فقہمذہب

موبائل فون: آداب و احکام

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

موبائل فون موجودہ زمانہ میں ایک ضرورت اور پھر اسی کے ساتھ بہت سے شوق کی تکمیل اور بہت سی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک مسلمان کو جہاں ہر چیز اسلامی تعلیم کے مطابق اختیار کرنی ہے اور استعمال کرنی ہیں وہیں اس کے بارے میں اسلامی تعلیم کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے، ذیل میں موبائل فون سے متعلق چند مسائل تحریر کئے جاتے ہیں:

گفتگو کی ابتداء’’ ہیلو‘‘ سے یا ’’سلام ‘‘سے ؟

اسلام نے بات چیت کی ابتداء سلام سے کرنے کی تعلیم دی ہے، ارشاد نبوی ہے:

السلام قبل الکلام( ترمذی:۲۶۹۹)

بات کرنے سے پہلے سلام کریں

لیکن موبائل کی دنیا میں ایک نئی شکل ’’ہیلو ‘‘ سے بات کی ابتداء مروج ہوچکی ہے، یہ لفظ انگریزوں کے یہاں متوجہ کرنے کے لئے مستعمل ہوتا ہے، وہیں سے فون پر بھی مروج ہوگیا، ایک مسلمان کو حدیث نبوی کی تعلیم کے مطابق سلام سےبات کی ابتداء کرنی چاہئے اور لفظ’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ یا کم از کم’’ السلام علیکم ‘‘کہہ کر فون پر گفتگو کا آغاز کرنا چاہئے۔ اورچونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، اس لئے جس سے ہم رابطہ کر رہے ہیں اس کے سلام کے بعد سلام کا جواب ضرور دینا چاہئے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی ساتھ جانبین سے ایک دوسرے کو سلام کردیا جاتاہے، ایسی صورت میں دونوں پر واجب ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے سلام کا جواب دیں۔ (رد المحتار: ۶؍۴۱۶)

نیز جب بات چیت مکمل ہوجائے تو پھر اخیر میں دوبارہ سلام اور اس کے جواب کا اہتمام کرنا چاہئے، کیونکہ فون پر بات بھی ایک قسم کی ملاقات ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ملاقات کے اخیر میں بھی سلام کی تعلیم دی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

إذا دخلتم بيتا فسلموا على أهله، فإذا خرجتم فأودعوا أهله بسلام(شعب الایمان بیہقی: ۸۴۵۹)

’’جب تم گھر میں داخل ہوتو گھر والوں کو سلام کرو اور جب تم گھر سے نکلو تو گھر والوں کو سلام کے ذریعہ رخصت کرو‘‘

بہت سے لوگ کال کے اخیر میں ’’ اللہ حافظ‘‘ بھی کہتے ہیں، یہ جملہ ایک دعا ہے اور یہ دعا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو دی تھی،اور ایک دوسرے کو دعا دینا بھی شرعاً پسندیدہ ہے، اس لئے کا ل کے اخیر میں اس کو کہنا اور پھر سلام کرکے کال منقطع کرنا درست ہے، لیکن اس کو اس موقع پر لازم سمجھنا درست نہیں ہے،اسی طرح سلام کے متبادل کے طور پر اس کو بولنا اور اس کو بول کر اخیر میں سلام کی سنت کو چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔

سلام کے بعد تعارف

سلام کے بعد فون کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنا تعارف کرائے،تاکہ مخاطب پہچان جائے، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کال وصول کرنے والا فون کرنے والے کو پہچان نہیں پاتا، جس کی وجہ سے بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے۔

نیزکئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اپنا تعارف نہ کراکر مخاطب سے اس کا تعارف پوچھا جاتا ہے، اس سے مخاطب بسا اوقات خوف زدہ ہوتا ہے یا الجھن کا شکار ہوتا ہے اس سے بھی بچنا چاہئے؛کیونکہ کسی کو خوف زدہ کرنا یا الجھن کا شکار کرنا ایذاء رسانی ہے جو درست نہیں ہے، اس لئےپہلے اپنا تعارف کراکر اگلی بات کرنی چاہئے، جیسا کہ’’استیذان ‘‘کے باب میں اسلام نے تعلیم دی ہے کہ کوئی کسی سے ملاقات کے لئے جائے تووہ اپنا نام بتاکر ملاقات کی اجازت چاہے۔

