فقہمذہب

مالی جرمانہ:  شریعت کی روشنی میں

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

انسان کی ایک فطرت خلاف ورزی (غلطی)کرنے کی ہے،جس پراسے سزابھی ملتی ہے، خلاف ورزی پرجوسزادی جاتی ہے، اس کی دوقسمیں ہیں :

          ۱-  ایک وہ، جومتعین ہو، جیسے: روزہ اور قسم توڑنے کاکفارہ۔

          ۲-  دوسراوہ، جومتعین نہ ہو، ایسی خلاف ورزی پرحکومت مصلحت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی سزا تجویز کرسکتی ہے، اسی کو فقہ کی کتابوں میں ’’ تعزیر ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، ’’ تعزیر ‘‘ ایسی سزا کو کہتے ہیں، جو ان جرائم پر روک لگانے کے لئے حکومت متعین کرتی ہے، جن کے لئے شریعت میں نہ کفارہ ہے اور نہ ہی حد۔

ألتعزیر ہو عقوبۃ غیر مقدرۃ شرعاً، تجب فی کل معصیۃ لیس فیہا حد ولا کفارۃ۔ ’’تعزیر شریعت کی طرف سے غیر متعینہ سزا ہے، جو ایسی برائیوں کے لئے ہوتی ہے، جس میں حد اور کفارہ نہ ہو ‘‘۔ (المبسوط للسرخسی : ۹؍۴۵، ط : دار احیاء التراث العربی، بیروت، القلیوبی علی شرح المنہاج : ۴؍۳۰۵، العقوبۃ، لأبی زہرہ : ۵۷، إعلام الموقعین : ۲؍۱۱۸، ط : دار الجیل، بیروت، زاد المحتاج بشرح المنہاج : ۴؍۲۶۵، ط : المکتبۃ العصریۃ، بیروت۔ )

اب ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ تعزیر کے طورپر کس طرح کی سزائیں دی جاسکتی ہیں ؟ اس سلسلہ میں اصل تو یہی ہے کہ حاکم وقت حالات کو دیکھتے ہوئے، جس طرح کی سزا مناسب سمجھے تجویز کرلے :

والتعزیر لا یختص بالسوط والید والحبس، وإنما ذلک موکول إلی إجتہاد الحاکم۔

’’تعزیر کوڑے، ہاتھ سے مارنا اور قید کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ؛ بلکہ یہ حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے ‘‘۔(تبصرۃ الحکام : ۲؍۲۰۱)

چنانچہ حاکم مار بھی سکتا ہے، کوڑے بھی لگوا سکتا ہے، قید بھی کرسکتا ہے اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ بھی سکتا ہے، یعنی جیسی مصلحت دیکھے، ویسی ہی کاروائی کرے، آج کل بہت ساری خلاف ورزیوں کی صورت میں خود حکومت کی طرف سے بھی اوردوسرے اداروں کی طرف سے بھی مالی جرمانہ کی سزاطے کی جاتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعی نقطۂ نظر سے درست ہے ؟ آئیے اس سلسلہ میں ائمہ اربعہ کے نقاط نظر معلوم کرتے چلیں۔

مالکیہ کی رائے:

مالی تعزیر کے سلسلہ میں امام مالکؒ کا اصل مذہب یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے، علامہ صاوی مالکیؒ لکھتے ہیں  :

و أما التعزیر بأخذ المال، فلا یجوز إجماعاً۔

’’تعزیر مالی کا لینا بالاجماع ناجائز ہے‘‘۔ (بلغۃ السالک : ۴؍۲۶۸، نیز دیکھئے : حاشیۃ الدسوقی : ۶؍۳۷۰، حاشیۃ الصاوی علی الشرح الصغیر : ۴؍۵۰۵)

لیکن قضاء کے موضوع پر ممتاز مالکی مصنف علامہ ابن فرحون کی کتاب ’’ تبصرۃ الحکام ‘‘ میں تعزیر کا جواز نقل کیا گیا ہے  :

