فقہمذہب

مساجد کی فضیلت: ان کی منتقلی کا مسئلہ اور قابل غور پہلو

محمد صابر حسین ندوی

 اسلامی نقطہ نظر سے اللہ تعالی کی عبادت کیلئے کوئی خاص جگہ متعین نہیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ یہ امت زمین کے کسی بھی حصہ پرنماز ادا کرسکتی ہے، آپؐ کا ارشاد گرامی ہے’’جعلت لی الارض مسجدا طھوراً‘‘(زمین میرے لئے سجدہ کی جگہ اور طھور قرار دی گئی ہے، بخاری: ۴۲۷، د یکھئے:میزان الحکمۃ:۱۲؍۵۴)، لہذا ہجرت سے پہلے نماز پڑھنے کیلئے مسلمانوں کی کوئی خاص جگہ نہیں تھی اور جہاں بھی ممکن ہوتا، نماز پڑھ لیتے تھے، چنانچہ مسجد قبا پہلی مسجد تھی جو اسلام میں بنائی گئی۔ جب رسول اللہ ؐ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ایک ہفتہ قبا میں رہے اور اس عرصہ میں لوگوں کی پیش کش سے آں حضرت ؐ نے اس علاقہ میں ایک مسجد بنائی جس کا خود قرآن مجید نے ذکر کیا ہے(التوبہ:۱۰۸)، بعض کا کہنا ہے کہ یہ مسجد عمار یاسر کی پیش کش سے بنائی گئی تھی(آثار اسلامی مکہ ومدینہ :۲۰۱)۔ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، اسلام میں اس کی قدرو قیمت اوراہمیت بہت زیادہ ہے، ایک مسلمان کیلئے عبادت کرنا اگر ضروری ہے تو بلا شبہ اسے مسجد ہی میں انجام دینا زیادہ افضلیت کا باعث ہے’’من سمع النداء فلم یأتہ فلاصلاۃ لہ الامن عذر‘‘(ابن ماجہ :۸۴۲)یہ صرف ایک عمارت اورچونا وگارے اور خوبصورت قالین کانام نہیں بلکہ اس سے مسلمانوں کے سیاسی، معاشرتی اور عدالتی نظم ونسق منسلک ہیں ، اور اسی سے ان کی شیرازہ بندی اور جمعیت کا تعلق ہے، اوریہ باہمی طبقہ واریت، نخوت و جاہلیت کا علاج اور محبت ورواداری کی غماز بھی ہے۔

 قرآن کریم میں لفظ مسجد مفرد یا جمع کی صورت میں ۲۸ بار مذکورہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ثقافت اور روایات میں مسجد کا خاص احترام ہے ؛یہاں تک کہ مسجدوں کو قائم کرنے والوں کے مؤمن ہونے کی گواہی دی ہے’’انما یعمر مساجد اللہ من آمن باللہ والیوم لآخر واقام الصلاۃ وآتی الزکاۃ ولم یخش الا اللہ فعسی  اولئک أن یکونوا من المھتدین(التوبۃ:۱۸)، اور قرآ ن نے ایسے شخص کو ظالم (مشرک) قرار دیا جو لوگوں کو مسجدوں میں ذکر کرنے سے روکے اور ایسوں کیلئے آخرت میں شدید عذاب کا مژدہ سنایا گیا’’ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام الذی جعلناہ للناس سواء العاکف فیہ والباد ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم‘‘(حج:۲۵)، حضور اکرم ؐ نے مسجدوں کے متعلق فرمایاکہ اللہ کوتمام جگہوں میں مسجدیں سب سے زیادہ محبوب ہیں ’’أحب البلاد الی اللہ مساجدھا‘‘(مسلم:۱۵۶۰)، ایک روایت میں ہے جو شخص مسجد بنائے اور اس کا مقصود اللہ کی رضامندی ہو، اللہ اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے’’من بنی مسجدا یبتغی بہ وجہ اللہ بنی اللہ لہ مثلہ فی الجنۃ‘‘(بخاری:۴۵۰)، آپؐ نے یہاں تک فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو مسجد کی خبر گیری کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ’’اذا رأیتم الرجل یتعاہد المسجد فاشھدوا لہ الایمان‘‘(ترمذی:۲۸۲۶)۔