فون کرنے میں وقت کا خیال

بلاضرورت شدیدہ ایسے اوقات میں فون نہیں کرنا چاہئے جو اہم کاموں میں مشغولیت کا وقت ہے، جیسے کے نماز کے اوقات وغیرہ،یا جس وقت عام طور پر لوگ آرام کرتے ہیں، کیونکہ اس سےبھی مخاطب کو تکلیف ہوتی ہے، اور ایذاء رسانی شرعا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح زیادہ طویل گفتگو کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے، کیونکہ مخاطب کی مصروفیت میں اس سے خلل پڑنے سے یہ اس کے لئے باعث زحمت ہے، اور اگر مصروفیت نہ بھی ہو تو بھی عموما فون پر طویل گفتگو بار گراں ہوتی ہے، اور اس اعتبار سے بھی اس سے پرہیز کرنا چاہئے کہ بقول اطباء وما ہرین : فون پر طویل گفتگو انسانی صحت اور قوت سماعت کے لئے بہت مضر ہے، اور جو چیز  انسانی صحت کے لئے جس قدر مضر ہو شریعت کی نظر میں اسی قدر ناپسندیدہ اور مذموم ہوتی ہے۔

بار بار فون کرنا ؟

’’کال رسیو‘‘  نہ کرنے کی صورت میں بار بار فون کرنے سے بہت گریز کرنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے کہ اگر کوئی کسی سے ملاقات کے لئے جائے تو تین بار اجازت طلب کرنےکے بعد اگر اجازت نہ ملے تو واپس آجائے، عام طور پر فون کی گھنٹی اتنی دیر تک بجتی ہے جو تین بار اجازت لینے سے کہیں زیادہ ہے اس لئے اس تعلیم کی روشنی میں ایک مرتبہ فون کرنےکے بعد اگر رابطہ نہ ہو تو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت مخاطب کی کسی مصروفیت کی وجہ سے ملاقات اور بات کی اجازت نہیں ہے، اور پھر کسی دوسرےوقت کوشش کرنی چاہئے۔

اسی طرح فون کی گھنٹی بجنے کے بعد اگر کوئی فون کاٹ دیا جائے تو بھی بار بار فون نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ کال کا ریجیکٹ کرنا یہ علامت ہے کہ مخاطب اپنی مصروفیت کی وجہ سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہے؛ کیونکہ فون کی گھنٹی درحقیقت’’ ٹیلی فونک ملاقات‘‘ کی اجازت کی طلب ہے، اورقرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے کہ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملے تو واپس آجاؤ، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ(نور:۲۸)

’’اور اگر تم سےلوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ‘‘

میوزک یا گانے والے’’ رنگ ٹونس ‘‘یا’’ ہیلو ٹونس‘‘

موبائل فون کی گھنٹی(Ring Tone)  کا مقصدفون آنے کی اطلاع ہے اور یہ مقصدایک سادہ سی گھنٹی سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، لیکن بہت سے لوگ اس میں میوزک یا گانوں کے ٹونز لگاتے ہیں، اس کو لگاناجائز نہیں ہے ؛ کیونکہ اسلام میں میوزک اور گانا سننا حرام ہے، لیکن افسوس کہ آج یہ وبا اتنی عام ہوچکی ہے کہ اس گناہ کبیرہ کی قباحت دلوں سے نکل چکی ہے، اور بہت سے نماز ی اور نیک صفت افراد بھی اس کو اپنے موبائل میں لگا لیتے ہیں،جس کا ایک برا نتیجہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گانے ان نماز یوں کے ساتھ مسجد میں پہونچ جاتے ہیں اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ان کی مسجد میں موجودگی کہ دوران فون آتا ہے اور مسجد میں گانے کی آواز گونچ جاتی ہے، اور نمازیوں کی نماز میں خلل پڑنے کے ساتھ ساتھ مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے۔

