فقہمذہب

مغرب کی اذان واقامت میں وقفہ؟

مفتی شکیل منصور القاسمی

مسلمانوں کی تعداد شروع میں کم ہونیکی وجہ سے مکی دور اور ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے میں نماز کے لئے جمع ہونا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا اور اس لئے اس وقت بغیر اذان کے ہی نماز ہوتی تھی۔

ہجرت مدینہ کے بعد مسلمان روز افزوں ہوتے گئے تو نماز کے لئے جمع کرنے کی کسی خاص شکل کے بارے میں غور وخوض شروع ہوا۔ مختلف تجاویز آئیں ۔ حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی تجاویز کی دربار رسالت سے تائید ہوئی کیونکہ ان دونوں کو خواب میں اذان کا طریقہ فرشتہ نے بتایا تھا۔ اسی طریقہ کے مطابق حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ اور پہر یہیں سے اسلام میں اذان کا سلسلہ شروع ہوا۔

اذان کے لغوی معنی پکارنے اور آگاہ کرنے کے ہیں ۔ شرعی لحاظ سے مخصوص کلمات کے ذریعہ فرض نمازوں سے قبل بلند آواز میں وقت کی اطلاع دینے کو "اذان ” کہتے ہیں ۔ (پر افسوس ہے کہ ہندوپاک میں بعض اذانوں کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے متعین کردیا گیا ہے۔ )

فرض نمازوں کے لئے اذان سنت موکدہ ہے۔ اذان میں توحید باری کا اعلان، رسالت محمدیہ کی شہادت، اس پر ایمان واقرار، اللہ کی کبریائی، حاکمیت، بزرگی، اور سربلندی کا پیغام مسلسل ہے۔ اس کے ذریعہ عبادت الہی اور نماز کے لئے لوگوں کو بلاناہوتا ہے۔

اکیلا نماز پڑھنے والے اور گھر کی خاتون کے لئے بہتر یہ ہے کہ عشاء اورسخت گرمی کے موسم میں ظہر کے علاوہ باقی نمازیں اذان کے بعد سنت موکدہ پڑھ کے  جلدی پڑھ لے۔

 1۔ ۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي۔ (صحيح البخاري504 بَاب فَضْلِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا)

2۔ ۔ ۔ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَنَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ [ص: 199] الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ (صحيح البخاري510.)

 3۔ ۔ ۔ ۔ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ [ص: 311] عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ [ص: 312] قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا تَأْخِيرَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ( سنن الترمذي. 167.، بَاب مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ)

لیکن مسجد جماعت میں باتفاق ائمہ مجتہدین اذان واقامت کے درمیان اتنا فاصلہ دینا مستحب ہے کہ اذان سننے والے لوگ وضو، طہات، اور اپنی دیگر ضروریات سے فارغ ہوکر شریک جماعت ہو سکیں ۔ کیونکہ اذان کی مشروعیت کا مقصد ہی یہی ہے۔ اگر اتنی مہلت بھی نہ ہو تو پہر عبادت الہی کے لئے مسجد میں بلاوے  "حي على الصلوة ” کا کیا مطلب ہوگا ؟؟

اسی لئے فقہاء کرام نے مغرب کے علاوہ نمازوں میں  اذان کے بعد معا جماعت کرنے کو مکروہ قراردیا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں اس  ارشاد نبوی کی مخالفت لازم آتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ هُوَ صَاحِبُ السِّقَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ [ص: 374] وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ (سنن الترمذي 195.[ص: 373] بَاب مَا جَاءَ فِي التَّرَسُّلِ فِي الْأَذَانِ)

احمد بن حسن معلی بن اسد، عبدالمنعم، یحیی بن مسلم، حسن عطاء، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال سے فرمایا اے بلال جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر اذان کہو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو اور اذان اور تکبیر میں اتنا ٹھہرو کہ کھانے والا کھانے سے اور پینے والا پینے سے قضائے حاجت کو جانے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے اور تم نہ کھڑے ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

یہ حدیث اسنادی حیثیت سے ضعیف تھی۔ اس لئے امام بخاری اپنی صحیح میں ” باب كم بين الأذان والإقامة ” کا عنوان لگاکر چھوڑدیئے۔ صرف حدیث جابر کی طرف اشارہ فرمادئیے۔ (فتح الباری ج2 ص 126  )

شارع علیہ السلام نے اذان واقامت کے درمیان کے وقفہ کی کوئی تحدید نہ فرمائی ہے۔ معاملہ نمازی، امام اور منتظمین مسجد کو سونپ دیا گیا ہےکہ وقت مستحب، مصلی کی سہولت اور کثرت جماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے وقفہ کی تعیین کرلیں ۔ شریعت نے اپنی طرف سے کوئی ایسا حتمی وقت طے نہیں کیا کہ جس میں کمی زیادتی ممکن نہ ہو !

