فقہمذہب

لباس کی شرعی حیثیت

 حماد غزالی

بشکریہ: پروفیسر ہارون رشید خواجہ،جناب شبیر ابن عادل و محترم ہارون معاویہ صاحبان (پاکستان)

سر لفظ

ادھر ایک آدھ سال سے عموماً اور چند مہینوں سے خصوصاً کچھ نجی مجلسوں اور سوشل میڈیا میں ” اسلامی لباس،تحلیل وتحریم کے اصول،تشبہ بالکفار کا ضابطہ” اور اس سے ملتے جلتے چند عناوین پر کافی تند و تیز بحثیں سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے ایک بہترین، اصولی، معتدل،اور جاندار تحریر ارباب دانش و بینش کی نظر نواز کی جائے،اس امید کے ساتھ کہ اس کو ملاحظہ کرتے وقت الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن، فحیث وجدہا أحق بہا”٬  ” خذ ما صفا دع ما کدر”٬ اور ” انظر الی ما قال،ولا تنظر الی من قال"٬  جیسے زریں اقوال،نیز تمام تر تعصبات،ذہنی تنگنائیوں اور فکری خولوں کو بالائے طاق رکھ کر محض علمی جذبہ کو پیش نظر رکھا جائے، اور اس حقیقت کو فراموش نہ کیا جائے کہ "اسلام میں لباس ہے،اسلام لباس میں نہیں ”

اس وقت مجھے اسلام کی وسعت پر روشنی نہیں ڈانی ہے بلکہ اس کی وسعت کی روشنی میں ایک اہم موضوع ” لباس کی شرعی حیثیت ” پر ڈالنی ہے۔ یہاں پر اس وقت میں لباس کے مسائل تفصیل سے بیان نہیں کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ یہ بہت ہی وسیع موضوع ہے اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب لکھنی پڑے گی، بلکہ میں یہاں پر صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لباس میں کفار کے ساتھ تشبیہ نہ کرنے کا کیا شرعی پیمانہ ہے۔

بہت سے لوگ دین اسلام کے مقاصد شرعیہ کونظر انداز کرکے دین اسلام کی وسعت میں تنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر بہت سے امور میں ایسے احکامات صادر کرلیتے ہیں کہ جن میں شرعی اصولوں کے مطابق رخصت ہوتی ہے ان میں حرمت کا حکم لگالیتے ہیں۔

اس کے برعکس بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مقاصد شرعیہ کا غلط مفہوم بتا کر دین اسلام کی وسعت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی مذموم کوششوں میں لگے رہتے ہیں اس طرح سے وہ لوگ حرام کو حلال کرنے کی حرکتیں کرتےرہتے ہیں۔

لہذا ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تحلیل اور تحریم صرف اور صرف اللہ تعالی کا اختیار ہے، اللہ کا ارشاد ہے :

” وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ” (16 / سورۃ النحل /116)

ترجمہ : کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو، بے شک اللہ پر بہتان بازی کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی کے بغیر تحلیل اور تحریم کا اختیار کسی کو نہيں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :

” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” (66 سورة التحريم / 1)

ترجمہ:  اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جس چيز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ؟ کیا آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہےجس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو لہسن کھانے کے فورا بعد اس حالت میں مسجد میں داخل ہونے سے منع  کیا کہ منہ سے اس کی بو آرہی ہو تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سمجھا کہ شاید یہ حرام کردیا گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِى تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِى وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا ” (مسلم / کتاب المساجد /  باب نَهْىِ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا عَنْ حُضُورِ الْمَسْجِدِ)

یعنی : اے لوگو ! مجھےاسے حرام کرنے کا اختیار نہیں ہےجسے اللہ نے حلال کردیا ہو، البتہ یہ ایسا پودا ہے جس کی بو میں ناپسند کرتا ہوں۔

معلوم ہوا کہ تحلیل اور تحریم دونوں بہت زیادہ حساس ہیں کسی بھی طرح کی جلد بازی، تساہل، تشدد یا من مانی کرنا بہت زیادہ

خطرناک ہے، شرعی نصوص اور ان اصولوں کے تابع رہنا لازمی ہے جو شرعی نصوص سے مستنبط ہوں۔

تحلیل اور تحریم میں انسان کا خود ہی تصرف کرنا شرک اکبر ہے اللہ کا ا رشاد ہے :

"اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ "(9 / سورة التوبة / 31)

ترجمہ : انہوں نے ( یعنی یہود اور نصاری نے )اللہ کے بغیر دیگر رب بنا رکھیں ہیں۔

یہی آیت جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو (مسلمان بننے کے بعد) سنائی تو اس نے کہا کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"أَلَيْسَ يُحَرِّمُونَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَتُحَرِّمُونَهُ وَيُحِلُّونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ، فَتَسْتَحِلُّونَهُ؟”قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:”فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ” (المعجم الكبير للطبراني /  13673 /