افسوس کی انتہاء اور ہم مسلمانوں کی بے حسی کا تویہ عالم ہے اس میوزک کے فتنہ سے حرمین شریفین اور اس کے مقدس مقامات کا تقدس بھی پامالی سے محفوظ نہیں ہے، کئی لوگ اپنے گانوں والے رنگ ٹونس کے ساتھ ان جگہوں پر جاکر ان کی پاکیزہ فضاؤں کو گانوں یا میوزک کی آواز سے مکدر کردیتے ہیں۔ ذرا سونچیں کہ جس نبی ﷺنے فرمایا کہ اللہ نے مجھے گانے بجانے اور میوزک کو مٹانے کے لئے بھیجا ہے، ان کی سرزمین پر اس طرح کے رنگ ٹونس استعمال کرنا کس قدر حرماں نصیبی کی بات ہے۔

اسی طرح ایک بے لذت گناہ کبیرہ یہ عام ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے ’’ ہیلو ٹون‘‘ کی جگہ گانے لگاتے ہیں، یہ تواور بھی زیادہ بدترین گناہ کا عمل ہے، اس کو لگانے والے دوسروں کو گانے سننے پر مجبور کرنےوالے ہیں، بہت سی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ گانا سننے سے بچنے والے بھی ایسے افراد کو کال کرنے کی صورت میں گانا سننے پر مجبور ہوتے ہیں، اور گناہ کرنا شریعت کی نظر میں جتنا برا ہے گناہ کرنے پر راغب کرنا، یا اس کا موقع فراہم کرنا یا اس پر مجبور کر نا اس سے بھی کہیں زیادہ برا عمل ہے، اور حد درجہ حرام ہے۔ ہاں چونکہ کال کرنے والے کا ارادہ گانا سننے کا نہیں ہے، اس لئے وہ اس سے گنہگار نہ ہونگے، پھربھی ایسی صورت میں بہتریہ ہے کہ کال رسیو کرنے تک فون کو کان سے الگ رکھ لیاجائے اور جب رابطہ ہوجائے تو بات کرنے کے ساتھ ساتھ اس برائی سے روکنے کی کوشش اگرمناسب اور ممکن ہو تو ضرورکی جائے۔

موبائل فون میں آیات قرآنی، اذان اورنعت کے رنگ ٹونس؟

عام طور پر بہت سے مسلمان اپنے دینی مزاج کی وجہ سے موبائل فونس میں قرآنی آیات، اذان، ذکر وتسبیح، دعائیں، نعت یا لببیک اللہم لبیک  وغیرہ رنگ ٹونس کی جگہ لگاتے ہیں، گر چہ کہ اس کے لگانے میں دینی جذبہ اور اچھی نیت ہوتی ہے، لیکن دیگر کئی مفاسد کی وجہ سے یہ درست نہیں ہے، کیوں کہ اس سے بہت سے موقعوں پر ان مقدس کلمات کے تقدس کا خیال رکھنا مشکل ہوجاتا ہے،مثلا انسان کبھی قضائے حاجت کی خاطر بیت الخلاء وغیرہ میں ہوتا ہے اور وہیں فون آجاتا ہے، تو ان کلمات کا تقدس پامال ہوجاتا ہے۔

مزید یہ کہ فقہی کتابوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی آیات، اذکار وتسبیحات، درود شریف اور ایسی نظمیں یا نعتیں جو ذکر اللہ پر مشتمل ہوں ان کو استعمال کرنے کے دو مقاصد ہوسکتے ہیں۔ (۱) ذکر  (۲)  اعلام واطلاع۔

اگر ان کو پہلے مقصد کے تحت لگایا گیا ہو کہ جب بھی فون آئے تو مقدس کلام اور ذکر اللہ کی آواز سننے کا موقع ملے اور جب تک فون رسیو نہ ہو اس وقت تک ذکر اور اچھے کلمات سنے جائیں تو اس مقصد کے تحت اس کا جائز ہونا معلوم تو ہوتا ہے لیکن اس میں چند خرابیاں ہیں جن سے بچنا ضروری ہے:

(۱) پہلی خرابی تو یہ لازم آتی ہے کہ اچانک فون اٹھانے کی صورت میں قرآنی آیات درمیان میں کٹ جاتی ہیں جن سے ان آیات کی بے ادبی لاز م آتی ہے، اس لئے اس مقصدکے تحت قرآنی آیات کا استعمال رنگ ٹون یا ہیلو ٹون میں جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عظمت قرآن کے قطعاً منافی ہےکہ قرآن تو تلاوت وتدبر کے لئے ہے۔

(۲) دوسری خرابی یہ لازم آتی ہے کہ جس شخص کو فون کیا گیا وہ بسا اوقات بیت الخلاءیا اس جیسی جگہوں میں ہوتا ہے تو فون آنے پر ایسی حالت میں ایسی جگہ پر مقدس کلمات فون پر جاری ہونے میں ان کلمات کی بے ادبی ہوتی ہے۔ اس لئے مقدس کلمات کو ذکر کے مقصد سے بھی لگانا درست نہیں ہے۔

اور اگر ان کلمات کے لگانے کا مقصدمحض اعلام و اطلاع اور فون آنےکی خبر ہو(اور رنگ ٹون درحقیقت اسی مقصد کے لئے ہے) تو اس صورت میں بھی مذکورہ خرابیاں ہیں، ساتھ ہی مقدس کلمات کو عام دنیاوی مقاصد کے لئے استعمال کرنا درست نہیں ہے، جیسا فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر خریدار کو کپڑے کی عمد گی بتانے کے لئے تاجر نے کپڑا دکھاتے ہوئے’’ سبحان اللہ ‘‘کہا، یا درود شریف پڑھا، اور مقصد صرف خریدار کو عمدہ گی سے آگاہ کرنا ہے تو یہ مکروہ ہے (در مختار: ۶؍۳۶۱)

بہر حال قرآنی آیات، اذان، ذکر وتسبیحات اورنعت اور مقدس کلمات کورنگ ٹون یا ہیلو ٹون کی جگہ لگانا درست نہیں ہے۔ اس لئے عام سادہ سی رنگ ٹون رکھنا ہی مسئلہ کا صحیح حل ہے۔

اسکرین پر قرآنی آیات یا مقدس کلمات اور کعبہ کی تصویر رکھنا

موبائل کے اسکرین پر بہت سے لوگ قرآنی آیات، دعائیں یا اسمائے حسنی میں سے کوئی اسم یا خانہ کعبہ وغیرہ رکھتے ہیں۔ اس میں بھی محبت کا جذبہ ہوتا ہے، لیکن اسکرین پر ان کو رکھنے میں بعض اوقات ان کی بے حرمتی ہوجاتی ہے، مثلا بیت الخلاء میں اسکرین روشن ہوجاتا ہے، یا اسکرین روشن ہونے کی حالت میں کبھی نیچے کی جیب میں ہونے وجہ سے ان کی بے حرمتی کا شبہ ہوتا ہے، اس لئے ان چیز وں کی حرمت وتقدس کے پیش نظر ان کو اسکرین پر نہیں لگانا چاہئے۔

موبائل میں قرآن کریم اور دینی کتابیں

قرآن کریم یا دیگر جو چیز یں موبائل میں لوڈ کی جاتی ہیں وہ اس کی میموری میں الکٹرانک ذرات کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور غیر مرئی ہوتے ہیں، جب انہیں کھولا جاتا ہے تو اس وقت سسٹم ان ذرات کو مرئی شکل دے کر اسکرین پر لاتا ہے۔

اس اعتبار سے قرآن کریم، یا دیگر دینی کتابوں کو موبائل میں رکھنا جائز ہے اور اس موبائل کے ساتھ بیت الخلاء میں جانابھی درست ہے، بشرطیکہ قرآن کریم کے صفحات اسکرین پر موجود نہ ہوں،البتہ ایسا موبائل بیت الخلاء میں لے جانے سے ممکنہ حد تک پر ہیز کرنا بہترہے، تاکہ بے ادبی کا شائبہ نہ ہو۔ (فتاوی الجامعۃ البنوریۃالعالمیۃ:  فتوی نمبر: ۴۲۱۵۷)