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ظاہر روایت میں اس وقفہ کی کوئی تحدید مروی نہیں ۔ ہاں  غیر ظاہر روایت میں امام صاحب سے حسن بن زیاد  روایت کرتے ہیں کہ فجر میں 20 آیات پڑھنے کی بقدر، ظہر میں ، چار رکعت پڑھنے کے بقدر۔ ہر رکعت میں قریب دس آیتیں پڑھی جائیں ۔ اسی طرح عصر میں دو رکعت پڑھنے کے بقدر اور ہر رکعت میں دس آیتیں پڑھی جائیں کے بقدر فاصلہ ہونا چاہئے۔

علامہ کاسانی لکھتے ہیں کہ امام صاحب کی یہ تحدیدحتمی اور لازمی نہیں ۔ بلکہ نمازیوں کی سہولت وکثرت  اور وقت مستحب کے لحاظ سے اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ وهذا ليس بتقدير لازم .فينبغي أن يفعل مقدار ما يحضر القوم مع مراعات الوقت المستحب۔(بدائع 150/1+المبسوط 139/1 )

شوافع وحنابلہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ اتنا وقفہ رکھا جائے کہ نمازی بول وبراز، طہارت اور سنت قبلیہ سے فارغ ہوسکیں .

مغرب کا پورا پورا وقت کامل ہے۔ اس کے کسی حصہ میں بھی کراہت نہیں ہے۔ وقت شروع ہوجانے کے بعد قریب ایک سوا گھنٹہ  مغرب کا وقت رہتا ہے۔

سورج غروب ہونے کے بعد بلا "معتدبہ تاخیر (خاطر خواہ تاخیر کے بغیر  ) کے مغرب کی نماز پڑھ لینا اقرب الی السنہ اورامت محمدیہ  کے تمسک بالدین اور تدیّن کی امتیازی نشانی ہے، آسمان پر ستارے دکھائی دینے تک تاخیر کرنا یہود کی مشابہت ہے۔

عن الصنابحيؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لاتزال أمتي في مسکۃ من دینہا مالم ینتظروا المغرب اشتباک النجوم مضاھاۃ الیہود ومالم یؤخروا الفجر مضاھاۃ النصرانیۃ۔ ‘‘    (رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ ثقات، مجمع الزوائد، ج:۱، ص:۱۳)

اس لئے مغرب کی اذان واقامت کے درمیان "خاطر خواہ وقفہ ”  تعجیل مغرب کے منافی ہونے کی وجہ سے فقہائے حنفیہ کے یہاں مکروہ ہے۔

اس سلسلے میں تاخیر کی تفصیلات ودرجات اس طرح ہیں:

ایک درجہ یہ ہے کہ اذان کے بعد دور کعت سے کم تاخیر ہو یہ بلاکراہت جائز ہے۔

دوسرا یہ کہ دورکعتوں کے برابر یا اس سے زیادہ مگر ستاروں کے ظاہرہونے سے پہلے تک تأخیرہو یہ مباح مگر خلاف اولیٰ ہے۔

اور تیسرا درجہ یہ ہے کہ اس قدرتاخیر کی جائے کہ ستارے ظاہر ہوجائیں ایسی تاخیر مکروہ تحریمی ہےالایہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔ شرعی عذر ہو تو یہ بھی مکروہ نہیں۔ [ فی الفتاوى الهندية:(1 / 52)ويستحب تعجيل المغرب في كل زمان كذا في الكافي]

حاشية ابن عابدين (1/ 369): ( يكره تنزيها ) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة أو سكتة على الخلاف وأن ما في القنية من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر قال في شرح المنية والذي اقتضته الأخبار كراهة التأخير إلى ظهور النجم وما قبله مسكوت عنه، وفی فتح القدير لكمال بن الهمام:(1 / 429)

( و ) يستحب ( تعجيل المغرب ) لأن تأخيرها مكروه لما فيه من التشبه باليهودوقال عليه الصلاة والسلام { لا تزال أمتي بخير ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء }…… ( قوله ويستحب تعجيل المغرب ) هو بأن لا يفصل بين الأذان والإقامة إلا بجلسة خفيفة أو سكتة على الخلاف الذي سيأتي : وتأخيرها لصلاة ركعتين مكروه.