امام البانی نے اسے غایۃ المرام میں حسن کہا ہے۔ سلسلة صحیحة 3293 )

یعنی : کیا وہ اسے حرام نہیں کرتے جسے  اللہ نے حلال کیا تو تم بھی اسے حرام مان لیتے ہو، اور جسے اللہ نے حرام کردیا وہ اسے حلال کرلیتے ہیں تو تم بھی اسے حلال سمجھ لیتےہو ( مسلمان بننے سے پہلے ) ؟ (عدی کہتے ہیں ) میں نے کہا : بے شک ( ایسا ہی ہے )تو ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا :  یہی ان کی عبادت ہے۔

صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحریم اور تحلیل صرف شارع کے اختیار میں ہے ، اس میں ہمیں کسی بھی طرح کا اختیار حاصل نہیں ہے ایسا کرنا شرک اور کفر ہے۔

ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ :

حرام کو حلال کرنا سخت گناہ ہے، جیسا کہ عدی بن حاتم کی مذکورہ بالا حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے۔

حلال کو حرام کرنا بھی سخت گناہ ہے، بلکہ  اگر یہ ان امور میں ہو کہ جن میں اصل اباحت (جواز ) ہے تو یہ حرام کو حلال کرنے سے بھی سخت گناہ ہے۔

علماء دین نے اس کی اچھی طرح وضاحت کی ہے کہ جن امور میں اصل اباحت ہے انہیں حرام کرنا اس سے سخت ہے کہ کوئی حرام کو حلال کرے کیوں کہ معاملات میں اصل تسہیل ( عوام کو سہولیت دینا ) ہے۔  اللہ تعالی سہولت  دینا پسند کرتا ہے اور سختی کرنا ناپسند کرتا ہے جیسے فرمایا :

” يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ” (2/ سورة البقرة / 185)

یعنی : اللہ تم سے آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھی یہی ہےجیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے :

” عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ” (بخاري / 3560)

یعنی :  حضرت عا‎ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان دونوں میں سے آسان اختیار کیا اگر وہ ( آسان اختیار کرنا) گناہ نہ ہوتا، البتہ اگر وہ گناہ ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے وہی ہوتے۔

معراج کے دوران نمازوں کی تخفیف کرانے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کے لیے آسانی پسند کرتے تھے، پہلے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، پھر تخفیف کے بعد پچیس کا، پھر تخفیف کے بعد پانچ کا حکم دیا گیا، اس کی تفصیل احادیث کی کتابوں میں موجود ہے جیسے صحیح مسلم کتاب الإیمان باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى السَّموَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ۔ ابن ماجه حدیث 1399۔

اسی طرح مسواک کے بارے میں آسانی اختیار کرنا بھی واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

” لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ” (بخاري / 1933)

ترجمہ : اگر مجھے امت پر بوجھ پڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔

اسی طرح جب رمضان میں تین راتوں کو نماز تراویح کی امامت کی پھر چوتھی بار تشریف نہ لانے کی وجہ بھی انہوں نے یہی بتائی، فرمایا :

” إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ” (بخاري / 729)

یعنی : مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں رات کی نماز تم پر واجب نہ کی جائی۔
نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود امت کے لیے آسانی اختیار کرتے تھے بلکہ صحابہ کو بھی یہی حکم دیتے تھے جیسا کہ فرمایا :

” يَسِّرُوا، وَلاَ تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا ” (بخاري / 69)

یعنی :  آسانی کرو، سختی مت کر، اور خوشخبری دو، نفرت مت دلاو۔

ان سب دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام میں آسانی مطلوب ہے بہت ساری عبادات میں بھی اس کی رعایت کی گئی ہے۔ اگر ان سب دلائل کو جمع کیا جائے جو دین اسلام کی سہولت پر دلالت کرتی ہیں تو ایک ضخیم کتاب جمع ہوجائے گی۔  لیکن اس سب کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ لوگ آسانی کے آڑ میں حرام کا ارتکاب کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرعی نصوص اور اصولوں کے مطابق جہاں پر آسانی ملتی ہے تو اسے اختیار کرنے میں کسی طرح کی کوئی قباحت نہیں ہے اور جو شرعی نصوص اور اصولوں کے مطابق حرام ہے اس میں کسی بھی طرح کی کوئی اباحت نہیں ہے۔

حلال اور حرام میں ضابطہ :