 قرآن کریم موبائل میں لوڈ کرنے سے پہلے قرآن کریم کے اس دیجیٹل نسخہ کے اغلاط سے محفوظ ہونے کی تحقیق بہت ضروری ہے، انٹرنیٹ پرموبائل کے لئے کئی ایسے نسخے بھی ہیں جن میں کئی اغلاط ہیں یا جن کی پروگرامنگ کرنے والے باطل نظر یا ت کے حامل ہیں، اسی طرح قرآن کریم کے ترجموں کی بھی تحقیق ضروری ہے، بہت سے غلط ترجمے موجود ہیں حتی کہ ملعون قادیانی کے ترجمہ کا بھی انٹرنیٹ اور موبائل ورژن موجود ہے۔ اسلئے تحقیق ضروری ہے، تحقیق میں اس پروگرام پر لکھے گئے تبصروں (Comment) سےبھی مدد مل سکتی ہے۔

نیز جس موبائل میں قرآن کریم ہو اس کو بغیر وضوء یا حالت جنابت میں چھونا جائز ہے، گرچہ کہ اس میں قرآن ہے، کیونکہ قرآن کا وجود اس میں غیر مرئی اور اس کے الکٹرانک منتشر غیرمرئی ذرات میں ہے،اور وہ قرآن کے حکم میں نہیں ہے۔

ہاں اگر قرآن کے صفحات اسکرین پر موجود ہوں تو حالت جنابت میںیا بغیر وضوء اس اسکرین کو چھونا جائز نہیں ہے، کیونکہ قرآنی آیات چاہے کاغذ پر لکھے ہوں یا شیشہ پر یا کسی اور چیز پران کو بلاوضو چھونا درست نہیں ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں:

 لایجوز له مس شیء مکتوب فیه شییء من القرآن من لوح او درهم او غیر ذلك اذا کان آية تامة(الجوهرةالنيرة: باب الحیض)

’’بے وضوء یا ناپاک انسان کے لئے کسی ایسی چیز کا چھونا جائز نہیں ہے جس میں قرآن کی کوئی آیت لکھی ہو، وہ کوئی تختی ہو یا درہم ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز کو، بشرطیکہ پوری آیت لکھی ہو‘‘

فون پر عورتوں سے گفتگو

عام حالات میں عورتوں کی آواز سننا اور ان سے بات کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں شہوت اور فتنہ نہ ہو، لیکن اگر شہوت اور فتنہ ہو تو حرام ہے، فقہاء نے لکھا ہے:

سامع صوت المرأة إن كان يتلذذ به أو خاف على نفسه فتنة حرم عليه استماعه وإلا فلا (الموسوعۃ الفقہیۃ: ۲۵۔ ۲۴۶)

’’عورت کی آواز سننے والا اگر اس سے لذت لے رہا ہویا اس کو اپنے بارے میں فتنہ کا خوف ہو تو اس کے لئے اس کو سننا حرام ہے ورنہ نہیں‘‘

اس لئےفون پر کسی اجنبی عورت سے کوئی ضروری بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن موجودہ زمانہ میں ایک شکل لوگوں کے جیبوں کو خالی کرنے کے لئے کمپنیوں کی طرف سے مروج ہےجسے ’’فون ایند فرینڈ‘‘ کی سروس کا نام دیا جاتا ہے، اس میں عورتوں سے دل لگی اور تفریح طبع کی باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے، بلکہ اس سروس کا مقصد ہی یہی ہے، ظاہر سی بات ہے کہ اس میں لذت وشہوت ہی ہوتی ہے، لذت وشہوت کے ساتھ کسی اجنبی عورت سے بات کرنایا اس کی بات سننا حرام ہے، اس لئے یہ جائز نہیں ہے۔