   جب سے اسلام میں مسجدوں کی بنیاد رکھی گئی، تب سے مسجد میں آنے جانے والوں کیلئے اور خود مسجد کیلئے بھی کچھ احکام اور آداب قرآن واحادیث میں بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ مسجدوں میں سوائے اللہ کے کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ’’وأن المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا‘‘(جن:۱۸) اور اسی طرح مسجد کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا لازم قرار دیاگیا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے زمین چھپا دینا ہے’’البزاق فی المسجد خطیئۃ وکفارتھا دفنھا ‘‘(بخاری:۴۱۶)، ایک روایت میں آپؐ کا یہ فرمان ہے کہ مسجدیں بناؤ اور انہیں پاک وصاف رکھو اور خوشبو لگاؤ’’امر رسول اللہ ؐ ببناء المساجد فی الدور وأن تنظف وتطیب‘‘(ابوداؤد:۴۵۵)۔ اس کے علاوہ اور بھی ایسے بہت سے مسائل ہیں جن کا خیال رکھنا ہر نمازی کیلئے ضروری ہے، مثلاً مسجد میں جنابت کی حالت میں داخل نہ ہوں ، عمدہ کپڑے زیب تن ہوں وغیرہ لیکن ان تمام مسئلوں میں ایک مسئلہ جس نے فی الوقت بہت سنگینی اختیار کرلی ہے وہ ہے مسجد کی منتقلی کا مسئلہ یعنی کیا کن ہی وجوہ کی بنا پر مسجد مسمار کی جاسکتی ہے یا مسمارشدہ کو دوسری جگہ پر منتقل کیا جاسکتا ہے؟

مسجد یا اس کے متعلق ضروری احکام کا تذکرہ عموماً فقہ اسلامی میں ’’وقف‘‘ کے تحت کیاجاتا ہے، دراصل وقف کے لغوی معنی روکنے کے ہیں (القاموس المحیط:۱۱۱۲)، چونکہ وقف کے احکام کی بابت اختلاف ہے اسی لئے فقہاء کے یہاں اس کی تعریف میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، امام ابوحنیفہ ؒ کا ماننا ہے ’’ھو حبس العین علی حکم ملک الواقف والتصدق بالمنفعۃ ولو فی الجملۃ ‘‘یعنی اصل شئی کو واقف کی ملکیت کے حکم میں روکے رکھنا اور اس کے نفع کو فی الجملہ سہی صدقہ کرنا، لیکن اس تعریف سے مسجد کا حکم خارج ہے(در مختار علی ھامش الرد:۳؍۳۵۷)، صاحبین اور شوافع وحنابلہ کا ماننا یہ ہے کہ’’ھو حبسھا علی حکم ملک اللہ تعالی وصرف منفعتھا علی من احب ولو غنیاً‘‘ یعنی اصل شئی کو اللہ کی ملکیت کے حکم پر روکے رکھنا اور جس پر وہ چاہے گویا مالدار ہو اس پر اس کا نفع خرچ کرنا(درمختار:۳؍۲۵۸، الفقہ الاسلامی وادلتہ:۸؍۱۵۴)، فقہائے مالکیہ کے یہاں وقف کا دائرہ وسیع ہے، اصل مال کے علاہ محض نفع بھی وقف کیا جاسکتاہے، اس لئے مالکیہ نے وقف کی تعریف اس طرح کی ہے’’ھو جعل منفعۃ مملوک ولو باجرۃ او غلتہ لمستحق بصیغۃ مدۃ مایراہ اللمحبس(الشرح الصغیر:۴؍۹۸)۔