والتعزیر بالمال، قال بہ المالکیۃ۔

’’مالکیہ تعزیر بالمال کے قائل ہیں ‘‘۔ (تبصرۃ الحکام : ۲؍۲۰۳  ط : دار الکتب العلمیۃ، بیروت، نیز دیکھئے، الحسبۃ : ۴۰ )

بعض لوگوں نے اسی قول کو مشہور قرار دیا ہے۔ (دیکھئے : الموسوعۃ الفقہیۃ : ۱۲؍ ۲۷۰، لفظ : تعزیر، نیز دیکھئے : فتاویٰ ابن تیمیہ : ۲۸ ؍۱۱۰ )

شوافع کی رائے:

تعزیر بالمال کے سلسلہ میں امام شافعیؒ سے دو قول منقول ہیں، ایک قول عدم جواز کا ہے اور یہ امام شافعیؒ کا قول جدید ہے، دوسرا قول جواز کا ہے اور یہ ان کا قول قدیم ہے، علامہ شبراملی لکھتے ہیں  :

لا یجوز التعزیر بأخذ المال فی مذہب الشافعی الجدید، وفی المذہب القدیم : یجوز۔ ’’امام شافعیؒ کے مسلک جدید کے مطابق تعزیر بالمال جائز نہیں ہے، جب کہ ان کا قول قدیم جواز کا ہے‘‘۔ (حاشیۃ الشبراملی علی شرح المنہاج : ۷؍۱۷۴، نیز دیکھئے : الحسبۃ : ۴۰)

حنابلہ کی رائے:

امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک تعزیر بالمال کے قطعی عدم جواز کا ہے، علامہ ابن قدامہؒ تحریر فرماتے ہیں  :

ولا یجوز قطع شیٔ منہ ولا جرحہ، ولا أخذ مالہ، لأن الشرع لم یرد بشیٔ من ذلک عن أحد یقتدی بہ، ولأن الواجب أدب، والتأدیب لایکون بالإتلاف۔ ’’تعزیر میں زخم لگانا یا کسی عضو کا کاٹنا جائز نہیں، اسی طرح مال لینا بھی جائز نہیں ہے ؛ کیوں کہ یہ کسی ثقہ شخص سے ثابت نہیں ہے اور اس لئے بھی کہ واجب تادیب اور تنبیہ ہے اور اتلاف سے تادیب ممکن نہیں ہے ‘‘۔(المغنی : ۱۲؍ ۵۲۶، نیز دیکھئے : الشرح الکبیر مع المقنع : ۲۶؍ ۴۶۰، منتہی الإرادات للفتوحی : ۵؍ ۱۴۳، الروض المربع : ۴۳۸، الإنصاف مع المقنع : ۲۶؍ ۴۶۴، المعتمد فی فقہ الإمام احمد : ۲؍۴۲۱)

تاہم دبستانِ فقہ حنبلی کے دومایۂ ناز فرد علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن قیم جوزیؒ نے پوری قوت سے اس کی مخالفت کی ہے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی ے، جن لوگوں نے امام احمدؒ اورامام مالکؒ کی طرف تعزیر مالی کے عدم جواز کو نقل کیا ہے، علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں  :

ومن قال : إن العقوبات المالیۃ منسوخۃ، وأطلق ذلک عن أصحاب مالک وأحمد، فقد غلط علی مذہبہما، ومن قال مطلقاً من أی مذہب کان، فقد قال قولاً بلا دلیل، ولم یجیٔ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شیٔ قط یقتضی أنہ حرام جمیع العقوبات المالیۃ ؛ بل أخذ الخلفاء الراشدین وأکابر أصحابہ بذلک بعد موتہ دلیل علی أن ذلک محکم غیر منسوخ۔