اسی طرح آج کل بہت سے نوجوان دینی مزاج رکھنے کی وجہ سے یا اپنے گھر کے دینی ماحول کی وجہ سے اپنی منگیتر سے ملاقات تو نہیں کرپاتے، لیکن اسے اپنی بیوی تصور کرتے ہوئے فون پر اس سے باتیں کرتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ یہ بات چیت بھی شہوت ولذت سے خالی نہیں ہوسکتی، اور منگیتر شریعت کی نظر میں اجنبی عورت کی طرح ہے ؛ کیونکہ منگنی درحقیقت ایک وعدہ نکاح ہے، اس سے رشتہ قائم نہیں ہوتا، اور حرام لڑکی حلال نہیں ہوتی، اس لئے اس سے فون پر لذت وشہوت اورتفریح طبع کی بات کرنا ویسے ہی حرام ہے جیسے کسی اجنبی عورت سے حرام ہے۔ بلکہ اس میں تو اوربھی نقصان ہے کہ بہت سی مرتبہ منگنی کے بعد رشتہ ازدواج قائم نہیں ہوپاتا،ایسی صورت میں ان دونوں کے درمیان ہونے والی باتیں بہت سی مرتبہ لڑکی کے لئے جان لیوا بن جاتی ہیں، اور بہت سی مرتبہ اس سے لڑکی اور اس کے اہل خانہ کا استیصال بھی کیا جاتا ہے۔

ٹاک ٹائم کالون

بہت سی موبائل کمپنیاں ٹاک ٹائم نہ ہونے کی صورت میں دس پانچ روپئے لون کے طور پر دیتی ہیں، یعنی ریچارچ کرائے بغیر کال کرنے کے لئے کچھ مدت کی سہولت مل جاتی ہے، اور ریچارج کرانے کے بعد وہ رقم وضع ہوجاتی ہے، عموما کمپنیاں کچھ بڑھ کر پیسے وضع کرتی ہیں، مثلا دس روپئے کے بدلے بارہ روپئے کمپنیاں وصول کرتی ہیں، اس سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے اور یہ سود کے زمرہ میں نہیں ہے، کیونکہ یہاں براہ راست دس روپئے کا بارہ روپئے سے تبادلہ نہیں ہے، بلکہ ٹاک ٹائم کا بارہ روپئے سے تبادلہ ہے،اوردونوں کی جنس الگ ہے، جیسا کہ ریچارج کرنے میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ صارف جتنے کا ریچارج کرتا ہے اس کے اعتبار سے اس کو ٹاک ٹائم ملتا ہے۔ گویا صارف کی طرف سے ادا کردہ رقم کمپنی کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی اجرت وعوض ہے، اورسود ہونے کے لئے دونوں کا ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اداکردہ رقم اور بیلینس میں تفاوت سود کے زمرہ میں نہیں ہے۔

کیمرہ والا موبائل فون

کیمرہ ایک آلہ ہے، جس سے بہت سی غیر جاندار چیزوں کی تصویر لینے میںشرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کیمرہ والا فون استعمال کرنا جائز ہے، اور رہی بات موبائل کے کیمرہ سے انسان کی تصویر کشی کی، تو اس سلسلہ میں کئی اہل علم کی رائے ہے کہ اگر تصویر صرف کیمرہ یا موبائل کی میموری تک ہی محدود ہو، اس کا باقاعدہ پیپرپر پرنٹ (Print)نہ لیاجائےتو اس پر حرام تصویر سازی کا حکم جاری نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کی حقیقت میموری میں منتشر الکٹرانک ذرات کی ہے، جسے مشین کے ذریعہ اسکرین پر یکجا کردیا جاتا ہے، اس لئے ان ہل علم کی رائے کے مطابق تصاویر کو موبائل میں برقرار رکھنے کی گنجائش ہے، تکملہ فتح الملہم میں عصر حاضر کے معروف محقق وفقیہ حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ کا اسی جانب رجحان ہے۔ ( تکملہ فتح الملہم: ۴؍۱۶۴)

تاہم کئی بلکہ اکثر اہل علم اس پر بھی تصویر سازی کی حرمت کے احکام جاری کرتے ہیں، اور اسے بھی حرام کہتے ہیں، اس لئے اس سے احتراز یقینا بہتر اور افضل ہے۔