وقف کا رکن وقف پر دلالت کرنے والے الفاظ کا ادا کرنا یا اس عمل کا ہوجانا کا فی ہے (تفصیل دیکھئے:البحر الرائق:۵؍۳۱۷، ۳۱۹ نیز:الدرالمختار:۳؍۳۵۹)، اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ مسجد شرعی ہونے کیلئے اس میں نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ صرف کہہ دینا بھی کافی ہے(فتح القدیر:۵؍۴۴۳)، امام ابوحنیفہ اور محمد کا ماننا ہے کہ مسجد کو اس مقصد کیلئے سپرد کردینا ضروری ہے، جیسا کہ دوسرے اوقاف میں ہوتا ہے(ہندیہ:۲؍۴۵۵)، تاہم متاخرین فقہاء کا رجحان یہ ہے کہ متولی یا قاضی کو زمین حوالہ کردینا بھی وقف کے مکمل ہونے اور اس جگہ کے مسجد بننے کیلئے کا فی ہے ’’لان بالتسلیم الی المتولی ایضآ یحصل تمام التسلیم الیہ تعالی، لرفع یدہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ والصحیح انہ یصیر مسجداً‘‘(البحرالرائق:۵؍۲۴۸)، اب ایک بار وقف ہونے اور اس کے مسجد مان لینے کے بعد قاعدہ یہ ہے کہ وہ نیچے تحت الثری تک اور اوپر آسمان تک مسجد ہے، ’’لأنہ مسجد الی عنان السماء [وفی حاشیۃ]وکذا الی تحت الثری کما فی البیری عن الاسبیجابی ‘‘(ردالمحتار علی الدرالمختار۲؍۴۲۸)، خواہ عمارت ہو یا نہ ہو یا عمارت منہدم ہوگئی ہو اور اب اس کی حیثیت بنجر زمین کی ہو، علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں :’’ولو کان لہ ساحۃ لا بناء فیھا فامر قومہ ان یصلوا فیھا بجماعۃ قالوا ان امرھم بالصلاۃ فیھا ابدا او امرھم بالصلاۃ فیھا بالجماعۃ ولم یذکر ابدا الا انہ اراد بھا الابد ثم مات لایکون میراثاً‘‘(البحرالرائق:۵؍۲۴۸)۔

  لیکن سوال یہ ہے اگر کسی علاقہ سے مسلمانوں کی آبادی ختم ہوجائے یا فرقہ واریت کی بنا پر وہ مسجد منہدم کردی جائے یا اس مسجد کی تعمیر میں انسانی جان ومال کا نقصان ہو یا وہ جگہ اپنے ساتھ سینکڑوں انسانوں کی جانوں کی دشمن ہوگئی ہو تو کیا ایسی صورت میں وہ مسجد منتقل کی جاسکتی ہے؟وقف کے سلسلے میں شرعی مزاج ومذاق سے ظاہر ہے کہ وقف میں دو باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں :اول یہ کہ جہاں تک ممکن ہو وقف کو نافع بنایا جائے، دوسرے یہ کہ وقف کی آمدنی کے استعمال میں حتی المقدور واقف کے منشا و مقصود کی رعایت ملحوظ رکھی جائے، (قاموس الفقہ:۵؍۳۰۶’’وقف‘‘)یہی وجہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں منتقلی مسجد کے حکم میں فقہاء کرام کی آراء مختلف ہیں ، شیخ منصور ابن ادریس کا ماننا یہ ہے کہ اگر مسجد تنگ ہو اور اسے وسیع کرنا ممکن نہ ہو یا اس کے ویران ہونے کی وجہ سے اس  سے انتفاع ممکن نہ ہوتو ان کے نزدیک اسے بیچ دینا اور اسی کے مثل میں ان پیسوں کو لگا دینا درست ہے’’ولوکان مسجدا ضاق علی اھلہ وتعذر توسیعہ فی محلہ، أو تعذر الانتفاع بہ لخراب الناحیۃ التی بھا المسجد أو کان موضعہ قذراً فیصح بیعہ ویصرف ثمنہ فی مثلہ للنھی عن اضاعۃ المال‘‘(الدین الخالص أو ارشاد الخلق للسبکی۔ ۔ ۲۵۲، دیکھئے:کشاف القناع:۲؍۴۰۷)۔