’’جن لوگوں نے یہ کہا کہ مالی سزائیں منسوخ ہیں اور مطلق اصحابِ مالک و احمد کی طرف اس کی نسبت کی ہے، ان لوگوں نے ان کے مذہب کی طرف غلط نسبت کی ہے اور جن لوگوں نے مطلقاً یہ بات کہہ دی کہ کسی بھی مذہب میں مالی سزا جائز نہیں ہے، ان لوگوں کی یہ بات بالکل بلا دلیل ہے ؛ کیوں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات ثابت نہیں ہے، جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہو کہ تمام مالی سزائیں حرام ہیں ؛ بلکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء راشدین اور اکابر صحابہ کا اس ( مالی تعزیر ) پر عمل رہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے‘‘۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ : ۲۸؍۱۱۱)

علامہ ابن قیمؒ نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جو لوگ تعزیر مالی کے نسخ اور عدم جواز کے قائل ہیں، دراصل ان کا مذہب کسی یقینی دلیل کی بنیاد پر نہیں ؛ بلکہ قبول اور رد کے اندازہ پر قائم ہے  :

المدعون للنسخ لیس معہم کتاب ولا سنۃ، ولا إجماع یصح دعواہم، إلا أن یقول أحدہم، مذہب أصحابنا عدم جوازہا، فمذہب أصحابہ عیار علی القبول والرد۔

’’جو لوگ نسخ کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے ساتھ نہ کتاب ہے، نہ ہی سنت اور نہ اجماع سے ہی ان کے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے، پھر بھی ان میں سے ہر ایک یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب عدم جواز کا ہے، چنانچہ ان کے اصحاب کا مذہب قبول و رد کے اندازہ پر قائم ہے‘‘۔ (جامع الفقہ لإبن القیم : ۶؍۵۰-۵۴۹، ترتیب، یسریٰ السید محمد ( ط : دارالصفاء، بیروت )

حنفیہ کی رائے:

تعزیر مالی کے سلسلہ میں احناف کا راجح مسلک عدم جواز ہی کا ہے، علامہ شامیؒ لکھتے ہیں  :

والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال۔

’’حاصل یہ ہے کہ صحیح مذہب تعزیر میں مال کا نہ لینا ہے ‘‘۔(ردالمحتار : ۶؍۱۰۶، نیز دیکھئے : البحر الرائق : ۵؍۶۸)

لیکن علامہ ابن ہمامؒ نے نقل کیا ہے کہ امام ابویوسفؒ تعزیر مالی کے جواز کے قائل تھے۔

وعن أبی یوسف : یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال۔

’’امام ابویوسفؒ سے مروی ہے کہ سلطان کے لئے تعزیراً مال کا لینا جائز اوردرست ہے‘‘۔ (فتح القدیر : ۵؍۱۱۲، نیز دیکھئے : تاتار خانیہ : ۵؍۱۴۰۰، البحر الرائق : ۵؍۶۸، بنایہ شرح ہدایہ : ۶؍۳۹۱)

لیکن امام ابویوسفؒ کے اس قول کا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ بطور زجر کے ایک مدت تک حاکم اسکے مال کو اپنے پاس رکھے گا، پھر واپس کردے گا  :

أن معنی التعزیر بأخذ المال، إمساک شیٔ من مالہ عنہ مدۃ لینزجر، ثم یعیدہ الحاکم إلیہ۔

’’تعزیراً مال لینے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے مال لے کر زجزاً کچھ دن اپنے پاس رکھے، پھر حاکم اسے لوٹا دے‘‘۔(البحر الرائق : ۵؍۶۸، نیز دیکھئے : بزازیۃ مع الہندیۃ : ۶؍۴۲۷، ردالمحتار : ۶؍۱۰۶)

صاحبِ خلاصۃ الفتاویٰ نے امام ابویوسفؒ کے قول جواز اور طرفین کے قول عدم جواز کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ اگر قاضی یا والی مناسب سمجھے تو تعزیراً مال لینا جائز ہے  :

ألتعزیر بأخذ المال، إن برأی القاضی أو الوالی جاز۔

’’تعزیراً مال کا لینا اس وقت جائز ہے، جب قاضی یا والی اس کو بہتر سمجھے ‘‘۔( تاتار خانیہ : ۵؍۱۴۰)