 کچھ حضرات ( جن میں دین کے خیرخواہاں بھی ہیں ) ایسے ہوتے ہیں کہ جو بہت سارے امور میں حرام کا حکم لگاتے ہیں تاکہ لوگ اجتناب کریں۔ حالاں کہ شرعی نصوص یا اصولوں کے مطابق انہیں قطعا حرام نہیں کہا جاسکتا ہے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ جن امور میں اصل اباحت ہے  ان میں حلال کو حرام کرنا حرام کو حلال کرنے سے زیادہ سخت  گناہ ہے کیوں کہ اصول یہ ہے ” الأصل في العبادات التوقف، و الأصل في المعاملات الإباحة”،   اس اصول کے پہلے جزء سے معلوم ہوتا ہے کہ :
عبادات میں اصل توقف ہے لہذا وہی عبادت کی جائے جو دلیل سے ثابت ہے اور اسی طرح کی جائے جس طرح دلیل سے ثابت ہے، اس میں کسی طرح کا رد و بدل ہرگز بھی جائز نہیں ہے، اس اصول کا تذکرہ علماء کی کتابوں میں جگہ جگہ ملتا ہے جو کہ شرعی نصوص کے بلکل مطابق ہے،  جیسے :

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا کہ ہا کہ امام احمد رحمہ اللہ کہتے تھے : "إنَّ الْأَصْلَ فِي الْعِبَادَاتِ التَّوْقِيفُ ” (مجموع فتاوی ابن تیمیة / ج 29 / ص 17)۔

ترجمہ : عبادات میں اصل توقف کرنا ( یعنی رکنا ) ہے۔

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا : ” الأصل في العبادات الحظر” (الشرح الممتع / ج 1 / ص 126)

ترجمہ : عبادات میں اصل منع ( یعنی رکنا ) ہے۔

امام البانی رحمہ اللہ نے کہا :  ” الأصل في العبادات أنها لا تثبت إلا بتوقيف من رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذا الأصل متفق عليه بين العلماء ” (صلاة التراویح / ص 34)

ترجمہ : عبادات میں اصل یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بغیر ثابت نہیں ہوتی، اور یہ اصول علماء کے درمیان متفق  علیہ ( یعنی اتفاق شدہ ) ہے۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ  ( وغیرہ )نے کہا : ” الأصل في العبادات التوقيف ” ( مجموع فتاوی اللجنة الدائمة / ج 3 / ص 83 / فتوی نمبر 2008 )

ترجمہ : عبادات میں اصل توقف کرنا ( یعنی رکنا ) ہے۔

اس فقہی اصول  ” الأصل في العبادات التوقف، و الأصل في المعاملات الإباحة” کے دوسرے جزء سے معلوم ہوتا ہے کہ :
معاملات میں اصل اباحت ( حلال ہونا ) ہے، حدیث میں آیا ہے :

عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ، وَالْجُبْنِ، وَالْفِرَاءِ قَالَ : الْحَلاَلُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ، فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ (ابن ماجه / ح 3367 / امام البانی نے اسے حسن کہا ہے)

ترجمہ : سلمان فارسی ( رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے ( فرو کا دوسرا معنی  :چمڑے کا چغہ ہے ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن ) میں حلال کیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا ہے، اور جس کے بارے میں خاموشی کی ہے تو وہ معاف شدہ میں سے ہے ( یعنی مباح ہے )۔

معلوم ہوا کہ جس کے حرام ہونے کی صراحت کی گئی ہے  وہی حرام ہے، اورجس کے حرام ہونے کی صراحت نہیں کی گئی اورنہ ہی دیگر شرعی اصول اس کے حرام ہونے کا تقاضا کرتے ہوں تو وہ حلال ہے۔
دنیاوی امور کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگو ں کو اختیار دیا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے :

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا، فَقَالَ : مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ قَالُوا : النَّخْلُ يَأْبِرُونَهُ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلَحَ، فَلَمْ يُأْبِرُوا عَامَئِذٍ، فَصَارَ شِيصًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ، فَشَأْنَكُمْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ، فَإِلَيَّ "

(ابن ماجہ / 2471 / امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے)

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کچھ آوازیں سنی تو فرمایا : یہ آواز کیا ہے ؟ ( صحابہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : کھجور کے درخت کی  جرگن (Pollination)کررہے ہیں، تو ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اچھا ہوتا، تو انہوں نے اس سال جرگن (Pollination)نہیں کی تو ( اس سال ) وہ ( کھجور ) ردی ہوگئی ( یعنی گھٹلی نہ بننے کی وجہ سےکھجوریں خراب ہوگیں )تو پھر انہوں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو انہوں نے فرمایا : اگر کوئی بات تمہاری دنیا کے متعلق ہو تو تمہاری مرضی ہے اور اگر کوئی بات تمہارے دین کے متعلق ہو تو میری طرف ( رجوع  کرو)۔

صحیح مسلم کی روایت میں یوں آیا ہے : ” أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ” (مسلم / کتاب الفضائل / باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْىِ )

یعنی : تم اپنے دنیاوی امور میں زیادہ جانتے ہو۔

مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز معاملات سے متعلق ہو اور اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو تو لوگ اس کے بارے میں خود ہی اختیار رکھتے ہیں۔

معاملات میں اصل میں  اباحت ( جواز )ہونے کی بات علماء نے اپنی کتابوں میں بکثرت بتائی ہے جیسے کہ :

امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” الأصل في المعاملات الجواز , إلا لنص، بخلاف العبادات , فالأصل فيها المنع إلا لنص ” (إرواء الغلیل / ج 5 / ص 294 )

یعنی: معاملات میں اصل جواز ہے الا یہ کہ کوئی نص ( منع کرتی ) ہو، عبادات کے برعکس، کیوں کہ ان میں اصل ممانعت (یعنی رکنا) ہے الا یہ کہ کوئی نص ( ثابت کرتی ) ہو۔

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں  : ” الأصل في المعاملات الحل حتى يقوم دليل على التحريم ” (الشرح الممتع / ج 8 / ص 240)
یعنی : معاملات میں اصل ( ان کا )حلال ہونا ہے جب تک حرمت کی کوئی دلیل ثابت نہ ہو۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ ( وغیرہ ) نے فرمایا :  ” الأصل في المعاملات الحل” (مجموع فتاوی اللجنة الدائمة / ج 13 / ص 375 / فتوی نمبر 19209)

ترجمہ : معاملات میں اصل حلال ہونا ہے۔

علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے فرمایا : ” الْأَصْلَ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ ” (تحفة‏ الأحوذي / ج 4 / ص 416)

یعنی : چیزوں میں اصل اباحت ( حلال ہونا ) ہے۔

لباس میں حلال اور حرام کا ضابطہ:

چونکہ لباس کا معاملہ بھی ایسا ہے جو معاملات میں شامل ہے لہذا اس پر بھی معاملات ہی کے احکام نافذ ہونگے، لہذا لباس میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے وہ ممنوع ہے اور جس چیز سے کسی نص میں منع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اصول منع کرتا ہے جو شرعی نصوص کے تناظر میں ہو تو وہ مباح ہے۔

  اللہ تعالی نے زینت کی چیزیں اور کھانے پینے کی پاک چیزیں اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، جیسا  کہ اس کا ارشاد ہے :

” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ” (7 / سورة الأعراف / 32)

ترجمہ : آپ ان سے پوچھیے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لیے جو زینت اور کھانے ( پینے ) کی پاکیزہ چیزیں پیدا کی ہیں ان چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہيں ( اور ) قیامت کے دن تو خالص انہی کے لیے ہیں، ہم اسی طرح تمام آيات کو سمجھ داروں کے لیے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔
لہذا بغیر دلیل کےمعاملات میں کسی بھی چیز کو حرام کرنا حرام ہے۔

لباس میں کفار سے تشبیہ کا مطلب :

کفار سے تشبیہ کے بارے میں کئی احادیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے تشبیہ سے منع فرماتے تھے اور خود بھی کئی امور میں ان کی مخالفت کرتے تھے، ایک حدیث میں آیا ہے :

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "(ابو داود /  4031 / امام البانی نے اسے حسن صحیح کہا ہے)

ترجمہ : ابن عمر (رضی اللہ عنہ )سے روایت ہے اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو ( شخص ) کسی قوم کی تشبیہ کرے گا تو وہ انہی میں سے ( شمار ) ہوگا۔

اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ ہر چیز میں کفار کی تشبیہ حرام قرار دیتے ہیں، حالاں کہ یہ بات اوپر بیان کی جاچکی ہے کہ لباس کا تعلق معاملات سے ہے اور معاملات میں اصل اباحت (جواز ) ہے لہذا یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ ہر چیز میں کفار سے تشبیہ حرام نہیں ہے۔

اگر ہر چيز میں کفار سے تشبیہ حرام ہوتی تو پھر کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسے :

کھانے پینے کی چیزیں جو کفار نے ایجاد کی ہیں اور دنیا بھر میں مسلمان انہیں استعمال کرتے ہیں اور علماء ان سے منع نہیں کرتے ہیں، جیسےکہ کئی طرح کے فاسٹ فوڈ اور کول ڈرنکس وغیرہ ہیں۔

تعمیرات میں ماسوائے دینی تعمیرات کے علماء دین نے منع نہیں کیا جیسے کہ مکانوں، دکانوں، سڑکوں، اور پلوں  وغیرہ کی تعمیر میں عیاں ہے۔

اداری منیجمنٹ میں بھی مسلمانوں میں کفار کی منیجمنٹ موجود ہے۔

کاروباری امور میں سے بہت سے امور میں کفار کے کاروبار سے تشبیہ موجود ہے۔

مواصلات اور آمد و رفت میں بھی کفار سے تشبیہ مخفی نہیں ہے۔ لہذا جو حضرات ہر طرح کے لباس میں کفار سے تشبیہ حرام کرلیتے ہیں انہیں لازم آتا ہے کہ مذکورہ بالا امور میں بھی تشبیہ کلیتا حرام کردیں، جب کہ کوئی بھی نہ ایسا کرتا ہے اور نہ ہی کہتا ہے۔
غور کیا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہ خود ہرچیز میں کفار کی تشبیہ سےکلی طور اجتناب کیا نہ ہی صحابہ کو منع کیا: جیسا کہ درج ذیل مثالوں سے واضح ہوتا ہے :
سواری کا استعمال : گھوڑے اور خچر وغیرہ کا استعمال اس زمانے میں مسلمانوں اور کفار میں عام تھا۔