وذکر عن ابن عمر أنہ أخر المغرب حتی بدی نجم فأعتق رقبۃ وہو یتقضی کراہۃ تأخیرہا إلی ظہور النجم، وفي القنیۃ: یکرہ تأخیر المغرب عند محمدؒ في روایتہ عن أبي حنیفۃ، ولا یکرہ في روایۃ الحسن عنہ ما لم یغب الشفق، والأصح أنہ یکرہ إلا من عذر کالسفر والکون علی الأکل ونحوہما أو یکون التأخیر قلیلا، وفي التأخیر بتطویل القراء ۃ خلاف، والذي اقتضتہ الأخبار کراہۃ التأخیر إلی ظہور النجوم، وما قبلہ مسکوت عنہ فہو علی الإباحۃ، وإن کان المستحب التعجیل۔ (حلبی کبیري، کتاب الصلاۃ، الشرط الخامس، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ص: ۲۳۴)

وکذا في النہرالفائق، کتاب الصلاۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/ ۱۶۴، وکذا في حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، کتاب الصلاۃ، مکتبہ دارالکتاب دیوبند ص: ۱۸۳، وکذا في فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/ ۲۳۰، کوئٹہ ۱/ ۲۰۰۔

في الدرالمختار: والمستحب -إلی قولہ- وتعجیل مغرب مطلقا، وتأخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھا۔ وفي ردالمحتار: أفاد أن المراد بالتعجیل أن لایفصل بین الأذانوالإقامۃ بغیرجلسۃ أوسکتۃ علی الخلاف، وأن ما في القنیۃ من استثناء التاخیرالقلیل محمول علی ما دون الرکعتین، وأن الزائد علی القلیل إلی اشتباک النجوم مکروہ تنزیھا، وبعدہ تحریما إلا بعذر کما مر۔ قال في شرح المنیۃ: والذي اقتضتہ الاخبار کراھۃ التاخیر إلی ظھور النجوم، وماقبلہ مسکوت عنہ، فھوعلی الإباحۃ، وإن کان المستحب التعجیل۔ اھ ونحوہ ما قدمناہ عن الحلیۃ۔ شامی زکریا 29/2۔ کراچی 369/1

مغرب کی اذان کے بعد امام شافعی اور امام احمد بن حنبل علیہما الرحمہ کے  یہاں دو رکعت نفل نماز پڑھنا مسنون ومستحب ہے :

 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ[ صحيح البخاري601۔، بَاب بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ۔]

وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : ( لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِي صلى الله عليه وسلم يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِي عِنْدَ الْمَغْرِبِ ) رواه البخاري (503)

و عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ : ( كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ، فَيَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا )

رواه مسلم (837)

 وعن زر بن حبيش قال :

كان عبد الرحمن بن عوف، وأبي بن كعب يصليان الركعتين قبل المغرب . رواه عبد الرزاق في ” المصنف ” (2/433)(المجموع 127/3+ مغني المحتاج 138/1+ الإنصاف 392/1+كشاف القناع 288/1 )

فقہ حنفی میں بھی مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھ سکتے ہیں ؛ لیکن ہمیشہ عادت بنا لینا ٹھیک نہیں ہے، تعارض ادلہ کی وجہ سے اس کی سنیت منتفی ہوئی ہے۔ اباحت بالکل باقی ہے۔

محقق ابن الہمام لکھتے ہیں :

ثم الثابت بعد هذا هو نفي المندوبية , أما ثبوت الكراهة فلا، إلا أن يدل دليل آخر , وما ذكر من استلزام تأخير المغرب فقد قدمنا من القنية استثناء القليل، والركعتان لا تزيد على القليل إذا تجوز فيهما ” انتهى من ” فتح القدير ” (1/445-446)