ابن رجب نے امام احمد بن حنبل کا مسلک یہ نقل کیا ہے کہ وہ مسجد بیچ دی جائے گی اور اس کی قیمت سے کسی دوسرے گاؤں میں مسجد آباد کی جائے گی ’’قال ابن رجب :ویجوز فی أظھر الروایتین عن احمد أن یباع ذلک المسجد ویعمر بثمنہ مسجد آخر فی قریۃ اخری اذا لم یحتج الیہ فی القریۃ الأولی‘‘(الدین الخالص أو ارشاد الخلق۔ ۔ ۲۵۲۔ دیکھئے:کشاف القناع:۲؍۴۷۰’’والوقف عقد لازم‘‘)، برہان الدین الطرابلسی کا کہنا ہے کہ مسجد اور اس کے ارد گرد کی آبادی ختم ہوجائے اور لوگ وہاں سے دور چلے جائیں تو وہ مسجد واقف کی ملکیت میں نہیں لوٹے گی امام ابویوسف کے نزدیک، چنانچہ قاضی کی اجازت سے اس کے مسمار حصہ کو بیچ دیا جائے گا اور اس کی قیمت کسی اور مسجد میں صرف کردی جائے گی ؛جب کہ امام محمد کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں وقف شدہ اس کے وارثین کو لوٹا دیا جائے’’وقال برھان الدین الطرابلسی :ولوخرب المسجد وما حولہ وتفرق الناس عنہ لایعود الی ملک الواقف عند ابی یوسف فیباع نقجہ باذن القاضی ویصرف ثمنہ الی بعض المساجد۔ ویعود الی ملکہ أو الی ورثتہ عند محمد‘‘(لاسعاف فی أحکام:۷۳، ’’بناء المسجد والربط۔ ۔ )۔

 علامہ ابن الھمام نے لکھا ہے کہ :ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اگر مسجد اور اس کے ارد گرد تخریب ہوجائے اور نمازی اس سے غافل ہوں تب بھی مسجد ویسی ہی باقی رہے گی ؛جب کہ امام احمد بن حنبل اسے بیچنے اور دوسری مسجد میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں ؛جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعریؓ کو اپنے ایک خط میں حکم دیا تھا’’ولوخرب ماحول المسجد واستغنی عن الصلاۃ فیہ یبقی مسجداً علی حالہ عند ابی یوسف وھو قول ابی حنیفۃ ومالک والشافعی وعن أحمد یباع نقضہ ویصرف الی مسجد آخر لما روی أن عمر کتب الی موسی لما نقب بیت المال بالکوفۃ :انقل المسجد الذی بالتمارین واجعل بیت المال فی قبلۃ المسجد ‘‘(دیکھئے:فتح القدیر۔ ۵؍۶۴، ۶۵، ’’احکام المسجد، الوقف‘‘)۔ نھایۃ المحتاج :۵؍۳۹۵ میں بھی ہے کہ اگر حالات ناموافق ہوجائیں توحاکم کی رائے پر مسجد کی منتقلی کی اجازت دی گئی ہے’’ولوانھدم مسجدا وتعذرت اعادتہ لم یبع بحال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نعم لو خیف علی نقضہ نقض وھفظ لیعمر بہ مسجد اآخر ان رآہ الحاکم‘‘اسی طرح حاشیہ القلیوبی :۳؍۲۲۵۶ میں موجود ہے ’’ولوانھدم مسجد ای وتعذرت الصلاۃ فیہ لخراب ماحولہ مثلاً قولہ وتعذرت اعادتہ ای بنقضہ ثم ان رجی عودہ حفظ نقضہ وجوبا ولوبنقلہ الی محل آخر ان خیف علیہ لو بقی وللحاکم ھدمہ ونقل نقضہ الی محل امین ان خیف علی اخذہ ولولم یھدم فان لم یرجی عودہ بنی بہ مسجد اخری‘‘۔ اسی طرح کی عبارت ’’العباب للزبیدی :۲؍۴۴۳‘‘ میں بھی موجود ہے اور صراحت کے ساتھ ہے کہ ’’ولا ینقض الاان خیف علی آلتہ من المفسدین‘‘۔ نیز ’’اسنی المطالب شروح روضۃ الطالب :۴؍۲۰۸‘‘ میں اور ’’بغیۃ المسترشدین، احکام المساجد:۸۵‘‘ بھی یہ جزیہ موجود ہے اور صراحت کے ساتھ ہے کہ’’انھدم المسجد ولہ وقف، فان توقع عودہ حفظ ربعہ، والا جاز صرفہ‘‘۔