چغہ کا استعمال : اس میں چند ضابطوں کا بیان کیا گیا کہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو، مرد ریشم استعمال نہ کرے، سونے کی کوئی چیز اس میں نہ لگی ہو، اور ساتر ہو وغیرہ، جیسا کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خرید و فرخت، خراج، مال غنیمت کے ذریعہ سے کئی طرح کے لباس مسلمانوں تک پہنچ جاتے تھے جنہيں صحابہ رضی اللہ عنہم استعمال کرتے تھے۔

ازار کا استعال :  عربی لفظ ” ازار ” سے مراد تہبند ہے جسے لنگی بھی کہا جاتا ہے اس کا استعمال عربوں میں عام تھا لہذا مسلمانوں اور کفار کے درمیان رائج لباس تھا، البتہ چند ضابطے طے کیے گئے جو اوپر چغہ کے استعمال میں بیان ہوچکے ہیں۔

عمامہ کا استعمال بھی عربوں میں عام تھا لہذا یہ بھی مسلمانوں اور کفار کے درمیان رائج تھا۔
کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو عربوں میں رائج تھیں لہذا مسلمان اور کفار سب انہیں استعمال کرتے تھے، جیسے کھجور، اونٹ کا دودھ وغیرہ وغیرہ۔

تعمیرات میں بھی بہت سے امور مسلمانوں اور کفار کے درمیان یکساں تھے۔
جنگی طریقہ کار اور ہتھیار وں کے استعمال میں بھی بہت سے امور مسلمانوں اور کفار کے درمیان یکساں تھے۔

عربی زبان کا بول چال۔
وغیرہ وغیرہ

مذکورہ بالا ان تمام امور میں اسلامی ضابطے ضرور موجود تھے لیکن یہ بات بھی ہرگز مخفی نہیں ہے کہ ہر چیز میں تشبیہ سے منع کیا جاتا تھا، مثال کے طور پر:

عہد نبوی میں ازار ( لنگی )کے استعمال کا تذکرہ بکثرت ملتا ہے جو کہ کسی بھی عالم دین پر مخفی نہیں ہے۔ یہ بات بھی بلکل ثابت ہے کہ اس کا استعمال تمام عربوں میں عام تھالہذا مسلمان اور کفار دونوں استعمال کرتے تھے البتہ اس کے چند ضابطے مقرر تھے جیسے یہ کہ وہ ساتر ہو اور مرد ریشم کا استمعال نہ کرے اور ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکائے، وغیرہ۔ تو غور طلب بات یہ ہے کہ اگر آج کل کی دنیا میں پینٹ کا استعال بھی انہیں ضابطوں کے تحت استعمال کیا جائے تو منع کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟!، اگر پھر تشبیہ کی بات کی جائے تو یہ بات لنگی کے استعمال میں عہد نبوی سے آج کی دنیا تک میں برابر پائی جاتی ہے۔

چغہ کا استعمال: یہ عربوں میں زمانہ قدیم سے آج تک کا رائج لباس ہے، کئی روایات میں یہ بات ثابت ہے کہ کفار سے حاصل شدہ چغے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے استعمال کیے یہ بات بھی کسی عالم دین پر مخفی نہیں ہے جیسے : ترمذی کی حدیث  1768(جسے امام البانی نے صحیح کہا ہے )میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ (چغہ ) پہنا جو  ” ضیقة الکمین ” یعنی تنگ آستینوں (Sleeves)والا تھا۔

لہذا غور طلب بات یہاں یہ ہے کہ اگر آج کی دنیا میں بھی کوئی ایسی قمیض ہو جو مسلمانوں اور کفار میں استعمال کے اعتبار سے مشترک ہو اور مسلمان شرعی ضابطوں کا خیال رکھتے ہوئے استعمال کریں تو منع کی کیا وجہ ہے ؟ !۔

اسی طرح  لباس کے کئی امور  ایسے ہیں جو آج کل کے دور میں مسلمانوں اور کفار سب میں رائج ہے، جیسے : موزے، سویٹر، جاکیٹ، جوتے، گلوبند، سرمائی ٹوپیاں، دستانے، قمیض و پائجامہ، اور لنگی وغیرہ۔ ہمارے کشمیر میں سرما میں استعمال کیا جانےوالا  اہم لباس ” فرن ” ہے ۔ ان سب اشیاء کو مسلم اور کافر دونوں استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی بھی عالم دین ان لباسوں سے منع نہیں کرتا ہے،کیوں کہ منع کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

قمیض اور پینٹ کا استعمال :