بہت سے لوگ حرمین شریفین کی زیارت کے وقت مقدس مقامات پر اپنی تصویر لیتے اور ویڈیو بناتے رہتے ہیں، یہ انتہائی نامناسب عمل ہے، اور اس مقام کے تقد س اور اس جگہ پر مطلوب خشوع اور تقوی کے بالکل خلاف ہے، اس لئے اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے اوروہاں کی یادوں کوموبائل یا کیمرہ میں محفوظ کرنے کے بجائے دلوں اور نگاہوں میں بساکر لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اسلامی ایس ایم ایس کو مٹانا؟

اگر میسیج میں قرآن کریم، احادیث اور اسلامی کلمات وغیرہ موصول ہوں اور ان کو مٹانے کی ضرورت درپیش ہوتو اس کے مٹانے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ؛کیونکہ میسیج کی تحریر کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح بھی نہیں ہے، جن کو پھاڑنے میں بے ادبی کا شائبہ بھی ہوتا ہے، جب کہ ضرورت کی صورت میں کاغذ پر سے بھی قرآنی آیات واحادیث کو مٹانے کی اجازت ہے۔ درمختار میں ہے:

الکتب التی لا ینتفع بها یمحی عنها اسم الله وملائکته ورسوله ویحرق الباقی (درمختارعلی ہامش الرد: ۶۔ ۴۲۲)

’’وہ کتابیں جن سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ہو ان سے اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا نام مٹادیا جائے اور بقیہ کاغذ کو جلادیا جائے‘‘

اس لئے معتبر اسلامی ایس ایم ایس بھیجنا اور بوقت ضرورت اس کو مٹانا درست ہے، البتہ کسی میسیج کو دوسروں تک بھیجنے سے پہلے اس کے صحیح اور معتبر ہونے کی تحقیق ضروری ہے، بطورخاص جب کہ وہ بات قرآن وحدیث کی طرف منسوب ہو۔ کیونکہ کسی غلط بات کو اسلام کے نام پر پھیلانا یا کسی ایسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرناجو آپ نے نہیں کہی بہت ہی سنگین جرم ہے،اور آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں جہنم کی وعید بیان فرمائی ہے(بخاری، مسلم)

فحش اور جھوٹ پر مبنی ایس ایم ایس

سنجیدگی اور مذاق دونوں صورتوں میں جھوٹ بولنا اور لکھنا دونوں ناجائز اور ممنوع ہیں، لہذا جھوٹے ایس ایم ایس بھیجنا اور جھوٹ پر مشتمل لطیفے’اور’ جوکس‘‘ایس ایم ایس کرنا ناجائز ہے، اس لئےمسلمانوں کو اس سے ضرور بچنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا اور جھگڑا کرنا چھوڑدے۔ (مسند احمد: ۸۷۶۶)

اسی طرح فحش باتوں پر مشتمل ایس ایم ایس بھیجنا بھی بہت ہی براعمل ہے، اور ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کریم میں یہ وعیدہے کہ جولوگ ایمان والوں کے بیچ بری باتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میںددرناک عذاب ہے۔ (نور: ۱۹)

کال ریکاڑڈ کرنا

موبائل فون پر ہونے والی گفتگو کو مخاطب کی اجازت کے بغیر ریکاڑڈ کرنا درست نہیں ہے، یہ امانت داری کے خلاف ہے،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی کسی سے کوئی بات کہے (جس کو مخفی رکھنا وہ پسند کرتا ہے)تو وہ بات اس کے پاس امانت ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی)

اور گفتگو کو ریکاڑڈ کرنے سے یہ امانت محفوظ نہ رہے گی، بلکہ دوسروں تک اس کا پہونچنا ممکن ہوجائے گا، اور یہ حقیقت ہے کہ عام طور پر انسانی مزاج ہے کہ اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس کی  باتیں ریکاڑڈ ہورہی ہیں تو وہ بات میں جس قدر محتاط ہوتا ہے عام حالات میں اتنا محتاط نہیں ہوتا۔ اس لئے بلاوجہ اور بلا اجازت کسی کی گفتگو کو ریکاڑڈ کرنا درست نہیں ہے۔

