فقہمذہب

قربانی اور ذبح کے مسائل

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

سورۃ الکوثر میں ارشاد ہے ؛ فصل لربک وانحرo اپنے رب کے لئے نماز ادا کرو اور قربانی کرو۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا؛ یوم النحر(عید الاضحی) میں ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نذدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ کے نذدیک مقامِ قبول میں پہنچ جاتا ہے لہذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ جامع الترمذی۔ ابن ماجہ شریف میں روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا؛ جس کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے ذبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے، چت کبرے، خصی کئے ہوئے ذبح کئے ، ان کا منہ قبلہ کی طرف کیا اور یہ پڑھا؛ انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض علی ملۃ ابراھیم حنیفا و ما انا من المشرکین ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذالک امرت و انا من المسلمین اللھم منک و لک عن محمد و امتہ بسم اللہ اللہ اکبر۔ میں نے ملت ابراہیمی پررہتے ہوئے ایک اسی کا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے، اور میں مشرکوں میں نہیں، بے شک میری نماز اور میری قربانیاں ، میرا جینا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو رب سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہ ہی حکم ہوا ہے اور میں مسلمانوں میں ہوں، اے اللہ یہ تیری توفیق سے ہے اور تیرے لئے ہی ہے محمد (ﷺ) اور آپ کی امت کی طرف سے، بسم اللہ اللہ اکبر۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بہترین قربانی وہ ہے بااعتبار قیمت اعلی ہو اور فربہ ہو۔

قربانی واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں؛ مسلمان ہو، مقیم ہو (مسافر پر قربانی نہیں)، مالک نصاب ہو یعنی جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے، آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو۔ قربانی مرد و عورت دونوں پر الگ لگ واجب ہے یعنی گھر میں جو جو صاحب نصاب ہیں ان پر الگ الگ قربانی لازم ہے۔ فطرانے اور قربانی کا نصاب یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کے پاس ضروری اسباب (جیسے گھر، کپڑے، گھر کا سامان وغیرہ) کے علاوہ اتنی رقم / مال ہو جو زکوۃ کے نصاب برابر ہو جائے اگرچہ اس مال پر ایک سال نہ بیتا ہو تو اس شخص پر فطرانہ اور قربانی واجب ہے۔ مختصر یہ کہ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ/ 612.32 گرام چاندی کی رقم ہو یا ضروریات زندگی کے علاوہ اتنا مال ہو تو اس پر فطرانہ اور قربانی دونوں واجب ہیں اور اگر عید الاضحی کی تین دنوں میں کسی بھی وقت وہ اتنی رقم یا مال کا مالک بن گیا تو قربانی واجب ہو گئی۔
اگر گھر میں ایک سے زائد بالغ افراد پر قربانی واجب ہے اور گھر کا کوئی ایک فرد سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کرنا چاہتا ہے (مثلا سات افراد پر قربانی واجب ہے تو ایک گائے لے لی) تو گھر کے باقی افراد کی طرف سے اجازت لازمی ہے، جن پر قربانی واجب ہے ان سے اجازت لئے بغیر ان کی طرف سے قربانی کر بھی دی تو ان کا واجب ادا نہ ہو گا۔نابالغ پر قربانی واجب نہیں ہے۔

قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، مثلاََ اگر قربانی کرنے کی بجائے قربانی کی قیمت صدقہ کر دی، کسی ویلفئیر ادرارہ میں دے دی تو قربانی پھر بھی واجب رہے گی۔ قربانی میں نیابت جائز ہے یعنی اگر کسی کو کہا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا، اس نے کر دی تو قربانی ادا ہو گئی۔ گائے ، اونٹ میں سات حصے ہوتے ہیں، اگر آٹھ افراد نے مل کر قربانی کی تو کسی کی قربانی نہ ہو گی لیکن اگر سات سے کم یعنی پانچ یا چھے افراد نے کی اور کسی ایک کے دو حصے تھے تو قربانی ہو گئی، یعنی سات حصے پورے کرنا ہوں گے۔ جب شراکت میں قربانی کی جائے تو لازم ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کریں، اندازہ سے نہ کریں، بہار شریعت میں درمختار کے حوالہ سے موجود ہے کہ ایسی صورت میں کسی کا باقی افراد کو زائد یا کم گوشت معاف کرنے کا حق بھی نہیں ہے، لہذا وزن کیا جائے اور سب کو برابر گوشت تقسیم ہو ، یہ ہی لازمی ہے۔ قربانی کے تین دن ہیں؛ دس، گیارہ اور بارہ ذالحجہ۔ رات کے وقت قربانی کرنا مکروہ ہے لیکن قربانی ہو جائے گی۔ اگر قربانی کے لئے جانور خریدا اور کسی وجہ سے عید کے تین دنوں میں جانور ذبح نہ کر سکا تو اب وہ جانور صدقہ کر دے، اگر اس کی جگہ کوئی اور جانور صدقہ کرے تو دونوں کا وزن کرے اور اگر صدقہ والے جانور کا وزن کم ہو تو اتنی قیمت صدقہ کرے۔ اگر جانور ہی نہیں لیا اور قربانی بھی نہیں کی تو اب اس پر ایک بکری کی قیمت صدقہ لازم ہے۔ اگر اگلے سال پچھلے سال کی قضاء قربانی کرنا چاہتا ہے تو اس کی اجازت نہیں بلکہ قضاء ہوئی قربانی کے بدلے ایک بکری کی قیمت ہی صدقہ کرنا ہو گی۔

قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہئے؛ اونٹ پانچ سال کا، گائے دو سال کی، بکرا وغیرہ ایک سال کا، اگر جانور کی عمر اس سے کم ہو تو قربانی نہ ہو گی اور اگر عمر زیادہ ہو تو افضل ہے۔ اگر دنبہ چھ ماہ کا ہو لیکن اتنا فربہ ہو کہ دور سے دیکھنے میں ایک سال کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانور میں عیب نہیں ہونا چاہئے۔ اگر بہت کم عیب ہے تو مع کراہت قربانی ہو جائے گی لیکن اگر عیب زیادہ ہے تو قربانی نہ ہو گی۔ اگر جانور کے سینگ تھے اور سینگ جڑ تک ٹوٹ گیا تو قربانی نہیں ہو سکتی لیکن اگر جڑ تک نہیں ٹوٹا تو قربانی ہو جائے گی۔ کانے، اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں، اتنا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو، جو اتنا لنگڑا ہو کہ چل کر قربانی کی جگہ تک نہ جا سکے ، جس کے کان یا دم تہائی سے زائد کٹے ہوں تو قربانی جائز نہیں۔ جانور پہلے ٹھیک تھا بعد میں عیب پیدا ہو گیا تو اب غنی پر لازم ہے کہ وہ نئے جانور کی قربانی کرے۔ قربانی کرتے وقت جانور اچھلا کودا اور کوئی عیب پیدا ہو گیا تو یہ عیب مضر نہیں ، قربانی ہو جائے گی۔ گائے وغیرہ میں مختلف لوگوں نے حصہ ڈالا اور ان میں سے کسی ایک کی نیت قربانی کی نہیں بلکہ فقط گوشت حاصل کرنے کی ہے تو کسی کی قربانی نہ ہو گی لہذا شراکت سے پہلے تسلی کر لیں کہ سب کی قربانی کی نیت ہے یا نہیں۔ سب شرکاء پر قربانی کی نیت لازم ہے ، چاہے وہ واجب قربانی کی کریں یا نفل قربانی کی، یا حج کر رہا تھا تو دم لازم ہوا، اب ایک حصہ دم والے کا ہے ، کسی نے اپنی اولاد کے عقیقہ کے لئے حصہ ڈالا ہے تو سب کی قربانی بالکل صحیح ہو گی۔

ذبح کرنے سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں، جب تک جانور کی مکمل جان نہ نکل جائے اس وقت تک کھال وغیرہ نہ اتاریں، گردن کی ہڈی نہ توڑیں کہ مکروہ ہے اوراس سے جانور کو اذیت ہوتی ہے۔ قربانی کے گوشت میں مستحب ہے کہ تین حصے کریں جیسا کہ عام طور پر رواج ہے، لیکن اگر کوئی سارے گوشت کو صدقہ کر دے یا سارا گوشت گھر میں اپنے لئے رکھ لے، پورے گوشت کو شادی وغیرہ کی تقریب میں استعمال کر لے سب جائز ہے، لیکن قربانی کا گوشت بیچنا جائز نہیں۔ بلکہ اگر کوئی صاحب وسعت نہیں ہے ، اور گھر میں اہل و عیال کے لئے سارا سال گوشت خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے لئے بہتر ہے سارا گوشت اپنے اہل و عیال کے لئے رکھے۔ اگر کسی کی وفات کے بعد اس کی طرف سے قربانی کی تو یہ گوشت بھی قربانی کرنے والے کی ملکیت ہے ، جیسے چاہے استعمال کرے لیکن اگر وصیت تھی کہ قربانی کر دینا اب قربانی کی تو بہتر ہے اس وصیت کی قربانی کا سارا گوشت صدقہ کر دیں۔