اس پر بعض لوگ بلکہ بعض علماء نے حرام ہونے کا حکم لگا دیا ہے۔ لہذا اس کی وضاحت بھی یہاں ضروری ہے۔ چونکہ یہ بات اوپر بیان کی جاچکی ہے کہ لباس معاملات میں شامل ہے اور معاملات میں اصل اباحت ہے لہذا وہی لباس ممنوع ہے جس پر نص کی دلالت ہو یا کسی نص سے مستنبط اصول کی دلالت ہو بصورت دیگر ہر طرح کا لباس مباحات میں شامل ہے۔

قمیض اور پینٹ ایسا لباس ہے جو موجودہ دور میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان عام ہے، لہذا اسے کفار کا لباس کہہ کر حرام قرار دیناشرعی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ یہ ایسا لباس ہے جو کسی بھی غیر مسلم مذہب کا مذہبی یا قومی شعار ( علامت ) بھی نہیں ہے۔ البتہ لباس کی جو شروط اسلام میں متعین ہیں ان کی رعایت کرنا واجب ہے، جیسے : ساتر ہونا، ایسا لباس جس سے ستر ظاہر ہو حرام ہے۔  اسی طرح یہ بھی لازمی ہے کہ اتنا تنگ نہ ہو جس سے ستر کے اعضاء کا تعین ہو، کیوں کہ صرف ستر کے اعضاء کے رنگ کو ہی چھپانا واجب نہیں بلکہ اس کے ڈھانچ کو بھی اس طرح چھپانا لازمی ہے کہ اس کے اعضاء کی تحدیدنظر سے نہ ہوسکے، اسی لیے عورتوں پر لازمی ہے کہ ایک چادر یا ڈوپٹہ سر اور سینے پر ایک ساتھ لٹکائیں تاکہ سینہ کی تحدید نظر سے نہ ہوسکے۔

اسی طرح دیگر شروط بھی ہیں جیسے عورت مرد کی اور مرد عورت کی مشابہت نہ کرے۔ لہذا جب قمیض اور پینٹ کو جائز کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ عورتیں بھی پہن سکتی ہیں، انہیں اس کا استعمال قطعا جائز نہیں ہے کیوں کہ مسلمانوں میں یہ لباس صرف مسلمان مردوں کا لباس ہے، اگر چہ غیر مسلموں میں یہ مرد اور عورت دونوں کے لیے عام ہے، چونکہ مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا عرف ہی معتبر ہے لہذا یہ عورتوں کے لیے حرام ہے۔ یہاں پر کوئی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ مرد اورعورت میں کیوں تفریق کی گئی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایسی ہی تفریق ہےجیسی تفریق ہم دیگر لباسوں میں کرتے ہیں جیسے یہ کہ ہمارے برصغیری مسلمانوں میں قمیض اور شلوار جو مردوں میں معروف ہے وہ صرف مردوں کے لیے خاص ہے وہ عورتوں کے لیے جائز نہيں ہے۔

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے ایک بہترین ضابطہ بیان بیان کیا ہے انہوں نے فرمایا ہے :

” اتباع العرف في اللباس هو السنة ما لم يكن حراماً؛ لأنّا نعلم أن الرسول صلّى الله عليه وسلّم إنما لبس ما يلبسه الناس، والإنسان لو خالف ما يلبسه الناس لكانت ثيابه ثياب شهرة” (الشرح الممتع / ج 5 / ص 88)

ترجمہ : لباس میں عرف کے مطابق چلنا ہی سنت ہے اگر وہ ( عرف ) حرام نہ ہو، کیوں کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لباس پہنا جو لوگ پہنتے تھے، اور اگر انسان اس کے مخالف پہنے جسے لوگ پہنتے ہوں تو اس کا وہ لباس شہرت کا لباس بن جائے گا۔

اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا ہے :

” غیر محرم عادات کی موافقت کرنا سنت ہے، کیوں کہ عادات کی مخالفت کرنا شہرت بن جاتی ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرت کے لباس سے منع کیا ہے، اس طرح سے جو عادت ( عرف ) کے مخالف  ہووہ منہی عنہ ( ممنوع ) بن جائے گا ” (الشرح الممتع / ج 6 / ص 109)۔

اسی طرح ایک اور جگہ فرما يا : ( کفار کی ) تشبیہ وہ ہے کہ انسان وہ کرے جو ان ( کفار ) کی  ان مخصوص امور میں سے ہو جس میں ان کے ساتھ کوئی شرکت نہ کرتا ہو جیسے ایسا لباس جسے صرف کفار پہنتے ہوں۔ لہذا اگر ایسا لباس ہو جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان رائج ہو تو یہ تشبیہ نہیں ہے، لیکن اگر کوئی لباس کفار کے ساتھ مخصوص ہو، چاہے کہ وہ ان کی دینی علامت سمجھی جاتی ہو یا وہ عام ہو جسے دیکھنے والا ( سمجھ کر ) اس لباس پہننے کی وجہ سے کہے کہ یہ کافر شخص کافر ہے تو ( ایسا لباس پہننا ) حرام ہے (الشرح الممتع / ج 5  / ص 29)۔