درمختار میں بھی اسے ثابت مانا گیا ہے۔

کیونکہ کہ حدیث میں مغرب سے پہلے نماز نفل کا ذکر آیا ہے؛ چناں چہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مؤذن اذان دیتا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کچھ لوگ ستونوں کی طرف جلدی کرتے اوررسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے تک دو رکعتیں نماز مغرب سے پہلے پڑھ لیتے۔ اور ’’مسلم‘‘ میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی اجنبی مسجد میں داخل ہوتا، تو کثرت کے ساتھ اس نماز کو پڑھنے والوں کی وجہ سے یہ گمان کرتا کہ نماز ہو چکی ہے۔ (البخاري: ۱/۸۷، مسلم: ۱/۲۷۸ )

ہاں حنفیہ اسے سنت نہیں کہتے  ہیں ؛ اسی لیے ایک حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

» صلوا قبل المغرب، صلوا قبل المغرب«

( مغرب سے پہلے نماز پڑھو، مغرب سے پہلے نماز پڑھو۔

اور تیسری دفعہ فرمایا :

» صلوا قبل المغرب لمن شاء۔ «

( مغرب سے پہلے نماز پڑھو، یہ حکم اس کے لیے ہے، جو چاہے۔

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آپ نے اس لیے فرمایا کہ کہیں لوگ اس کو سنت نہ بنالیں ۔

جب فقہاء حنفیہ خود دو رکعت کی اباحت کو ثابت مانتے ہیں اور بلا التزام کبھی کبھی پڑھ لینے والے کو اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ تو دو رکعت کے بقدر وقفہ مکروہ کیسے ہوجائے گا ؟

جس فرشتہ نے صحابی کو اذان سکھائی تھی ان کے اذان واقامت کے درمیان خود وقفہ ثابت ہے۔

ابو دائود کی ایک طویل روایت میں ہے:

 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ  عَنْ عَمْرِو بْنِ  مُرَّةَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ أُحِيلَتْ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ أَعْجَبَنِي أَنْ تَكُونَ صَلَاةُ الْمُسْلِمِينَ أَوْ قَالَ الْمُؤْمِنِينَ وَاحِدَةً حَتَّى لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبُثَّ رِجَالًا فِي الدُّورِ يُنَادُونَ النَّاسَ بِحِينِ الصَّلَاةِ وَحَتَّى هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالًا يَقُومُونَ [ص: 139] عَلَى الْآطَامِ يُنَادُونَ الْمُسْلِمِينَ بِحِينِ الصَّلَاةِ حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمَّا رَجَعْتُ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ اهْتِمَامِكَ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ أَخْضَرَيْنِ فَقَامَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَهَا إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ سنن ابی دائو 506

حضرت جابر کی حدیث (   احمد بن حسن معلی بن اسد، عبدالمنعم، یحیی بن مسلم، حسن عطاء، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال سے فرمایا اے بلال جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر اذان کہو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو اور اذان اور تکبیر میں اتنا ٹھہرو کہ کھانے والا کھانے سے اور پینے والا پینے سے قضائے حاجت کو جانے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے اور تم نہ کھڑے ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ )

 میں عموم ہے کہ طہارت اور وضو وغیرہ کا وقفہ ہر نماز کے بعد ملنا چاہئے :

 عن جابر -رضي اللہ عنہ- أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لبلال: یا بلال! إذا أنت فترسل في أذانک، وإذا أقمت فاحدر، واجعل بین أذانک قدر ما یفرغ الآکل من أکلہ، والشارب من شربہ، والمعتصر إذا دخل لقضاء حاجتہ، ولا تقوموا حتی تروني۔ (سنن الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء في الترسل في الأذان، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۸، دارالسلام، رقم: ۱۹۵، المعجم الأوسط، دارالفکر ۱/ ۵۲۹، رقم: ۱۹۵۲، المستدرک، کتاب الصلاۃ، قدیم ۱/ ۳۲۰، جدید ۱/ ۳۰۴، رقم: ۷۳۲)