ان تو ضیحات کے بعد مسئلہ واضح ہے، مزید خامہ فرسائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، تاہم اس سلسلہ میں ایک بڑا اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ کیا مسجد اقصی کے ساتھ یہ سلوک کیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ اس کی صورت حال بھی زاروقطار ہوچکی ہے، اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ تعلیمات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تین مسجدوں کو سب بزرگ اور محترم قرار دیا ہے اور اس کے تعلق سے بہت سی روایتیں ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کے عروج وزوال، آثار قیامت اور عقیدہ سے بھی ہے، حضور اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا :’’لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد المسجد الحرام ومسجدی ھذا والمسجد الاقصی ‘‘(بخاری:۱۱۸۹، دیکھئے:فتح الباری:۳؍۶۵)یعنی تین مساجد کی زیارت کے علاوہ کسی بھی مقام کی زیارت کیلئے باقاعدہ اہتمام کرکے نہ جایا جائے، مسجد حرام اور مسجد نبوی اور مسجد اقصی، ایسے میں مسجد اقصی کو دیگر مساجد پر قیاس کرنا لغو بات معلوم ہوتی ہے، کیونکہ عقیدہ سے کوئی مصالحت ممکن ہے ہی نہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس کے منہدم کرنے یا دست بردار ہونے یا تنہا چھوڑدینے کے متعلق بحث نہیں کی کیونکہ مسلمات سے کوئی بحث نہیں ہوتی۔

 ان بحثوں سے یہ قطعی اندازہ کرنا مناسب نہیں کہ اسلام مساجد کی منتقلی کے سلسلہ میں لوچ ولچکدار پہلو رکھتا ہے اور وہ اس سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ، ایسا قطعا  نہیں ہے ؛بلکہ اس صورت کو سمجھنے کیلئے یہ بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے مذکورہ تمام باتیں ان عہدوں سے تعلق رکھتی ہیں جہاں اسلامی اقدار وشعار کو اتنا خطرہ نہ تھا جتنا کہ اب ہے، یا سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کی بے بضاعتی اس قدر نہ تھی جتنی کہ اب ہے، ایسے میں یہ بھی جاننا ضروری ہے احکام فقیہ ظنیہ میں تین چیزوں کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ قابل قبول ہوتی ہیں ، نیز انہی قواعد پر یہ سمجھنے کی کوشش ہونی چاہئے کہ صورت مسئلہ کس بات کی متقاضی ہے۔

۱۔ اخلاقی تبدیلی وانحطاط:

جیسے عہد رسالت اور قرون صحابہ سے دوری پر اخلاق بگڑتے گئے چنانچہ پرانے زمانے میں اگر امین سے غیر ارادی طور پر امانت ضائع ہوجائے تو ضمان نہیں لیا جاتا تھا لیکن حضرت عمرؒ نے تجارت، پیشے والوں کو دی گئی رقم پر ضمانت لگوادیا تھا، حضرت علی نے تائید کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’لا یصلح الناس الا بذلک‘‘(ابوزھرۃ:تاریخ المذاھب الفقھیۃ۲؍۱۸)۔ ٭ حلالہ ایک جائز امر تھا لیکن حضرت عمر نے اس پر سرزنش کی، اسی لئے علامہ ابن قیم نے لکھا: کہ ایسوں کو رجم بھی کیا جاسکتا ہے(اعلام الموقعین :۲؍۲۸)۔ ٭ اورکہ شہادت کا معاملہ ہے، پہلے اس میں عدل، تقوی، ثقہ وغیرہ کی قید تھی لیکن بعد میں بالخصوص امام ابویوسف ؒ نے ان پابندیوں کو ہٹا دیا تھا کیونکہ لوگوں کے اخلاق بدل گئے تھے(مجمع الأنھر:۲؍۱۴۳)۔

۲۔ سیاسی حالات بدلنے کی وجہ سے:

اس سلسلے میں اسلام کے تشریعی مقاصد، اصول اور بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتہاد کی ضرورت ہے مثلاً:امام ابوحنیفہ یا ابویوسف اور محمد کے یہاں کسی بھی ایسی طاعت پر اجرت درست نہیں جس کا تعلق خالصۃ مسلمانوں کے فرائض سے ہو ’’لا یجوز استئجار واخذ الاذان والاقامۃ وتعلیم القرآن والحج والفقہ‘‘(ہدایہ:۳؍۳۸۷)کیونکہ حضورؐ نے فرمایا :جو قرآن اس نیت سے پڑھے گا کہ اس کے ذریعہ لوگوں سے کھائے گا تو وہ قیامت کے دن اس حال میں ہوگا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا (بیھقی:۱؍۱۹۴)، نیز عثمان بن ابی العاص کو وصیت فرمائی تھی کہ مؤذن بنو تو اجرت ہر گز نہ لینا(شامی: شرح رسم المفتی:۳۸)۔ لیکن بعد میں مرغینانی اور شامی نے فتوی دیا کہ ’’ان ابا حنیفۃ واصحابۃ لو کانوا فی عصرھم لقالوا بذلک ورجعوا الاول۔ ۔ ۔ لولم یصح الاستئجار واخز الاجرۃ لضاع القرآن وفیہ ضیاع الدین‘‘(ہدایہ:۳؍۳۳۸، شامی: شرح رسم المفتی:۳۸)۔

٭ اسی طرح نفقہ نہ ملنے پر عورت قرض لے گی اور خرچ چلائے گی کیونکہ ’’العجز عن الانفاق لا یوجب الفراق‘‘کیونکہ ایسا بیت المال سے ممکن تھا بعد میں مالکیہ کی رائے اختیار کرتے ہوئے فراق کا حکم دیا گیا(عبدالصمد رحمانی نے دیا تھا۔ دیکھئے:کتاب الفسخ والتفریق :۵۸، مجمع الانھر:۱؍۴۹۸)۔ ٭ قاضی کا مقرر کرنا امیرالمؤمنین کا حق ہے بعد میں لوگوں نے خود کرلیا تو قبول کیا گیا’’ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین‘‘(طحطاوی:۱؍۳۳۹، البحرالرائق:۲؍۲۹۸)

 ۳۔ عرف وعادت کی وجہ سے :

احکام شرعیہ کا بڑا حصہ جو منصوص نہیں ہے اپنے زمانے کے عرف وعادت پر مبنی ہے، مسلمانوں کا عام تعامل اور طرز عمل فقہ اسلامی کا ایک مستقل ماخذ ہے، علامہ قرافی لکھتے ہین:’’ان کل ما ھوفی الشریعۃ العوائد بتغیر الحکم فیہ عند تغیر العادۃ الی ما تقتضیہ العادۃ المتجددہ‘‘(الاحکام فی تمیز الفتاوی من الاحکام:۶۸)٭ امام ابوحنیفہ صنعت و حرفت میں بھی کفائت مانتے تھے لیکن ابویوسف نہیں مانتے تھے کیونکہ کاسانیؒ کے مطابق صنعت کی تفریق ختم ہو گئی تھی۔ (بدائع الصنائع:۲؍۳۲۰)، ٭  ریشمی کیڑوں کو اور شہد کی مکھیوں کو فروخت کرنے سے ابوحنیفہ منع کرتے تھے محمد نہیں (ہدایہ:۳؍۳۸)۔ ٭ بیوی اگر دعوی کرے کہ شوہر نے مہر نہیں دیا لیکن شوہر کہے کہ دیدیا تو اصولا شوہر کو ثبوت پیش کرنا چاہئے مگر متاخرین فقہا کے زمانے میں عورت مرد کے حوالے جب تک نہیں ہوتی تھی جب تک کہ مہر نہ دیدے اس لئے اس کا دعوی نہیں مانا جاتا؛ لیکن آج کل ایسا نہیں ہے۔ (ردالمحتار:۳؍۳۶۳، دیکھئے:جدید فقہی مسائل:۱؍۴۰ تا ۵۱)