جانور کی کھال، رسی وغیرہ صدقہ کر دیں، کسی کو تحفہ دے دیں، کھال کو اپنے استعمال میں لے آئیں سب جائز ہے لیکن کھال کو بیچ کر قیمت خود نہیں رکھ سکتے، کھال وغیرہ قصائی کو بطور قیمت کے نہیں دے سکتے، ہاں اگر قیمت کے علاوہ کھال بطور تحفہ کے دے دی تو کوئی حرج نہیں۔

قربانی کرتے وقت صرف ’’بسم اللہ‘‘ کہنا واجب ہے، اگر ایک ذبح کر رہا تھا اور ساتھ چھری پر دوسرے نے بھی ہاتھ رکھ دیا تو دونوں پر یہ کہنا لازم ہے، ورنہ جانور حلال نہ ہو گا۔ عورت کے ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

گلے میں چند رگیں ہیں ان کے کاٹنے کو ذبح کہتے ہیں۔ عوام میں مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ سے ذبح کیا جاتا ہے یہ غلط ہے بلکہ مکروہ ہے۔ جو رگیں ذبح کرتے وقت کاٹی جاتی ہیں وہ کل چار ہیں؛ ایک وہ رگ جس سے سانس آتی ہے اسے حلقوم کہتے ہیں، دسری وہ رگ جس سے کھانا پانی اترتا ہے اسے مری کہتے ہیں اور تیسری اور چوتھی پہلی دو رگوں کے ارد گرد ہیں جن میں خون چلتا ہے ان کو ودجین کہتے ہیں۔ ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے، اگر چاروں رگیں تھوڑی تھوڑی کٹ گئیں اور رگوں کا اکثر حصہ باقی ہے تو اس صورت میں جانور حلال نہیں۔ اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر ہی کٹ جائے تو یہ مکروہ فعل ہے، جانور حلال ہو گا۔ ہر وہ کام جس سے جانور کو اذیت ہو وہ کام مکروہ ہے۔ ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ کہی تو جانور حرام ہے، اگر بھول گیا، دل میں تھی تو حلال ہے۔ ذبح کرتے وقت بسم اللہ کے ساتھ غیر اللہ کا نام اس طرح سے لیا کہ درمیان میں کچھ وقفہ نہیں مثلاََ بسم اللہ تقبل من فلاں (یعنی اللہ کے نام سے فلاں کی طرف سے قبول ہو) تو قربانی مکروہ ہے۔ اور اگر اس طرح نام لیا کہ بسم اللہ و اسم فلان یعنی اللہ کے نام اور فلاں کے نام سے تو قربانی حرام ہو جائے گی۔ قبل از ذبیحہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قربانی فلاں کی طرف سے ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ چھری چلاتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہے۔ بسم اللہ کہہ لی لیکن چھری پھیرنے کے وقت تک اگر ایک دو منٹ گزر بھی گئے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر بسم اللہ کہی اور پھر کسی اور کام میں مشغول ہو گیا اور کافی وقت کے بعد اب ذبح کرنے لگا تو دوبارہ بسم اللہ لازم ہے۔ بسم اللہ پڑھی اور ذبح کرنے لگے تو جانور بھاگ گیا ، پھر پکڑا تو اب دوبارہ بسم اللہ کہے۔ اگر ایک جانور ذبح کیا اور ساتھ ہی دوسرا جانور ذبح کرنا ہے تو بسم اللہ دوبارہ کہیں۔

یہ چند اہم مسائل پیش کئے ہیں ، اس کے علاوہ اگر قربانی کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کسی مستند عالم سے دریافت فرمائیں۔ شریعت کے مسائل دریافت کرنے میں احتیاط فرمائیں۔ اللہ کریم ہمیں شریعت مطہرہ کو سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ تمام قارئین کو میری جانب سے عید الاضحی کی خوشیاں مبارک ہوں۔ اپنے ارد گرد کے غریب، مفلس، سفید پوش افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا مت بھولیں۔ اللہ کریم ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

مزید دکھائیں

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

محمد احمد رضا ایڈووکیٹ آپ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے الشریعہ و القانون (ایل ایل بی آنرز، شریعہ اینڈ لاء) کی ڈگری حاصل کی۔ آپ جدید قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد میں دو سال قانون کی پریکٹس کی۔ اب اپنے آبائی شہر رحیم یار خان میں خواجہ فرید پوسٹ گریجوئیٹ کالج کے شعبہ اسلامیات میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہيں۔ آپ کے ریسرچ آرٹیکلز مختلف اخبارات، جرائد، میگزین اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہيں۔

متعلقہ

Close