مغرب کی اذان کے بعد کبھی وضو خانے پہ شدید ازدحام ہوجاتا ہے۔ اذان کے فورا بعد جماعت شروع کردینے سے بیشمار لوگوں کی جماعتیں لاکھ کوشش کے باوجود چھوٹ جاتی ہیں ۔ جب حدیث رسول سے دو رکعت کے بقدر وقفہ کی گنجائش ملتی ہے۔ فقہاء حنفیہ نے بھی اس دوگانہ کے جواز کو ثابت مانا ہے۔ علامہ قنیہ جیسے محققین  دو رکعت کے بقدر وقفہ کو معتدبہ تاخیر نہیں مانتے ہیں کہ اس کی وجہ سے تعجیل مغرب کی خلاف ورزی لازم آجائے !۔ جب فقہاء حنفیہ عذر کی وجہ سے اشتباک النجوم کے بعد بھی تاخیر مغرب کو جائز کہتے ہیں اور عذر کی مثال سفر اور کھانے میں اشتغال پیش کرتے ہیں ۔ حلانکہ جماعت کی نماز میں شرکت ان تمام اعذار  : اکل وسفر سے بہت زیادہ قوی ہے۔ اور اذان کی مشروعیت کا مقصد بھی یہی ہے۔ لہذا جماعت پانے کے لئے وضو وغیرہ میں مشغول یا اذان سن کر گھر سے پیادہ پائو آنے والوں کے لئے اگر دو تین منٹ کا وقفہ مغرب میں رکھ دیا جائے تو اتنے معمولی وقفہ کی گنجائش موجو ہے۔ یہ معتدبہ تاخیر نہیں جو کہ تعجیل مغرب کے منافی ہو۔

امداد الفتاوی جدید میں اسی طرح کے ایک سول کے جواب میں تحریر ہے:

” تاخیرمادون الرکعتین میں توکراہت نہیں اوراس سے زائداشتباک نجوم کے قبیل تک شرح منیہ کی تحقیق پرمباح اوربعض اقوال پرمکروہ تنزیہی اوراشتباک کے بعدتحریمی۔ روایات یہ ہیں:

في الدرالمختار: والمستحب -إلی قولہ- وتعجیل مغرب مطلقا، وتأخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھا۔ وفي ردالمحتار: أفاد أن المراد بالتعجیل أن لایفصل بین الأذانوالإقامۃ بغیرجلسۃ أوسکتۃ علی الخلاف، وأن ما في القنیۃ من استثناء التاخیرالقلیل محمول علی ما دون الرکعتین، وأن الزائد علی القلیل إلی اشتباک النجوم مکروہ تنزیھا، وبعدہ تحریما إلا بعذر کما مر۔ قال في شرح المنیۃ: والذي اقتضتہ الاخبار کراھۃ التاخیر إلی ظھور النجوم، وماقبلہ مسکوت عنہ، فھوعلی الإباحۃ، وإن کان المستحب التعجیل۔ اھ ونحوہ ما قدمناہ عن الحلیۃ۔ شامی زکریا 29/2۔ کراچی 369/1

اورعذرمیں کراہت بھی نہیں اوریہاں انتظارامام میں تاخیردورکعت سے کم ہوتی ہے وہ بھی احیانانہ استمرارا واعتیادا۔ اوراگرمادون سے قدرے زائدبھی فرض کی جاوے توایک تحقیق پرمباح ہے اورقول کراہت تنزیہی پرعذرنافی کراہت ہے۔ اورعذرکی مثال فقہاء نے اکل وسفرسے دی ہے اورحصرکی کوئی دلیل نہیں اورامام کے لئے وضواورقوم کے لئے انتظارامام راتب خصوص اگروہ حاضرہواکل سے قوی عذرہے۔ واللہ اعلم

۲؍محرم ۱۳۵۳ ؁ھ (النورصفحہ۹ربیع الثانی۱۳۵۸ ؁ھ)

امداد الفتاوی جدید بتحشیہ مفتی شبیر انور قاسمی

امداد الفتاوی جدید 461/1

حدیث جابر کی تشریح وتوضیح میں دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور شارح ترمذی حضرت الاستاذ مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری دام ظلہ تحریر فرماتے ہیں:

حدیث (جابر  ) میں کوئی تخصیص نہیں ۔ تمام نمازوں کے لئے عام ہے۔ اس لئے مغرب میں بھی کچھ فاصلہ رکھنا چاہئے "تحفة الالمعي شرح الترمذي جلد 1 .صفحة 511. )

ہندوستان کے مشہور عالم دین اورممتاز مفتی حضرت مولانا مفتی شبیر انور قاسمی مفتی شاہی مراد آباد لکھتے ہیں :

