فقہمذہب

نفع کی تحدید

شاد محمد شاد

کیا شریعت میں نفع کمانے کی کوئی حد مقرر کی گئی ہے ؟ بالفاظِ دیگر کیا شریعت میں کوئی ایسی زیادہ سے زیادہ مقدار بیان کی گئی ہے جس سے اوپر نفع لینا جائز نہ ہو؟

اس کا مختصرجواب یہ ہے کہ شریعت نے ہر شخص کو اپنےاموال وجائداد میں خرید وفروخت اور دیگر تصرفات کی مکمل آزادی دی ہے،اسی ليے  شریعت نے اس بات کے لیے بھی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی کہ اپنی مملوکہ چیز بیچتے ہوئے اس پر کتنا نفع لینا چاہیے،بلکہ اصل اور ضروری امر یہ ہے کہ  بائع (فروخت کنندہ) اور مشتری (خریدار) راضی ہوں  اور  نفع کمانے میں حرام اسباب اور ذرائع (جیسے دھوکہ دہی وغیرہ) کا ارتکاب نہ کیا جائے توبیچنے والے کو اختیار ہےکہ وہ جس قیمت پر چاہےاپنی چیزبیچ سکتاہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں اشیاء کے نرخ متعین نہیں فرمائے، بلکہ انہیں آزاد چھوڑا کہ اشیاء کی طلب ورسد (Demand & Supply ) سے، مصنوعات کی کوالٹی  او رلوگوں کے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنا مال فروخت کرنے کے جذبے سے چیزوں کے مناسب نرخ (Rate ) وجود میں آتے ہیں۔

قرآن وسنت میں نفع کی کوئی حد مقرر نہ کرنے کی حکمت بظاہر یہ ہے کہ نفع کی  کوئی ایسی  متعین حد مقرر کرنا ممکن نہیں  ہے جو ہر زمانے، ہر علاقے اور ہر قسم کی اشیاء پر منطبق ہوسکے، کیونکہ زمانے، علاقے اور اشیاء کے مختلف ہونے اورضروری وغیر ضروری اشیاء کے اعتبار سےاس پر فرق پڑتا ہے، اسی طرح نقد اور ادھار کی صورتوں میں بھی قیمت مختلف ہوجاتی ہے۔

ليكن یہاں دوسرا پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے وہ یہ کہ نفع کمانے میں شریعت کے آداب یعنی نرمی، قناعت، رواداری اور آسانی کی رعایت رکھنی چاہیے، یہی وجہ ہے کہ کسی چیز میں اس قدر نفع رکھنا کہ اس کی اصلی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہو جائے مُروّت اور اخلاق کے خلاف سمجھا جاتا ہے، اس سے بچنا بہتر ہے۔

اسی طرح بعض اوقات خریدار یا فروخت کنندہ مجبوری کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے سامنے والے شخص  کی مرضی اور اس کی من مانی قیمت کے مطابق معاملہ کرتا ہے،کسی مجبورشخص کی ایسی اضطراری حالت سے فائدہ اُٹھاکر اپنی مرضی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرنا اور اس سے بہت زیادہ نفع لینا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے،لہذا اس سے بھی بچنا چاہیے۔ (فقہ البیوع 2/207)

یہاں ایک اور بات بھی واضح کردینا مناسب ہے کہ اگر کسی جگہ کے تاجر قیمتوں میں من مانی کرکے لوگوں کو تکلیف دینا شروع کردیں تو حکومتِ وقت عوام الناس کو ضرر سے بچانے کیلئے اہل رائے کے مشورہ سے نرخ مقررکرسکتی ہے، بشرطیکہ نرخ  کی بنیادعدل وانصاف  پر رکھی گئی ہو، تاکہ تاجروں کو بھی ضرر لاحق نہ ہو،جو فقہاء کی اصطلاح میں ”تسعیر “کہلاتا ہے، ایسی صورتحال میں اگر کوئی شخص حکومت کے مقرر کردہ نرخ سے زیادہ پر کوئی چیز فروخت کردے تو اگرچہ اس چیز پر لیا گیا نفع حلال ہوگا،لیکن حکومت کے جائز قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close