڑ لیں ۔ قرآن میں ہے یَا یَحْیٰ خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ وَ اٰ تَیْنَا ہُ الْحُکْمَ صَبِیْئَا۔ ترجمہ: کتاب کو مضبوطی سے تھام لو ہم نے اس کو بچپن ہی میں نبوت عطاکی (سورۃ مریم ،آیت 12) قرآن کے تئیں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم محض اس کی تلاوت پر اکتفا نہ کریں بلکہ قرآن کو سمجھیں اور اس کی رہنمائیوں سے پورے طور پرمستفیدہوں ۔

قرآن کے حکم اور مطالب و مفاہیم کو سمجھنے کی سرے سے فکر ہی نہ ہو، دلچسپی ہی نہ ہو یہ قرآن کی بڑی حق تلفی ہے۔ قرآن کے مستند ترجموں سے فائدہ اٹھائیں ۔ خصوصیت کے ساتھ ترجمہ اعلیٰ حضرت ،حضرت مولانا احمدرضا خاں علیہ الرحمہ(کنز الایمان) کومطالعہ میں ضرور رکھیں ۔ قرآن ان لوگوں سے شاکی ہے جو قرآن میں غور وفکر سے کام نہیں لیتے۔ چنانچہ فرمایا گیااَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَفْقَالُہَا۔ترجمہ:انہیں کیاہوگیا ہے تو کیا وہ قرآن میں غور فکر نہیں کرتے؟یا ان کے دلوں پر قفل(تالے) لگے ہوئے ہیں؟ (سورۃ محمد،آیت 24) جس کے دل پر تالا لگ جائے وہ خیر سے محروم ہوجاتاہے۔ قرآن ایسی کتاب ہے جسے سمجھنے کے لئے ذہن و فکر کی کشادگی کے ساتھ عشقِ رسول کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے ورنہ عشق رسول کے بغیر نہ ہدایت نصیب ہوگی نہ فائدہ۔ ایسے لوگوں کو مایوس ہی ہونا پڑے گا۔قرآن ہمیں احکام ہی نہیں دیتا ۔

قرآن کی تمام آیتیں کم و بیش چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ(6666) ہیں جن میں صرف پانچ سو آیتیں ایسی ہیں جن کا تعلق فقہی احکام سے ہے۔ باقی آیات ہماری فکر ی، علمی اور عمل و تربیت کے لئے نازل ہوئی ہیں اور اس لئے نازل ہوئی ہیں کہ وہ میدانِ عمل میں اتار یں اور ہم پر جو منصبی فرائض ہیں ان کو ادا کرنے کے لئے ہمیں آمادہ کریں جو امت مسلمہ کو اس دنیا میں ادا کرنے کے ذمہ داری دی گئی ہے۔ قرآن سے بے نیاز ہوکر نہ ہم اپنی صحیح تربیت کر سکتے ہیں اور نہ اپنے رفقائے کار کی تربیت کر سکتے ہیں ۔

ضرورت ہے کہ قرآن کے تئیں ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کریں بلکہ دل و جان سے اس پر عمل بھی کریں اور ہم سب یہ طے کریں کہ اس کتاب سے دنیا کو خصوصاً برادران وطن کو واقف کرائیں ۔اس لئے دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سچی رہنمائی اور ہدایت ہی ہے اور یہ نعمت کلامِ الٰہی قرآن سے حاصل ہوگی۔

سب کتابوں سے بڑا قرآن ہے

یہ ہمارا دین ہے ایمان ہے

ہم کریں گے اس کی عزت اور مدد

جسم میں جب تک ہمارے جان ہے

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

اللہ ہم تمام لوگوں کو کلام ِ الٰہی قرآن مجید کے تئیں ذمہ داری نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین، ثم آمین!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close