اس بحث کے بعد قابل غور امر یہ ہیکہ کیا ہمارے اخلاقی انحطاط اور سیاسی حالات کی ابتری کیفیت میں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ مساجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیا جائے؟یا پھر زعفرانیت اور اکثریت کی بد دیانتی وبے غیرتی اور آئے دن پیش آمدہ نت نئے مسائل اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ مسجد کی اراضی سے دست برادر ہوا جائے ؟یقینا محبت رواداری اور امن وسلامتی کی فضا قائم کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری اور اس کے پیش نظر اسلامی تعارف کا زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ؛ایک خوش آئین فکر و خیال ہے لیکن کیا اس سلسلہ میں معتمد جماعتوں اور شخصیتوں پر چھینٹا کشی کرنا اورپھر جمہور علماء سے کنارہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کی اجتماعیت اور شیرازہ بندی میں رخنہ ڈالنا مناسب ہے؟وہ بھی ایسے افراد پر اعتماد کرتے ہوئے جو خود اپنی حیثیت گنو اچکے ہوں اور ان لوگوں کی خاطر جنہوں نے مسلمانوں کو جمشید پور، راول کیلا، دربھنگا، گجرات، مظفر نگرکے نام پر نہ جانے کتنے زخم دئے ہوں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ مسلمان ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا’’لایلدغ المؤمن من جحر مرتین‘‘ (بخاری:۵۷۸۲)، لیکن یہاں تو پورا کا پورا جسم چھلنی اور لہولہان ہے اس پر بھی مستزاد یہ کہ ان کے قدموں میں گردنوں کو تھالیوں میں سجا کر پیش کردینے کی بات ہو!۔

 اس کے متعلق صلح حدیبیہ کی نظیر اور اس کی بشارت ’’انافتحنا لک فتحا مبینا‘‘(فتح:۱)سے محل استشہاد تلاش کرنا یقینا دیدہ زیب اور سبزباغ ہیں ، اور اسی معاہدے کہ تحت ہندوستان میں زندگی بسر کررہے ہیں لیکن کیا کوئی بتا ئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدے کا پاس نہ کرنے والوں کو کتنی دفعہ معاف کیا ؟، سیرت کا مطالعہ کرنے والے واقف ہونگے کہ صرف ایک ہی دفعہ جب معاہدے کی بیخ کنی کی گئی تو آپؐ نے اہل مکہ پر فوج کشی کردی تھی حالانکہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کیلئے ابوسفیان نے متعدد کوششیں کیں لیکن آپؐ نے ایک نہ سنی اور اسی کے پاداش میں فتح مکہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، (دیکھئے:سیرت ابن ھشام)کیا ہم نہیں جانتے کہ مسلمانوں نے معاہدے کے نام پر کتنے زخم کھائے اور اکثریت نے کتنے زخم دئے لیکن کیا کسی نے اف بھی کی ؟سوچنے کا مقام ہے کہ کیا کہیں ہم پھر ایک اور زخم کیلئے تیار ہورہے ہیں ؟۔