الجواب وباللّٰہ التوفیق: مغرب کی اذان اور نماز کے درمیان دو یا تین منٹ کا فاصلہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اور رمضان کے علاوہ دیگر ایام میں اس سے زیادہ فاصلہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے؛ اس لئے کہ عام دنوں میں نماز مغرب میں تعجیل کا حکم ہے۔

عن مرثد بن عبد اللہ قال: قدم علینا أبو أیوب غازیا، وعقبۃ بن عامر یومئذ علی مصر، فأخر المغرب، فقام إلیہ أبو أیوب، فقال: ما ہذہ الصلوۃ یا عقبۃ؟ قال: شغلنا، قال: أما سعمت رسول اللہ ﷺ یقول: لا تزال أمتي بخیر -أو قال: علی الفطرۃ- مالم یؤخروا المغرب إلی أن تشتبک النجوم۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الصلوۃ، باب وقت المغرب، طبع ہندي ۱/ ۶۰، دارالسلام، رقم: ۴۱۸، صحیح ابن خزیمۃ، المکتب الإسلامي ۱/ ۲۰۶، رقم: ۳۳۹، المعجم الکبیر للطبراني، داراحیاء التراث العربي ۴/ ۱۸۳، رقم: ۴۰۸۳)

عن العباس بن عبدالمطلب قال: قال رسول اللہ ﷺ: لا تزال أمتي علی الفطرۃ ما لم یؤخروا المغرب حتی تشتبک النجوم۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الصلوۃ، باب وقت المغرب، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۵۰، دارالسلام، رقم: ۶۸۹، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم ۴/ ۱۳۲، رقم: ۱۳۰۶، المعجم الأوسط، دارالفکر ۱/ ۴۷۹، رقم: ۱۷۷۰)

ویجلس بینہما بقدر ما یحضر الملازمون مراعیا لوقت الندب إلا في المغرب، فیسکت قائما قدر ثلاث آیات قصار، ویکرہ الوصل إجماعا، وفی الشامیۃ: ہذا عندہ، وعندہما یفصل بجلسۃ کجلسۃ الخطیب، والخلاف فی الأفضیلۃ، فلو جلس لا یکرہ عندہ۔ (الدرالختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب الأذان، مطلب في أول من بنی المنائر للأذان، زکریا ۲/ ۵۶، کراچی ۱/ ۳۸۹)

والمغرب إلی اشتباک النجوم، أي کثرتہا کرہ أي التأخیر … تحریما إلا بعذر، کسفر وکونہ علی أکل، وفي الشامي: أي لکراہۃ الصلوۃ مع حضور طعام تمیل إلیہ نفسہ۔ (درمختار مع الشامي، کتاب الصلوۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربہا، زکریا ۲/ ۲۷، کراچی ۱/ ۳۶۸)

وأما المغرب فیکرہ تأخیرہا إذا غربت الشمس۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الصلوۃ، الفصل الأول في المواقیت، زکریا ۲/ ۱۱، رقم: ۱۵۱۰)

ویستحب تعجیل المغرب في کل زمان۔ (ہندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الأول في المواقیت، زکریا قدیم ۱/ ۵۲، جدید ۱/ ۱۰۸) فقط و اللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ

۲۸؍ صفر ۱۴۳۳ھ

(الف فتویٰ نمبر: ۳۹/ ۱۰۶۴۳) الجواب صحیح:

احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ

فتاوی قاسمیہ 5/318

معمولی وقفہ کی گنجائش محقق ابن الہمام کی عبارت سے بھی نکلتی ہے۔ فرماتے ہیں:

 وما ذكر من استلزام تأخير المغرب فقد قدمنا من القنية استثناء القليل، والركعتان لا تزيد على القليل إذا تجوز فيهما ” انتهى من ” فتح القدير ” (1/445-446)

 اس لئے حالات، ضرورت اور تقاضے کے مطابق غیر رمضان میں مغرب کی اذان کے بعد دوتین منٹ کا وقفہ دینے میں کوئی شرعی حرج نہیں ۔ بالکل گنجائش ہے۔ ضابطہ بنائے بغیر وقت ضرورت اس گنجائش سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

مزید دکھائیں

مفتی شکیل منصور القاسمی

مضمون نگار کا تعلق سیدپور، بیگوسرائے، بہارسے ہے۔ جنوب امریکہ میں سات سالوں سے مقیم ہیں اور شیخ الحدیث اور صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close