فقہ حنفی کے ممتاز فقیہ علی ابن خلیل طرابلسی نے امام ابویوسفؒ کے قول کو ترجیح دی ہے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے، جنھوں نے مالی سزا کو منسوخ مانا ہے:

یجوز التعزیر بأخذ المال، وہو مذہب أبی یوسف، وبہ قال : مالک، ومن قال : إن العقوبہ المالیۃ منسوخۃ، فقد غلط علی مذاہب الأئمۃ نقلاً واستدلالاً، ولیس بسہل دعوی نسخہا۔

’’مالی تعزیر کا جواز امام ابویوسفؒ کا مسلک ہے اور اسی کے قائل امام مالکؒ بھی ہیں اور جن لوگوں نے مالی سزاؤں کے نسخ کا دعویٰ کیا ہے، ان لوگوں نے مذاہب ائمہ کی طرف روایت اور استدلال کے طورپر غلط نسبت کی ہے اور ان کے نسخ کا دعویٰ آسان نہیں ہے ‘‘۔(معین الحکام : ۹۵)

مذکورہ بالا فقہی عبارتوں سے معلوم ہوا کہ:

۱-  امام ابوحنیفہؒ، امام محمدؒ، امام شافعیؒ ( قول جدید کے مطابق ) اور امام احمد بن حنبلؒ تعزیر مالی کے عدم جواز کے قائل ہیں، تاہم علامہ ابن تیمیہؒ اور علامہ ابن قیمؒ نے امام احمدؒ کے مسلک کے مطابق احادیث و آثار سے بہت ساری ایسی مثالوں کی تخریج کی ہے، جن سے تعزیر مالی کا جواز نکلتا ہے۔

۲-  امام ابویوسفؒ، امام شافعیؒ ( قول قدیم کے مطابق ) اور امام مالکؒ ( مشہور قول کے مطابق ) تعزیر مالی کے جواز کے قائل ہیں۔

اب غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ عدم جواز کے قائلین کے دلائل کیا ہیں ؟ تواس سلسلہ میں ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ شریعت سے اس قسم کا ثبوت نہیں ملتا ہے، اس کا جواب علامہ ابن تیمیہؒ نے بہت ساری مثالوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی سزاؤں کا ثبوت ملتا ہے۔ (دیکھئے : فتاویٰ ابن تیمیہؒ : ۲۸ ؍۱۱۶-۱۱۰)

ان حضرات کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر مال لینے کی اجازت دیدی جائے تو حکام من مانی کریں گے اور جس طرح چاہیں اور جتنا چاہیں گے مال وصول کریں گے، اس طرح حرام کمائی کا ایک راستہ نکل آئے گا، اس کا جواب عبد القادر عودہ نے اپنی کتاب ’’ ألتشریع الجنائی الإسلامی مقارناً بالقانون الوضعی‘‘ میں دیا ہے، وہ لکھتے ہیں  :

وفی عصرنا الحاضر حیث نظمت شئون الدولۃ وروقیت أموالہا وحیث تقرر الھیئۃ التشریعیۃ الحد الأدنی والحد الأعلی للغرامۃ، وحیث ترک توقیع العقوبات للمحاکم، لم یعد ہنا محل للخوف من مصادرۃ أموال الناس بالباطل۔

’’اور ہمارے زمانہ میں جب کہ حکومت کی تنظیم ہوچکی ہے اور مال کی نگرانی ہوتی ہے اور قانون نے جرمانہ کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم مقدار متعین کردی ہے اور جب کہ سزاؤں کا متعین کرنا کچہریوں کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے، اب باطل طریقہ سے لوگوں کے مال کھانے کا خوف اور اندیشہ بالکل بے جا ہے‘‘۔ (ألتشریع الجنائی الإسلامی : ۱؍۶۱۰)