 اسلام کا انسانی اعمال وکردار کے تئیں نظریہ یہ ہے کہ وہ درست نیت کے ساتھ عمل کرے، جہد وجہاد اور انتھک کوشش کرے، خدا تعالی نے اسی کا مکلف کیا ہے، اسے اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ نتائج کیا ہوتے ہیں ۔ کیونکہ نتائج کا ذمہ دار خدا تعالی کی ذات اقدس ہے، ایسے میں کیا یہ مناسب ہوگا کہ کوشش کئے بغیر میدان عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلی جائے اور کنارے بیٹھ کر موجوں کا نظارہ کیا جائے؟اگر یہ اندیشہ ہو کہ مسجد اور مندر کے فیصلہ میں خواہ مسلمانوں کو فتح میسر آئے تب بھی قتل وغارت گری کا بازر گرم ہوگا تو کیا اس کی ضمانت ہے کہ شکست کے بعد امن وآشتی کا دوردورا ہو، لیکن اگر فتح کے بعدمسجد کے وجود کو تحت الثری تا ثریا کی حقیقت فضیلت تک محدود کردی جائے اورمذکورہ فقہی نقاط سے استفادہ کیا جائے تو شاید اس کا اثر کہیں زیادہ بہتر ہو گا اور شاید بزدلی کا داغ اس امت کے ماتھے پر چسپا نہ کیا جائے کیونکہ حدیث میں بھی ہے؛ دشمن پر قابو پانے بعد ہی صبر، بہادری اور عفو و درگزری کا امتحان ہے ’’ولیعلم أن العفو لایکون الابعد القدرۃ، فاما من أسئی  الیہ وأوذی وھو غیر قادر علی اخذ حقہ فعفا عنہ فھزا لا یسمی عفوا، انما یسمی عجزاً لأنہ بغیر ارادتہ کما قل الشیخ العلامۃ بن باز رحمہ اللہ عند ما سئل عن ذلک، ویقول ایضاً علیہ الصلاۃ والسلام :من کظم غیظا وھو قادر علی أن ینفذہ دعا ہ اللہ علی رؤ س الخلائق حتی یخیرہ أی الحور شاء(ابوداؤد:۴۷۷۷، وابن ماجہ:۴۱۸۶، دیکھئے: تطبیق الکلم الطیب )، اگر اس سلسلہ میں حال کو مآل پر ترجیح دینے کی بات کہی جائے تو یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اس قاعدے سے بڑھ کر فقہ مالکی کا قاعدہ’’سدا للذریعہ‘‘ ہے جو ایک مستقل دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، اگر اس سے استفادہ کیا جائے تو کیا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر ہم نے ایک مسجد کی منتقلی کی اجازت دے دی تو سینکڑوں مسجدیں زد میں آجائینگی ؟اگر یہ بھی کہا گیا کہ ہم ہندتو کی تمام تحریکوں یا عدالت عظمی سے بقیہ مساجد کی حفاظت کیلئے تحریری طور پر دستاویز حاصل کرلیں تو کیا ان سے وفائے عہد کا تیقن کیا جاسکتا ہے؟کیا ماضی نے ہمیں اس کا جواب نہیں دیا ؟۔

 تو وہیں رہ رہ کر ذہن میں یہ بات بھی گردش کرتی ہے کہ مسلمانوں کا اپنے حق سے دست بردار ہوجانا فی الوقت اور مستقبل کی سیاست کیلئے مبارک قدم قرار پائے گا اور زعفرانیت کے جن پر قابو پانے اور ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور جمہوریت کی حفاظت کی جاسکتی ہے !، ایسے میں کیا یہ بہتر نہ ہوکہ ہم سیاسی محاذآرائی کریں ، مسلمانوں اور اقلیتی طبقوں اور صلح پسند انسانیت کو صاف وشفاف سیاست کی دعوت دیں ، اور ایک ایسا خول تیار کریں جس سے نہ صرف انسانیت بلکہ ملک کی حفاظت ممکن ہوسکے اور اس سے بڑھ کر ملک عزیز ترقی وتعمیر نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہو، جس میں کسی طبقہ کو کسی حق سے نہ محروم ہونا پڑے اور نا ہی کسی مصلحت کے تحت دم گرفتہ ہوکر زندگی گزارنی پڑے، شاید اہل حل وعقد اس پہلو پر زور دیں تو یقینا اس ملک کی ایک نئی صبح ہو گی اور نیاو تابناک مستقبل ہوگا۔

 خیال رہے کہ اس تحریر سے نہ کسی جماعت یا شخصیت کی حمایت مطلوب ہے اور ناہی کسی کی مخالفت وسرزنش، راقم اپنے اساتذہ واکابرین کی گرد پا کو بھی نہیں پہونچتا، تاہم ان ہی کی دعاوں اور فیض سے مستفید ہوکر چند سطریں ازراہے سبق سناے اور اپنی فکر وخیال کی تصحیح کی غرض سے سپرد قلم کررہا ہے، خدارا! اسے کسی غیر متوقع پہلو اور خطرات کا رخ نہ دیا جائے۔ (ھذاماعندی واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم وھوالموفق لما تحب وترضی)

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close