پینٹ کے بارے میں علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہےکہ پینٹ مردوں کا لباس ہے یہ عورتوں کے لیے قطعا جائز نہیں ہے، اس میں مردوں کے ساتھ تشبیہ ہے  (ملاحظہ ہو : مجموع فتاوی ابن عثیمین / ج 12 / ص 235، 285 )
سعودی فتوی کمیٹی ( جس میں علامہ ابن باز بھی تھے ) کا فتوی پینٹ کے بارے میں یوں ہے :

” أما لبس البنطلون والبدلة وأمثالهما من اللباس فالأصل في أنواع اللباس الإباحة؛ لأنه من أمور العادات ” (مجموع فتاوی اللجنة الدائمة / ج 3 / ص 430 / فتوی نمبر 4566)

یعنی : رہی بات پینٹ، یونیفارم ( سوٹ ) اور ان جیسے لباس پہننے کی، تو لباس کی اقسام میں اصل اباحت ہے کیوں کہ یہ عادات  ( عرف ) کی چیزوں میں سے ہے۔

 اسی طرح چھوٹے آستینوں والی قمیض کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی لباس کا حصہ ہے اور لباس معاملات میں سے ہے اور معاملات میں اصل اباحت ( جواز ) ہے لہذا وہی لباس حرام یا مکروہ ہوگا جس کے حرام یا مکروہ ہونے کی دلیل موجود ہو۔ اس بارے میں علماء دین نے جواز کے فتاوی صادر کیے ہیں جیسے :

سعودی فتوی کمیٹی جس کے ممبران فتوی کے وقت یہ علماء تھے : عبد العزيز آل الشيخ، صالح الفوزان، عبد الله بن غديان، عبد الرزاق عفيفي، عبد العزيز بن عبد الله بن باز، انہوں نے چھوٹے آستینوں والی قمیض میں مردوں کے حق میں نماز کو جائز کہا ہے البتہ مکمل آستینوں کو اچھا کہا ہے (فتاوی اللجنة الدائمة / ج 5 / ص 141 / فتوی نمبر 15336)۔

حدیث ” من تشبه بقوم فهو منهم ” کا مطلب :

مذکورہ بالا وضاحت کے بعد اب یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں جس میں کفار کی تشبیہ سے منع کیا گیا ہے اس کے دو ضابطے ہیں :

1۔ ایسی تشبیہ حرام ہے  جو کسی غیر اسلامی مذہب کی مذہبی تشبیہ ہو، یعنی جو ان کی مذہبی علامت ہو۔

2۔ ایسی تشبیہ حرام ہے جو کسی غیر مسلم قوم کی قومی علامت ہو جس سے وہ قوم پہچانی جاتی ہو۔

لہذا جو چیز مسلمانوں اور کفار کے درمیان سب میں رائج ہو اسے کفار کے ساتھ تشبیہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

مسئلہ: جب کسی عبادت یا عادت میں کفار کی تشبیہ ثابت ہوجائے تو کیا حدیث” من تشبه بقوم فهو منهم ”  کی رو سے تشبیہ کرنے والا کافر ہوجائے گا یا نہیں، کیوں کہ فهو منهم کا مطلب یہی معلوم ہوتا ہے  ؟

جواب :  جب کسی عبادت یا عادت میں کفار کی تشبیہ ثابت ہوجائے تو وہ کافر نہیں ہوجائے گا بلکہ اس نے حرام کا ارتکاب کیا۔ فهو منهم  کا مطلب یہ ہے کہ صرف اس کام میں وہ انہی جیسا ہے، کافر اس لیے نہیں ہوجائے گاکیوں کہ شرعی اصول اس کے کافر بن جانے کی تائید نہیں کرتے ہیں، علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن عثیمین نے بھی یہی  فرمایا کہ وہ کافر نہیں بن جائے گا ۔

تنبیہ : یہ بات ابتداء میں بھی بتائی گئی ہے کہ تحلیل اور تحریم کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی کوہے، اور عادات( معاملا ت ) میں حرام کو حلال کرنے سے حلال کو حرام کرنا بڑا گنا ہ ہے اگرچہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں، لہذابغیر کسی شرعی دلیل کے کسی بھی کام کو حرام کہنے سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔

اخیر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں لباس کے حوالے سے ختمی مرتبت اور اسوۂ خلائق کے عمل مبارک کی ایک جھلک بھی آپ کی نظروں کے سامنے آجائے۔