ہاں اگر کسی اچھے مقصد سے کسی کی بات کو ریکاڑڈ کیا جائے اور اس میں اس بات کا اندازہ ہوکہ بولنے والے کو اگر اس کا علم بھی ہو تواس کو اس سے ناگواری نہیں ہوگی، اور اس سے اس کو کوئی ضرر نہ پہونچے گا تو پھر اس صورت میں اس کو ریکاڑڈ کرنے کی گنجائش ہے۔

کال بلاک کرنا

آج کل بہت سے ایسے پروگرام ہیں جن کے ذریعہ موبائل استعمال کنندگان اس بات پر قادر ہوتے ہیں کہ وہ جن لوگوں کی کال وصول کرنا نہیں چاہتے انہیں بلاک کردیتے ہیں، اس سےانہیں ان نمبرات سے کال موصول نہیں ہوتےہیں۔ شریعت میں اس کا جواز اور عدم جواز مقصد پر منحصر ہے، اگر کسی کی جانب سے بلاضرورت کال موصول ہوتے ہیں جو اس کے لئے خلل اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں، یا کسی کی جانب سے موصول ہونے والے کال اس کے لئے کسی بھی اعتبار سے باعث مضرت ہوتے ہیں، تو ایسی صورت میں دفع مضرت کی خاطر کال کے وصول ہونے کو بند کرنا جائز ہے ؛ کیونکہ شریعت کا قاعدہ ہے : الضرر یزال،اورالحرج مدفوع۔

لیکن اگر یہ مقصد نہیں اور نہ ہی اس کی کال سے اس کو کوئی تکلیف ومضرت پہونچ رہی ہے جس کی کال کو بند کیا جارہا ہے،جیسا کہ بہت سے لوگ محض وہم وشک کی بنیاد پر اپنی اہلیہ کے والدین اور بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کی کال کو اپنی اہلیہ کے موبائل پریا اپنے موبائل پر بلاک کردیتے ہیں، یا کسی سے کوئی وعدہ یا معاملہ کرکے اس کی کال بلاک کردیتے ہیں تاکہ وہ رابطہ ہی نہ کرسکے، واضح سی بات ہے کہ اس مقصد سے بلاک کرنا دوسروں کے لئے باعث مضرت ہے اور ایذاءرسانی کا سبب ہے، اس لئے ایسی صورت میں جب کے کال وصول کرنے والے کو کال کرنے والے کی کال سے مضرت وتکلیف نہیں پہونچتی ہو، کال بلاک کرنا جائز نہیں ہے؛کیونکہ یہ قطع تعلقی، بدگمانی اور باہمی نفرت وعداوت کا سبب ہونے کا ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے باعث مضرت واہانت بھی ہے،اور یہ چیز یں شریعت میں ممنوع ہیں۔

اسی طرح بہت سے لوگ کسی سے کوئی معاملہ یا وعدہ کرنے کے بعد اس کو پورا نہیں کرنے کی صورت میں ان کی کال رسیو نہیں کرتے، یہ عمل بھی شریعت میں ممنوع ہے ؛ کیونکہ اس میں جہاں وعدہ خلافی اور عہد شکنی کا گناہ ہے وہیں یہ عمل دوسروں کے لئے حد درجہ تکلیف اور الجھن کا باعث بھی ہے، اس لئے فون وصول نہ کرنے کے بجائے فون پرپیدا شدہ صورت حال کے مطابق بات چیت کرلینی چاہئے،تاکہ کسی کو الجھن وتکلیف نہ ہو۔

ویڈیو کال

ویڈیو کال میں کیمرہ کی مدد سے جانبین کی لائیوتصویرایک جانب سے دوسری جانب منتقل کی جاتی ہے، اس میں ریکاڑڈنگ یا ویڈیو گرافی والی کیفیت عموما نہیں پائی جاتی ہے، گویا اس میں ایک عکس دکھایا جاتا ہے جیسے انسان شیشے کے سامنےہو تو اس کا عکس شیشے میں نظر آتا ہے،اس لئے ویڈیو کال جائز ہے۔

اللہ تعالی اس ہمیں موبائل کے صحیح استعمال کی توفیق دے اور اس کے ذریعہ آنے والے تمام تر فتنوں سے ہماری اور پوری امت کی حفاظت فرمائے۔

مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close