ایک بات یہ بھی ہے کہ اب مالی جرمانہ کا گویا تعامل ہوگیا ہے، ہر جگہ کسی جرم کے بدلہ میں مالی سزا ہی دی جاتی ہے اور فقہ اسلامی کی رو سے تعامل پر عمل کرنا جائز ہوجاتا ہے۔

ایک بات یہ بھی کہ مالی جرمانہ ایک تعزیر ہے اور تعزیر کے سلسلہ میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ حالات کی مناسبت سے جو بہتر ہوسکتا ہے، وہ سزا منظور کی جائے، جس طرح زانی کی سزا کے تعلق ہے کہ حاکم اگر مناسب سمجھے تو جلاوطن کرسکتا ہے۔

اس پہلو سے بھی غور کیاجانا چاہئے کہ ہر زمانہ میں ایک ہی تعزیر ممکن نہیں ہے؛ بلکہ ہر شہر میں ممکن نہیں ہے، لہٰذا زمانہ اور شہر کے اعتبار سے بھی تعزیرمیں فرق ہوتا ہے:

قال القرافی : إن التعزیر یختلف بإختلاف الأمصار والأمصار، فرب تعزیر فی بلاد یکون إکراما فی بلد أخر کقلع الطیلسان بمصر تعزیر وفی الشام إکرام۔

’’قرافی نے کہا کہ تعزیر زمانہ اور شہر کے بدلنے سے بدلتا ہے، چنانچہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک شہر میں جس کو تعزیر سمجھا جاتا ہو، دوسرے شہر میں اسی کو عزت سمجھا جاتا ہو، جیساکہ چادر اتارنا مصر میں تعزیر شمار ہوتا ہے، جب کہ شام میں عزت تصور کیا جاتا ہے‘‘۔ (ألفروق : ۴؍۱۸۳، الفرق السادس والأربعون والمائتان)

برصغیر کے ممتاز فقیہ علامہ عبد الحیٔ لکھنویؒ کی بھی رائے یہی تھی کہ ’’ تنبیہ کے لئے جرمانہ لینا جائز ہے‘‘، (دیکھئے : مجموعۃ الفتاویٰ ( مترجم، کتاب القضا، استفتاء نمبر : ۲ ) ۳؍۵۳)، تنبیہ کے لئے مالی جرمانہ لینے کے جواز پر امارت شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ کا بھی فتویٰ ہے۔ (دیکھئے : فتاویٰ امارت شرعیہ : ۱؍۲۵۷، ۲۹۰)

مولانا ظفر احمد عثمانی (اعلاء السنن : ۱۱؍۶۸۸)، مولانا مجیب اﷲ ندویؒ( اسلامی فقہ : ۳؍ ۲۸۱) اور استاذ گرامی قدر حضرت مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی حفظہ اﷲ ورعاہ بھی تعزیر مالی کے جواز کے قائل ہیں، استاذ محترم تحریر فرماتے ہیں  :

’’اس وقت اسلام کے قانونی حدود و تعزیرات کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل، جو سماجی طورپر حل کئے جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی وحدتیں بعض منکرات کا مقابلہ کررہی ہیں، ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ مالی جرمانوں کے ذریعہ وہ ان جرائم کی روک تھام کی سعی کریں، یوں بھی عملاً اس زمانہ میں مالی تعزیر کی بڑی کثرت ہوگئی ہے اور ریلوے، ٹریفک، بس وغیرہ میں کثرت سے اس کا تعامل ہے ؛ اس لئے راقم الحروف کا رجحان ہے کہ اس کی اجازت ہونی چاہئے‘‘۔ (قاموس الفقہ : ۲؍۴۷۹، لفظ : تعزیر، نیز تفصیل کے لئے : جدید فقہی مسائل : ۳؍ ۲۴۹-۲۴۴)

بہر حال ! موجودہ حالات میں تعزیر مالی کے جواز میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے، اس لئے اسے جائز ہونا چاہئے۔ہذاماعندی، واللہ اعلم بالصواب!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close