لباس؛ اور احادیث وسیر کی روشنی میں عمل نبوی کا جائزہ

رسول اکرم ﷺ کی وجاہت اور رہن سہن کو بیان کرنے سے اظہار و الفاظ قاصر ہیں۔ اپنے لباس مبارک میں آپؐ شرعی حدود و قیود کے ساتھ اسی طرح کے کپڑے زیب تن فرماتے تھے، جس کا رواج اُس علاقے اور قوم میں تھا۔

آپؐ تہبند باندھتے، چادر اوڑھتے، کرتا پہنتے، عمامہ اور ٹوپی بھی زیب سر فرماتے۔ آپؐ کے کپڑے اکثر اوقات معمولی اور سادہ ہوتے اور کبھی کبھار دوسرے ملکوں اور علاقوں کے ایسے اعلیٰ کپڑے بھی پہن لیتے، جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ اسی طرح کبھی یمن کی بہت خوش نما چادریں بھی استعمال کرتے تھے، جو اس زمانے میں بہت خوش پوش لباس تصور ہوا کرتی تھیں۔ آپؐ نے اپنے زبانی ارشادات کے علاوہ اپنے عمل سے بھی امت کو یہی تعلیم دی کہ کھانے پینے کی طرح لباس کے معاملے میں بھی شریعت میں وسعت ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ہم کو ایک موٹی دہری چادر اور ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکال کے دکھایا اور ہمیں بتایا کہ ان ہی دونوں کپڑوں میں رسول اکرمؐ کا وصال ہوا تھا۔ (یعنی دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت رسول اﷲ ﷺ کے جسم اطہر پر یہی دو کپڑے تھے)
( صحیح بخاری و مسلم)

حضر ت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کو لباس میں کرتا زیادہ پسند تھا۔
(جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کو کپڑوں میں حبرہ (چادر) پہننا بہت پسند تھا۔
( صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حبرہ یمن کی بنی ہوئی ایک خاص سوتی چادر ہوتی تھی، جس میں سرخ یا سبز دھاریاں ہوتی تھیں، یہ اس وقت اوسط درجے کی اچھی چادروں میں شمار کی جاتی تھی۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک دفعہ رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اکثر دوسری روایتوں میں اسے شامی جُبہ کہا گیا ہے۔ قرین قیاس یہ ہے کہ شام اس زمانے میں چوں کہ رومی حکومت کے زیر اقتدار تھا، اس لیے وہاں کی چیزوں کو رومی بھی کہہ دیا جاتا تھا اور شامی بھی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسری قوموں کے بنائے ہوئے اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے کپڑے استعمال کیے جاسکتے ہیں اور خود حضور ﷺ نے استعمال فرمائے۔

حضرت اسماء بنت ابو بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے طیلسان کا بنا ہوا ایک کسروانی جبہ نکال کر دکھایا اس کا گریبان، دیباج (ریشم) سے بنا ہوا تھا اور دونوں چاکوں کے کناروں پر بھی دیباج لگا ہوا تھا (یعنی گریبان اور جبہ کے آگے پیچھے چاکوں پر دیباج کا حاشیہ تھا) اور حضرت اسماء ؓ نے بتایا کہ یہ رسول اﷲ ﷺ کا جبہ مبارک ہے۔ یہ (میری بہن) عائشہ صدیقہ ؓ ( ام المومنینؓ) کے پاس تھا، جب ان کا انتقال ہوگیا تو میں نے لے لیا (یعنی میراث کے حساب میں مجھے مل گیا)۔ حضورؐ اس کو زیب تن فرمایا کرتے تھے اور اب ہم اس کو مریضوں کے لیے دھوتے ہیں اور اس کے ذریعے شفاء حاصل کرتے ہیں۔ ( صحیح بخاری)

یہاں یہ بات قابل ذکر اور بعض دوسری احادیث کی تشریح میں اور علمائے کرام نے ان کی وضاحت کی ہے کہ مَردوں کے لیے ریشم کا حاشیہ دوچار انگل کا تو جائز ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ دوسری خاص بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ صحابہ کرامؓ ہی کے زمانے میں رسول اکرم ﷺ کے استعمال شدہ کپڑوں سے یہ برکت بھی حاصل کی جاتی تھی کہ انہیں پانی میں بھگو کر اس پانی کو شفایابی کے لیے مریضوں پر چھڑکا جاتا اور انہیں پلایا جاتا تھا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اﷲ عزوجل کی مقر ر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جاسکتا ہے اور یہ کہ ہر علاقے کے لوگ شرعی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے علاقے کا پسندیدہ لباس پہن سکتے ہیں۔

کیوں کہ لباس ایسی چیز ہے کہ معاشرتی ارتقا کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اسی طرح مختلف علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثرانداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس ایک ہی ہو یا کسی قوم یا علاقے کا لباس ہمیشہ ایک جیسا رہے۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خا ص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا، البتہ ایسے سنہری اصول و ضوابط اور احکامات دیے ہیں، جن کی ہر زمانے اور ہر جگہ سہولت کے ساتھ پابندی کی جاسکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close